Articles مضامین

ووٹر لسٹ سے ای وی ایم تک: الیکشن کمیشن کا ادارہ جاتی زوال

بقلمڈاکٹر محمّد عظیم الدین

جمہوریت محض سیاسی اقتدار کے حصول کا نام نہیں، بلکہ انسان اور ریاست کے مابین ایک ایسے عمرانی معاہدے کی تجدید کا عمل ہے جس کی بنیاد عوام کے غیر متزلزل اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔ جب اس یقین کی بنیادوں میں دراڑیں پڑنے لگیں، تو پارلیمان کے عالی شان ایوان محض گونجتی ہوئی بے معنی عمارتیں بن کر رہ جاتے ہیں اور پورا انتخابی عمل ایک بے روح، مشینی رسم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بھارت کا الیکشن کمیشن، جسے کبھی ٹی این سیشن جیسے بے باک اور نڈر افسران نے اپنی انتظامی صلاحیتوں اور غیر جانبداری کی بدولت عالمی سطح پر ’’جمہوریت کا آہنی محافظ‘‘ منوایا تھا، آج اپنی تاریخ کے نازک ترین دوراہے پر کھڑا ہے۔ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے وسط میں، بالخصوص ۲۰۲۵ء کے بہار اسمبلی انتخابات اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات نے اس آئینی ادارے کے وقار کو اس طرح مجروح کیا ہے کہ اب اٹھنے والے سوالات کا جواب روایتی تردید اور پریس ریلیز میں تلاش کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہ بحران محض انتظامی غلطیوں کا نہیں، بلکہ ایک منظم ادارہ جاتی زوال کا اشاریہ ہے جس میں شفافیت کو ٹیکنالوجی کے پیچیدہ اور مبہم پردوں میں چھپا دیا گیا ہے۔

بہار کے حالیہ انتخابات، جو ۶ اور ۱۱ نومبر ۲۰۲۵ء کو دو مرحلوں میں منعقد ہوئے، اس زوال کی ایک کربناک تصویر پیش کرتے ہیں اور اب انتخابی تاریخ میں ایک ’’ٹیسٹ کیس‘‘ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان انتخابات سے قبل ’’اسپیشل سمری ریویژن‘‘ (SSR) کا آغاز کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے دعویٰ کیا تھا کہ ووٹر لسٹ کو خامیوں سے پاک کر کے اس کی ’’خالص ترین شکل‘‘ میں پیش کیا جائے گا، جس میں غلطی کا احتمال صفر کے قریب ہوگا۔ یہ دعویٰ کسی بھی جمہوریت پسند شہری کے لیے اطمینان کا باعث ہو سکتا تھا، لیکن جب حتمی فہرست منظرِ عام پر آئی اور اس کے فوراً بعد اپوزیشن جماعتوں، بشمول کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، نے الزام لگایا کہ اس فہرست میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ راہل گاندھی نے کرناٹک کے مہادیوپورہ حلقے کی مثال دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہاں ایک ہی ایڈریس پر ۸۰ ووٹر رجسٹرڈ تھے اور ۱۱ ہزار سے زائد ڈپلیکیٹ ووٹر پائے گئے، جو انتخابی فہرستوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ اسی طرح ہریانہ انتخابات میں ایک ہی تصویر کا متعدد بار استعمال، اور ایک بی جے پی سرپنچ دال چند اور اس کے بیٹے کے نام ہریانہ اور اتر پردیش دونوں ووٹر لسٹوں میں پائے جانے کے شواہد پیش کیے گئے۔ یہ مثالیں بہار کے انتخابات میں بھی ووٹر لسٹ کی درستگی پر گہرے شکوک پیدا کرتی ہیں۔ اس صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے ماہرین نے ایک دلچسپ مثال دی کہ یہ عمل بالکل ایسا ہے جیسے کوئی بینک اپنے ’’ڈیجیٹل لاکر‘‘ کی سیکیورٹی پر فخر کرے کہ یہ دنیا کا محفوظ ترین نظام ہے، لیکن جب صارف اپنا قیمتی اثاثہ رکھنے آئے تو اسے بتایا جائے کہ ’’ابھی انتظار کریں، لاکر کا تالا بار بار خود بخود کھل رہا ہے، اسے مزید ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ جب ادارے کا دعویٰ حتمی شفافیت اور غلطی سے پاک نظام کا ہو، تو پھر عین موقع پر لاکھوں ووٹروں کی یہ پراسرار آمد و رفت اور فہرستوں میں ڈپلیکیٹ اندراجات کس منطق کے تحت جائز قرار دیے جا سکتے ہیں؟ یہ تضاد نہ صرف نظام کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا واقعی سب کچھ اتنا ہی شفاف ہے جتنا دعویٰ کیا جا رہا ہے؟

