Delhi دہلی

اے آئی ایم ای پی بھارت کے ڈھانچے کی تشکیل میں تبدیلی اور ترقی کیلئے پرجوش وژن پیش کرتی ہے : عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ

نئی دہلی (ریلیز:مطیع الرحمن عزیز)آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی ہندوستان کی متحرک تہ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے تانے بانے کوخوبصورتی سے بُنتے ہوئے ایک پرجوش تبدیلی کا ایجنڈا سامنے لاتی ہے۔ نوہیرا شیخ کی دور اندیش قائدانہ صلاحیت AIMEP ایک منصوبہ تخلیق کرتی ہے جس میں تعلیمی منظر نامے کو پورے ملک میں بلند کرنے پر خاص اہمیت دی گئی ہے۔اقدامات کے ایک اسٹریٹجک جدّ جہد میں AIMEP نے تعلیمی پناہ گاہوں کی عمدہ تعمیر کیلئے غیر متزلزل عزم کا وعدہ کرتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ قوم کے نگہبان، تعلیمی اداروں کے ڈھانچوں میں قابل دید درستگی کے لیے بھی کمر بستہ دکھائی دیتی ہے۔”ڈاکٹر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا سپرداریہ کردار ایک نیک مشن کو بڑھانے میں اہم رول ادا کرتاہے، ڈاکٹر صاحبہ اُس کھائی کو پ ±ر کرنے کے لیے شائستگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں جس نے تعلیمی وسائل اور سہولیات کو شہری علاقوں اور دیہی وسعتوں کے درمیان تقسیم کر رکھا ہے۔ اس طرح ہر شہری کے لیے معیاری تعلیم کی مساوات کو یقینی بنایاجاتا ہے۔ "AIMEP کی زیرِ بنیاد ترقی میں ذاتی مقصد یہ ہے کہ قوم کے سرکاری و رعائتی حصوں میں تعلیمی جزیرے پیدا ہوں۔ پارٹی کی تعمیراتی کوششیں محض اینٹوں اور مارٹروں سے بالاتر ہیں۔ علم اور روشن خیالی کی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے خواہشمند ہیں جو ان کمیونٹیز کی روح میں گونجتی ہے۔”یہ محض جسمانی ڈھانچے قائم کرنے کا معاملہ نہیں ہے، یہ روشنی کا کارواں ہے جو ذہانتی پھولوں کو بڑھاتی ہے، طلباءمیں بڑھتی ہوئی علمی صلاحیت اور لیاقت و قابلیت کو پرورش دیتی ہے۔
آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کا عزم نئے تعلیمی اداروں کے لیے مضبوط بنیادوں سے آگے بڑھتا ہے۔ موجودہ تعلیمی اداروں کو بڑی لطافت اور شفقت سے رواں دواں رکھا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں عظمت کے نئے دور میں لے جاتا ہے۔ پارٹی تزئین و آرائش اور جدید کاری کے سفر کا آغاز کرتی ہے، ایک دلفریب اور محفوظ پناہ گاہ تیار کرتی ہے جہاں طلباءکو اپنے تعلیمی حصول کے لیے سازگار ماحول ملے۔ کلاس رومز، لیباریٹریز، لائبریریز اور دیگر تعلیمی پناہ گاہوں کو اپ گریڈ کرنے پر اہم توجہ ہے، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ جگہیں ماڈرن سہولیات سے بھر پور ہوں، اس طرح طالب علم کی مجموعی ترقی میں سہولت ہوگی ۔(اے۔آئی۔ایم۔ای۔پی ) کے وژن کے خوبصورت دائرے میں، فزیکل انفراسٹرکچر صرف ایک پڑاو ¿ ہے جو تکنیکی جدت کے بھر پور طریقے سے نفاذ کا انتظار کر رہا ہے۔ پارٹی ٹکنالوجی اور تعلیم کے ہم آہنگ امتزاج کی پرجوش وکالت کرتی ہے، ایک ایسے ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتی ہے جس میں کلاس رومز روشن خیالی کے ڈیجیٹل دائروں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ AIMEP کا وژن لوگوں کو ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پر لئے کر چلنے کی ذمّہ داری پر محیط ہے، ساتھ ہی ساتھ ایک ڈیجیٹل ہموار تسلسل پر بھی جو تعلیم کے گلیاروں میں گونجتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل وسائل کی فراہمی، آرائشی ای لرننگ Avant-garde e-learning” پلیٹ فارمز کے نفاذ، اور(Cutting-edge educational technology ) جدید تعلیمی ٹیکنالوجی کو اسکولوں کے اندر داخل کرنے تمام طرح کی تخلیقی صلاحیتوں کو پرواز دینے کے لیے ، جس سے طلبائ اور اساتذہ دونوں کے لیے سیکھنے کا ایک عمیق تجربہ پیدا ہو۔انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے دائرے میں یہ کثیر جہتی اقدامات ہم آہنگ ذرائع ہیں، جو ایک ایسے مستقبل کی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں تعلیم صرف ایک استحقاق نہیں بلکہ ہر فرد کے لیے پیدائشی حق ہے، چاہے اس کے جغرافیائی حالت یا سماجی و اقتصادی پس منظر کچھ بھی ہوں۔
AIMEP، انفراسٹرکچر میں اپنی اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے ذریعے، ایک ایسے معاشرے کے لیے بنیاد ڈالنے کے لیے پر عزم ہے جہاں مساوات کوئی دور کا خواب نہ ہو بلکہ ایک کھلنے والی حقیقت ہو۔ تعلیم، AIMEP کے وڑن میں، آب حیات کے مانند ہے جو انفرادی ترقی کو آگے بڑھاتی ہے اور قومی ترقی کے انجن کو ایندھن دیتی ہے۔AIMEP کی تبدیلی آورایجنڈے کی سیر کرتے ہوئے، ایک ایسی خوش مزاجی نظر آتی ہے،جہاں الفاظ کی ہلکی رفتار پر عزم مقاصد کے پیش نظر ہنر اور مہارت کے ا ±ن تمام جہات میں صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہے جہاں سے ایک مثبت اور موثر چھاپ ڈال سکے۔ محروم افراد کے لیے پارٹی کی وابستگی محض ایک مشن نہیں ہے۔ یہ بااختیار بنانے کا ایک شاندار ٹیپسٹری ہے، شمولیت کا ایک ایسا نمونہ جو تعلیمی تبدیلی کی راہداریوں میں گونجتا ہے۔دور دراز علاقوں میں تعلیمی مقدسات کا قائم کرنا صرف ایک تعمیراتی منصوبہ نہیں ہے؛ یہ ایک فنونی نظم ہے، ایک لیریکل بیان جو دنیاوی چیزوں سے باہر جانے اور علم کی روشنی سے دور رہنے والوں کے دلوں کو چھونے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ تعلیمی سہولتوں کو نیا کرنا ایک معمولی اصلاح نہیں ہے؛ یہ ایک کیمیائی تبدیلی ہے،ایک نرم دلی ہے جو خالی جگہوں کو فکری کھوج کے لیے پرورش کی پناہ گاہوں میں بدل دیتی ہے۔کلاس رومز میں ٹیکنالوجی کا انضمام محض اپنانے نہیں ہے۔ یہ ایک ہم آہنگ تعاون ہے ، ایک باہمی شراکت جو روایتی جگہوں کو ڈیجیٹل کینوسز میں تبدیل کرتی ہے جہاں علم کے برش اسٹروک کو جدت کے پکسلز سے پینٹ کیا جاتا ہے۔

Related posts

آپ ایم پی سنجے سنگھ نے جیل میں اپواس رکھا، ہم وطنوں سے جمہوریت کی حفاظت کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی

Paigam Madre Watan

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور تمل ناڈو کے وزیر اعلی اسٹالن نے ملاقات کی، ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا

Paigam Madre Watan

भ्रष्ट और क्रूर लोगों के खिलाफ लड़ाई ही मेरा मुख्य लक्ष्य होगा

Paigam Madre Watan

Leave a Comment