Articles مضامین

رمضان میں حقوق العباد سے غفلت اور عمرہ کے نام پر دینی عیاشی

مفتی اشفاق قاضی
image.pngرمضان المبارک رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے، دو عشرہ گزر چکا ہے، آخری عشرہ جہنم سے آزادی والا ہمارے اوپر سایہ فگن ہے جو جلد ہی رخصت پذیر ہوجائے گا، رمضان کا مہینہ وہ بابرکت اور مقدس مہینہ ہے جس میں بندۂ مومن اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے اور عبادت، توبہ اور اصلاحِ نفس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان ہی مبارک دنوں میں عمرہ ادا کرنے کی فضیلت بھی احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے، اسی لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان رمضان کے مہینے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے پوچھا ’تمہارے لیے ہمارے ساتھ حج کرنے پر کیا رکاوٹ ہے‘؟ اس نے جواب دیا  ’ہمارے پاس صرف دو اونٹ ہیں، ایک پر میرا بیٹا اور اس کا والد حج کرنے چلے گئے اور دوسرا ہمارے لیے چھوڑ دیا تاکہ ہم اس سے کھیتی کو سیراب کرنے کا کام لیں‘،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ جب ماہ رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لینا، کیوں کہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے‘ ‘۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ ”میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے“۔علمائے کرام نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رمضان المبارک کی برکت اور شرف کی وجہ سے اس مہینے میں کی جانے والی عبادات کا اجر بڑھ جاتا ہے، اسی مناسبت سے رمضان کے عمرے کو حج کے اجر کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ رمضان کا عمرہ فرض حج کا متبادل بن جاتا ہے، لہٰذا رمضان میں عمرہ ادا کرنے سے فرض حج کی ذمہ داری ساقط نہیں ہوتی، اسی طرح ایک حدیث میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے،لیکن محدثین اور فقہائے کرام نے اس کی وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد وہ صغیرہ گناہ ہیں جو بندے اور اس کے رب کے درمیان ہوتے ہیں،جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے تو اس کا معاملہ بالکل مختلف ہے،اگر کسی شخص نے کسی کا مال دبایا ہو، کسی کا قرض ادا نہ کیا ہو، کسی کا حق مارا ہو یا میراث میں ناانصافی کی ہو تو اس کا کفارہ صرف عبادت نہیں بلکہ حق کی ادائیگی اور صاحبِ حق سے معافی ہے،یہی وہ نازک پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور نہ کیا جائے تو عبادت بھی انسان کو دھوکے میں ڈال سکتی ہے،ہمارے معاشرے میں، خصوصاً بڑے شہروں میں، یہ منظر بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ بار بار نفلی عمرے کے لیے روانہ ہوتے ہیں،رمضان المبارک کا پورا مہینہ یا کم از کم آخری عشرہ اہلِ خانہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں گزارنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، بڑی بڑی ہوٹلیں بک کرتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے وہ کئی مرتبہ عمرہ ادا کر چکے ہوتے ہیں، بظاہر یہ ایک نیکی کا کام نظر آتا ہے، لیکن جب انسان حالات کا جائزہ لیتا ہے تو دل میں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، مثلاً ہمارے شہر ممبئی میں ہی ایسے بہت سے کاروباری حضرات، بلڈرز وغیرہ موجود ہیں جن کے ذمہ متعدد لوگوں کے حقوق باقی ہوتے ہیں،کسی خریدار کا مکان ابھی تک حوالے نہیں کیا گیا، کسی پارٹنر کا حق باقی ہے، کسی مزدور یا کاریگر کی محنت کی کمائی ادا نہیں  کی گئی، کسی کا قرض ابھی تک واپس نہیں کیا گیا، یا بہن کو میراث میں اس کا جائز حصہ نہیں دیاگیا، بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک بہن اپنے گھر میں مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، اس کے گھر کا چولہا مشکل سے جل رہا ہے، جبکہ اسی کا بھائی پورے اہلِ خانہ کے ساتھ عمرہ کے سفر پر روانہ ہو رہا ہے،اسی عمرہ زائر کے بھائی کے گھر میں فاقہ چل رہا ہے، عید کس طرح منائیں گے، اس کی فکر دامن گیر ہے لیکن دوسرا بھائی ہر سال طواف پر طواف کررہا ہے ،بقول شاعر
دل میں بغض، پیٹ میں حرام، اور طواف پہ طواف
کعبہ خود چکر میں ہے، کہ یہ کس چکر میں ہیں
