Articles مضامین

نماز عشق ادا ہوتی ہے تلواروں کے سائے میں

غزہ جنگ اسلام کے لیے فتح کا دروازہ کھولے گی


تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدالغفارصدیقی


غزہ جنگ جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے ویسے ویسے اہل اسلام کی فتح کے امکانات روشن ہورہے ہیں۔دوچار دن میں حماس کو نیست و نابود کرنے کادعویٰ کرنے والا اسرائیل بہتر دن بعد بھی حماس کے زیر انتظام علاقہ کی ایک انچ زمین پر قبضہ نہیں کرسکا ہے ۔میدان جنگ سے جو خبریں موصول ہورہی ہیں وہ اہل ایمان کے لیے حوصلہ افزا ہیں ۔اسرائیل نے ستر سال میں فلسطین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ سینکڑوں بار بمباری کی ہے ،نوے فیصد زمین پر قبضہ کرلیا ہے ۔لاکھوں مسلمانوں کو بے گھر کردیا ہے ۔لاکھوں بچوں کو یتیم کیا ہے ۔ہر بار مسلمانوں کے جان مال کا نقصان کیا ہے ۔اس دوران اسرائیل کا نقصان ایک فیصد بھی نہیں ہوا ہے ۔لیکن اس بار مزاحمتی تحریک نے اسے ناکوں چنے چبوادیے ہیں ۔
سات اکتوبر کی صبح جب یہ اطلاع آئی تھی کہ حماس نے اسرائیل پرچار ہزار راکٹ برسائے ہیں اور اس کے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے تبھی میں نے جنگ پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کو تسلی دی تھی کہ اس بار یہ جنگ حماس نے شروع کی ہے ،ظا ہر ہے اس نے اس کی مضبوط منصوبہ بندی کی ہوگی ۔حماس اپنے نہتے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکت سے بھی باخبر ہوگا ،اسے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ عرب ممالک اس کا کتنا ساتھ دیں گے ،اسے اسرائیل کی فوجی اور دفاعی طاقت کا بھی اندازہ ہوگا ۔اس کے باوجود اس نے اگر یہ جنگ شروع کی ہے تواس کے پاس ضرور کوئی پلان ہے جس کا علم جنگ کے آغاز میں نہیں ہوسکتا ۔
اللہ کا شکر ہے کہ فلسطینیوں کی قربانیاں رائگاں نہیں جارہی ہیں ۔حماس اس جنگ میں ہر مورچہ پر فاتح ہے ۔اس نے جنگ بندی بھی اپنی شرائط پر کی تھی ،اب بھی اس نے جھکنے ،ہتھیار ڈالنے جیسے الفاظ کو اپنی ڈکشنری سے باہر کررکھا ہے ۔فلسطینی اپنے جنازوں کو دفنانے کے بعد اللہ اکبر کے نعرے لگارہے ہیں ،اسرائیل کو للکار رہے ہیں ،معصوم بچے تک اسرائیل کے درندوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ہم جب تک زندہ ہیں اپنے ملک ،اپنی زمین اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کریں گے ۔
اسرائیل کی دفاعی طاقت کی پول کھل گئی ہے ۔ اس کے حمایتی ممالک کی اخلاقی حیثیت کا جنازہ اٹھ گیا ہے ،امن کے علمبردار وں کے اپنے جنگی قوانین اور انسانی حقوق کے دعوے غزہ میں دفن ہوگئے ہیں ۔اسرائیل کو بے پناہ مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔اس کے ہزاروں فوجی لقمہ اجل ہوگئے ہیں ،اس کے قبرستانوں اور اسپتالوں میں جگہ ناکافی ہوگئی ہے ،بحیرہ احمر پر یمن اور ایران کے کنٹرول نے اس کی تجارت کی شہہ رگ کاٹ دی ہے ،یوروپی ممالک کی کمپنیوں نے اسرائیل کی بندرگاہوں پر اپنے جہاز بھیجنے سے انکار کردیا ہے ،یمن نے فضائی حملہ کرکے اپنی طاقت کا احساس کرادیا ہے ۔عالمی سطح پر دوریاستی حل کی آواز شدو مد سے اٹھ رہی ہے ۔بھارت سمیت153ممالک نے فلسطین کے حق میں ووٹ دے کراسرائیل کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے ۔اس کے سب سے بڑے مدد گار امریکہ کے فوجی اڈے خطرے میں آگئے ہیں ،لبنان نے اپنے کئی گائوں آزاد کرالیے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل کی تمنائوں کا خون تل ابیب کی سڑکوں پر بہہ رہا ہے ۔وزراء کے بیٹے اور بھتیجے ،کئی بڑے فوجی جنرل ،اور قابل ذکر سارجنٹ جھنم واصل ہوچکے ہیں ۔صیہونیوں پرراتوں کی نیند اور دن کا سکون حرام ہوگیاہے ۔افسوس اس بات کا ہے کہ سعودی عرب اور یواے ای اسرائیل کی پشت پناہی کررہے ہیں اور درپردہ اس کو امداد پہنچا رہے ہیں ۔
