Delhi دہلی

مغربی بنگال میں جمہوریت ہار گئی، بی جے پی کا لوٹ کا نظام جیت گیا: سنجے سنگھ

نئی دہلی، عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کی ہار اور بی جے پی کی جیت کے پیچھے رچی گئی مبینہ سازشوں کی طرف ملک کی عوام کی توجہ مبذول کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں جمہوریت کی ہار ہوئی ہے اور بی جے پی کے لوٹ کے نظام کی جیت ہوئی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن 27 لاکھ لوگوں کو ووٹ دینے سے محروم نہ کرتا تو نتائج بالکل مختلف ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعے لاکھوں ووٹ کاٹنے کے باوجود بھی بی جے پی کو ٹی ایم سی سے محض 2 فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کے اشارے پر بی جے پی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے الیکشن کمیشن کی جیت ہے۔پیر کو پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج پر بات کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ تمل ناڈو میں ایک بڑا سیاسی بدلاؤ دیکھنے کو ملا، جہاں ٹی وی کے نامی ایک نئی پارٹی اور اس کے لیڈر وجے کو عوام نے زبردست حمایت دی۔ جمہوریت میں کئی بار عوام اس طرح کے فیصلے کرتی ہے اور نئی پارٹیوں کو موقع دیتی ہے، جیسا کہ تمل ناڈو میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں جو کچھ ہوا ہے، اس پر آج بی جے پی جشن منا رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی جمہوریت کی جیت ہے؟ کیا یہ عوام کے فیصلے کی جیت ہے؟کیا اس انتخابی نتیجے کے پیچھے کی حقیقت کو نظر انداز کر دینا چاہیے؟ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے، ہر چیز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔سنجے سنگھ نے کہا کہ بنگال کے انتخابات کو الیکشن کمیشن نے کس طرح متاثر کیا اور ایس آئی آر کے ذریعے عوام کے ووٹ کیسے چھینے گئے، یہ قابل غور ہے۔ آج معلوم ہو رہا ہے کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان صرف تین سے چار لاکھ ووٹوں کا فرق ہے، جو تقریباً 2 فیصد بنتا ہے۔ کیا یہ فرق واقعی جیت کی بنیاد ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ 27 لاکھ لوگوں کو ووٹ ڈالنے ہی نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی تاخیر ہوئی اور جب فیصلہ آیا تو لوگوں کو حیرت ہوئی کہ کہا گیا کہ اگلی بار ووٹ دے دینا۔ اگر 27 لاکھ ووٹرز اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ ہوتے تو کیا بی جے پی کو ایسی جیت ملتی؟ ہرگز نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ایس آئی آر کے ذریعے انہیں اس حق سے محروم کر دیا گیا، اس لیے یہ جیت دراصل لوٹ کے نظام کی جیت ہے، جمہوریت کی نہیں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ اس انتخاب میں وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور بی جے پی رہنماؤں نے جس طرح کی نازیبا زبان استعمال کی، وہ بھی ایک الگ پہلو ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی سیکورٹی فورسز کا بڑے پیمانے پر استعمال بھی قابل غور ہے۔ تقریباً ڈھائی لاکھ سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکہ ایران سے لڑنے کے لیے 50 ہزار فوجی استعمال کرتا ہے، جبکہ مودی حکومت ممتا بنرجی سے مقابلے کے لیے ڈھائی لاکھ اہلکار تعینات کرتی ہے۔انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کانگریس اور راہل گاندھی وہاں جا کر ممتا بنرجی کو ہی نشانہ کیوں بنا رہے تھے، جس سے ووٹوں کی تقسیم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نتیجہ جمہوریت کی جیت نہیں بلکہ ایس آئی آر گھپلے، سرکاری مشینری کے غلط استعمال اور بی جے پی کے حق میں ماحول بنانے کا نتیجہ ہے۔سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ دہلی اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی نے اپنے وعدوں سے زیادہ کام کیا، لیکن اگر عوام جھوٹے وعدوں پر یقین کر لے تو اس میں پارٹی کی کیا غلطی؟ اگر بی جے پی دیگر ریاستوں میں جا کر جھوٹے وعدے کرتی ہے اور عوام بغیر سوچے سمجھے ووٹ دیتی ہے، تو عوام کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر مہنگائی، بے روزگاری، گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر مسائل پر عوام کو غصہ نہیں آتا، تو بی جے پی اپنی پالیسیوں پر کیوں بدلے گی؟ وہ اسی طرح لوٹ کے نظام کو جاری رکھے گی اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچاتی رہے گی۔آخر میں سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر عوام ان تمام مسائل پر خاموش رہی تو تاریخ میں جمہوریت کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے لیے ہمیں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

Related posts

"آپ” کی طلبہ تنظیم ایسَیپ نے بچی کے ساتھ درندگی کے بعد قتل کے معاملے پر وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے خلاف احتجاج کیا

Paigam Madre Watan

50% of individuals have announced their intention to continue after the company returned their funds.

Paigam Madre Watan

High Court stays the case of stolen cheques by Aqeel and Muneeb

Paigam Madre Watan