مفتی اشفاق قاضی
دل میں بغض، پیٹ میں حرام، اور طواف پہ طواف
کعبہ خود چکر میں ہے، کہ یہ کس چکر میں ہیں
ایسے حالات میں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسروں کے حقوق باقی چھوڑ کر نفلی عبادت کے لیے سفر کرنا واقعی تقویٰ کہلا سکتا ہے؟یا پھر یہ دین کے نام پر ایک ایسی روش بن گئی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، ایک عیاشی کی صورت تو وہ ہے جسے عرفِ عام میں ہر شخص برا سمجھتا ہے، مثلاً کلبوں اور باروں میں جانا، ناچ گانا، لہو و لعب کی محفلوں میں وقت گزارنا، شراب نوشی یا جوا جیسی برائیوں میں مبتلا ہونا وغیرہ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں معاشرہ بھی معیوب سمجھتا ہے اور دین بھی سختی سے منع کرتا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور صورت بھی ہے جسے بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں، اور وہ ہے دینی عیاشی، یعنی دینداری اور عبادت کے نام پر ایسی سرگرمیاں اختیار کرنا جن میں بظاہر عبادت کا عنوان تو ہو، مگر مقصد اللہ کی رضا اور تقربِ الٰہی نہ ہو بلکہ آرام، سیاحت، کھانا پینا اور دنیاوی لطف اندوزی ہو، چنانچہ بعض لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کے باوجود عبادت کی حقیقی روح سے محروم رہتے ہیں،فجر سے لے کر عصر تک سوتے رہتے ہیں، ان کی ظہر کی نماز تک قضا ہوجاتی ہے، شہر مقدس میں رہ کر اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی کہ حرم شریف میں انہیں باجماعت نماز کی توفیق نہیں ملتی، تراویح اور تہجد جیسی عظیم عبادتوں سے غفلت ان کا شیوہ بن جاتا ہے اور ان کا زیادہ تر وقت ہوٹلوں، موبائل فون، انٹرنیٹ اور بازاروں میں گزرتا ہے، یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ مقصد تقربِ الٰہی نہیں بلکہ ایک طرح کی عیاشی ہے، اس کے برعکس وہ خوش نصیب لوگ بھی ہیں جو واقعی اللہ کی رضا کے طلبگار ہوتے ہیں،وہ نماز کے اوقات سے پہلے مسجد حرام پہنچتے ہیں، خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، تلاوتِ قرآن، ذکر اور دعا میں اپنے لمحات گزارتے ہیں اور رمضان کی ہر گھڑی کو قیمتی سمجھتے ہیں، ان کے لیے یہ سفر سیاحت نہیں بلکہ بندگی اور روحانیت کا سفر ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع پر ایک نہایت بامعنی جملہ ارشاد فرمایا تھا ’’لا عيش إلا عيش الآخرۃ‘‘یعنی اصل عیش اور حقیقی راحت تو آخرت کی راحت ہے،دنیا کی وقتی اور ظاہری لذتیں درحقیقت کامیابی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح ہی وہ اصل کامیابی ہے جس کے لیے مومن کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے، لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے،اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال سے نوازا ہے اور ہم ایک یا دو مرتبہ عمرہ ادا کر چکے ہیں تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہمارے آس پاس کتنے لوگ ایسے ہیں جو مالی تنگی اور مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں، بہتر یہ ہے کہ ایسے ضرورت مند لوگوں کی تلاش کی جائے جو سوال نہیں کرتے مگر واقعی محتاج ہیں،اگر کوئی شخص اپنی استطاعت سے کسی غریب یا مسکین کو عمرہ کے لیے بھیج دے، کسی مسجد کے امام یا مؤذن کو یہ سعادت حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دے، یا کسی نیک بندے کو خاموشی کے ساتھ اس سفر کے لیے روانہ کر دے تو یہ بھی ایک بڑی نیکی ہے، جب وہ شخص پہلی مرتبہ کعبۃ اللہ کو دیکھے گا اور پہلی بار مسجد نبوی میں حاضری دے گا تو اس کے دل کی کیفیت، اس کی عاجزی اور اس کی رقت آمیز دعائیں یقیناً بہت اثر رکھیں گی اور ممکن ہے کہ اس کی وہ دعائیں اس کے محسن کے لیے عظیم اجر و ثواب کا ذریعہ بن جائیں،لہٰذا ضروری ہے کہ ہم حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اگر کسی کے ذمہ لوگوں کے حقوق باقی ہوں تو اسے چاہیے کہ پہلے وہ حقوق ادا کرے، پھر نفلی عبادات کی طرف متوجہ ہو، ان دینی عیاشوں کو اس سلسلے میں اہلِ علم اور مفتیانِ کرام سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کا عمل شریعت کے مطابق اور اللہ کے نزدیک مقبول ہوسکے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اعمال کی اصلاح کرنے، عبادت کی حقیقی روح سمجھنے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی پکڑ اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔آمین۔

