Articles مضامین

ہندوستان میں ملی تعمیر کا دس نکاتی لائحۂ عمل

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

مسلمانوں میں چھوٹی چھوٹی قیادتیں تو ہیں جو اس طوفان بلا میں ملت کے شامیانے کا الگ الگ بانس بلا پکڑ کر تھامے ہوئے ہیں اور اس کو زمین پرگرنے سے روکے ہوئے ہیں۔۔ملت مسلمہ ایک بڑی جاندار قوم ہے۔ اندر سے اس کا حو صلہ بہت بلند ہے۔ یہصحیح معنوں میں ناقابلِ تسخیر قوم ہے جس کو پوری طرح مغلوب نہیں کیا جاسکتاہے۔اس کے اندر قدرت نے ایسی روح حریت بھر دی ہے جو اسے سارے بندھن توڑ کر آزاد ہونے کو مجبور کرتی ہے۔وہ شکست وفتح سے گھبراتی نہیں ہے بلکہ اس کو کھیل کا فطری اصول مانتی ہے۔اگر آج ہم ہارے ہیں تو کل جیتیں گے۔ یہ دل برداشتہ ہو کر میدان چھوڑ کر بھاگنے میں یقین نہیں رکھتی ہے بلکہ کھیل کو جاری رکھنے میں یقین رکھتی ہے۔ یہ قدرت کے اس اصول کو مانتی ہے کہ جس کی تیاری بہتر ہوگی، جس نے جتنی اچھی تربیت حاصل کی ہوگی، جس کے اندر سمع وا طاعت کا جذبہ جتنا مضبوط ہوگا کامیابی کے امکان اس کے لیے اتنا ہی روشن ہوںگے۔قدرت اور فطرت کسی کی طرفدار یا جانبدار نہیں ہوتی۔
مسلمان قوم کی خمیر ایسی ہے جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی۔ان کا حال یہ ہے کہ جب وہ سخت آزمائشی حالات دیکھتے ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ہے یہی تو بات تھی جس کی ہمیں پہلے ہی خبر دے دی گی تھی اور ان حالات میں گھبرا نے کے بجائے ان پر سکینت کی کیفیت طاری ہوتی ہے پھر وہ ہر آز مایش اور مصیبت کا مقابلہ پورے صبر اور توکل الی اللہ کے ساتھ کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کی طرف جانے والے ہیں اور اپنے معاملات کو اللہ کے حوالے کر کے بز بان حال وہ اعلان کرتے ہیں کہ حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر۔ اس کی فطرت ایسی ہے اس کو جتنا دبا یا جائے گا اتنی ہی قوت سے یہ ابھرے گی۔لہٰذا میں موجود ہ حالات کو ملت کی زبوں حالی نہیں بلکہ ملت کی نشاہ ثانیہ کی علامت مانتا ہوں۔
صرف بھارت میں نہیں دنیا بھرمیں مسلمانوں کی ذلت و نکبت کی ذمہ داری مسلمان عوام کے سر مڑھنا ڈاکوؤں کو معاف کرنا اورمعصوموں کو سولی پر چڑھا نا ہے۔اسلام یا مسلمان مسلمان عوام کی وجہ سے نہیں بلکہ حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے۔جس میں ہمارے علماء،دانشوران، سماجی اور سیاسی قائدین سب شامل ہیں اگر قوم کا انجن ناقص اور فرسودہ ہے جو قوم کو آگے لے جانے کے بجائے پیچھے لے جا رہا ہے تو اس میں قوم کا کیا قصور ہے۔
روحانیت ہوا میں اڑنے کا نام نہیں ہے یہ تو جادوگر ی ہے جو روزانہ جادو گر دکھاتا ہے اور اپنے فن کے داد کے طور پر عوام سے نذرانے وصول کرتا ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں جو اس بات سے پریشان رہتے ہیں کہ ہندوستان میں کوئی صاحب بھی مجیب الدا وات بزرگ نہیں ہیں جس کی دعا سے ہوا کا رخ بدل جائے۔ اس پر ہمارے بزرگان دین ہی تبصرہ فرمائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
اسلام کی روح اجتما عیت ہے جس میں خلق، تقویٰ ،انسان دوستی، خدمت، خیر خواہی اور رحمت و رافت کے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ہوا میں اڑنے کو نہیں بلکہ زمیں پر انسان کی طرح چلنا آجائے یہ تقویٰ کی پہچان ہے۔ہمیں سچی رو حا نیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور ایسی موہوم آرزوؤں سے باہر نکلنا چاہیے۔
اسلام دنیا میں ایمان کے ساتھ یعنی اللہ کے احکام کے مطابق اسٹیٹ آف دی آرٹ کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔ جو انسان کو ماضی میں نہیں بلکہ حال میں جینے کا سبق دیتا ہے اور مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پر امید رہنے کی تلقین کرتاہے۔