حماس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ابھی اپنے مہلک ہتھیار وں کا استعمال نہیں کیا ہے ،اس کے ہزاروں مجاہدین اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ،اس نے کہا ہے کہ ہم نے صیہونی فوجیوں کا محاصرہ کرلیا ہے ۔ابھی اس جنگ میں اسرائیل کے خلاف کسی بڑی طاقت نے براہ راست مداخلت نہیںکی ہے ۔روس ،چین اور ترکیہ نے زبان سے ہی فلسطین کی تائید کی ہے ۔ایران بھی پس پردہ حوتی اور حزب اللہ کی پشت پناہی کررہا ہے ۔بڑی طاقتیں اس بات کا انتظار کررہی ہیں کہ امریکہ براہ راست کسی ملک پر حملہ کرے ۔اگرایسا ہوا تو اسرائیل اپنا وجود ہی کھوبیٹھے گا۔
غزہ کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس کی آبادی اٹھارہ سے بیس لاکھ ہے ،اس کا رقبہ 45کلومیٹر ہے ۔اس کے پاس کوئی اپنی فوج نہیں ہے ،کوئی ہوائی جہاز نہیں ہے ۔ایک کمزور شہر نے دنیا کی سپر پاور کو چیلینج کیا ہے ۔آخر اس کی فتح کے پیچھے راز کیا ہے ۔وہ کونسی طاقت ہے جس کے بل پرمیدان جنگ میں ان کے پیر جمے ہوئے ہیں ۔میرے نزدیک وہ ان کے ایمان کی طاقت ہے ۔وہ اللہ کے گھر کی حفاظت اور اللہ کے دشمنوں سے اپنی زمین کے تحفظ کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں ۔ان کا جذبہ خالص ہے ۔وہ گزشتہ ستر سال میں آزمائے جاچکے ہیں ۔اللہ نے ان کو ہر آزمائش میں کھرا پایا ہے ۔اس لیے اب اللہ اپنی قوت کے ساتھ ان کی پشت پناہی کررہا ہے ۔اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ جو اس کی مدد کرے گا وہ اس کی مدد کرے گا ۔(ان تنصرو اللہ ینصرکم ۔سورہ محمد آیت۔ ۷)پوری انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب جب کسی فرعون وقت نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے ،اللہ کے کمزور بندوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں ،جب اس فرعون کو لگنے لگاہے کہ اب وہی لوگوں کا سب سے بڑا رب ہے ،جب اس نے دعویٰ کیا ہے کہ میں مارتا اور جلاتا ہوں ،تب تب اللہ نے اپنے کمزور بندوں کے ذریعہ اس فرعون کو ایسا سبق سکھایا ہے کہ دنیا میں عبرت کا نشان بنا کر رکھ دیا ہے ۔اسرائیلی اپنی تاریخ بھول گئے جب اللہ نے ان کے ذریعہ مصر کے فرعون کو دریائے نیل میں غرق کیا تھا ۔ان کو نہیں معلوم کہ اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کو نمرود کے مقابلہ فتح دی تھی ،غزوہ بدر و احد کے معرکہ تاریخ میں کوئی فرضی داستان نہیں ہیں بلکہ ایسی حقیقتیںہیں جن سے کسی کو انکار نہیں ،کیا اپنے وقت کی سپر پاورز کو طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر نے پیوند خاک نہیں کردیا تھا ،کیا ہلاکو اور چنگیز خان کو ان کے مظالم کا حساب نہیں دینا پڑا تھا ،کیا امریکہ کو ویتنامیوں نے شکست نہیں دی،کیا نہتے افغانیوں نے سویت روس کو پارہ پارہ نہیں کردیا ،کیا افغانستان سے امریکہ کو دم دبا کر بھاگنے پر انھوں نے مجبور نہیں کیا ۔طالبان کے پاس کون سی فوجی طاقت تھی ،وہ تو اپنی زمین سے بے دخل کردیے گئے تھے اور پہاڑوں میں روپوش تھے ،ان کی قیادت تو جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھی ۔اس کے باوجود اللہ نے انہیں فتح سے ہمکنار کیا۔
تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرارہی ہے ۔غزہ کے معصوم اپنی جانوں کا نذرانہ برضاو رغبت اللہ کی راہ میں پیش کررہے ہیں ،وہ مردہ نہیں زندہ ہیں ،یہ میرا نہیں اللہ کا اعلان و فرمان ہے ۔’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انھیں مردہ نہ کہو ،وہ زندہ ہیں ،تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے ۔‘‘(البقرہ آیت ۔154) ایک مومن کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس کی جان اس ہستی کے لیے قربان ہوجائے جس کی وہ بغیر دیکھے عبادت کرتا رہاہے ۔موت اس کے نزدیک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔اس کے نزدیک موت دائمہ زندگی کی صبح تاب ہے ۔آپ اہل غزہ کی ویڈیوز ملاحظہ کیجیے ،کیا ان کے چہروں پر خوف و ہراس کی لکیر آپ کو نظر آتی ہے ،دوسری طرف آپ کو یہودیوں کے چہروں پر خوف و دہشت کی جھلک صاف صاف دکھائی دے گی ۔
غزہ کی جنگ پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے لیے ایک نصیحت اور سبق ہے ۔انھیں یہ احساس کراتی ہے کہ ’’ تم ہی سربلند رہو گے اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو۔‘‘(آل عمران ۔139) بھارت کے مسلمانوں کو بھی اس جنگ سے سبق لینا چاہئے ۔آج کل یہاں بھی کچھ لوگ مسلمانوں سے پاک بھارت کی کلپنا کررہے ہیں ۔انھیں کمزور جان کر ان کی عبادت گاہوں پر قبضہ کررہے ہیں ،ان کی اذانوں سے ان کی نیندوں میں خلل واقع ہورہا ہے،صوتی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے ،ان کے حلال ذبیحوں پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں ،ان کی بہو بیٹیوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے ،شدھی کرن کی تحریک گھرواپسی کے نئے نام سے چلائی جارہی ہے ،وہ بڑے متکبرانہ لہجے میں کہہ رہے کہ اسرائیل حماس کے غنڈوں کو چن چن کر ماررہاہے ۔یہ ان کے ظلم کی ابتداء ہے ۔لیکن ظالموں کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر ایشور اپنے ودھان کے مطابق کسی نہ کسی شکل میں رام اور ارجن کو زمین پر بھیجتا ہے ،جو ظالموں کا وناش کردیتے ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں کواللہ کے سوا کسی سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی اپنے عمل سے گواہی دیں ۔ستر سال سے ہر مسجد میں ایمان بنانے کی محنت کے باوجود ان کا ایمان کمزور ہوتا جارہا ہے ۔اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔اللہ کو رازق تسلیم کرلینے پربھی ان کا ایمان حرام روزی کمانے سے انھیں باز نہیں رکھتا ،جھوٹ بولنے سے انھیں نہیں روکتا ،دوزخ پر ایمان ان کو غلط اور فحش کاموں سے باز نہیں رکھتا ،روز جزاء پر ایمان ان میں حق گوئی کی صفت پیدا نہیں کرتا ۔فی الحال انھیں کسی جنگی ہتھیار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود کو اچھے اخلاق سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
غزہ میں حماس نے اپنی اخلاقی برتری کا لوہا منوایا ہے ۔اس کی قید سے آزاد ہونے والے فوجیوں نے ان کی سچائی ،ایمانداری ،مہمان نوازی اور جاں نثاری کی تعریف کی ہے ۔انھوں نے دنیا کو بتایا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں میں محفوظ تھے ،خواتین قیدیوں نے گواہی دی ہے کہ حماس کے لڑاکوں نے ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ہے ۔مجھے اپنے رب کی رحمت سے پوری امیدہے کہ غزہ کی جنگ اسلام کی فتح کا دروازہ کھولے گی ۔اب طاقت کا توازن بدلے گا ۔اب ظالموں کے بجائے مظلوموں کو غلبہ نصیب ہوگا ۔جواسرائیل غزہ کو مٹانے کے لیے اٹھا ہے اسے اپنی جان بچانا بھاری پڑے گی ۔ان شاء اللہ چند ہفتوں میں ہی یہ رذلٹ سامنے آجائے گا ۔

Related posts

ہندوستان کی کثیر آبادی کو درپیش مسائل

Paigam Madre Watan

بچوں کی تعلیم اور صحت، ایک قومی سرمایہ

Paigam Madre Watan

سفر معراج کا پیغام

Paigam Madre Watan

Leave a Comment