اسلام میں ازدواجی اور معاشرتی زندگی کے احکام
ابونصر فاروق:8298104514
(۱) حقوق میں برابری: عورتو ںکے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں،البتہ مردوں کواُن پر ایک درجہ حاصل ہے۔اور اللہ غالب اقتدار والا حکمت والا ہے ۔(البقرہ : ۲۲۸)
(۲) عورتو ںکے ساتھ زیادتی نہ کرو: اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو،اور نہ یہ حلال ہے کہ اُن کو تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑالینے کی کوشش کرو جو تم اُنہیں دے چکے ہو۔ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں(تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) اُن کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو،اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔( ۱۹)اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانے کا ارادہ ہی کر لو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو،اُس میں سے کچھ واپس نہ لینا، کیا تم اُسے بہتان لگاکر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے۔( ۲۰) اورآخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔(النساء : ۱۹تا۲۱)
……ان کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں اُنہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ہے بشرطیکہ حصار نکاح میں اُنہیں محفوظ کرونہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو، پھر جو ازدواجی زندگی کا لطف تم اُن سے اٹھاؤ اُس کے بدلے اُن کے مہر بطور فرض کے ادا کرو، البتہ مہر کی رقم کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اللہ علیم و دانا ہے۔(النساء:۲۴)
(۳) وراثت کی تقسیم: اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اُس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ۔ہاں اللہ سے اُس کے فضل کی دعا مانگتے رہو،یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔( ۳۲)اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حقدار مقرر کر دیے ہیںجو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو اُن کا حصہ اُنہیں دو۔یقینا اللہ ہر چیز پر نگرا ں ہے۔(النساء : ۳۲/۳۳)
(۴) مرد عورتوں پر قوام ہیں: مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعارہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتو ں سے سرکشی کا اندیشہ ہو ،اُنہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں اُن سے علاحدہ رہواور مارو، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ اُن پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اوربالا تر ہے۔(۳۴)اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اوربیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مر د کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو،وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔(النساء : ۳۴/۳۵)
(۵) مردوں اور عورتوں میں مساوات: اور جو نیک عمل کرے گا،چاہے مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔ (النساء :۱۲۴)
جو شخص بھی نیک عمل کرے گا ،خواہ وہ مرد ہو یا عورت،بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت ) میں ایسے لوگوں کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔(النحل :۹۷)
(۶) بیویوں میں مساوات: جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بد سلوکی یا بے رخی کا خطرہو تو کوئی مضائقہ نہیں میاں اور بیوی کچھ حقوق کی کمی بیشی پر آپس میں صلح کر لیں۔ صلح بہت حال بہتر ہے۔نفس تنگ دلی کی طرف جلد مائل ہو جاتے ہیں،لیکن تم لوگ اگر احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا۔(۱۲۸)بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے، تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے، لہذا(قانون الٰہی کا منشا پورا کرنے کے لئے کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح یوں نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو،اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔( ۱۲۹)لیکن زوجین اگر ایک دوسرے سے الگ ہی ہو جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاسجی سے بے نیاز کر دے گا۔اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔(النساء : ۱۲۸تا۱۳۰)
