Articles مضامین

بھارت میں مسلم تعلیمی اداروں کے بانی اور قانونی چیلنجز، تعلیم، خدمت اور قانونی آزمائشوں کی ایک تحقیقی جھلک

بھارت میں مسلم تعلیمی اداروں کے بانی اور قانونی چیلنجز

تعلیم، خدمت اور قانونی آزمائشوں کی ایک تحقیقی جھلک

تحریر: مطیع الرحمن عزیز

بھارت میں تعلیم کو ہمیشہ سماجی ترقی، معاشی استحکام اور قومی تعمیر کی بنیادی اساس تصور کیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف مذاہب، طبقات اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے یونیورسٹیاں، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے قائم کیے، جنہوں نے لاکھوں طلبہ کی زندگیوں کو نئی سمت عطا کی۔ مسلم سماج سے وابستہ کئی شخصیات نے بھی اسی جذبے کے تحت ایسے تعلیمی منصوبے شروع کیے جن کا مقصد جدید علوم کو فروغ دینا، نوجوان نسل کو باوقار مستقبل فراہم کرنا اور معاشرے کے پسماندہ طبقات کو تعلیمی مواقع مہیا کرنا تھا۔

تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایک قابلِ توجہ پہلو یہ سامنے آیا کہ ان میں سے کئی ممتاز تعلیمی شخصیات مختلف قانونی تحقیقات، گرفتاریوں یا عدالتی کارروائیوں کی وجہ سے خبروں کا مرکز بن گئیں۔ ان کے حامی ان کارروائیوں کو سیاسی یا انتظامی دباؤ اور ناانصافی سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ سرکاری تحقیقاتی اداروں کا مؤقف ہے کہ تمام اقدامات قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیے گئے ہیں۔ چونکہ ان میں سے متعدد معاملات اب بھی عدالتی مراحل میں ہیں، اس لیے کسی بھی شخصیت کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا عدالتوں کا اختیار ہے۔

ذیل میں ان پانچ نمایاں شخصیات اور ان کے تعلیمی مشن کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

(1) اعظم خان اور مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی:
سال 2006 میں اتر پردیش کے ضلع رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی، جس کے روحِ رواں سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق کابینی وزیر اعظم خان تھے۔

اس یونیورسٹی کا مقصد جدید، پیشہ ورانہ اور معیاری اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ آج یہاں میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، فارمیسی، مینجمنٹ اور دیگر شعبوں میں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔

بعد ازاں اعظم خان مختلف قانونی مقدمات کی زد میں آئے اور متعدد مواقع پر جیل بھی رہے۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے خلاف کارروائیاں سیاسی محرکات پر مبنی ہیں، جبکہ ریاستی حکومت اور تحقیقاتی اداروں نے ہمیشہ ان اقدامات کو قانونی تقاضوں کے مطابق قرار دیا ہے۔ ان سے متعلق متعدد مقدمات اب بھی مختلف عدالتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔

(2) محبوب الحق اور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ (USTM)

سال 2011 میں میگھالیہ کے ضلع ری بھوئی میں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میگھالیہ (USTM) قائم کی گئی، جس کے بانی معروف ماہرِ تعلیم محبوب الحق ہیں۔

شمال مشرقی بھارت میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں USTM نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انجینئرنگ، مینجمنٹ، میڈیکل سائنسز، ریسرچ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں یہ ادارہ نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے اور خطے کے ہزاروں طلبہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔

گزشتہ برسوں میں محبوب الحق مختلف قانونی تحقیقات اور مقدمات کی وجہ سے خبروں میں رہے۔ بعض معاملات میں انہیں عدالت سے ضمانت بھی حاصل ہوئی۔ ان کے حامی ان کارروائیوں کو ان کی تعلیمی خدمات کے باوجود غیر ضروری دباؤ قرار دیتے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئی ہیں۔

(3) جاوید احمد صدیقی اور الفلاح یونیورسٹی

ہریانہ کے ضلع فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی کی بنیاد 1997 میں رکھی گئی۔ اس ادارے کے بانی جاوید احمد صدیقی ہیں، جنہوں نے اقلیتی طبقے سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے وژن کے ساتھ اس ادارے کا آغاز کیا۔

