Articles مضامین

تعلیم کے چراغ بجھانا نہیں، روشن کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کے تناظر میں ایک فکری و تجزیاتی مقالہ غلام مزمل (عطاؔ اشرفی سہرسہ، بہار)

تعلیم کے چراغ بجھانا نہیں، روشن کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے

محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کے تناظر میں ایک فکری و تجزیاتی مقالہ

غلام مزمل عطاؔ اشرفی

سہرسہ، بہار

9341137638

کسی بھی مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ قوم کی پہچان اس کے محلات، شاہراہوں یا فلک بوس عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے تعلیمی اداروں، علمی مراکز، جامعات اور تحقیقی روایت سے ہوتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جن قوموں نے کتاب کو تلوار پر، قلم کو طاقت پر اور تعلیم کو سیاست پر ترجیح دی، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے برعکس جن معاشروں میں علم کے چراغ بجھائے گئے، وہاں جہالت، غربت، بے روزگاری اور سماجی انتشار نے جنم لیا۔

اس حقیقت سے کوئی بھی باشعور انسان انکار نہیں کر سکتا کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں صرف عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ قوموں کے مستقبل کی تجربہ گاہیں ہوتی ہیں۔ یہاں سے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، جج، استاد، محقق، صحافی، ادیب اور منتظم پیدا ہوتے ہیں۔ اگر انہی اداروں کو کمزور کیا جائے تو گویا آنے والی نسلوں کی بنیاد کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم، تحقیق اور نئی جامعات کے قیام پر خرچ کر رہے ہیں۔ چین، جاپان، جنوبی کوریا، امریکہ، جرمنی اور دیگر ممالک اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا سرمایہ خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں کی جانے والی سرمایہ کاری ہے۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کسی معاشرے میں نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کے بجائے پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہونے لگے۔

ان دنوں اتر پردیش کے ضلع رام پور میں قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی کے سلسلے میں جاری تنازع نے پورے ملک کے تعلیمی حلقوں کو فکر مند کر دیا ہے۔ اس یونیورسٹی کے خلاف مختلف قانونی کارروائیاں اور بعض عمارتوں کے انہدام سے متعلق نوٹس سامنے آنے کے بعد طلبہ، اساتذہ اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا ہوئی۔ مختلف مقامات پر اس سلسلے میں احتجاج بھی کیا جا رہا ہے، کیونکہ ہزاروں طلبہ کا مستقبل اس ادارے سے وابستہ ہے۔

یہاں بنیادی سوال کسی شخصیت، جماعت یا سیاسی نظریے کا نہیں بلکہ تعلیم کے تحفظ کا ہے۔

اگر کسی تعلیمی ادارے میں قانونی، انتظامی یا تعمیراتی بے ضابطگیاں موجود ہیں تو یقیناً قانون کے مطابق ان کی جانچ ہونی چاہیے، ذمہ دار افراد سے جواب طلبی ہونی چاہیے، خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے اور جہاں ضرورت ہو وہاں عدالتوں کے فیصلوں پر عمل بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اس پورے عمل میں سب سے پہلے جس چیز کو محفوظ رکھا جانا چاہیے، وہ ہزاروں طلبہ کی تعلیم اور ان کا مستقبل ہے۔

ایک باشعور معاشرے کا مزاج یہ نہیں ہوتا کہ وہ علم کے مراکز کو ختم کرنے میں جلدی کرے، بلکہ وہ ان کی اصلاح، بہتری اور مضبوطی کی کوشش کرتا ہے۔ جو قوم اپنے تعلیمی اداروں کو سنوارتی ہے وہ ترقی کرتی ہے، اور جو انہیں کمزور کرتی ہے وہ خود اپنی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔

ہندوستان نے آزادی کے بعد اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے بے شمار ادارے قائم کیے۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، مرکزی جامعات، ریاستی جامعات، میڈیکل کالج اور تحقیقی مراکز اسی سوچ کا نتیجہ ہیں کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ اس لیے ہر وہ ادارہ جہاں ہزاروں نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہوں، وہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ قومی سرمایہ ہے۔

بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی اداروں، مدارس یا دیگر عوامی عمارتوں سے متعلق انہدام یا قانونی تنازعات نے یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ کیا ایسے معاملات میں ایسا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس سے قانون بھی قائم رہے اور تعلیم بھی متاثر نہ ہو؟ یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو تعلیم اور مساوی مواقع کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔ اگر کسی تعلیمی ادارے کے خلاف کارروائی ناگزیر بھی ہو تو اس کا طریقۂ کار ایسا ہونا چاہیے کہ طالب علموں کی پڑھائی، امتحانات، اسناد اور مستقبل کم سے کم متاثر ہوں۔ انصاف کا تقاضا صرف قانون کا نفاذ نہیں بلکہ اس کے سماجی اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا ہے۔

محمد علی جوہر یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ میں ایسے نوجوان بھی ہیں جن کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے۔ ان کے والدین نے اپنے خواب، اپنی جمع پونجی اور اپنی امیدیں اس ادارے سے وابستہ کر رکھی ہیں۔ اگر تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوتا ہے تو نقصان صرف ایک عمارت کا نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے خوابوں کا ہوگا۔

یہ کہنا ہرگز مناسب نہیں کہ کسی بھی مسئلے کا واحد حل انہدام ہے۔ ایک معمار اگر کسی عمارت میں دراڑ دیکھتا ہے تو پہلے اسے مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے، گرانا اس کا آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ یہی اصول تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر خامیاں ہیں تو ان کی اصلاح کیجیے، اگر قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کیجیے، مگر علم کے چراغ بجھانے کے بجائے انہیں مزید روشن کرنے کی کوشش کیجیے۔

آج ہندوستان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ یہ خواب صرف سڑکوں اور عمارتوں سے پورا نہیں ہوگا بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں، تحقیق، اختراع اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے حقیقت بنے گا۔ اگر ہم واقعی "وکست بھارت” چاہتے ہیں تو ہمیں ہر یونیورسٹی، ہر کالج اور ہر اسکول کو قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔

میری حکومتِ ہند، حکومتِ اتر پردیش، عدلیہ، تعلیمی ماہرین اور تمام انصاف پسند شہریوں سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور کے معاملے میں ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے قانون کی بالادستی بھی برقرار رہے اور طلبہ کی تعلیم بھی محفوظ رہے۔ اختلافات وقتی ہوتے ہیں، مگر تعلیم کا نقصان نسلوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔

اسی طرح میری عوام سے بھی ایک مخلصانہ گزارش ہے کہ ووٹ دیتے وقت صرف نعروں، جذبات یا وقتی وعدوں کو معیار نہ بنائیں، بلکہ ایسے افراد کو منتخب کریں جو تعلیم، تحقیق، روزگار، سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ قوموں کی تقدیر وہی قیادت بدلتی ہے جو کتاب کی طاقت کو سمجھتی ہو، قلم کا احترام کرتی ہو اور یونیورسٹیوں کو تعمیر کرنے کا خواب دیکھتی ہو۔

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ تعلیم کسی جماعت، مذہب یا طبقے کی میراث نہیں بلکہ پورے ملک کی مشترکہ امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آج اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب علم کے چراغ بجھائے جا رہے تھے، تب آپ خاموش کیوں تھے؟

آئیے! ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہندوستان میں ہر اسکول، ہر کالج اور ہر یونیورسٹی کو محفوظ، مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ قومیں بلڈوزروں سے نہیں، بلکہ کتابوں، قلموں اور جامعات سے عظیم بنتی ہیں۔

Related posts

خاندانی کاروبار کے عام مسائل اور شرعی احکام (۱) مفتی یحییٰ معین

Paigam Madre Watan

قربانی کے احکام قرآن و سنت کی روشنی میں

Paigam Madre Watan

ائمہ جمعہ کے خطبہ میں ترغیب حج کو موضوع بنائیں

Paigam Madre Watan