Articles مضامین

سعودی عرب سے اتنا بغض و حسد کیوں؟ تحریر: مقبول احمد سلفی – سعودی عرب

سعودی عرب سے اتنا بغض و حسد کیوں؟

✒️تحریر: مقبول احمد سلفی – سعودی عرب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
سعودی عرب سے کفار اور اعدائے اسلام دشمنی کریں، یہ تو سمجھ میں آتا ہے مگر خود کو مسلمان کہنے والے بھی اس ملک سے بغض رکھیں ، یہ قابل حیرت و قابل افسوس دونوں ہیں۔یہ لوگ ایک طرف اخوانیوں اور خارجیوں کے دہشت گردانہ حملوں اور قتل وغارت گری کو جائز سمجھتے ہیں ۔ اس طرزعمل کو شیعہ و روافض اپنائیں، وہ بھی ان کی نظرمیں قابل مدح ٹھہرتے ہیں۔سنی مسلمانوں کاگاجر ومولی کی طرح قتل عام کرکے ان کے ممالک پر قبضہ کریں پھر بھی روافض ان کےپکے دوست ویار ٹھہریں۔ مکہ و مدینہ پر روافض قبضہ کی سعی نامسعود کریں، اس نیت سے ان مقامات مقدسہ پر حملہ کریں تب بھی روافض حق بجانب اور صراط مستقیم پر قائم ودائم شمار کئے جائیں ۔ دوسری طرف سعودی عرب اپنے ملک میں امن وامان قائم کرے، توحید وسنت کا علم بلند کرے، شرک وبدعات پر بندش لگائے، مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے، کتاب اللہ اور سنت رسول کی بالادستی قائم کرے۔ پھران باتوں سے دوسرے ملک کے مسلمانوں کو کیوں تکلیف پہنچ رہی ہے؟ دنیا بھرمیں سعودی عرب کی دینی اور مالی خدمات الگ ہیں، سال بھردنیا کے کونے کونے سے آنے والے حرمین شریفین کے زائرین کے لئے عمدہ خدمات بطور خاص موسم حج میں ضیوف الرحمن پر قابل دیدوداد ،احسان واکرام اپنی مثال آپ ہے۔
کیا ہی عجیب بات ہے کہ سعودی عرب سے حسد میں اعدائے اسلام کی اسلام دشمنی بھی قبول مگر عرب کی خدمت دین اسلام اور غلبہ توحید وایمان قبول نہیں ۔ سعودی دشمنی میں اس قدر اندھے ہوگئے کہ اس ملک کے خلاف یہودی بھی قبول، نصرانی بھی قبول، قادیانی بھی قبول، مجوسی بھی قبول، شیعہ روافض بھی قبول ، خارجی دہشت گرد بھی قبول یہاں تک کہ ہندو بھی قبول مگر سعودی عرب نہیں قبول۔ اس مقام پر میں وہی کہتا ہوں جو بنی اسرائیل کے ایک نبی نے کہا تھا جب ان کو ان ہی کی قوم نے مارا اور خون آلود کردیا۔ وہ نبی خون صاف کرتے جارہے تھے اور اپنی قوم کے لئے اللہ سے یہ دعا کرتے جارہے تھے: "اللَّهمَّ اغفِرْ لقومي فإنَّهم لا يعلَمونَ” کہ اے اللہ! میری قوم کی مغفرت فرما، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔(بخاری:3477)
جب جزیرۃ العرب توحید وسنت کی بنیاد پر سعودی عرب بنا ، اس وقت کتاب وسنت کی بالادستی اور عقیدہ توحید کی حفاظت واستحکام کے لئے دو اہم بنیادی کام انجام دئے گئے۔ پہلا کام حرم مکی سے چار مصلوں(حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کا خاتمہ اوردوسرا کام شرک وبدعت کی تمامترعلامات(مزارات، قبے،شرکیہ درودیوار) کا قلع قمع۔
پہلا کام اس غرض سے کیا گیاتاکہ مسلمانوں کے اندر سے آباپرستی ، شخصیت پرستی ، اندھی تقلید اور افتراق وانتشار کا خاتمہ کرکےان سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور سارے مسلمان کتاب وسنت کے مطابق دین پر عمل کریں۔ سعودی عرب کے اس مبارک اقدام سے حقیقی مسلمان کو تکلیف نہیں ہونا چاہیے تھا مگر کتاب وسنت سے ہٹ کرتقلید کی روش اختیار کرنے والے کب اس بات کو گوارا کرسکتے ہیں بنابریں روز اول سے مقلدین اس غم میں مرے جارہے ہیں اور موقع بموقع سعودی عرب کے خلاف زبان درازی اسی پرانے درد کا اظہار ہے۔ لے دے کربیس رکعت تراویح سے کچھ غم غلط ہوا کرتا تھا ، اب وہ سہارا بھی نہ رہا۔
دوسراکام اس غرض سے کیا گیا تاکہ جس مقصد سے اللہ نے انسانوں کی تخلیق فرمائی اور اس مقصد حیات سے آگاہی کے لئےاس نے ہرقوم وہردور میں اپنے پیغامبربھیجے ، اس غایت تخلیق اور مشن انبیائی میں سرفرازی حاصل کی جائے ۔ مسلمانوں کو خالق حقیقی اور معبودبرحق سے متعارف کراکر صرف اسی کے سامنے سربسجود ہونے کی تعلیم دی جائے۔ لوگوں کو غیراللہ کے درسے ہٹاکر دربارالہی سے وابستگی ، خالص ایک رب کی بندگی اور اسی سے استعانت و استغاثہ پر لگایا جائے۔ بھلا یہ اقدام قبرپرستوں، اہل مزارات ، اہل تصوف ، اہل بدعت اور اہل رفض وتشیع کوکیسے پسند آئے گا۔ یہ لوگ تو اس دن کو یوم انہدام یا کالادن کے طور پر مناتے ہیں۔ ان لوگوں کا زخم حامیان چارمصلی سےکہیں زیادہ گہرا ہے۔اسی سبب بلیک ڈے منانے کے ساتھ حرمین شریفین پر ناجائز قبضہ کرنے کاناپاک عزم رکھتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر قبرپرست ، اہل تصوف اور روافض سب ایک ملت ہیں بلکہ اخوانی، خارجی، تحریکی اور اسراری وغیرہ سب ان کے مویدین ہیں۔
رب کعبہ کی قسم ، سعودی عرب کوئی دینی کام نہ کرے، نہ اپنے ملک میں اور نہ دوسرے ممالک میں ، صرف پھر سے چار مصلے قائم کردے ، پہلا طبقہ پوری طرح خوش ہوجائے گا جس کو ان مصلوں کے خاتمہ سے تکلیف پہنچی ہےاور سعودی عرب کی تعریف کرنے لگ جائے گا۔ اسی طرح پھرسے مزارات و شرکیہ قبے بنادئے جائیں اور اہل شرک وبدعت کو اپنے ملکوں کی طرح یہاں بھی شرکیہ اعمال کرنے کی چھوٹ مل جائے ، پھر آپ دیکھیں گے کہ دوسرے طبقہ سے متعلق سارے حامیان شرک وتصوف خوش ہوجائیں گے اور سعودی عرب کی واہ واہی کرنے لگ جائیں گے۔