ابوہریرہؓ کہتے ہیں نبیﷺنے فرمایا:جس آدمی کی دو بیویاں ہوں اور وہ اُن کے ساتھ منصفانہ اور مساویانہ برتاؤ نہ کرے تووہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گا کہ اُس کا آدھا جسم گر گیا ہوگا۔(ترمذی)
(۷) مومن مردوں اور عورتوں کی صفات:یقینا جو مرد اور عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں،راست باز ہیں،صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں،روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں،اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں،اللہ نے اُن کے لئے مغفرت اوربڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔(۳۵)کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اُس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دے توپھر اُسے اپنے معاملے میں فیصلہ کرنے کااختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔(الاحزاب:۳۵، ۳۶ )
(۸) مومن عورتوں کی خصوصیات:اے نبیﷺمومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں، بجز اُس کے جو خود ظاہر ہوجائے،اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی ، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے ، اپنے میل جول کی عورتیں، اپنے لونڈی غلام، وہ زیر دست جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں، وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت جو اُنہوں نے چھپا رکھی ہو اُس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ اے مومنو تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے فلاح پاؤگے۔ (النور:۳۱ )
حضرت عبد الرحمنؓبن عوف روایت کرتے ہیںکہ نبیﷺنے فرمایا: جب عورت پانچ وقت کی نمازیں اد کرتی ہو ، رمضان کے روزے رکھتی ہو ، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہو اور خاوند کی فرماں برداری کرتی ہو تو اُس سے کہا جائے گاکہ جس دروازے سے چاہے جنت میں چلی جا۔(مسند احمد)
(۹) حضرت ام سلمہ ؓسے روایت ہے کہ وہ اورمیمونہؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھیں۔اُسی وقت ابن ام مکتومؓ پہنچ گئے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا:ان سے پردہ کر لو۔ میں نے کہا کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ یہ تو ہمیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔ نبیﷺنے فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو ؟ کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو ؟ (ترمذی)
(۱۰) حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا :جب بندے نے نکاح کر لیا تو اُس نے اپنا آدھادین مکمل کر لیا اب اُسے چاہئے کہ باقی آدھے کے لئے اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔(بیہقی)
(۱۱) حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں، رسول اللہﷺنے فرمایا:تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہو، اور میں تم میں کا بہترین آدمی ہوں ، بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کرنے کے لحاظ سے۔(ابن ماجہ:۵۰۸)
مومن بیوی سے نفرت نہ کرو: حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺنے فرمایا :کوئی مومن کسی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے۔ اگر اُس کی ایک عادت ناپسندیدہ ہے تو دوسری عادت پسندیدہ بھی ہو گی۔ (مسلم)
مجرد (کنوارا)رہنا منع ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسلام میں شادی نہ کرنے اور مجرد رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ (ابود اؤ د)
(۱۲) اپنی بیویوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور اُن کے حقوق کی ادائیگی کرو اور وہ بھی تمہارے حقوق ادا کریں-انہیں معروف طریقے سے کھلاؤ اور پہناؤ۔ ( مسلم )
