National قومی خبریں

ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی چوتھی بار ملتوی، غیر قانونی کارروائیوں کا الزام کمپنی کسی بھی زبردستی یا غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے : ڈاکٹر نوہیرا شیخ

ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی چوتھی بار ملتوی، غیر قانونی کارروائیوں کا الزام
کمپنی کسی بھی زبردستی یا غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے : ڈاکٹر نوہیرا شیخ

نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز کی جائیدادوں کی نیلامی کا عمل ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ چوتھی بار ہے جب نیلامی کی تاریخ تبدیل کردی گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں طرح طرح کی افواہیں پھیل رہی ہیں۔ ماہرین اور متاثرین کا کہنا ہے کہ بار بار کی یہ تاخیریں دراصل عوام میں یہ تاثر پیدا کرتی ہیں کہ ایجنسیاں غیر قانونی اور دباو کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال ہی عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ، سی ای او ہیرا گروپ نے ایک واضح نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کمپنی کسی بھی قسم کی غیر قانونی، زبردستی یا عدالت کی حدود سے تجاوز کرنے والی نیلامی کی حمایت نہیں کرے گی۔ اس نوٹس کے باوجود، صورتحال میں بہتری کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
کمپنی کے ذرائع کے مطابق، حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود MSTC کی ویب سائٹ پر 50 اضافی جائیدادوں کو من مانے انداز میں نیلامی کے لیے شامل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اس اقدام پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم صرف ان 16 جائیدادوں کی نیلامی پر راضی تھے جن کا سپریم کورٹ نے خود نامزد کیا تھا۔ ہم آج بھی انہی احکامات پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔” ذرائع بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے روزانہ کی بنیاد پر ای میلز بھیجیں اور متعلقہ دستاویزات پر دستخط کے لیے بار بار درخواست کی۔ تاہم ایجنسیوں نے ان درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ الٹا، سی ای او کو گرفتار کرنے میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی گرفتاری بالکل اس وقت عمل میں لائی گئی جب سپریم کورٹ کی گرمیوں کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیلامی کی بار بار ملتوی ہونے کی سب سے بڑی وجہ عام عوام اور سرمایہ کاروں میں ہیرا گروپ کی جائیدادوں کے حوالے سے عدم دلچسپی ہے۔ جب MSTC ویب سائٹ پر عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر کی جائیدادوں کو بھی شامل کر لیا گیا تو یہ عمل نہ صرف متنازع بنا بلکہ شفافیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
”ہیرا گروپ قانون کی حکمرانی کا احترام کرتا ہے اور صرف سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرنا چاہتا ہے۔ ہم کسی بھی غیر قانونی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے۔“ سوالات جو جواب طلب ہیں، کیا عدالت عالیہ کے احکامات کو نظر انداز کر کے اضافی جائیدادوں کو نیلامی میں شامل کیا جا رہا ہے؟کیا گرفتاری کا وقت اور اضافی جائیدادوں شمولیت اتفاقی ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ بندی ہے؟ ہیرا گروپ کیس پورے ملک میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ متاثرہ سرمایہ کاروں، وکلاءاور تجزیہ کاروں کی نظر اب سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ اس معاملے میں شفافیت اور انصاف کو کیسے یقینی بناتا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ قانونی جنگ لڑ رہی ہے اور ہر قدم پر عدالت کی بالادستی کو تسلیم کرتی ہے۔
ہیرا گروپ آف کمپنیز کی جائیدادوں کی بار بار نیلامی منتقل ہونے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مارکیٹ میں ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی عوام میں یہ بھرم پھیلا رہی ہو کہ ایجنسیوں کی طرف سے کی جا رہی کارروائی غیر قانونی اور زبردستی پر منحصر ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی کی تاریخی چوتھی بار تبدیل کی گئی ہے، حالانکہ گزشتہ سال سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ایک نوٹس جاری کر کے اس بات کو تشہیر دی تھی کہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی اور زبردستی کی نیلامی کو کمپنی حمایت نہیں کرے گی۔ کمپنی ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے حکم سے اوپر جا کر ایم ایس ٹی سی کی ویب سائٹ پر 50 مزید جائیدادوں کو من مانے طریقے سے نیلامی لسٹ میں شامل کرنے پر سی ای او عالمہ ڈکٹر نوہیرا شیخ نے اظہار رنج و غم کیا تھا، اور کہا تھا کہ 16 وہ جائیدادیں جن کی نیلامی ملک کی عدالت عالیہ نے نامزد کیا تھا اس کے حکم پر کمپنی ہر طرح راضی تھی اور آج بھی ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرنے کیلئے ہیرا گروپ سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ہر روز ایک ای میل کر کے ان دستاویزات پر دستخط کرنے کیلئے طلب کیا، مگر سپریم کورٹ کی ہدایت کردہ نیلامی جائیدادوں پر ایجنسیوں نے توجہ نہیں دی، البتہ سی ای او کو گرفتار کرنے میں ان کی دلچسپی زیادہ دکھائی دی، اور آخر کار ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی گرفتاری ایسے وقت میں کی گئی جب سپریم کورٹ میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو گئیں، اور ایجنسیوں کے چھٹیوں پر گرفتاری اور گرفتاری میں ایجنسیوں کی دلچسپی اور سپریم کورٹ کے حکم سے اوپر بلکہ سپریم کورٹ کی حکم عدولی کرتے ہوئے ایم ایس ٹی سی کی ویب سائٹ پر 50 من مانی طریقے سے (جن جائیدادوں کی نیلامی کا ملک کی کسی کورٹ کچہری نے حکم نہیں دیا) نیلامی لسٹ میں شامل کرلینا کہیں نا کہیں عوام کا ہیرا گروپ کی جائیدادوں میں عدم دلچسپی اور ایجنسیوں کی منشا پر سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

Related posts

 ناقص مڈ ڈے میل سے سرکار عدم توجہی کا شکار

Paigam Madre Watan

डॉ. नौहेरा शेख ने देशव्यापी यात्रा की शुरुआत की

Paigam Madre Watan

Global Peace Ambassador Expresses Grief Over the Death of Iran’s President Ebrahim Raisi

Paigam Madre Watan