ملک کے حالات سب پر واضح ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ڈرامہ بازیاں سب دیکھ رہے ہیں۔ اس حال میں موہوم آرزوؤں کے سہارے جینا، پر لے درجے کی حماقت ہے۔عملاً بھارت ہندو راشٹر بن چکا ہے۔دستور کی روح نکل چکی ہے۔ کسی دن بھی اس کے کلینکل ڈیڈ ہونے کی اوپچارک گھو شنا ہو سکتی ہے۔ممکن ہے 2024کے الیکشن کے بعد اس کا اعلان کردیا جائے اور اگر مصلحتاً ایسا اعلان نہیں بھی ہوتاہے تو بھی اس کا حقیقی صورتحال پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔یہ صورتحال ابھی برقرار رہے گی۔ اس لیے مختلف طرح کی آزمائشوں کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار رہنا ہے۔ اس انتباہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں آپ کو ڈ ر ا رہا ہوں۔ڈ ر کو تو آپ تین طلاق دے کر دل سے باہر نکال دیجیے اور اس کی جگہ پر تقویٰ اور تو کل الی اللہ کو پورے ایمان اور اخلاص کے ساتھ اپنے دل میں جاگزیں کر لیجیے۔
میں بار بار ملت کی توجہ ان پہلوؤں کی طرف مبذول کراتا رہا ہوں جس کے بارے میں میرا احساس ہے کہ وہ ملت کی نشاۃِثانیہ میں مددگار ہوگا۔
1۔ہر ماں باپ اپنے گھر پر توجہ دیں اور اپنے بچوں کے ایمان، اخلاق،صحت اور تعلیم پر بھر پور توجہ دیں۔یہ ہماری مدافعت کی پہلی صف ہوگی۔ یہ صف جتنی مضبوط ہو گی ملت اتنی ہی مضبوط ہو گی۔
2۔گھر سے لے کر باہر تک جتنا ممکن ہو سکے امداد باہمی کو فروغ دیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس کو اوپر اٹھانے کی کوشش کریں۔
3۔ذاتی اغراض کی قر بانی اتحاد ملت کی اولین شرط ہے۔ گا ؤں،محلہ، وارڈ، پنچایت کی سطح پر اتحاد ملت کو فروغ دیں اور جو لوگ ملت میں پھوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کو ایکسپوز کریں اور انہیں ملت کو توڑنے اور بانٹنے نہ دیں۔یہ وقت ذات پات اور مسلک برادری کی بنیاد پر آپس میں انتشار پیدا کرنے کا نہیں ہے۔آپ اپنے حقوق کی لڑائی ضرور لڑیں لیکن یہ خیال رہے کہ حد سے تجاوز کر کے ہم اسلام اور مسلمان دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا آلۂ کار نہ بن جائیں۔یہ گھاٹے کا سودا ہے اور ہمیں اتنی سمجھ تو ہونی ہی چاہیے ۔
4۔ جو چیز ہمیں ایک بندھن میں پروتی ہے وہ ہمارا ایمان اور اسلام ہے۔اس کو توڑ کر، چھوڑ کر اور اس کو بکھیر کر کوئی بھی چیز حاصل کی جائے گی وہ نقصان کا سودا ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
5۔ہم خیر امت ہیں۔ہم دنیا والو ں کی بھلائی کے لئے پیدا کیے گئے ہیں۔ ہم کو اس ملک میں سرا پا خیر بن کر رہنا ہے اس سا یہ دار اور پھل دار درخت کی طرح اگر کوئی چاہے تو اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں پناہ لے لے اور کوئی چاہے تو پتھر مار کر پھل توڑ لے۔ جو بھی ہماری پناہ میں آئے وہ خود کو پوری طرح محفوظ سمجھے چاہے وہ ہمارا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔
اب جبکہ مسلمانوں نے جہاد ترک کر دیا ہے۔مسلمانوں کو میڈیا میں دہشت گرد اور جہادی کہہ کر پکارا جا رہا ہے اور ان کے خلاف پر تشدد ماحول بنا یا جا رہا ہے اور ان کو کھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں اس ماحول میں حضورؐ نے جو مسلمان کی تعریف بیان کی ہے اس کو یاد کرا نا ضروری معلوم ہوتاہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب محفوظ رہیں۔ گویا مسلمان کا وجود کسی بستی اور شہر میں امن کی علامت ہے۔اگر کسی علاقہ میں مسلمان تعداد میں زیادہ ہیں تو وہاں رہنے والے جتنے لوگ ہیں چاہے وہ کسی مذہب، برادری، ذات کے لوگ ہوں، عورت، بچے، بوڑھے اور جوان ہوں سب محفوظ ہیں۔ اس بات کا یقین پوری آبادی کو ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی یہ شبیہ لوگوں کے سامنے پیش کرنی ہوگی اور ان کو یہ اطمینان دلانا ہوگا۔اور جہاں مسلمان کم تعداد میں ہیں وہاں بھی اپنے اس کردار کے ساتھ امن پسند لوگوں کے ساتھ مل کرپروایکٹو ہوکر اپنا مثبت تعارف کرانا ہوگا اور ان طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوںگے۔