(۱۳) مغیرہ بن شعبہؓکہتے ہیں ، میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا تو رسول اللہﷺنے مجھ سے فرمایا تم نے عورت کو دیکھا بھی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دیکھ لو، اس طریقہ سے زیادہ امید کی جاسکتی ہے کہ تمہارے درمیان الفت اورموافقت ہوگی۔(مسند احمد، ترمذی، نسائی،ابن ماجہ)
(۱۴) حضرت جابربن عبد اللہؓسے روایت ہے، رسول اللہﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے اور ممکن ہو تو اُسے دیکھ لے، کیا اس میں کوئی ایسی خوبی ہے جس کی وجہ سے اُس کے ساتھ نکاح کیا جائے ؟ (ابوداؤد )
(۱۵) سمرہؓ بن جندب کہتے ہیں رسول اللہﷺنے فرمایا:عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے، اگر تم اُسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ ڈالو گے، پس اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو تو اچھی زندگی گزرے گی۔(المنذری بحوالہ ابن حبان)
(۱۶) معاذ بن جبلؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب دنیا دار عورت خاوند کو تکلیف دیتی ہو تو جنت کی سفید و سرخ حوریں اُس کی بیوی سے کہتی ہیں ، اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کر دے۔ یہ تو تیرے پاس چند دن کا مہمان ہے۔جلد ہی یہ تجھ سے الگ ہو کر ہمارے پاس آ جائے گا۔(مسند احمد)
(۱۷) حضرت علی ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اے علی تین کاموں میں تاخیر نہ کرو: نماز ادا کرنے میں جب اُس کا وقت ہو جائے، جنازہ میں جب وہ تیار ہو جائے اور بیوہ عورت کے نکاح میں جب اُس کا کفو مل جائے ۔ (ترمذی)
متعہ حرام ہے: سلمہ بن اکوع ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺنے جنگ اوطاس کے سال تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی پھر اس سے منع فرمایا ۔ (مسلم)
(۱۸) حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں:رسول اللہﷺنے فرمایا: جس کے گھر بیٹی ہو اور وہ اُسے نہ زندہ در گور کرے، نہ ذلیل کرے اور نہ اپنے بیٹوںکو اُس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اُس کو جنت میں داخل کرے گا ۔(ابوداؤد)
(۱۹) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں،ایک دیہاتی عرب رسول اللہﷺ کے پاس آیا، نبیﷺاُس وقت کسی بچے( غالباً حسنؓ کو)پیار کر رہے تھے۔ اُس نے کہا آپ بچوں کا پیار لیتے ہیں، ہم لوگ نہیں لیتے۔ رسول اللہﷺنے فرمایا میں کیا کرسکتا ہوں اگر اللہ نے بچوں کے ساتھ رحم و کرم کے جذبے سے تیرے دل کو محروم کر دیا ہے۔ (بخاری، مسلم:۵۰۴)
(۲۰) عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں:نبیﷺنے فرمایا:اللہ جب کسی بندے کو کچھ لوگوں پر اقتدار بخشتا ہے، خواہ وہ تھوڑے ہوں یا زیادہ،تو قیامت کے دن اللہ اُس بندے سے لازماً محاسبہ کرے گا کہ اپنے ماتحت لوگوں پر خدا کا دین جاری کیا یا خدا کے دین کو اُن پر جاری کرنے میں بے پروائی برتی۔ یہاں تک کہ آدمی کے اپنے مخصوص اہل خاندان (بیوی، بچے اور دوسرے زیر کفالت متعلقین) کے بارے میں بھی پوچھ ہوگی۔ (مشکوٰۃ/سفینہ نجات)
٭٭٭
اسلام میں ازدواجی اور معاشرتی زندگی کے احکام
ابونصر فاروق:8298104514
(دوسری قسط)
تم میں کا ہر آدمی نگراںہے:ابن عمرؓ کہتے ہیں :رسول اللہ ﷺنے فرمایا:تم میں ہر شخص محافظ ہے اوراُس سے اُن لوگوں کے بارے میںپوچھ گچھ ہوگی جو اُس کی نگرانی میں دیے گئے ہیں،پس امیرجولوگوں کا نگراں ہے اُس سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔اورمرداپنے گھر والوں ( بیوی، بچوں)کا نگراں ہے، اُس سے اُس کی رعیت کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ اور بیوی اپنے شوہر کی اولاد کی نگراں ہے، اُس سے اولاد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔((بخاری، مسلم)