اس پس منظر سے معلوم یہ ہوا کہ سعودی عرب سے دشمنی کی اصل وجہ یہاں پر توحید وسنت کی بالادستی ہے۔ اللہ رحم فرمائے مسلمانوں پر۔ جس بات پر سعودی عرب کی تعریف کرنی چاہئے، اس کا تعاون کرنا چاہئے اور قدم سے قدم ملاکر اس کے ساتھ چلنا چاہئے ، اسی بات پرنام نہاد مسلمان اس ملک سے خفا ہیں ۔کم ازکم اتنی غیرت ہرمسلمان میں ہونی ہی چاہئے کہ یہ محمد ﷺ کا وطن رہا ہے، آپ یہاں پیدا ہوئے، یہیں پر وحی کا نزول ہوااورآپ ﷺ پر قرآن اترا۔یہیں پرآپ ﷺ کی قبرمبارک ہے۔یہ قیامت تک کے لئے مرکز اسلام رہے گا۔ دنیا کے کونے کونے سے سال بھر یہاں مسلمان آتے ہیں، یہیں عمرہ اور مناسک حج ادا کیا جاتا ہے۔یہاں دنیا کی سب سے پہلی مسجد(مسجدحرام) اور مسجد الرسولﷺ ہے،اسی ملک میں کعبہ ہے جس کی طرف منہ کرکے ساری دنیا کے مسلمان مردوعورت نماز ادا کرتے ہیں۔ حرمین شریفین اسی جگہ ہے۔ یہ سب ہمارے ایمان و اسلام کی باتیں ہیں، ان سب باتوں کے باوجود اگر اس ملک سے دشمنی ہے، یہاں سے نفرت ہے، اس ملک کو مٹتا ہوا دیکھنا پسند ہے، اس پر روافض کا قبضہ پسند ہےتو پھر کس بات کے مسلمان ہیں؟ کیا سعودی دشمنی میں ایمانی غیرت بھی مرچکی ہے؟ العیاذباللہ۔
مسجدحرام میں زنا کے ارتکاب پرکچھ دنوں پہلے ایک لڑکا اور ایک لڑکی کا سرقلم کیا گیا ہے۔ یہ تعزیرانسانی تاریخ کا پہلا اور بےمثال نمونہ ہے۔جس مسجد میں ایک نماز، ایک لاکھ نماز کے برابر ہےاور جس کا تقدس امت مسلمہ کا متفقہ مسئلہ ہے۔ وہاں گھناؤنی حرکت کے سبب مجرم کو سزا دینے پر بھی نام نہاد مسلمان سعودی عرب کو بدنام کررہے ہیں۔ اس جگہ عرب کا بھی کوئی باشندہ ہوتا اس کو بھی یہی سزا دی جاتی ۔ قصاص وحدود اور تعزیرات کے نفاذ میں رنگ ونسل کا امتیاز نہیں برتا جاتا بلکہ کتاب وسنت کی روشنی میں سب کے لئے یکساں فیصلہ کیا جاتاہے ۔ جن کے اپنے ملک میں کیسے کیسے فیصلے ہوتے ہیں، کیسے کیسے قوانین ہیں، کیسے کیسے امتیاز برتا جاتا ہے اور کس کس طرح زانیوں اور قاتلوں کو بچایا جاتا ہے وہ لوگ سعودی عرب میں نافذ شرعی قصاص پر باتیں کریں، یہ جہالت تو ہےہی، ایمانی غیرت کا فقدان بھی کہلائے گا۔ حد تو اس بات پر ہے کہ جس کو بول وبراز کا طریقہ تک نہیں معلوم ،وہ آج سوشل میڈیا پر سعودی عرب کو قانون سکھارہا ہے۔
ساری باتوں کا ایک جملہ میں خلاصہ یہ ہے کہ سعودی سے دشمنی کی اصل وجہ اس ملک کا توحید وسنت کی بنیاد پر قائم ہونا ہے جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ ایسے لوگوں کے حق میں پھر سے وہی ستائے ہوئے ایک نبی کی دعا کرنا چاہتا ہوں۔ اللَّهمَّ اغفِرْ لقومي فإنَّهم لا يعلَمون

Related posts

اصلاحی تحریر

Paigam Madre Watan

شیر میسور ٹیپو سلطان ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار!

Paigam Madre Watan

حماس کا حملہ اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ہمارا موقف

Paigam Madre Watan