پریم چند کی تخلیقات آج بھی ہماری رہنمائی کا ذریعہ ہیں: پروفیسر شاہد رضوی
شعبہ اردومگدھ یونیورسٹی بودھ گیامیں پریم چند کے یوم پیدائش پر پروگرام کا انعقاد
لکھنؤ/بودھ گیا۔ 31 جولائی۔منشی پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں کے ذریعے ہندوستانی سماج کے مسائل، دیہی زندگی، معاشرتی ناانصافی، طبقاتی کشمکش، انسانی اقدار اور اخلاقی شعور کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا۔ ان کی تحریریں آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے لیے رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔یہ باتیں مگدھ یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹرشاہد رضوی نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ان کے افکار موجودہ دور میں بھی اسی قدر اہم ہیں جتنے ان کے عہد میں تھے۔اس موقع پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبدالحی نے پریم چند کے افسانوں کی روشنی میں ان کی حب الوطنی اور جذبہ ایثار پر اظہار خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پریم چند کا ادب صرف ادبی سرمایہ نہیں بلکہ سماجی شعور، قومی یکجہتی، انسانی ہمدردی اور انصاف پسندی کا مؤثر پیغام بھی ہے۔ شعبہ کی استاد ڈاکٹر ترنم جہاں نے کہا کہ پریم چند کی تخلیقات ہمیںمعاشرے میں مثالی شہری بننے کا پیغام دیتی ہیں۔ ایک اچھا سماج محبت و اخوت کی بنیاد پر ہی قائم کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر سمی اقبال نے پریم چند کے افسانوں میں مشترکہ تہذیب پر گفتگو کی اور کہا کہ آج ہمیں تمام بھید بھائو سے اوپر اٹھ کر سماج میں اتحاد و اتفاق کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ضیاء اللہ نے طلبا کو پریم چند کی تخلیقات پڑھنے پر زور دیا اور کہا کہ پریم چند ہر عہد کے لیے رول ماڈل ہیں اور ان کی تخلیقات کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔اس موقع پر ڈاکٹر شکیلہ نگار نے اپنے پرمغز خطاب میں کہا کہ پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ہی ایک عظیم انسان بھی تھے۔
اس ادبی پروگرام کے دوران ڈاکٹر شکیلہ نگار اور ڈاکٹر سمی اقبال کے زیر نگرانی شعبہ اردو کے طلبا کا تیارکردہ دیواری پرچہ (وال میگزین)کاوش کے پانچویں شمارے کا اجرا بھی کیا گیا جو پریم چند کی حیات و خدمات پر مبنی ہے۔”کاوش” کے تازہ شمارے میں مختلف موضوعات پر مضامین شامل کیے گئے ہیں ۔ ان میں پریم چند : احوال و کوائف، پریم چند کی ادبی خدمات، پریم چند کی ناول نگاری، پریم چند کی افسانہ نگاری، پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ سوز وطن، پریم چند کا ناول گئودان ،پریم چند کے نسوانی کردار، پریم چند کے افسانوں میں دیہی زندگی جیسے تمام پہلوؤں کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایم اے سمسٹر تھرڈکے طلبا نور افشاں، لئیقہ فاطمہ، نرگس پروین، رخسانہ پروین، شائنہ پروین، شائقہ ناز، کنیز فاطمہ، نرگس خاتون، زیبا پروین،شگفتہ پروین، مسکان پروین وغیرہ نے وال میگزین کے لیے مضامین لکھے ہیں ۔اس پروگرام میں طلبا نے بھی پریم چند کے حوالے سے اپنے مقالے پیش کیے۔
پریم چند کے یوم پیدائش 31 جولائی کی مناسبت سے منعقدہ اس پروگرام کی نظامت شعبہ اردو کی ریسرچ اسکالر نازش ہاشمی نے کی۔ ڈاکٹر شکیلہ نگار نے کاوش کے پانچویں شمارے کی کامیابی پر طلبا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کاوش کے اغراض و مقاصد اور اس کے ایک سالہ سفر پر روشنی ڈالی ساتھ ہی شکریہ کی رسم بھی ادا کی۔اس پروگرام میں شعبے کے تمام اساتذہ ریسرچ اسکالراور طلبا موجود رہے۔