(۲۱) جنتی بنانے والی تین بیٹیاں:ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیںکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جس نے تین بیٹیوںیا بہنوں کی پرورش کی ،اُنہیں اچھی تہذیب سکھائی اور اُن کے ساتھ مہربانی کی یہاں تک کہ اللہ نے اُن کو مستغنی کر دیا(یعنی اُن کی شادی کر دی)تواللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت واجب کر دے گا۔ایک آدمی نے عرض کیااے اللہ کے رسولﷺ کیا دو کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا بھی یہی اجر ہے؟ رسول اللہﷺنے فرمایا ہاں۔اس حدیث کے راوی ابن عباسؓ کہتے ہیں اگر لوگ ایک لڑکی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کے متعلق سوال کرتے تو رسول اللہﷺ فرماتے کہ اُس سے اچھا برتاؤ کرنے والا بھی اسی اجر کا مستحق ہے۔(مشکوٰۃ بحوالہ شرح السنہ)
حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ جوان ہو گئیں تو قیامت کے دن وہ آئے گا اور ہم اور وہ اس طرح ہوں گے آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ملایا ۔ (مسلم)
(۲۲) نبیﷺنے فرمایا:جس عورت کی وفات کے وقت اُس کا شوہر اُس سے راضی ہے وہ بہشت میں جائے گی۔ (ترمذی)
نبی ﷺ نے فرمایا :عورت جب پانچ وقت کی نمازیں پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کا حکم مانے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ۔( (اسے ابو نعیم نے حلیہ میں روایت کیا)
(۲۳) کسی نے رسول اللہ ﷺسے پوچھا کون سی عورت سب سے اچھی ہے ؟ نبیﷺنے فرمایا: وہ کہ جب خاوند اُسے دیکھے تو خوش ہو جائے…شوہر حکم دے تو اُس کی بات مانے… اور اپنی جان و مال کے معاملے میں ایسی کوئی بات نہ کرے جو شوہر کو ناپسند ہو ۔(نسائی،بیہقی)
(۲۴) رسول اللہﷺنے فرمایا:اگر (میںاللہ کے سوامخلوق میں سے)کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دینا چاہتا توعورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ (ترمذی)
(۲۵) عبد اللہؓ ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:اللہ حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے دونوں پر لعنت کرتاہے۔ (ترمذی، نسائی) حضرت عُقبہ بن عامرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے صحابہ سے پوچھا (اَخْبَرَ لَکُمْ بِالتیس الْمُسْتَعَارِ)کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ کرایے کاسانڈ کون ہوتا ہے ؟ صحابہ نے کہا ضرور ارشاد فرمائیں: رسول اللہﷺنے فرمایا:(ہُوَالْمُحَلِّلُ: لَعَنَ اللّٰہَ الْمُحَلِّلَ وَ الْمُحَلِّلَ لَہٗ-اللہ نے حلالہ کرنے والے اورحلالہ کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے۔(ابن ماجہ،دار قطنی)(سورۂ طلاق حاشیہ-۱)
(۲۶) دین و اخلاق والالڑکا : رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جب تمہارے پاس شادی کا پیغام کوئی ایسا شخص لائے جس کے دین و اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اُس سے شادی کردو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑی خرابی پیدا ہوگی۔(ترمذی)
(۲۷) زیادہ بچہ کی پیدائش: حضرت معقل بن یسار ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: محبت کرنے والی اور زیادہ بچہ جننے والی عورت سے نکاح کرو تا کہ میں اپنی امت کی کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کر سکوں۔(مسند احمد، ابو داؤد)
(۲۸) ساتویں دن عقیقہ کرو: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: بچے کا عقیقہ لازمی کرو، اس کی جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے (یعنی عقیقہ کیا جائے) اُس کا سرمونڈا جائے اور ساتویں دن ہی اُس کا نام رکھا جائے۔ )مستدرک الحاکم7587 )
(۲۹) سات سال کے بچوں کو نماز کی تاکید کرو:حضرت عمرو بن شعیب ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اپنے بچوں کو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیںتو نماز کا حکم دو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے پر اُن کو مارو اور جب بارہ سال کے ہوجائیں تو اُن کا بستر الگ کر دو۔(ابوداؤد526)
اَکْرِمُوْا اَوْلَادَکُمْ وَاَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْاولاد کے ساتھ عزت کا سلوک کرو اوراُنہیں اچھی تربیت دو۔(ابن ماجہ)