ووٹر لسٹوں میں بے قاعدگیاں اپنی جگہ، مگر اس سے بھی زیادہ تشویشناک معاملہ اس ٹیکنالوجی کا ہے جسے انتخابی عمل کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا گیا ہے؛یعنی ’’الیکٹرانک ووٹنگ مشین‘‘ (EVM)۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی کو شفافیت کا ضامن سمجھا جاتا ہے، لیکن بھارت میں بدقسمتی سے یہ ’’منظم ابہام‘‘ کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی اور سول سوسائٹی کے نمائندے مسلسل یہ دہائی دے رہے ہیں کہ ای وی ایم اور اس کے ساتھ منسلک ’’سمبل لوڈنگ یونٹ‘‘ (SLU) ایک ’’بلیک باکس‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے اندرونی نظام کی جانچ پڑتال کسی کو میسر نہیں۔ کمیشن کا یہ استدلال کہ مشینوں کو سخت حفاظتی حصار میں رکھا جاتا ہے اور ان پر مہریں لگائی جاتی ہیں، ڈیجیٹل دور کے حقائق سے نابلد ہونے کا ثبوت ہے۔ آر جے ڈی نے بہار کے انتخابات کے دوران دھیمی ووٹنگ (Slow Voting) کے الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر بعض علاقوں میں ووٹنگ کی رفتار سست کی گئی تاکہ ووٹرز مایوس ہو کر لوٹ جائیں، اور کچھ مقامات پر بجلی کی بندش کی شکایت بھی کی۔ یہ مسائل محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔ الیکٹرانک ڈیٹا کو تحفظ دینے کے لیے ’’الیکٹرانک لاک‘‘ اور ڈیجیٹل انکرپشن کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ قرونِ وسطیٰ کی موم اور مہر کی۔ جب تک مشین کا ڈیٹا اور کوڈ آزادانہ آڈٹ کے لیے پیش نہیں کیا جاتا، ترسیل کے دوران یا گنتی سے قبل ردوبدل کا خدشہ بدستور موجود رہے گا۔

اس تکنیکی بحث میں ’’سمبل لوڈنگ یونٹ‘‘ (SLU) کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ چھوٹا سا آلہ ہے جس کے ذریعے امیدواروں کے نام اور انتخابی نشانات ای وی ایم میں لوڈ کیے جاتے ہیں۔ کمیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ محض ایک تصویر (Image) لوڈ کرنے کا آلہ ہے، لیکن جدید کمپیوٹنگ کے اصول بتاتے ہیں کہ بیرونی ’’ڈیٹا‘‘ ان پٹ کے ذریعے ڈیوائس کے افعال کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سادہ مثال جدید کاروں کی خودکار ہیڈلائٹس ہیں جو پروگرام تو ایک ہی رکھتی ہیں لیکن باہر کی روشنی (ڈیٹاکے مطابق خود بخود روشن یا گل ہو جاتی ہیں۔ اگر ایس ایل یو کے ذریعے مشین میں کوئی ایسا خفیہ ڈیٹا فیڈ کر دیا جائے جو ایک مخصوص وقت، تاریخ یا ووٹوں کی تعداد کے بعد مشین کا رویہ بدل دے، تو اسے پکڑنا ناممکن ہوگا۔ کمیشن کی جانب سے ایس ایل یو کے ڈیٹا کو پبلک ڈومین میں لانے سے مسلسل انکار اور ’’حقِ معلومات‘‘ (RTI) کی درخواستوں کا گول مول جواب دینا اس شک کو یقین میں بدل دیتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ شفافیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ کمیشن خود آگے بڑھ کر اس ڈیٹا کو ماہرین کے سامنے پیش کرتا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔

ادارہ جاتی زوال کی اس داستان میں ’’خانہ بدوش ووٹرز‘‘ (Nomadic Voters) کا معاملہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں جہاں آدھار کارڈ، پین کارڈ اور بینک اکاؤنٹس ایک کلک پر باہم مربوط ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ووٹر مختصر عرصے میں دو مختلف ریاستوں میں رجسٹر ہو کر حقِ رائے دہی استعمال کر سکے؟ راہل گاندھی نے جس طرح ہریانہ اور یوپی کے ووٹروں کے ڈپلیکیٹ اندراجات کا ثبوت پیش کیا، وہ بہار کے تناظر میں بھی ’’مرکزی ڈیٹا بیس‘‘ کی افادیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ یہ صورتحال اس خدشے کو تقویت دیتی ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ووٹر کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ ’’آبادیاتی انجینئرنگ‘‘ اور مائیکرو ٹارگٹنگ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ جب ووٹر لسٹوں میں ذات، برادری اور مذہب کی بنیاد پر ٹارگٹنگ ممکن ہو جائے، تو ووٹر ایک آزاد شہری نہیں رہتا بلکہ ایک ’’ڈیٹا پوائنٹ‘‘ بن جاتا ہے جسے سیاسی شطرنج کی بساط پر مہرے کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ’’ڈیٹا کا انضمام‘‘ جمہوریت کے لیے ایک خاموش زہر ہے، جس نے انتخابی عمل کی غیر جانبداری کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک جمہوری ریاست میں شہری کی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ محض ’’رعایا‘‘ ہے جسے حکمرانوں کے فیصلوں پر سر جھکانا ہے، یا وہ ’’شہری‘‘ ہے جسے جوابدہی کا حق حاصل ہے؟ یورپی یونین میں جی ڈی پی آر (GDPR) جیسے قوانین شہریوں کو ان کے ڈیٹا کا مالک بناتے ہیں، جبکہ بھارت میں الیکشن کمیشن کا رویہ یہ ہے کہ ووٹر لسٹ کی جانچ پڑتال کو ایک پیچیدہ اور ناممکن عمل بنا دیا گیا ہے۔ ایک عام شہری کے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ جان سکے کہ پورے ملک میں اس کے نام یا شناختی کارڈ پر کوئی اور شخص تو رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کمیشن شہریوں کو ’’ڈیٹا جنریٹرز‘‘ تو سمجھتا ہے لیکن انہیں ’’ڈیٹا مالکان‘‘ تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ جب ریاست شہری سے معلومات تو لے لے لیکن بدلے میں شفافیت نہ دے، تو یہ رشتہ جمہوریت کا نہیں بلکہ آمریت کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

