Blog

مساجد کا بطور لائبریری و اسٹڈی سینٹر استعمال : ذکی نور عظیم ندوی ۔ لکھنؤ

مساجد کا بطور لائبریری و اسٹڈی سینٹر استعمال
ذکی نور عظیم ندوی ۔ لکھنؤ
اکیسویں صدی کے پہلے پچیس سال (پہلا ربع) پورے ہوچکے ہیں اور دوسرے پچیس سال(دوسرا ربع) کا آغاز ہوچکا ہے، مسابقتی مزاج اور تعلیمی میدان میں مسابقتی امتحانات و ٹسٹ کی طرف طلباء کا رجحان بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ وقت اور اس کے ساتھ انسان کی ضرورتیں بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔ آج کے طالب علم کو کتاب اور استاد کے ساتھ ایک ایسے ماحول کی بھی ضرورت ہے جہاں وہ چند گھنٹے سکون کے ساتھ بیٹھ کر یکسوئی سے پڑھ سکے، اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچا سکے اور علمی صلاحیتوں کو بہتر کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں لائبریریوں، ریڈنگ رومز اور اسٹڈی سینٹروں کا رجحان عام ہوتا جارہا ہے۔ طلبہ ایسی جگہوں کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں شور و ہنگامے سے دور، موبائل اور دوسری مصروفیات سے بچ کر وہ کئی گھنٹے اپنے مطالعے اور تیاری پر توجہ دے سکیں۔
اس نئی صورت حال میں ہماری توجہ اپنی مسجدوں کی طرف جاتی ہے۔ بہت سی بڑی مسجدیں جمعہ اور دیگر بڑے اجتماعات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع و کشادہ بنائی جاتی ہیں۔ جمعہ کے دن تو وہ بھر جاتی تیں، لیکن باقی دنوں میں ان کا ایک بڑا حصہ عموماً خالی رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا ان وسیع جگہوں کو عبادت میں کسی طرح کا خلل پیدا ہوئے بغیر اور مسجد کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم و مطالعے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا؟ یہ سوال صرف جگہ کے بہتر استعمال کا ہی نہیں، بلکہ مسجد کے اس عظیم اور وسیع کردار کو دیکھتے ہوئے پیدا ہو رہا ہے جو مسجد نبوی کی تاریخ اور اس کی سرگرمیوں سے سمجھ میں اتا ہے اور مساجد کو نئے زمانے کی ضرورتوں سے جوڑنے کے مقصد کو سامنے رکھ کر پیدا ہوتا ہے۔
مسجد اسلام میں صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہیں۔ بلکہ وہ مرکز ہے جہاں انسان رب کے سامنے جھکتا اور اپنی زندگی سنوارتا ہے۔ جہاں دلوں کی اصلاح اور ذہنوں کی تربیت ہوتی ہے، جہاں ایمان کو تقویت ملتی ہے اور علم کی کرنیں پورے ماحول کو روشنی پہنچاتی ہیں۔ مسجد نبوی اور اس کی سرگرمیاں ہمارے سامنے ہیں کہ وہ نماز اور عبادت کے ساتھ تعلیم و تربیت، دعوت و اصلاح اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا مرکز بھی تھی۔ وہاں قرآن سیکھا اور سکھایا جاتا تھا، مسائل بیان ہوتے تھے، لوگ رہنمائی حاصل کرتے تھے اور زندگی کے مختلف معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے تھے۔
اگر مسجد کا یہی جامع تصور ہمارے ذہن میں زندہ ہوجائے تو عصر حاضر کی ایک اہم ضرورت کے لئے مسجد کے دروازے کھولنے کی صورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ ہماری بڑی مسجدوں میں ایسے حصے کیوں متعین نہیں کئے جاسکتے جہاں مخصوص اوقات میں طلبہ خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر مطالعہ کرسکیں اور ضرورت کے مطابق طلبہ اپنے تعلیمی کام، مسابقتی امتحانات اور اعلیٰ تعلیم کی تیاری کرسکیں۔ مسجد کے آداب، نماز کے اوقات، صفائی اور سکون کا پورا خیال رکھتے ہوئے اگر یہ نظام قائم کیا جائے تو مسجد ایک طرف عبادت گاہ رہے گی اور دوسری طرف نوجوانوں کے لیے ایک پُرسکون علمی مرکز بھی بن جائے گی۔
اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے نوجوان مسجد سے قریب آئیں گے۔ آج بہت سے نوجوانوں کی مسجد سے وابستگی صرف نماز کے چند منٹوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔اور ایک بڑی تعداد تو اس کی طرف رخ ہی نہیں کرتی۔ اگر ایک طالب علم اپنی کتابیں لے کر روزانہ مسجد کے کسی پرسکون حصے میں چند گھنٹے بیٹھے، اذان کی آواز سنے، نماز کے لیے اٹھے، جماعت میں شریک ہو اور پھر دوبارہ اپنے مطالعے میں لگ جائے تو مسجد اس کی زندگی میں صرف ایک عبادت گاہ نہیں رہے گی، بلکہ اس کی علمی اور اخلاقی تربیت کا بھی حصہ بن جائے گی۔
کتنا خوب صورت منظر ہوگا کہ نمازیں باجماعت ادا ہوں گی، قرآن کی تلاوت اور مسجد کے ماحول سے اسلامی مزاج کو تقویت ملے گی، اذان بلند ہوتے ہی مسلمان طلبہ کتاب بند کرکے نماز کے لئے صف میں شامل ہوجائیں گے، اور نماز کے بعد پھر اپنی علمی جدوجہد میں مصروف۔ یوں علم اور عبادت ایک دوسرے سے جدا نہیں، بلکہ ایک مسلمان طالب علم کی زندگی کے دو خوب صورت پہلو بن جائیں گے۔
اس تصور کا ایک اور نہایت اہم پہلو دعوتی اور سماجی بھی ہے۔ اگر مناسب انتظام اور واضح اصولوں کے ساتھ غیر مسلم طلبہ کو بھی مطالعاتی سہولت فراہم کی جائے تو مسجد ان کے لئے اسلام کو قریب سے سمجھنے کا ایک نیا دروازہ بن سکتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے مذہبی مراکز اور عبادات سے براہ راست واقفیت ہر شخص کو حاصل نہیں ہوتی۔ نتیجتاً بعض اوقات فاصلے، سنی سنائی باتیں اور شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔
ایک غیر مسلم طالب علم اگر کسی مسجد کے پرسکون ماحول میں بیٹھ کر اپنے امتحان کی تیاری کرے، وہاں مسلمانوں کو نماز پڑھتے دیکھے، ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے اخلاق اور معاملات کا مشاہدہ کرے اور مسجد کو ایک پُرامن، منظم اور علمی ماحول کے طور پر محسوس کرے تو اسلام کے بارے میں اس کے ذہن میں قائم بہت سے سوالات اور غلط فہمیاں خود بخود کم ہوسکتی ہیں۔
یہ دعوت کسی مناظرے یا لمبی تقریر سے نہیں بلکہ مسجد کے ماحول، مسلمانوں کے اخلاق اور عملی رویے کے ذریعے ہوگی۔ ایک مسلمان طالب علم اپنے غیر مسلم ساتھی کے ساتھ حسن سلوک کرے، مسجد کا منتظم احترام اور اپنائیت سے پیش آئے، کسی ضرورت مند طالب علم کی کتاب یا نوٹس میں مدد کردی جائے، اور مسجد میں علم حاصل کرنے والوں کے لئے ایک محفوظ، پرسکون اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے تو یہ سب مل کر اسلام کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکتے ہیں جو الفاظ سے کہیں زیادہ مؤثر ہوگی۔
البتہ اس کے لیے نظم و ضبط بنیادی شرط ہے۔ مسجد کے تقدس اور عبادت کے ماحول پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔ مطالعے کے لیے مناسب جگہ ہو، اوقات مقرر ہوں، خاموشی اور صفائی کا اہتمام ہو، مسلم طلبہ کیلئے نماز کے وقت مطالعہ گاہ کا نظام نماز کے تابع ہو اور مسجد کے آداب کی مکمل پابندی کی جائے۔ ہر مسجد اپنی جگہ کے حالات اور مقامی اہل علم کی رہنمائی کے مطابق مناسب طریقہ اختیار کرسکتی ہے۔ یہ کام صرف عمارت کے ایک حصے کو لائبریری میں بدلنے کا نہیں، بلکہ مسجد کو نوجوان نسل کی زندگی سے دوبارہ جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔
ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہمارے شہروں میں کتنے نوجوان ایسی جگہوں کی تلاش میں رہتے ہیں اس میں ایک تعداد لائبریری کی فیس یا سفر کے اخراجات آسانی سے برداشت نہیں کرپاتے۔ کتنے نوجوان گھنٹوں ایسی جگہوں پر بیٹھتے ہیں جہاں ان کے دل اور ذہن دونوں منتشر ہوتے رہتے ہیں۔ اگر ہماری بڑی مسجدیں اپنے وسیع اور غیر استعمال شدہ حصوں میں سے کچھ جگہ ان طلبہ کے لئے وقف کردیں تو یہ بظاہر ایک چھوٹی و معمولی پہل ہوگی لیکن اس کے اثرات بہت دور تک جاسکتے ہیں۔
اس سے مسجد میں رونق بڑھے گی، شور و ہنگامے کے بغیر علم کی شمعیں روشن ہونگی۔ نوجوان علم اور نماز دونوں کے لئے آئیں گے۔ اپنے مسابقاتی ٹیسٹ اور تعلیم کے لئے تیاری بھی کریں گے اورقرآن سے رشتہ بھی مضبوط ہوگا۔ اور شاید سب سے بڑھ کر یہ کہ مسجد پھر سے معاشرے کی تعمیر میں اپنا وہ کردار ادا کرنے لگے گی جس کی اسے ابتدا ہی سے پہچان حاصل رہی ہے۔
آج ہمیں اپنی مسجدوں کے دروازے زمانے کی جائز اور مفید ضرورتوں کے لیے کھولنے کی ضرورت ہے۔ مسجد کو صرف ایک ایسی جگہ سمجھنا کافی نہیں جہاں آدمی آتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور واپس چلا جاتا ہے۔ مسجد وہ جگہ بھی ہونی چاہئے جہاں نوجوان اپنے مستقبل کی تیاری کرے، علم کی تلاش میں بیٹھے، ذہنی سکون حاصل ہو، قرآن سیکھے، تربیت حاصل کرے اور ایک غیر مسلم اسلام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع پائے۔
مسجد کو بازار بنانا مقصد نہ اس کی عبادت گاہ کی حیثیت کو کم کرنا، بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی علم، تربیت، دعوت اور اصلاح کی صلاحیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ ہمارے پاس عمارتیں ہیں، وسیع ہال ہیں، خاموش گوشے ہیں، کتابیں ہیں، اہلِ علم ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی مسجد کی عظیم روایت ہے جس نے کبھی عبادت کے ساتھ علم و تربیت کا چراغ بھی روشن کیا تھا۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان وسائل کو نئے انداز میں جوڑیں اور زمانے کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے مسجد کے کردار کو وسیع کریں۔
کیا خبر، کسی مسجد کے ایک خاموش گوشے میں کھلی کتاب کسی نوجوان کی زندگی بدل دے اور بہت سے طلبہ کی کامیابی کا راستہ وہاں سے نکلے، اور بعض نوجوان کا مسجد سے ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جڑ جائے۔ کسی غیر مسلم طالب علم کے ذہن میں اسلام کے بارے میں موجود شکوک وشبہات اور غلط تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔
اس طرح مسجد میں دینی و روحانی ماحول بھی ہوگا اور تعلیمی میدان میں اچھے نتائج کی امید بھی۔ اور سب سے بڑھ کر مسلمان بچوں کی ملی، سماجی اور تہذیبی سربلندی کے ساتھ، نمازوں و مسجد سے وابستگی، وہاں مطالعہ، عبادت اور تعلیم کے ساتھ اس کی توقع کہ جس مسجد نے کبھی انسان کے دل کو اللہ سے اور اس کے ذہن کو علم سے جوڑنے کا کام کیا تھا، وہ آج پھر معاشرے کی تعمیر و ترقی اور امت کی سربلندی میں یہ جامع کردار کیوں نہیں ادا کرسکتی۔
zakinoorazeem@gmail.com

Related posts

حضرت مولانا شفیق احمد صاحب القاسمی، اخلاص اور خدمتِ دین کا ایک روشن باب

Paigam Madre Watan

جامعہ محمدیہ کی جانب سے ڈاکٹر ساجد نعیم کو ’’بیسٹ ریسرچر‘‘ کا خطاب

Paigam Madre Watan

گاؤں ٹکریا پر لکھا گیا میرا مضمون : مطیع الرحمن عزیز

Paigam Madre Watan