(۳۰) ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا مجھے دوزخ دکھلائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں جو کفر کرتی ہیں۔ کہا گیا حضور کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ نبیﷺننے فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں۔ اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تم عمر بھر ان میں سے کسی کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی اُن کے خیال میںکوئی ناگواری کی بات ہو جائے تو فوراً کہہ اٹھے گی کہ میں نے کبھی بھی تجھ سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔(بخاری29)
(۳۱) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہﷺنے عورتوں سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا:اے عورتو! تم صدقہ و خیرات کرو، اس لیے کہ قیامت کے دن جہنم میں تمہاری اکثریت ہوگی۔تو ایک عورت نے جو اونچے مرتبے کی نہ تھی اُس نے پوچھا ہم عورتوں کی اکثریت جہنم میں کس وجہ سے جائے گی ؟ رسول اللہﷺنے فرمایا:اس لیے کہ عورتیں بہت زیادہ لعن طعن کرتی ہیںاور اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں۔(مسند احمد )
(۳۲) شرم و حیا ایمان کی ایک شاخ ہے: ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کلہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔ اور حیاء (شرم) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔(بخاری9)
(۳۳) شوہر راضی بیوی جنت میں:اُم سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جو عورت اس حال میں فوت ہوئی کہ اُس کا شوہر اُس سے راضی اور خوش تھا تو وہ جنت میں داخل ہو گئی۔(ترمذی)
(۳۴) رسول اللہﷺ نے فرمایا:میاں بیوی سے زیادہ آپس میں محبت کرنے والا تم کسی اور کو نہ پاؤگے۔(مشکوٰۃ)
(۳۵) اسماءؓ بنت یزید انصاری سے روایت ہے کہ ایک بار رسول اللہﷺ ہمارے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ تھی۔نبیﷺ نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا:محسنوں کی ناشکر ی اورناقدری سے بچو۔تم میں سے ایک اپنے والدین کے ہاں عرصہ دراز تک بن بیاہی بیٹھی رہتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ اُس کو شوہر کی نعمت سے ہمکنار فرماتا ہے، پھر اُس کے ہاں اولاد کی چہل پہل ہوتی ہے(ان تمام احسانات کے باوجود) اگرکبھی کسی بات پر شوہر سے رنجش ہوجاتی ہے تو وہ کہہ اٹھتی ہے کہ میں نے تجھ سے اچھا سلوک دیکھا ہی نہیں۔ (ادب مفرد:ص: ۲۵۵)
(۳۶) عبد اللہ ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایادنیا ساری کی ساری ایک پونجی ہے اور اس کا بہترین حصہ ایک صالح عورت ہے۔ (مسلم)
(۳۷) فاطمہؓ کا جہیز: حضرت علی ؓروایت کرتے ہیں،رسول اللہﷺنے حضرت فاطمہؓ سے اُن کی شادی کی تو نبی ﷺنے اپنی صاحبزادی کے جہیز میں یہ سامان بھیج دیا: سفید مخملی چادر، چمڑے کا تکیہ جسے کھجور کے درخت کی چھالوں سے بھردیا گیا تھا، چکی، مشکیزہ اور مٹی کے دو گھڑے۔ (مسند احمد)
(۳۸) رسول کریمﷺنے فرمایا:اپنے نطفے کے لئے اچھے رشتے کا انتخاب کرو اور اپنی برابری (کفو) والوں میں نکاح کرو۔(ابن ماجہ)ایمان اخلاق اورپیشے میں کفو کا اعتبار ہے۔
(۳۹) رسول اللہ ﷺنے فرمایاـ:عورتوں سے اُن کے حسن وجمال کی وجہ سے شادی نہ کرو،ہو سکتا ہے اُن کا حسن اُن کوتباہ کر دے۔اور نہ اُن کے مالدارہونے کی وجہ سے شادی کرو، ہو سکتا ہے اُن کا مال اُن کو سرکشی میں مبتلا کر دے۔بلکہ دین کی بنیاد پر اُن سے شادی کرو۔سیاہ رنگ کی لونڈی جو دیندار ہو،اللہ کی نگاہ میں گوری خاندانی عورت سے بہتر ہے۔(المنـتـقیٰ:۱۳۳/ ابن ماجہ)
(۴۰) لباس مرد عورت کا: ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺنے لعنت فرمائی ہے اُس آدمی پر جو عورتوں کا لباس پہنے اور اُس عورت پر جو مردوں جیسالباس پہنے۔ (ابو داؤد)
(۴۱) مہر ادا کرنا فرض ہے: حضرت عقبہ بن عامر ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام شرطوں میں وہ شرط پوری کی جانے کی زیادہ مستحق ہے جس کے ذریعہ تمہارے لئے شرم گاہ حلال کی گئی(یعنی مہر کا ادا کرنا)۔(بخاری، مسلم)
(۴۲) مہر کتنا ہو: حضرت ابو سلمہؓ کہتے ہیں ،میں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ سے پوچھا رسول اللہﷺنے اپنی بیویوںکو کتنا مہر دیا تھا ؟ اُنہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو ساڑھے بارہ اوقیہ ( پانچ سو درہم) مہر دیا تھا۔(مسلم ، نسائی، ابو داؤد)
