Delhi دہلی

‘پسماندہ مسلم سماج اُتھان سمیتی سنگھ (رجسٹرڈ) کا بی.ایم.سی انتخابات میں بی جے پی اور مہایوتی امیدواروں کی حمایت کا اعلان’

نئی دہلی,  پسماندہ مسلم سماج کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم قوم پرست تنظیم پسماندہ مسلم سماج اُتھان سمیتی سنگھ (رجسٹرڈ) نے ممبئی میں ہونے والے بی ایم سی انتخابات کے سلسلے میں 15جنوری کو بی جے پی اور مہایوتی کے امیدواروں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا اعلان تنظیم کے سرپرستِ اعلیٰ و توسیعی انچارج الحاج محمد عرفان احمد نے اخبار نویسوں اور میڈیا کے نمائندوں سے گفت و شنید میں کیا۔ اس موقع پر تنظیم کے مہاراشٹر انچارج حاجی حیدراعظم کے ہمراہ بی جے پی کے انتخابی انچارج برائے ممبئی اور مہاراشٹر حکومت کے سینئر وزیر ایڈوکیٹ آشیش شیلار کو باقاعدہ ایک مکتوبِ حمایت پیش کیا گیا، جس میں بی جے پی مہایوتی کے تمام امیدواروں کے حق میں بڑھ چڑھ کر ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس دوران الیکٹرانک میڈیا کے جرنلسٹوں سے گفتگو کرتے ہوئے الحاج محمد عرفان احمد اور حاجی حیدراعظم جی نے مشترکہ طور پر کہا کہ عالیجناب وزیر اعظم نریندر مودی صاحب کی قیادت میں مرکزی حکومت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس صاحب کی سابقہ و موجودہ مہایوتی حکومتوں نے عوامی فلاح و بہبود کی متعدد اسکیموں کے ذریعے ملک بھر میں، تاہم بالخصوص ممبئی کے پسماندہ مسلم سماج کو براہِ راست فائدہ پہنچایا ہے، لہذ اجسکے نتیجے میں اس طبقے کی سماجی و معاشی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 60 تا 65 برسوں کے دوران کانگریس نے پسماندہ مسلم سماج کو محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور انہیں بنیادی سہولیات اور تمام طرح کے حقوق سے محروم کر رکھا، جبکہ 2014 کے بعد مودی حکومت کی پالیسیوں اور مہاراشٹر کی مہایوتی حکومت کی اسکیموں نے پسماندہ مسلمانوں کو قومی دھارے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
وہیں اس تناظر میں تنظیم نے ممبئی کے پسماندہ مسلم سماج سے اپیل کی کہ وہ بی ایم سی انتخابات میں بی جے پی اور شیو سینا (شندے گروپ) کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دیکر ترقی اور استحکام کے اس سفر کو مزید مضبوط کریں۔پریس کانفرنس میں تنظیم کے قومی صدر احسان عباسی، نائب صدر عنایت حسین قریشی، افتخار امروہی اور دیگرذمہ داران نے بھی بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کو ہرممکن تعاون اور مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں پسماندہ مسلم طبقہ، لہذا جو مسلم آبادی کا تقریباً 80 فیصد ہے، آئندہ انتخابات میں مہایوتی کے حق میں متحد ہو کر ووٹنگ کرے گا اور تمام امیدواروں کی جیت یقینی ہے۔

Related posts

What does the department want to achieve by arresting Dr. Nowhera Sheikh?

Paigam Madre Watan

اپنا ہی دائر مقدمہ اویسی کے گلے کا پھانس بن گیا

Paigam Madre Watan

’گروپ آف حج سوشل ورک آرگنائزیشن (رجسٹرڈ) نے الحاج محمد عرفان احمد کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا‘

Paigam Madre Watan

Leave a Comment