سیاست یا ووٹوں کی تجارت؟
تحریر :لقمان ندوی ممبئ
"سیاست تجارت بن چکی ہے”۔ اگر آج کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو بہت سے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ بعض جماعتیں نظریات سے زیادہ ووٹوں کی تجارت میں مصروف ہیں، ناقدین کے نزدیک بھارتیہ جنتا پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کی سیاست میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ دونوں مذہبی شناخت کو سیاسی سرمایہ بنا کر اپنے اپنے ووٹروں کو متحرک کرتی ہیں۔
بظاہر مجلس اتحاد المسلمین خود کو مسلمانوں کی سب سے بڑی ہمدرد جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن اگر 2012 سے پہلے اور اس کے بعد کی اس کی سیاسی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں، محدود تنظیمی ڈھانچے کے باوجود مختلف ریاستوں میں صرف جذباتی تقاریر کے سہارے انتخابات لڑنا، ڈیجیٹل دنیا میں سرگرم نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا، اور قومی میڈیا کی جانب سے اسے غیر معمولی کوریج ملنا، یہ سب ایسے عوامل ہیں جن پر سیاسی مبصرین طویل عرصے سے گفتگو کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجلس کو اکثر قومی میڈیا میں وہ جگہ ملتی ہے جو کئی بڑی اپوزیشن جماعتوں کو بھی نہیں ملتی، جب راہل گاندھی یا اکھلیش یادو کی سرگرمیاں مرکزی میڈیا میں محدود کوریج پاتی ہیں، تو دوسری طرف مجلس کے بیانات اور جلسے غیر معمولی اہمیت حاصل کرتے ہیں، اس صورتِ حال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس غیر معمولی توجہ کے پسِ پشت کیا عوامل کارفرما ہیں؟
«چھپا رکھے ہیں خنجر آستینوں میں
دکھاوا ہے مگر، مسیحائی، مسیحائی»
مجلس کے نعروں پر نظر ڈالیں تو ان میں مسلسل تبدیلی دکھائی دیتی ہے، ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ "سماجوادی پارٹی اور کانگریس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں”، پھر یہ نعرہ ترتیب دیا گیا کہ "کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں” اور اب اترپردیش میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ "سماجوادی پارٹی اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں”، ناقدین کے مطابق یہ مسلسل بدلتا ہوا نعروں کا طرز سیاست خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اترپردیش میں مجلس کے قائدین اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر تنقید کرتے ہیں کہ وہ ہر مسئلے پر یہ جواب دیتے ہیں: "ہم کیا کریں، ہماری سرکار تو ہے نہیں۔” لیکن یہی جملہ چند روز قبل بہار میں مجلس کے ریاستی صدر اختر الایمان صاحب نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ: "ہم کیا کریں، ہماری سرکار تو ہے نہیں، حکومت ہماری بات سنتی ہی نہیں۔” اگر اپوزیشن میں رہتے ہوئے یہی مجبوری مجلس کے لیے قابلِ قبول ہے تو پھر یہی دلیل دوسری جماعتوں کے لیے ناقابلِ قبول کیوں؟۔
اسی طرح مختلف ریاستوں میں مجلس کے منتخب عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ممبئی، دھولیہ، مالیگاؤں اور دیگر علاقوں میں عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر اپنی رائے دی، جبکہ حیدرآباد، جہاں مجلس کئی دہائیوں سے مضبوط سیاسی حیثیت رکھتی ہے، وہاں بھی ترقیاتی مسائل اور دیگر سماجی چیلنجز پر تنقید سامنے آتی رہی ہے، اس کے باوجود دوسری ریاستوں میں مجلس خود کو واحد متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے، اور بالکل اسی طرح حیدرآباد کا ماڈل پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے جیسے 2014 سے قبل گجرات ماڈل ملک کے سامنے پیش کیا گیا، اور پھر ملک کی کیا درگت بنی ، کسی سے پوشیدہ نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ مجلس کے بدلتے ہوئے سیاسی نعروں کا سب سے زیادہ فائدہ آخر کس کو پہنچتا ہے؟ اگر نتیجہ اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم اور بالآخر بی جے پی کے انتخابی فائدے کی صورت میں نکلتا ہے تو اس پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔
دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے مسلم امیدوار کے مقابلہ میں مصطفیٰ آباد اسمبلی حلقے میں طاہر حسین کو امیدوار بنانے کے فیصلے کو بھی ناقدین اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں سے مسلم ووٹ تقسیم ہوتے ہیں اور فائدہ اس جماعت کو پہنچتا ہے جس کی مخالفت کا سب سے زیادہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کو جذبات کے بجائے سیاسی بصیرت سے فیصلہ کرنا ہوگا، یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سی حکمتِ عملی ان کی اجتماعی سیاسی قوت کو مضبوط کرتی ہے اور کون سی اسے منتشر کرتی ہے۔
سیاست نعروں سے نہیں، نتائج سے پرکھی جاتی ہے، اور تاریخ بھی آخرکار نتائج ہی کا فیصلہ سناتی ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مذہبی جذبات کو سیاسی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور عوام کے جذبات کو ابھار کر ایسے انتخابی نتائج حاصل کیے جاتے ہیں جن کا فائدہ بالآخر کسی اور کو پہنچتا ہے، اس لیے ہر باشعور ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ شخصیات اور نعروں کے بجائے زمینی حقائق، کارکردگی اور انتخابی نتائج کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے، اور اس حکومت کو اقتدار میں آنے سے باز رکھیں جس نے ریاست کو ظلم و جبر کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔
تحریر :لقمان ندوی ممبئ
"سیاست تجارت بن چکی ہے”۔ اگر آج کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو بہت سے لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ بعض جماعتیں نظریات سے زیادہ ووٹوں کی تجارت میں مصروف ہیں، ناقدین کے نزدیک بھارتیہ جنتا پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کی سیاست میں ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ دونوں مذہبی شناخت کو سیاسی سرمایہ بنا کر اپنے اپنے ووٹروں کو متحرک کرتی ہیں۔
بظاہر مجلس اتحاد المسلمین خود کو مسلمانوں کی سب سے بڑی ہمدرد جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے، لیکن اگر 2012 سے پہلے اور اس کے بعد کی اس کی سیاسی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں، محدود تنظیمی ڈھانچے کے باوجود مختلف ریاستوں میں صرف جذباتی تقاریر کے سہارے انتخابات لڑنا، ڈیجیٹل دنیا میں سرگرم نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا، اور قومی میڈیا کی جانب سے اسے غیر معمولی کوریج ملنا، یہ سب ایسے عوامل ہیں جن پر سیاسی مبصرین طویل عرصے سے گفتگو کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجلس کو اکثر قومی میڈیا میں وہ جگہ ملتی ہے جو کئی بڑی اپوزیشن جماعتوں کو بھی نہیں ملتی، جب راہل گاندھی یا اکھلیش یادو کی سرگرمیاں مرکزی میڈیا میں محدود کوریج پاتی ہیں، تو دوسری طرف مجلس کے بیانات اور جلسے غیر معمولی اہمیت حاصل کرتے ہیں، اس صورتِ حال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس غیر معمولی توجہ کے پسِ پشت کیا عوامل کارفرما ہیں؟
«چھپا رکھے ہیں خنجر آستینوں میں
دکھاوا ہے مگر، مسیحائی، مسیحائی»
مجلس کے نعروں پر نظر ڈالیں تو ان میں مسلسل تبدیلی دکھائی دیتی ہے، ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ "سماجوادی پارٹی اور کانگریس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں”، پھر یہ نعرہ ترتیب دیا گیا کہ "کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں” اور اب اترپردیش میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ "سماجوادی پارٹی اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں”، ناقدین کے مطابق یہ مسلسل بدلتا ہوا نعروں کا طرز سیاست خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
اترپردیش میں مجلس کے قائدین اکھلیش یادو پر یہ کہہ کر تنقید کرتے ہیں کہ وہ ہر مسئلے پر یہ جواب دیتے ہیں: "ہم کیا کریں، ہماری سرکار تو ہے نہیں۔” لیکن یہی جملہ چند روز قبل بہار میں مجلس کے ریاستی صدر اختر الایمان صاحب نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ: "ہم کیا کریں، ہماری سرکار تو ہے نہیں، حکومت ہماری بات سنتی ہی نہیں۔” اگر اپوزیشن میں رہتے ہوئے یہی مجبوری مجلس کے لیے قابلِ قبول ہے تو پھر یہی دلیل دوسری جماعتوں کے لیے ناقابلِ قبول کیوں؟۔
اسی طرح مختلف ریاستوں میں مجلس کے منتخب عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ممبئی، دھولیہ، مالیگاؤں اور دیگر علاقوں میں عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر اپنی رائے دی، جبکہ حیدرآباد، جہاں مجلس کئی دہائیوں سے مضبوط سیاسی حیثیت رکھتی ہے، وہاں بھی ترقیاتی مسائل اور دیگر سماجی چیلنجز پر تنقید سامنے آتی رہی ہے، اس کے باوجود دوسری ریاستوں میں مجلس خود کو واحد متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے، اور بالکل اسی طرح حیدرآباد کا ماڈل پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے جیسے 2014 سے قبل گجرات ماڈل ملک کے سامنے پیش کیا گیا، اور پھر ملک کی کیا درگت بنی ، کسی سے پوشیدہ نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ مجلس کے بدلتے ہوئے سیاسی نعروں کا سب سے زیادہ فائدہ آخر کس کو پہنچتا ہے؟ اگر نتیجہ اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم اور بالآخر بی جے پی کے انتخابی فائدے کی صورت میں نکلتا ہے تو اس پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہے۔
دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے مسلم امیدوار کے مقابلہ میں مصطفیٰ آباد اسمبلی حلقے میں طاہر حسین کو امیدوار بنانے کے فیصلے کو بھی ناقدین اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں سے مسلم ووٹ تقسیم ہوتے ہیں اور فائدہ اس جماعت کو پہنچتا ہے جس کی مخالفت کا سب سے زیادہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔
مسلمانوں کو جذبات کے بجائے سیاسی بصیرت سے فیصلہ کرنا ہوگا، یہ دیکھنا ہوگا کہ کون سی حکمتِ عملی ان کی اجتماعی سیاسی قوت کو مضبوط کرتی ہے اور کون سی اسے منتشر کرتی ہے۔
سیاست نعروں سے نہیں، نتائج سے پرکھی جاتی ہے، اور تاریخ بھی آخرکار نتائج ہی کا فیصلہ سناتی ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مذہبی جذبات کو سیاسی سرمایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اور عوام کے جذبات کو ابھار کر ایسے انتخابی نتائج حاصل کیے جاتے ہیں جن کا فائدہ بالآخر کسی اور کو پہنچتا ہے، اس لیے ہر باشعور ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ شخصیات اور نعروں کے بجائے زمینی حقائق، کارکردگی اور انتخابی نتائج کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے، اور اس حکومت کو اقتدار میں آنے سے باز رکھیں جس نے ریاست کو ظلم و جبر کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔

