اب گجرات میں بھی پیپر لیک ہو گیا، پیپر لیک روکنے کے لیے بی جے پی کو ہی بھگانا پڑے گا: کیجریوال
2014 سے اب تک گجرات میں درجن بھر سے زائد پیپر لیک ہونے سے لاکھوں بچوں کا مستقبل برباد ہو چکا ہے: سنجے سنگھ
نئی دہلی، 27 جولائی: ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف نوجوانوں کی اتنی بڑی تحریک کے باوجود بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں پیپر لیک کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ اب بی جے پی کی حکومت والی گجرات آیورویدک یونیورسٹی میں تیسرے سال کا امتحانی پرچہ لیک ہونے پر عام آدمی پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ ملک بھر میں پیپر لیک کے خلاف اتنی بڑی تحریک چلی۔ نوجوانوں نے اتنا ظلم برداشت کیا۔ دھرمندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ پیر کے روز پارلیمنٹ پیپر لیک کے خلاف ایک سخت قانون پر بحث کر رہی ہے اور اسی دوران گجرات میں ایک اور پیپر لیک ہو گیا۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر پیپر لیک روکنے ہیں تو بی جے پی کو ہی اقتدار سے ہٹانا پڑے گا۔ دوسری جانب آپ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومتیں اب پیپر لیک والی حکومتیں بن چکی ہیں۔ پورے ملک میں جہاں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں پیپر لیک ہو رہا ہے۔ اور پیپر لیک اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ پیپر لیک کرانے والی کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ وزیر اعظم مودی اور ان کے وزرائے اعلیٰ کے گہرے تعلقات ہیں۔ ابھی جو تازہ معاملہ سامنے آیا ہے، وہ گجرات آیورویدک یونیورسٹی کا ہے، جہاں امتحانات جاری ہیں۔ وہاں تیسرے سال کے شلیہ تنتر-1 کا پرچہ لیک ہو گیا۔ گجرات آیورویدک یونیورسٹی میں ہزاروں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تیسرے سال کے امتحان کا پرچہ پورے گجرات میں لیک ہو گیا۔ یونیورسٹی سے وابستہ جتنے بھی کالج ہیں، ہر جگہ پرچے لیک ہو گئے۔ امتحانات 2 اگست تک جاری رہیں گے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ ابھی مزید کتنے پرچے لیک ہوں گے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ گجرات میں پیپر لیک والی حکومت چل رہی ہے۔ گجرات میں پیپر لیک کا ایک طویل تاریخ ہے۔ گجرات کی بی جے پی حکومت نے لاکھوں بچوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ 2014 میں ریونیو تلاٹھی کا پرچہ لیک ہوا۔ 2016-17 میں ایک بار پھر تلاٹھی امتحان کا پرچہ لیک ہوا۔ 2018 میں ٹی ای ٹی، لوک رکشک دل اور مکھیا سیوک کی بھرتی کے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے۔ 2019 میں سیکریٹریٹ میں کلرک کی بھرتی کا پرچہ لیک ہوا۔ 2019-20 میں جے ایم سی اور اے ای کا پرچہ لیک ہوا۔ 2021 میں سب آڈیٹر، ہیڈ کلرک، اے ٹی ڈی، لائیو اسٹاک انسپکٹر اور پی ایس آئی کے پرچے لیک ہوئے۔ 2022 میں فاریسٹ گارڈ کا پرچہ لیک ہوا۔ 2023 میں جونیئر کلرک اور ڈمی کیس کا پرچہ لیک ہوا اور 2024 میں انرجی کیس کا پرچہ لیک ہوا۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ اتوار کے روز میں نے وزیر اعظم مودی کی تیسری فرینڈز والی ویڈیو دیکھی۔ آج کل انہوں نے میڈیا کا بائیکاٹ کر دیا ہے، کیونکہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ اب رات 8 بجے لائیو آنے سے کام نہیں چلے گا۔ اس لیے رات 12 بجے اٹھ کر ویڈیو بنا رہے ہیں، پھر صبح اور شام بھی ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ ابھی ایک اور ویڈیو سامنے آئی، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ میں اس ملک کے طلبہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے پیپر لیک کرایا، وہ جیل میں سڑ رہے ہیں۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ مودی جی بھارت کے وزیر اعظم ہیں، وہ اتنا سفید جھوٹ کیسے بول سکتے ہیں؟ وزیر اعظم کی بات سن کر شرم آتی ہے۔ مودی جی اور سی بی آئی کے مطابق سنجیو مکھیا 2024 کے نیٹ پیپر لیک کا مرکزی ملزم تھا۔ جب اسے گرفتار کیا گیا تھا، تب وہ مرکزی ملزم تھا، لیکن گزشتہ ہفتے سی بی آئی نے کہہ دیا کہ سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی ثبوت ہی نہیں ہے۔ وزیر اعظم بتائیں کہ کون جیل میں سڑ رہا ہے؟ 2024 کے نیٹ پیپر لیک میں گرفتار کیے گئے لوگوں کے خلاف سی بی آئی 90 دن کے اندر چارج شیٹ داخل نہیں کر سکی اور پرچہ چوری کرنے والوں کو ضمانت مل گئی۔سنجے سنگھ نے کہا کہ مرکزی ملزم کے خلاف سی بی آئی نے کہہ دیا کہ ثبوت نہیں ہے اور مودی جی کہہ رہے ہیں کہ فاسٹ ٹریک کورٹ بنائیں گے۔ فاسٹ ٹریک کورٹ بنا لو، ہوائی کورٹ بنا لو، پاتال کورٹ بنا لو یا آسمان کورٹ بنا لو، لیکن جب عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرو گے، تبھی تو سزا ملے گی۔ مودی جی کی سی بی آئی تو کہتی ہے کہ ثبوت ہی نہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیپر چوروں کے ساتھ بی جے پی کے گہرے تعلقات ہیں، بالکل اسی طرح جیسے بھگوان شری رام کے مندر میں چندہ چوروں کے ساتھ بی جے پی والوں کے تعلقات ہیں۔سنجے سنگھ نے بی جے پی اور نریندر مودی سے ایڈوٹیسٹ کمپنی کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ اس کمپنی کے مالک سریش چندر آریہ کے بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ یہ کمپنی صرف ایک ریاست میں نہیں بلکہ ہر ریاست میں امتحانات کے پرچے لیک کراتی ہے۔ جب پیپر لیک کرانے کے معاملے میں یہ لوگ پکڑے گئے تو گجرات میں انہیں بلیک لسٹ کر دیا گیا۔ مودی جی اور بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ کے قریب سمجھی جانے والی یہ کمپنی جب گجرات میں بلیک لسٹ ہو گئی تو مودی جی نے کہا کہ کوئی بات نہیں، گجرات میں آپ نے پیسہ کما لیا اور نوجوانوں کا مستقبل برباد کر دیا، اب آپ بہار چلے جاؤ۔ بہار میں بھی پیپر لیک کیا گیا۔ پھر کہا گیا کہ اچھا، یہاں بھی بلیک لسٹ ہو گئے، کوئی بات نہیں، اب اتر پردیش چلے جاؤ۔ اس کے بعد اتر پردیش جا کر اسی ایڈوٹیسٹ کمپنی نے پولیس بھرتی کا پرچہ لیک کیا۔سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈروں کے پیپر لیک کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ یہ کوئی ہوا ہوائی بات نہیں ہے۔ اس کے کئی ثبوت موجود ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کا مستقبل برباد کرکے ہونے والی کمائی کا حصہ بی جے پی اور اس کے لیڈروں تک پہنچ رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایک کے بعد ایک پیپر لیک ہو رہے ہیں اور پوری حکومت پیپر لیک اسکینڈل میں شامل لوگوں کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔

