مسجد کا مسلمان اور بازار کا مسلمان
دین و دنیا کی مصنوعی تقسیم کا المیہ
تحریر: شفیع احمد، کمرہٹی
اسلام کو اگر صرف مسجد کی چار دیواری تک محدود کر دیا جائے اور زندگی کے باقی معاملات کو ’’دنیا‘‘ کہہ کر دین سے الگ سمجھ لیا جائے تو یہ نہ صرف اسلام کے جامع تصور کے خلاف ہے بلکہ ایک ایسی فکری غلطی ہے جس کے نتائج آج ہماری پوری اجتماعی زندگی میں نمایاں ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عرصے سے دین اور دنیا کو دو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ہم نے گویا یہ تصور قائم کر لیا ہے کہ نماز پڑھنا دین ہے، جبکہ تجارت کرنا دنیا؛ مسجد جانا دین ہے، دفتر اور بازار دنیا؛ مدرسہ دین ہے اور اسکول و کالج دنیا۔
یہ تقسیم بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں اسی تصور نے ہماری زندگی میں ایک خطرناک تضاد پیدا کر دیا ہے۔
اسلام نے انسان کو دو کردار ادا کرنے کی تعلیم نہیں دی۔ اسلام یہ نہیں کہتا کہ انسان مسجد میں ایک شخصیت اور بازار میں دوسری شخصیت بن جائے۔ جو شخص مسجد میں اللہ کے سامنے جھکتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بازار میں بھی اللہ کے حکم کو یاد رکھے۔ جو شخص نماز میں سچائی اور ہدایت کی دعا کرتا ہے، اس کے معاملات میں بھی سچائی، دیانت اور انصاف نظر آنا چاہیے۔
لیکن آج ہمارا عملی منظر نامہ بعض اوقات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔
ہم نماز بھی پڑھتے ہیں اور بعض معاملات میں دوسروں کو دھوکہ بھی دیتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت بھی کرتے ہیں، مگر زبان کو جھوٹ، غیبت اور چغلی سے محفوظ نہیں رکھتے۔ صفِ نماز میں کھڑے ہونے کو ضروری سمجھتے ہیں، مگر کاروبار میں کسی کا حق مارنے کو معمولی بات سمجھ لیتے ہیں۔
یہاں سوال صرف دوسروں سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے کہ اگر ہماری عبادت کا اثر ہمارے کردار اور معاملات میں ظاہر نہیں ہوتا تو ہمیں اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
دیواروں پر قرآن، مگر زبان پر غیبت
یہ المیہ صرف بازار اور گھروں تک محدود نہیں۔ بعض جگہوں پر مساجد کے ماحول میں بھی ایسی باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو ہمیں خود احتسابی پر مجبور کرتی ہیں۔
مسجد کی دیواروں پر قرآنی آیات آویزاں ہوتی ہیں۔ اذان کی آواز اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتی ہے۔ نماز کے ذریعے بندگی اور عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات نماز کے بعد اسی ماحول میں غیبت، چغلی، باہمی اختلافات اور گروہ بندی شروع ہو جاتی ہے۔
کسی کی نیت پر شک، کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف گفتگو، کسی کے کردار پر تبصرے اور ذاتی اختلافات کو بڑھانا—یہ سب ایسی چیزیں ہیں جن سے ایک مسلمان کو بچنا چاہیے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مسجد کے انتظامی معاملات ذاتی انا اور گروہ بندی کا شکار ہو جائیں۔ کہیں کمیٹیوں کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں، کہیں ذمہ داریوں کے لیے کھینچا تانی، اور بعض جگہوں پر مسجد کے ذمہ دار افراد یا ائمہ کرام کے خلاف محاذ آرائی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔
اختلاف ہر انسانی معاشرے میں ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کا بھی ایک اخلاق اور ایک طریقہ ہوتا ہے۔ مسجد کے معاملات میں اختلاف کو مشورے، انصاف اور اسلامی آداب کے ساتھ حل ہونا چاہیے، نہ کہ سازش، کردار کشی اور گروہ بندی کے ذریعے۔
یقیناً تمام مساجد اور تمام کمیٹیوں کے بارے میں عمومی فیصلہ کرنا درست نہیں۔ بے شمار مساجد اور ذمہ داران انتہائی اخلاص کے ساتھ دین اور معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن جہاں خرابیاں موجود ہوں، وہاں خاموش رہنے کے بجائے اصلاح کی کوشش ہونی چاہیے۔
کیونکہ مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں بلکہ امت کی اخلاقی تربیت کا مرکز بھی ہے۔
جدید نوجوان اور دینی طبقے کے درمیان بڑھتا ہوا خلا
دین اور دنیا کی اسی مصنوعی تقسیم کا ایک بڑا نتیجہ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں اور دینی طبقے کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بھی ہے۔
آج کا نوجوان ایک بالکل مختلف دنیا میں زندگی گزار رہا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، عالمی معیشت اور تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی حالات نے اس کے مسائل اور سوالات کو بدل دیا ہے۔
دوسری طرف دینی علوم سے وابستہ طبقہ ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری قرآن و سنت کی روشنی میں معاشرے کی رہنمائی کرنا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ الحمدللہ ہمارے درمیان بے شمار ایسے جید اور صاحبِ بصیرت علماء موجود ہیں جو عصرِ حاضر کے مسائل کو سمجھتے ہیں اور نوجوان نسل کی بہترین رہنمائی کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات امت کے لیے سرمایہ ہیں۔
لیکن یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ دونوں جانب ایک ایسا طبقہ ہے جس کے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے۔
بعض جدید تعلیم یافتہ نوجوان علماء کو اپنے عملی مسائل سے ناواقف سمجھتے ہیں، جبکہ بعض حلقوں میں نوجوانوں کے سوالات کو سمجھنے کے بجائے انہیں محض دین سے دور قرار دے دیا جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مکالمے کے بجائے فاصلے بڑھتے ہیں۔
ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے پر لیبل لگائے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال امت کے لیے فائدہ مند نہیں۔
آج مدارس اور یونیورسٹیوں کے درمیان دیواروں کی نہیں بلکہ پلوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے نوجوان چاہیے جو جدید علوم سے واقف ہوں، لیکن اپنی دینی اور اخلاقی بنیادوں سے بھی جڑے رہیں۔
ہم نے بچوں کو تعلیم دی، مگر کیا تربیت بھی دی؟
آج ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے بچے موجود ہیں جو غیر معمولی ذہین ہیں۔ ان کی یادداشت بہترین ہوتی ہے، وہ پڑھائی میں نمایاں ہوتے ہیں اور ہر چیز کو بہت جلد سمجھ لیتے ہیں۔
وہ بہترین اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، نامور یونیورسٹیوں تک پہنچتے ہیں اور پھر اچھی ملازمت، اعلیٰ عہدہ یا کامیاب کاروبار حاصل کر لیتے ہیں۔
والدین فخر کرتے ہیں۔ معاشرہ ان کی مثالیں دیتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی بہت کامیاب ہو گیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کامیابی کا معیار کیا ہے؟
ہم نے اپنے بچوں سے پوچھا کہ امتحان میں کتنے نمبر آئے، لیکن کتنی مرتبہ پوچھا کہ نماز کا کیا حال ہے؟
ہم نے ان کے کیریئر کے لیے رات دن محنت کی، لیکن ان کے کردار کی تعمیر کے لیے کتنی محنت کی؟
ہم نے انہیں بہترین یونیورسٹیوں میں داخلہ دلانے کی کوشش کی، لیکن کیا کبھی یہ بھی سوچا کہ ہمارا بچہ اپنے رب، اپنی زندگی کے مقصد اور اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے یا نہیں؟
ہم نے بچوں کو دنیا میں مقابلہ کرنا سکھایا، مگر شاید یہ کم سکھایا کہ کسی کو دھوکہ دے کر جیتنا بھی شکست ہے۔
ہم نے انہیں زیادہ کمانے کی ترغیب دی، مگر حلال و حرام کی اہمیت کتنی سمجھائی؟
یہی وہ سوال ہیں جن پر آج ہر والدین اور ہر ذمہ دار فرد کو غور کرنا چاہیے۔
دنیاوی کامیابی اور روحانی خلا
دنیاوی ترقی کوئی بری چیز نہیں۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا، اچھی ملازمت حاصل کرنا اور حلال طریقے سے دولت کمانا یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
اسلام علم اور ترقی کے خلاف نہیں۔
مسئلہ ترقی نہیں، بلکہ ترقی کے ساتھ مقصدِ زندگی کو بھول جانا ہے۔
آج بہت سے نوجوانوں کے پاس اعلیٰ تعلیم، بہترین مہارت، اچھی آمدنی اور زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔ لیکن بعض اوقات اسی ترقی کے دوران نماز، دین، اخلاق اور آخرت کا تصور زندگی سے کمزور ہوتا جاتا ہے۔
زندگی کے اہم فیصلوں میں بھی دینی اور اخلاقی اصولوں کو غیر ضروری سمجھ لیا جاتا ہے۔
تعلقات، شادی، کاروبار اور ذاتی زندگی میں صرف خواہش، وقتی جذبات یا معاشی مفاد کو معیار بنایا جاتا ہے۔
یہ معاملہ کسی ایک نوجوان یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ ہماری مجموعی تربیت کا سوال ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مسلمان ہونا صرف نام یا خاندانی شناخت کا مسئلہ نہیں۔ اس کا تعلق انسان کے عقیدے، کردار اور عملی زندگی سے بھی ہے۔
اگر انسان دنیا کی دوڑ میں اتنا مصروف ہو جائے کہ اسے اپنے خالق، اپنے کردار اور اپنی آخرت کی فکر ہی نہ رہے تو یہ یقینی طور پر تشویش کا مقام ہے۔
دنیا کی ہر آسائش، مگر آگے کیا؟
آج کسی کے پاس بڑا گھر ہے، کسی کے پاس بڑی گاڑی، کسی کے پاس اعلیٰ عہدہ اور کسی کے پاس خطیر دولت۔
یہ سب زندگی کی سہولتیں ہو سکتی ہیں۔
لیکن کیا یہی زندگی کی مکمل کامیابی ہے؟
عہدے بدل جاتے ہیں۔
دولتیں منتقل ہو جاتی ہیں۔
شہرتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
زندگی بھی ایک دن ختم ہو جاتی ہے۔
پھر انسان کے ساتھ اس کا کردار اور اس کے اعمال رہ جاتے ہیں۔
اس لیے دنیاوی ترقی کے ساتھ آخرت اور جواب دہی کا احساس بھی ضروری ہے۔
یہ دنیا یقیناً اہم ہے، کیونکہ ہمیں اسی دنیا میں زندگی گزارنی ہے۔ لیکن دنیا کو سب کچھ سمجھ لینا انسان کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔
دین صرف مسجد یا مدرسے تک محدود نہیں
یہ تصور بھی درست نہیں کہ دین صرف علماء، اماموں اور مدرسے سے وابستہ افراد کی ذمہ داری ہے۔
دین اور اخلاق ہر شخص کی زندگی سے متعلق ہیں۔
ایک تاجر کی دیانت بھی اس کے کردار کا امتحان ہے۔
ایک ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ انصاف بھی اس کی ذمہ داری ہے۔
ایک استاد کا طلبہ کے ساتھ رویہ بھی اس کے کردار کا آئینہ ہے۔
ایک افسر کے اختیارات کا استعمال بھی اس کی جواب دہی سے متعلق ہے۔
ایک صحافی کی سچائی بھی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔
ایک سیاست دان کا عوام کے ساتھ رویہ بھی امانت اور جواب دہی کا معاملہ ہے۔
دین کا مطلب دنیا سے فرار اختیار کرنا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے مطابق گزارنا ہے۔
نماز دین ہے، لیکن تجارت میں دیانت بھی دین ہے۔
روزہ دین ہے، لیکن بھوکوں اور کمزوروں کا خیال رکھنا بھی دین ہے۔
قرآن کی تلاوت دین ہے، لیکن قرآن کی تعلیمات کو اپنے کردار میں شامل کرنا بھی دین ہے۔
اب ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین اور دنیا کی مصنوعی تقسیم کو ختم کریں۔
والدین کو بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
اساتذہ کو صرف امتحان کے لیے نہیں بلکہ کردار کے لیے بھی سوچنا ہوگا۔
علماء اور جدید نوجوانوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔
مساجد کو صرف رسمی عبادات کا مرکز نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری تربیت کا مرکز بھی بنانا ہوگا۔
اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔
ہمیں اپنے بچوں سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے۔
ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ وہ کیسے انسان بنیں گے۔
وہ کتنا کمائیں گے، یہ اہم ہے۔
لیکن وہ کیسے کمائیں گے، یہ زیادہ اہم ہے۔
وہ کہاں تک پہنچیں گے، یہ اہم ہے۔
لیکن وہاں پہنچ کر وہ اپنے کردار کے ساتھ کیا کریں گے، یہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
ہمیں ایسی نسل چاہیے جو سائنس بھی جانتی ہو اور اخلاق بھی۔
جو ٹیکنالوجی سے واقف ہو اور اپنے رب سے بھی تعلق رکھتی ہو۔
جو دنیا میں ترقی کرے، مگر تکبر میں مبتلا نہ ہو۔
جو دولت کمائے، مگر حلال طریقے سے۔
جو جدید ہو، مگر اپنی شناخت اور اخلاقی بنیادوں کو نہ کھوئے۔
جو مسجد میں بھی وہی ہو جو بازار، دفتر، گھر اور تنہائی میں ہے۔
آخری بات
اصل مسئلہ دنیا میں رہنا نہیں، بلکہ دنیا کو زندگی کا واحد مقصد بنا لینا ہے۔
اصل مسئلہ جدید تعلیم نہیں، بلکہ تعلیم کے ساتھ تربیت کو فراموش کر دینا ہے۔
اصل مسئلہ دولت نہیں، بلکہ دولت کے لیے اخلاق اور اصولوں کو قربان کر دینا ہے۔
اسلام ہمیں زندگی سے دور نہیں کرتا بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا راستہ دکھاتا ہے۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مسجد کے اندر اور مسجد کے باہر ایک ہی کردار کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھیں۔
کیونکہ حقیقی کامیابی صرف بڑی ڈگری، بڑی تنخواہ، بڑے گھر یا بڑی شہرت کا نام نہیں۔
حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا میں ترقی کرے، مگر اپنے رب کو نہ بھولے؛ علم حاصل کرے، مگر اخلاق نہ کھوئے؛ دولت کمائے، مگر دیانت قربان نہ کرے؛ اور زندگی گزارے تو اس احساس کے ساتھ کہ ایک دن اسے اپنے اعمال کا جواب بھی دینا ہے۔
ہم نے اپنی نسل کو دنیا جیتنا سکھانے میں بہت محنت کی ہے۔
اب شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے یہ بھی سکھائیں کہ زندگی صرف دنیا کا نام نہیں۔
شفیع احمد، کمرہٹی
موبائل: 9831278666