6۔ایک بات طے ہے کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کو کوئی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہے، مسلمانوں کے ساتھ اس کا بر تاؤ بالکل معاندانہ ہے۔لہٰذا جو رعایتیں پہلے سے ملی ہوئی ہیں ان کو بھی ایک ایک کرکے ختم کیا جا رہا ہے۔حکومت کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہے جیسے وہ اس ملک کے غیر شہری ہوں۔ اس صورت میں ہمیں بغیر کسی سرکاری امداد کے بلکہ سر کاری عدمِ تعاون کے ملی تعمیر و ترقی کا ایک ماڈل تیار کرنا ہے۔ ہمارے اندر انٹر پرونیر شپ کیسے فروغ پائے گا اور مارکٹ اسکل کیسے پیدا کیا جائے گا، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک میں جین،ماڑواڑی، سندھی، سکھ اور کرسچن، پارسی،بوہرہ اور کئی دوسری کمیو نیٹیز ہیں جن کا ہر جگہ بازار پر دبدبہ ہے۔ہمیں ان سے یہ ہنر سیکھنا ہو گا۔ اس جانب خاطر خواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
7۔بہت سے لوگ مسلمانوں کی زبوں حالی کے بہت سے اسباب بیان کرتے ہیں۔ میں ان میں سے کسی کی تردید نہیں کرتا ہوں، تاہم میرا ماننا ہے کہ اس مادی دنیا میں ہماری زبوں حالی کی بنیاد ی وجہ ہمارا جو ہیومن ریسورسز ہے وہ بہت ناقص(poor) ہے۔ ہم تعلیم اور اسکل کے میدان میں ریسرچ اور ڈویلپمنٹ میں سب سے پیچھے ہیں۔ جب تک ہم اپنی نسلوں کی بہتر تعلیم و تر بیت کا نظم نہیں کرتے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو اپنے قومی ایجنڈا میں شامل نہیں کرتے ہیں تب تک ہماری زبوں حالی ہما را پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ہمیں عالمی سیٹیزن بن کر جینا ہے اور اپنی اہلیت کے بل پر دنیا میں اپنا ایسا مقام پیدا کر ناہے کہ دنیا کا ہر ملک ہمارے استقبال کے لیے نظریں بچھائے ملے۔ہمارے پاس پچیس برس ہے اس وقت میں ہم کو اپنی نئی نسل کو اسی لائن پر تیار کر نے کی ضرورت ہے۔
8۔آج کل لو جہاد کی بات بڑے زور شور سے اٹھائی جا رہی ہے۔ یہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آپسی تعلقات کے بگاڑ کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔ حا لا نکہ پارلیمنٹ میں حکومت نے ایسی کسی بات سے انکار کیا ہے تاہم سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا اور عدالتوں میں یہ مدا زور شور سے اٹھا یا جا رہا ہے اور اس کے ذریعہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
میری پہلی گزارش تو یہ ہے کہ جب مسجد توڑ نے اور تڑوانے والوں کو بھارت رتن سے نوازا جا رہا ہے،اسی طرح جس کسی نے لوجہاد کی اصطلاح وضع کی ہے، اس کو سرکار کو گیان پیٹھ اوارڈ دینا چاہیے۔اجتماع ضدین کی اس سے بہترمثال بہت کم دیکھنے کو ملے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو مسلمان لڑکے ،لڑکیاں غیر مسلم لڑکے، لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں یا ہندو لڑکے لڑکیاں مسلمان لڑکے، لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں ان سے مسلمانوں کو اپنی برأ ت کا اظہار کر نا چاہئے۔ ان کے لیے نہ خوشی منانے اور نہ آنسو بہا نے کی ضرورت ہے۔صلح حدبیہ میں ایک شرط یہ تھی کہ مکہ سے بھاگ کر جو لوگ مدینہ آئیں گے ان کو واپس کرنا ہوگا مگر جو مد ینہ چھوڑ کر مکہ چلا جائے گا اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔اس شرط پر جب مسلمانوں کو اعتراض ہوا تو حضورﷺ نے فرمایا جو ہم کو چھوڑ کر چلا جائے گا وہ ہمارے کس کام کاہے؟ تو ہم کیوں اس کو واپس کرنے کی ضد کریں۔اس معاملے میں ہمارا موقف بھی یہی ہونا چاہیے۔