الفلاح یونیورسٹی آج مختلف پیشہ ورانہ اور تعلیمی شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ تاہم بعد کے برسوں میں جاوید احمد صدیقی مختلف قانونی مقدمات کی زد میں آئے اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے حامی ان کی تعلیمی خدمات کو نمایاں کرتے ہوئے ان مقدمات کو الگ تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ قانونی کارروائیاں اپنے عدالتی مراحل سے گزرتی رہی ہیں۔

(4) حاجی محمد اقبال اور دی گلوکل یونیورسٹی

اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں 2011 میں دی گلوکل یونیورسٹی قائم کی گئی، جس کے بانی حاجی محمد اقبال ہیں۔

اس ادارے کا مقصد جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا اور نوجوانوں کو معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا تھا۔ یونیورسٹی مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

بعد ازاں حاجی محمد اقبال کے خلاف مختلف قانونی مقدمات درج ہوئے۔ مختلف اوقات میں ان کے بارے میں اطلاعات سامنے آئیں کہ وہ بعض مقدمات میں ضمانت پر ہیں، جبکہ دیگر معاملات میں تفتیشی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان مقدمات پر عدالتی کارروائیاں مختلف مراحل سے گزرتی رہی ہیں۔

(5) ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور تعلیمی و سماجی خدمات

ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو کاروبار، خواتین کو بااختیار بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تعلیمی میدان میں سرگرم کردار ادا کرنے والی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں، تربیتی مراکز اور سماجی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں، خصوصاً خواتین کی تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کاوشوں سے ہزاروں افراد کو تعلیم، تربیت اور روزگار کے مواقع حاصل ہوئے۔

بعد ازاں ان کے خلاف مالیاتی بے ضابطگیوں سے متعلق مختلف قانونی مقدمات درج ہوئے اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔ متعلقہ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں قانون کے مطابق کی گئیں، جبکہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ان کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد یا سیاسی و انتظامی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ بعض مقدمات میں انہیں عدالتوں سے ضمانت ملی، جبکہ دیگر معاملات مختلف عدالتی مراحل میں زیرِ سماعت رہے۔

مجموعی جائزہ

یہ پانچوں شخصیات اپنے پس منظر، نظریات اور حالات کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تاہم ان کے درمیان ایک مشترک پہلو نمایاں ہے کہ سب نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے بڑے تعلیمی ادارے قائم کیے، جن سے ہزاروں طلبہ مستفید ہوئے۔

دوسری جانب، ان میں سے ہر ایک مختلف اوقات میں قانونی تحقیقات، مقدمات یا عدالتی کارروائیوں کا سامنا بھی کرتا رہا۔ ان مقدمات کی نوعیت اور حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے ہر معاملے کو اس کے اپنے قانونی اور حقائق پر مبنی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

بھارتی آئین اور قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اس وقت تک مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک کسی مقدمے میں عدالت کا حتمی فیصلہ نہ آ جائے۔ اسی لیے ان شخصیات کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کا فیصلہ عدالتوں پر چھوڑنا چاہیے، جبکہ ان کی تعلیمی خدمات اور اداروں کے معاشرے پر اثرات کا جائزہ بھی غیر جانب داری کے ساتھ لیا جانا چاہیے۔

یہ موضوع صرف پانچ افراد کی کہانی نہیں، بلکہ اس وسیع تر سوال سے بھی جڑا ہوا ہے کہ ہندوستان میں اقلیتی برادریوں کی جانب سے قائم کیے گئے تعلیمی ادارے کن مواقع اور کن چیلنجز سے دوچار ہیں۔ اس بحث میں جذبات کے بجائے حقائق، آئینی اصولوں اور عدالتی فیصلوں کو بنیاد بنانا ہی ایک متوازن اور ذمہ دارانہ صحافتی رویہ ہے۔

Related posts

اویسی سے اتحاد موہن بھاگوت سے قربت؟

Paigam Madre Watan

میں دل کو چیر کے رکھ دوں یہ ایک صورت ہے

Paigam Madre Watan

The Shaheen Group of Institutions provides specialized education for students from madrasas, fostering academic growth in a culturally sensitive atmosphere.

Paigam Madre Watan