Articles مضامین

کبھی سوچا کہ صحابہ کون تھے؟ : شعبان بیدار صفاوی

کبھی سوچا کہ صحابہ کون تھے؟

شعبان بیدار صفاوی

اگر انہوں نے سفر کی صعوبتوں سے خوف کھایا ہوتا تو ہم کسی بت زعفران کے سامنے جذبہ باطل کی قید میں لرزہ بر اندام ہوتے___کسی فرعونی مورت کے حضور نمو نماہ کرتے ہوءے سجدہ ریز ہوتے__. ہاتھ جوڑے کسی دیوی کی درگاہ پر اپنے عقیدہ و عقیدت کا جھٹکا کررہے ہوتے.____ یہ ان کی عزیمتوں اور عظمتوں کا معاملہ ہی ہے کہ سینوں میں توحید کے دئے آج تک جل رہے ہیں__اور روشنی ہے کہ دنیا کی تمام طاغوتی طاقتیں مل کر بھی مدھم نہیں کرپارہی ہیں.
صدیق اکبر کے بستر پر زمام خلافت کے بعد کوئی ایک شب دلنواز بھی تو ایسی آئی ہوتی کہ چین کی نیند مل جاتی ____ وہ شمع رسالت کا ہوشمند پروانہ رسالت مآب کی بکھرتی امت کا شیرازہ سمیٹتے ہوءے آپ کے پہلو میں جالیٹا ___ تب کہیں جاکے آنکھ لگی._——— اور پھر اس منبع صدق وصفا سے ہوتے ہوءے صداقتوں کا یہ دودھیا آبشار امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ذریعہ ساری دنیا کی زمینوں کو شاداب کرتا رہا.
* سبائی میڈیا کی طرف سے شب وروز فتنوں کی کاشت ہوتی٠٠٠٠٠٠٠٠ افسانے تراشے جاتے٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠، حلم بردباری کے اس پیکر اعظم کے صبر کا سخت ترین امتحان لیا جاتا٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ مگر اپنے سابقین کے نقش قدم پر یہ خلیفہ عظمت اور یہ بادشاہ مصطفی چلتا رہا اور چلتا رہا______. اسلامی سلطنت کی سرحدیں بڑھاتا رہا__ اور پھر ایک دن حکمران صحابہ کا یہ آخری چراغ بھی گل ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون.
تمہارے ملا مولوی انقلاب کی ہزار باتیں کریں…………. طرہ پرپیچ کےسہارے نفس امارہ کی عظمتوں کا قصیدہ بقلم خود جیسا بھی لکھیں ___کوئی مردہ زندہ کرے تو کوئی زندے کو ماردے___ کرامتوں کا دعوہ کرے یا معجزات دکھا نے کا جنون پال کے بیٹھ جاءے __ ہزار سجدے کہ ٠٠٠٠٠٠٠٠٠ لاکھ روزے ہوں…. علم وفن اور لٹریچر کا کوئی شاہ ہو کہ شاہنشاہ ہو……..اس کی عظمت تحریر اور حسین جھوٹ کے جلوے مشرق ومغرب میں پھیلے ہوں….. غرض تم کچھ بھی ہو ___مگر ان کے ہاتھوں جیسے ہاتھ کہاں سے لاؤگے جنہوں نے نبی سے مصافحہ کیا تھا____اور وہ سینے جن میں سینہ اطہر کی حرارتوں نے ایمان عقیدت کی شمعیں روشن کردی تھیں___ہاں وہ ضیاء پاش آنکھیں جو دیدار مصطفی کی زکوۃ پاکر دولت کائنات کے سینے پر جوتیاں چٹکاتی تھیں ___ہاں ہاں وہی آنکھیں جن کی روشنیاں سید کونین کی زلف معنبر کا بوسہ لیتی تھیں__ جنہوں نے تاجدار حرم کے دلآویز تبسم کی تصویریں قرطاس شعور پر ثبت کرلی تھیں.
تو صاحبوا یہ ان پاک ہستیوں کا احسان عظیم ہے کہ جب آفتاب رسالت طلوع ہوا ……………. رسالت کی کرنیں کائنات کے پردے پر جلوہ بار ہوئیں ………….. سینہ اطہر سے نبوت کا فیض سیل رواں کی صورت سیراب کرتا ہوا چلا ___ تو ان صحابہ کرام نے ہر شعاع توحید کو اپنے وجود میں جذب کر لیا___ ایک ایک کرن کو اپنی آنکھوں کا نور بنالیا __قطرہ قطرہ کو شعور کے سنہری کٹورے میں لبالب بھر لیا __-. اور پھر ساری دنیا کو بتایا کہ نبی جب مسکراتے تھے تو جلوہ تبسم کا عالم یوں ہوا کرتا تھا___ منبر نبوت پر چڑھ کے تقریر فرماتے تو انگلیوں کے اشاروں سے دلوں کی دنیا یوں بدلتی تھی…………
سنوا اور سنو یہ اسٹیج ایک بار سجا… اب دوبارہ نہیں سجنے والا___اس اسٹیج پر کوئی اگلی صفوں کا ہو یا پچھلی صفوں کا ___بس وہ کچھ بھی ہے مگر نصیب والا ہے……… ان نصیب والوں پر ہمارا دل اور ہماری جان قربان ہوجاءے تو نصیب کی بات ہے.
جاری ہے…
شعبان بیدار صفاوی

Related posts

واہ رے اجلاس عام واہ رے پیشہ ور مقرر

Paigam Madre Watan

اجتماعیت انسان کی فطرت ہے

Paigam Madre Watan

हीरा समूह विवाद: डॉ. नौहेरा शेख के साम्राज्य पर राजनीतिक षड्यंत्रों और कानूनी बाधाओं का प्रभाव

Paigam Madre Watan