نئی دہلی: عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام آج دو اہم ادبی پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا۔ پہلا پروگرام ’’اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے‘‘ جبکہ دوسرا پروگرام ’’بزمِ سخن‘‘ کے نام سے منعقد ہوا۔ دونوں پروگراموں میں ادبی شخصیات، محققین، طلبہ اور شائقینِ ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ’’اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر فاروق بخشی، پروفیسر ابو بکر عباد بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی نے اس مذاکرے کی نظامت کی۔ مذاکرے کے دوران مقررین نے اردو فکشن میں تہذیب و تمدن کی عکاسی، بدلتے سماجی رویوں اور عصری تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ پروفیسر خالد اشرف نے تہذیب و تمدن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی تہذیب کی بنیادی خصوصیت اس کی ہمہ گیری، رواداری اور ”جیو اور جینے دو” کے جذبے میں مضمر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب نے وہ چیزیں بھی قبول کیں جو اس کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھیں اور یہی اس کی وسعت قلبی کی دلیل ہے۔ پروفیسر فاروق بخشی نے گلوبلائزیشن کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں سماج پر اس کے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں، اور خاص طور پر ہماری تہذیب اس سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق افسانوں اور فکشن میں ہماری تہذیبی شناخت آج بھی مختلف رنگوں میں جلوہ گر ہے۔ خورشید عالم، ابن کنول اور ثروت خان وغیرہ کے فکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے یہاں ہندوستانی تہذیب اور ثقافت بھرپور انداز میں پیش کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو فکشن نے ہمیشہ تہذیبی قدروں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر ابو بکر عباد نے کہا کہ اگرچہ ایک وقت تھا جب ہندوستانی تہذیب مغربی تہذیب سے زیادہ متاثر نظر آتی تھی، لیکن موجودہ دور میں صورت حال کسی حد تک بدل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پریم چند، راشد الخیری اور دیگر افسانہ نگاروں کے یہاں ہندوستانی تہذیب، رسوم، رسمیات اور سماجی اقدار واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کے فکشن نگار ہندوستانی تہذیب کے حوالے سے سنجیدہ تخلیقی کارنامے انجام دے رہے ہیں۔
previous post
Related posts
Click to comment