ایسے حالات میں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسروں کے حقوق باقی چھوڑ کر نفلی عبادت کے لیے سفر کرنا واقعی تقویٰ کہلا سکتا ہے؟یا پھر یہ دین کے نام پر ایک ایسی روش بن گئی ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، ایک عیاشی کی صورت تو وہ ہے جسے عرفِ عام میں ہر شخص برا سمجھتا ہے، مثلاً کلبوں اور باروں میں جانا، ناچ گانا، لہو و لعب کی محفلوں میں وقت گزارنا، شراب نوشی یا جوا جیسی برائیوں میں مبتلا ہونا وغیرہ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں معاشرہ بھی معیوب سمجھتا ہے اور دین بھی سختی سے منع کرتا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور صورت بھی ہے جسے بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں، اور وہ ہے دینی عیاشی، یعنی دینداری اور عبادت کے نام پر ایسی سرگرمیاں اختیار کرنا جن میں بظاہر عبادت کا عنوان تو ہو، مگر مقصد اللہ کی رضا اور تقربِ الٰہی نہ ہو بلکہ آرام، سیاحت، کھانا پینا اور دنیاوی لطف اندوزی ہو، چنانچہ بعض لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کے باوجود عبادت کی حقیقی روح سے محروم رہتے ہیں،فجر سے لے کر عصر تک سوتے رہتے ہیں، ان کی ظہر کی نماز تک قضا ہوجاتی ہے، شہر مقدس میں رہ کر اس سے بڑی بدبختی کیا ہوگی کہ حرم شریف میں انہیں باجماعت نماز کی توفیق نہیں ملتی، تراویح اور تہجد جیسی عظیم عبادتوں سے غفلت   ان کا شیوہ  بن جاتا ہے اور ان کا زیادہ تر وقت ہوٹلوں، موبائل فون، انٹرنیٹ اور بازاروں میں گزرتا ہے، یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ مقصد تقربِ الٰہی نہیں بلکہ ایک طرح کی عیاشی ہے، اس کے برعکس وہ خوش نصیب لوگ بھی ہیں جو واقعی اللہ کی رضا کے طلبگار ہوتے ہیں،وہ نماز کے اوقات سے پہلے مسجد حرام پہنچتے ہیں، خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، تلاوتِ قرآن، ذکر اور دعا میں اپنے لمحات گزارتے ہیں اور رمضان کی ہر گھڑی کو قیمتی سمجھتے ہیں، ان کے لیے یہ سفر سیاحت نہیں بلکہ بندگی اور روحانیت کا سفر ہوتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع پر ایک نہایت بامعنی جملہ ارشاد فرمایا تھا ’’لا عيش إلا عيش الآخرۃ‘‘یعنی اصل عیش اور حقیقی راحت تو آخرت کی راحت ہے،دنیا کی وقتی اور ظاہری لذتیں درحقیقت کامیابی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح ہی وہ اصل کامیابی ہے جس کے لیے مومن کو اپنی زندگی گزارنی چاہیے، لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے،اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں مال سے نوازا ہے اور ہم ایک یا دو مرتبہ عمرہ ادا کر چکے ہیں تو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہمارے آس پاس کتنے لوگ ایسے ہیں جو مالی تنگی اور مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں، بہتر یہ ہے کہ ایسے ضرورت مند لوگوں کی تلاش کی جائے جو سوال نہیں کرتے مگر واقعی محتاج ہیں،اگر کوئی شخص اپنی استطاعت سے کسی غریب یا مسکین کو عمرہ کے لیے بھیج دے، کسی مسجد کے امام یا مؤذن کو یہ سعادت حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دے، یا کسی نیک بندے کو خاموشی کے ساتھ اس سفر کے لیے روانہ کر دے تو یہ بھی ایک بڑی نیکی ہے، جب وہ شخص پہلی مرتبہ کعبۃ اللہ کو دیکھے گا اور پہلی بار مسجد نبوی میں حاضری دے گا تو اس کے دل کی کیفیت، اس کی عاجزی اور اس کی رقت آمیز دعائیں یقیناً بہت اثر رکھیں گی اور ممکن ہے کہ اس کی وہ دعائیں اس کے محسن کے لیے عظیم اجر و ثواب کا ذریعہ بن جائیں،لہٰذا ضروری ہے کہ ہم حقوق العباد کی ادائیگی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اگر کسی کے ذمہ لوگوں کے حقوق باقی ہوں تو اسے چاہیے کہ پہلے وہ حقوق ادا کرے، پھر نفلی عبادات کی طرف متوجہ ہو، ان دینی عیاشوں کو اس سلسلے میں اہلِ علم اور مفتیانِ کرام سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کا عمل شریعت کے مطابق اور اللہ کے نزدیک مقبول ہوسکے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اعمال کی اصلاح کرنے، عبادت کی حقیقی روح سمجھنے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی پکڑ اور اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔آمین۔

Related posts

ظلم کا خاتمہ کرنا اور انصاف قائم کرنا امت مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے

Paigam Madre Watan

مطالعہ بلند خیالی ،اعلیٰ ظرفی اور وسعت نظری پیدا کرتا ہے

Paigam Madre Watan

  دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو

Paigam Madre Watan

Leave a Comment