(۴۳) مہر کی زیادتی غلط ہے:حضرت عمر ؓ نے ایک تقریر میں مسلمانوں کوخطاب کرتے ہوئے فرمایا: سنو، تم عورتوں کے بھاری بھاری مہر مقرر نہ کیا کرو۔ اگر دنیا میں یہ عزت و شرف کی بات ہوتی ،یا یہ چیز اللہ کے نزدیک تقویٰ قرار پاتی تو اس کے سب سے زیادہ حقدارنبیﷺتھے۔ میں نہیں جانتا کہ نبیﷺنے اپنی کسی بیوی کو بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر دیا ہویا اپنی کسی صاحبزادی کا مہر اس سے زیادہ مقرر کیا ہو۔ (ترمذی، ابو داؤد،نسائی)
(۴۴) مہر میں قرآن کی تعلیم : ایک عورت نے نبی کریمﷺ سے کہا میں اپنی ذات کوآپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں۔اُس نے بار بار یہ بات کہی مگر حضور نے توجہ نہیں دی۔ایک دوسرے شخص نے عرض کیا کہ اس کا نکاح میرے ساتھ کرا دیجئے۔حضور نے پوچھا مہر میں دینے کے لئے تمہارے پاس کچھ ہے، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔لیکن اس کے پاس وہ بھی نہیں تھی چنانچہ حضور نے کہا کہ تمہیں قرآن کی جو سورتیں یاد ہیں وہ اسے یاد کرادو یہی اس کا مہر ہوگا۔(بخاری / مسلم )
(۴۵) حضرت ابو ایوب ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی والدہ اور اُس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے اورجس کو وہ محبوب رکھتا ہے اُس کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ (ترمذی ، دارمی)
(۴۶) عورت پر فرشتوں کی لعنت: حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا:جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے اوروہ شوہر سے غصہ کی حالت میں رات گزارے تو صبح تک فرشتے اُس عورت پر لعنت کرتے رہیں گے۔ (مسند احمد)
(۴۷) رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا۔ (سنن ترمذی-1912)
(۴۸) ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے، لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود)کو شریک ٹھہرائے جسے تو(میرے شریک کی حیثیت سے )نہیں جانتا تو اُن کی اطاعت نہ کر۔میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کرآنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ ( عنکبوت -۸ )
(۴۹) یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اُس نے کہا بیٹا! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔(۱۳)اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے،اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اُسے اپنے پیٹ میں رکھااور دو سال اُس کے دودھ چھوٹنے میں لگے(اسی لئے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر ادا کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا۔ میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔(۱۴)لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو اُن کی بات ہرگز نہ مان، دنیا میں اُن کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ ،مگر پیروی اُس آدمی کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے، پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اُس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔(لقمان:۱۳ تا۱۵)
(۵۰) تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اُس کی۔ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو اُنہیں اُف تک نہ کہو، نہ اُنہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ اُن سے احترام کے ساتھ بات کرو اور نرمی و رحم کے ساتھ اُن کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کیا کرو کہ پروردگار اُن پر حم فرما جس طرح اُنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ بچپن میں مجھے پالا تھا۔تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوںمیںکیا ہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے لوگوں کے لئے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصورپرمتنبہ ہو کربندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں۔(بنی اسرائیل:۲۳تا۲۵)
(۵۱) جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔(بخاری)
٭٭٭

