Blog

ڈاکٹر شیخ مولانا ابراہیم صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ

ڈاکٹر شیخ مولانا ابراہیم صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ

تصویر میں درمیان میں تشریف فرما یہ پُرنور اور روشن چہرہ، فرشتہ صفت شخصیت، ڈاکٹر شیخ مولانا ابراہیم صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ ہیں۔ میرے لیے وہ نہایت مشفق مربی، مخلص راہنما، ہمدرد بزرگ اور خوش اخلاق و ملنسار شخصیت کے مالک رہے ہیں۔ زمانۂ طالب علمی میں مجھے آپ سے متعدد کتابیں پڑھنے اور آپ کے علمی فیض سے استفادہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
دورانِ درس آپ ایک باوقار اور پدرانہ مزاج رکھنے والے استاذ کی حیثیت سے نظر آتے تھے، لیکن درس گاہ سے باہر آپ کا انداز ایک نہایت مشفق بزرگ دوست جیسا ہوتا تھا۔ آپ کی نصیحتیں، حکمت بھری گفتگو اور آپ کی صحبت میں گزارے ہوئے لمحات آج بھی ذہن و دل میں تازہ ہیں اور اکثر یاد آتے رہتے ہیں۔
آپ جب بھی مخاطب فرماتے تو ہمیشہ مسکراتے ہوئے آواز دیتے۔ جامعہ میں جب کبھی کسی سامان کی ضرورت ہوتی تو اکثر مجھے ہی بھیج دیا کرتے تھے۔ بہت سے طلبہ آپ کے جلال اور علمی رعب کی وجہ سے آپ سے گھبراتے تھے اور مجھ سے پوچھتے تھے کہ "شیخ تمہارے کے ساتھ اتنے نرم اور منکسر المزاج کیوں رہتے ہیں؟” حقیقت یہ ہے کہ ایک استاذ کی حیثیت سے آپ کا دبدبہ طلبہ ہی نہیں بلکہ بعض اساتذہ پر بھی محسوس ہوتا تھا۔
میرے ہم جماعت اکثر حیرت سے کہتے تھے کہ "تم نہ تو کلاس کے ٹاپر ہو اور نہ ہی کوئی خاص نمایاں طالب علم، پھر بھی شیخ تم سے اتنی محبت اور شفقت سے کیوں پیش آتے ہیں؟” اس سوال کا میرے پاس کبھی کوئی جواب نہیں تھا۔ البتہ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ڈاکٹر شیخ مولانا ابراہیم صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور شفقت میرے لیے ایک مزاجی والد کی محبت سے کم نہ تھی۔
ایک دلچسپ واقعہ آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ سالانہ امتحانات کا زمانہ تھا اور سردیوں کے دن تھے۔ میں امتحان دے کر ہال سے باہر نکل رہا تھا۔ اتفاق سے اس روز میرے امتحانی ہال کی نگرانی بھی شیخ ہی فرما رہے تھے۔ شیخ کے جلال اور رعب کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے لوگ ان کے سامنے محتاط انداز میں گفتگو کرتے تھے۔ تاہم میرے والد گرامی، شیخ مولانا عزیز الرحمن صاحب سلفی، کے ساتھ ان کا تعلق نہایت دوستانہ اور محبت بھرا تھا۔
شیخ نے مجھے آواز دے کر فرمایا:
"مدن پورہ جاؤ اور قیمے کی چھ پوڑیاں اور کچھ پکوڑیاں لے آؤ، اور سنو! اپنے لیے بھی جتنی ضرورت ہو لے لینا۔”
میں بازار گیا اور شیخ کے لیے چھ پوڑیاں اور پکوڑیاں لے لیں، جبکہ اپنے لیے سولہ پوڑیاں اور پکوڑیاں خرید لیں، کیونکہ اس وقت ہماری پوری فیملی جامعہ میں موجود تھی؛ والدہ محترمہ، ایک چھوٹی بہن اور تین بھائی بھی ساتھ تھے۔
جب میں واپس پہنچا تو شیخ نے مسکراتے ہوئے بڑی تھیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں نے فوراً عرض کیا:
"شیخ! یہ بڑی تھیلی میری ہے، آپ کی چھ پوڑیاں اس چھوٹی تھیلی میں ہیں۔”
میری بات سن کر شیخ زور سے ہنس پڑے اور فرمایا:
"اچھا! بہتر ہے، جاؤ۔”
بعد میں جب والد صاحب امتحانی ڈیوٹی مکمل کرکے گھر واپس آئے اور ظہر کے بعد کھانے پر بیٹھے تو انہوں نے پوچھا:
"آج شیخ بہت ہنس رہے تھے، کیا بات ہوئی تھی؟”
میں نے پورا واقعہ سنایا تو والد صاحب بھی مسکرا دیے اور فرمانے لگے:
"بھئی! تمہاری ہمت کی داد دینی پڑے گی۔ بڑے بڑوں کی تو شیخ کے سامنے آواز نہیں نکلتی اور تم نے ان کے لیے چھ پوڑیاں اور اپنے لیے سولہ پوڑیاں رکھ لیں!”
یہ بات سن کر گھر میں بھی خوب ہنسی ہوئی اور یہ واقعہ ہماری یادوں کا ایک خوبصورت حصہ بن گیا۔
آج برسوں بعد بھی یہ تمام یادیں دل کے دریچوں میں محفوظ ہیں۔ ایسے اساتذہ صرف علم ہی نہیں دیتے بلکہ اپنے اخلاق، شفقت اور محبت سے شاگردوں کی شخصیت سازی بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر شیخ مولانا ابراہیم صاحب مدنی حفظہ اللہ تعالیٰ کو صحت، عافیت، برکت اور درازیِ عمر عطا فرمائے، اور ہمارے تمام اساتذۂ کرام کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین
مطیع الرحمن عزیز

Related posts

वित्तीय समावेशन की पुनर्संकल्पना का उद्घाटन करना हीरा ग्रुप : नैतिक वित्तीय स्थिरता का प्रतीक

Paigam Madre Watan

 ای ڈی اور اس کے حمایتی محکمہ جات ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی منظم تباہی کے مرکزی کردار

Paigam Madre Watan

باور کرو وہ زمانہ دُور نہیں، تاریخ انگڑائی لے چکی ہے! جغرافیہ کمر کھول رہا ہے اذان فجر ہوگی اور ضرور ہوگی، تب مسلمانوں کو احساس ہوگا کہ اُن کی خانہ ویرانی میں اپنوں ہی کا ہاتھ تھا اور ان کی سوختہ سامانی کے ذمہ دار اپنے ہی چراغ تھے، تب میری آواز تاریخ کے گنبد سے آرہی ہوگی

Paigam Madre Watan