ماضی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کئی دہائیوں تک اپنی ساکھ کو بڑی محنت اور جاں فشانی سے بنایا تھا۔ یہ وہ ادارہ تھا جس کے سامنے وزرائے اعظم بھی جوابدہ محسوس کرتے تھے۔ لیکن ۲۰۲۵ء تک آتے آتے، یہ ادارہ اپنی ہی بنائی ہوئی بھول بھلیوں میں گم ہوتا نظر آتا ہے۔ بیوروکریسی کا ایک ایسا حصار قائم کر دیا گیا ہے جہاں سے معلومات باہر نہیں آتیں، صرف احکامات صادر ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور عدلیہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو ’’سازشی نظریات‘‘ کہہ کر مسترد کرنے کا رجحان، دراصل ادارے کی اپنی کمزوری اور عدم تحفظ کا عکاس ہے۔ جب ایک ریفری خود کھیل کے اصولوں کو مبہم بنانے لگے اور کھلاڑیوں کے اعتراضات سننے کے بجائے کان بند کر لے، تو کھیل کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو، کھیل کی روح مر جاتی ہے۔

بہار کے انتخابات اور ای وی ایم تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب محض ’’انتخابی اصلاحات‘‘ کی بات کرنا کافی نہیں، بلکہ ’’انتخابی نشاۃِ ثانیہ‘‘ کی ضرورت ہے۔ مسئلہ مشینوں میں نہیں، ان مشینوں کو چلانے والی ذہنیت میں ہے۔ اگر الیکشن کمیشن واقعی اپنی ساکھ بحال کرنا چاہتا ہے تو اسے ’’ڈیجیٹل پردہ داری‘‘ ختم کرنی ہوگی۔ ووٹر لسٹوں کو مکمل طور پر عوامی، قابلِ تلاش اور شفاف بنانا ہوگا؛ ای وی ایم اور وی وی پیٹ کے ڈیٹا کا آزادانہ آڈٹ کرانا ہوگا؛ اور سب سے بڑھ کر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ووٹر کا اعتماد حاصل کرنا اس کا آئینی فریضہ ہے، کوئی احسان نہیں۔ موجودہ صورتحال میں، جہاں اپوزیشن جماعتیں بھی بعض اوقات اندرونی خلفشار کا شکار ہو کر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں اور مرکزی میڈیا سوال اٹھانے سے گریزاں ہے، جمہوریت کا سارا بوجھ بیدار شہریوں اور سماجی کارکنان کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ مختصر یہ کہ، الیکشن کمیشن آف انڈیا آج ایک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ شفافیت، جوابدہی اور جمہوریت کی حقیقی روح کی طرف جاتا ہے، جہاں ہر ووٹ کی حرمت یقینی ہو۔ دوسرا راستہ اس تاریک سرنگ کی طرف جاتا ہے جہاں انتخابات محض ایک انتظامی مشق بن کر رہ جائیں گے اور عوام کا ووٹ پر سے یقین مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اداروں نے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، اس کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑا۔ بہار ۲۰۲۵ء کی ’’ووٹ چوری‘‘ یا ’’تکنیکی ہیرا پھیری‘‘ کے الزامات محض شور نہیں، بلکہ وہ خطرے کی گھنٹی ہیں جسے اگر اب بھی نہ سنا گیا تو بھارت کی جمہوریت، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا فخر حاصل ہے، اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دے گی۔ یہ جنگ کسی ایک پارٹی کی جیت یا ہار کی نہیں، بلکہ اس یقین کی بقا کی جنگ ہے کہ ’’عوام کی حاکمیت‘‘ محض کتابی نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔

Related posts

ڈھیٹ بن کر گناہ کرتے رہنا اور توبہ نہ کرناعذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہے

Paigam Madre Watan

نور عید الفطر

Paigam Madre Watan

خدمت قرآن مجید: مملکت سعودی عرب کا طرۂ امتیاز (کل نیپال مسابقہ حفظ قرآن مجید کے تناظر میں)

Paigam Madre Watan

Leave a Comment