9۔مسلمانوں سے گزارش ہے کہ گائے بیل کی تجارت بند کردیں اگر ان کا کوئی ڈیری فارم ہے تو گائے بھینس وہ خریدتے ہیں اس کا پختہ کاغذ بنوائیں، راستے کے تمام پولیس اسٹیشن کو اس کی جانکاری دیں۔ اس کا انشورنس کروائیں اور جس سے وہ جانور خرید رہے ہیں اور جس ٹرانسپورٹ سے اس کو منگوانا ہے یہ اس کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ متعینہ مقام پر اس کی سیف ڈلیوری کرائے۔یہ ٹرانسپورٹر غیر مسلم ہو تو بہتر ہے تاکہ موب لنچنگ سے بچا جا سکے۔یہ چند احتیاطی تدابیر ہیں جس سے بہت سے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔
10۔اس وقت میڈیا ،عد لیہ اور حکومت سب ایک پیج پر نظر آتے ہیں۔ جب مسلمانوں کے گھر، دوکان، مساجد، قبرستان،مدارس وغیرہ پر بلڈوزر چلتے ہیں تو ایک جشن کا ماحول ہوتاہے اور لوگ اس کو سیلیبریٹ کرتے ہیں۔ ملک میں قانون کی بالادستی سے عدلیہ نے سمجھوتہ کرلیا ہے اور حکومت خود سب سے بڑی قانون شکن ادارے کے طور پر ابھری ہے۔ہمیں یہ پتہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ ہم ایک دستوری جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں یا بدترین تا ناشاہی میں، جہاں حکمران حاکم بھی ہے اور منصف بھی۔ گیان واپی ایک مسجد ہے جہاں سینکڑوں سال سے نماز ہو رہی ہے۔ یو پی کے وزیراعلیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو مسجد کہنا غلط ہے جب حکومت خود مدعی اور منصف ہو گی تو بتائیے کس عدالت کی ہمت ہے کہ اس کے خلاف فیصلہ دے۔اگر مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی سر کار رہ گئی تو گیان واپی مسجد کا حشر وہی ہوگا جو با بری مسجد کا ہو ا ہے۔اور عدالت وہی کرے گی جو حکومت چا ہے۔اے ایم یو کے کیس میں عدالت کا لٹمس ٹسٹ ہو جائے گا۔مسلم پرسنل لا، این آر سی، یو سی سی، او قاف اور نہ معلوم حکومت اور سنگھ پریوار نے اپنی زنبیل میں کتنے فتنے چھپا رکھے ہیں۔ اس لیے یہ پوری صدی آزمائش کی صدی ہو گی جس میں پوری ملت ہلا ماری جائے گی۔ ان کو چن چن کر ایک ہزار سال کا بدلہ لینا ہے۔آپ چاہے لڑیں یا نہ لڑیں انہوں نے لڑائی ٹھان لی ہے اور اس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم با لجزم رکھتے ہیں۔
یہ ایک اعصابی اور نفسیاتی جنگ ہے جس میں خوف پیدا کرنا، عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا،اداروں پر سے بے اعتمادی پیدا کرانا، ڈیمو لرائز کرنا ،منوبل توڑنا اور جابجا تشدد کے ذریعہ ہمت تو ڑنا ایک واضح اسٹریٹجی ہے۔ یہ ایک لمبی لڑائی ہے جو بے جاجوش اور جوابی تشدد سے نہیں لڑی جاسکتی ہے۔
ہر جنگ نہ ہتھیار سے لڑی جاسکتی ہے اور نہ ہتھیار سے جیتی جاسکتی ہے۔یہ جنگ حکمت، عزیمت اور حوصلے سے لڑی جائے گی۔مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔گر چہ یہ کہنا کہ ملت کے زعماء کو اس وقت سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے، صحرا میں آواز لگانے جیسا ہے جو نا ممکنات جیسی چیز ہے۔ ہماری ملت میں صاحبِ فہم اور با صلاحیت نو جوانوںکی ایک اچھی تعداد ہے ان کو سامنے آنا چاہیے اور ملت میں جو بڑے لوگ ہیں، ان کو اعتماد میں لے کر ایک وسیع البنیاد لونگ ٹرم اسٹریٹجی بنانی چاہیے۔اس میں تاخیر نہیں کر نی چاہیے۔ اس کالی رات کی صبح ضرور ہوگی۔مجھے اس بات پر اتنا ہی یقین ہے جتنا ہر رات کا سحر ہونا ہے۔ یہ ہمارا روز کا تجربہ ہے ،تو دل برداشتہ ہو نے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

Related posts

سعودیہ سے بغض کی وجہ کچھ سوا ہے

Paigam Madre Watan

ایک اور اینٹ گر کئی دیوارِ حیات سے

Paigam Madre Watan

وقت کی اہمیت اور مسلم معاشرہ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment