Articles مضامین

علماء کرام کو تجارت کرنی چاہیے‎

احمد حسين مظاہری


یقیناً یہ بات ہر کس و ناکس پر اظہر من الشمس ہے کہ معاش انسانی زندگی کا ایک بنیادی مسئلہ ہے بلکہ ایک جزء لاینفک ہے۔فی الوقت جس معاشرے میں ہم اور آپ زندگی گزار رہے ہیں؛یہ معاشرہ ایسا نہیں تھا بلکہ اس معاشرے کی شکل ہم نے بگاڑدی ہے،آج آپ کو خواص کی اکثریتی طبقہ اُمراء کی چاپلوسی میں ملوث نظر آئیں گے ۔سببِ مرض کیا ہے؟ لہذا علمائے کرام کو چاہیئے کہ اپنی معاشی حالت کو مضبوط کرنے اور عزت ووقار کو بڑھانے کیلئے کاروباری زندگی کو اپنائیں،حیف! آج تو کوئی عالمِ دین تجارت کے لئے آمادہ نہیں ہوتا ہے بالفاظ دیگر تجارت کو ہم مولوی معیوب سمجھتے ہیں،اکثر خواص حضرات فراغت کے بعد صرف امامت اور مدرسوں تک محدود رہتے ہیں اس کے علاوہ وہ تجارت کے قریب بھی نہیں جاتے؛تدریسی خدمات…..یقیناً معتبر ہے بہت بڑا کام ہے اس سے قطعاًانکار نہیں لیکن اس کو پیشہ سمجھنا…ہمارے اسلاف کے خلاف ہے۔کیا درس و تدریس اور دینی خدمات کے ساتھ تجارت نہیں ہوسکتی؟ مولانا ابوالکلام آزادؒ فرماتے ہیں:طلبائے عزیز! کیا تم نے کبھی اس پر غور کیا ہے کہ تم جو تعلیم حاصل کر رہے ہو،اس کا مقصد کیا ہے؟ یہ علم مقصود ہے یا وسیلہ؟ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ وسیلہ ہیں، اصل مطلوب نہیں،البتہ مطلوب ہیں وہ ان کے بغیر نہیں مل سکتیں ،اس لیے وسیلہ بھی مطلوب ہو جائے گا،جو چیزیں مقاصد میں داخل ہیں،ان میں تبدیلی نہیں ہوسکتی،بھوک میں غذا مقصد ہے، وسیلہ اس کو بدل نہیں سکتا۔تم نے اپنے گھروں اور عزیز واقارب کو چھوڑا اور یہاں آئے،ملک میں تعلیم کے دوسرے طریقے بھی رائج ہیں،لوگ ان کی طرف دوڑتے ہیں مگر تم نے اسکولوں و کالجوں سے آنکھیں بند کیں تا کہ دینی علوم میں مہارت حاصل کرو،بڑا مبارک عزم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جس علم کو تم سیکھ رہے ہو وہ علم وسیلہ ہے یا مقصد؟ تمہارے ذہن نے اگر اس کونہ سمجھا تومیں متنبہ کروں گا کہ تم صحیح کام نہیں کر رہے ہو،اور قوموں نے ہمیشہ علم کو وسیلہ سمجھا ہے مگر مسلمانوں کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ انھوں نے علم کو وسیلہ نہیں مقصد سمجھا،ذریعہ معاش نہیں سمجھا۔
 ہندوستان میں ۲۴ / یونیورسٹیاں ہیں، کالج ہیں اور لاکھوں اسکول ہیں،جن کا دامن دیہات تک پھیلا ہوا ہے، ان میں جو تعلیم ہوتی ہے،اس کو وسیلہ سمجھا جاتا ہے مقصد نہیں سمجھا جاتا،ان میں صرف اس لیے تعلیم حاصل کی جاتی ہے کہ سرکاری ملازمتیں مل سکیں اور اونچے عہدے حاصل کیے جاسکیں جو شخص وہاں جاتا ہے وہ سجھتا ہے کہ جب تک یہاں کی ڈگری موجود نہ ہو وہ معاش حاصل نہیں کر سکتا،مگر میں تمہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جس علم کی خاطر تم زانوئے ادب تہ کر رہے ہو وہ علم مقصد ہے؟ وسیلہ نہیں ہے؟ اس کو کسی وسیلہ کے لیے حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس لیے حاصل کیا جاتا ہے کہ اس کا حصول فرض ہے، مسلمانوں نے ہمیشہ علم کو علم کے لیے سیکھا ہے،وسیلہ کے لیے نہیں، انھوں نے کبھی علم کو اس لیے حاصل نہیں کیا کہ اس کے ذریعہ معیشت حاصل کریں، مسلمانوں نے ذریعہ معیشت کسی اور چیز کو بنایا، جنھوں نے علم کے افسانے سنے ہیں وہ جانتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ جنھوں نے علم و فقہ مدون کیا،جس پر کروڑوں مسلمان عمل کرتے ہیں وہ پارچہ فروش تھے انھوں نے اپنے وسیع علم کو ذریعہ معیشت نہیں بنایا، معروف کرخی موچی تھے،آج ہم اس پیشہ کو سننے کو بھی تیار نہیں ہیں،وہ کرخ میں نکل جاتے ،بازار میں بیٹھتے ،راہ چلتے آدمیوں کے جوتے سیتے اور اس کی اجرت سے گزر بسر کرتے، شمس الائمہ کا نام ہی حلوائی پڑ گیا تھا وہ اتنا بڑا عالم اپنا ذریعہ معیشت حلوہ فروشی بنائے ہوئے تھے۔ اسی طرح اسلام کے مشہور علماء نے علم دین کے چشمے بہائے مگر کبھی علم دین کو ذریعہ معیشت نہیں بنایا،وہ علم کو علم کے لیے حاصل کرتے تھے،زخارف دنیوی کے لیے نہیں ،ان کے نزدیک یہ گناہ تھا کہ علم کو دنیا کے لیے حاصل کیا جائے ،وہ تشنگان علم کو علم کی روشنی سے سیراب کرنا ہی اپنا دینی فریضہ سمجھتے تھے، یہ ہمارے علماء کا خاص شیوہ رہا ہے کہ دین کی خدمت، علوم دینیہ کی اشاعت کو انھوں نے اپنا فریضہ سمجھا ہے، انھوں نے اس کے لیے خرید و فروخت کا بازار گرم نہیں کیا،اس حقیقت کو اگر تم نے سمجھ لیا تو اپنی زندگی کی تاریخ ڈھال لی۔(اقتباس:تعمیرِ حیات لکھنؤ) آج کتابُ البیوع کے سارے مسائل و جزئیات ہمارے پاس ہیں اور عامل عوام الناس……. بیشتر عوام الناس تجارت کے مسائل سے نابلد ہیں۔ ہم مولوی حضرات سمجھتے ہیں تجارت کرنا ہماری شان کے خلاف ہے،جبکہ علمائے متقدمین بڑے محدث،فقیہ،مفسر… تاجر تھے۔ چنانچہ امام ابو یعلی حسن بن ربیع بجلی کوفیؒ متوفی ٢٢١ھ؁ امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒکے استاذ ہیں،نہایت بزرگ اورعبادت گذارمحدث تھے،کوفہ میں ان کا گھر اوردوکان دونوں ان کے علم و فضل کے مرکز تھے،اور چٹائی کی تجارت کے ساتھ مسند علم کےصدرنشیں تھے،امام ذہبیؒ نے لکھا ہے: عجلی کا بیان ہے کہ آپ نہایت ثقہ،بزرگ اور عابد محدث تھے،چٹائیاں فروخت کرتے تھے۔ حافظ حدیث ابو جعفر محمد بن عبد الله بن عمار موصلیؒ متوفی ۲۴۲ھ؁ علمِ حدیث میں امامت کا مرتبہ رکھنے کے ساتھ موصل سے بغداد تک تجارتی کاروبار رکھتے تھے۔
امام شعبہ بن حجاجؒ علمی مصروفیت کی وجہ سے خود کاروبار کر کے نہیں کماتے تھے مگر آپ کو اس کا شدید احساس تھا کہ اپنی روزی خود کمانی چاہیے،اس لیے اپنے شاگردوں کو خاص طور سے بازار میں کاروبار کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔
ان کے تذکرہ میں ہے:امام شعبہ اپنے شاگردوں سے فرماتے تھے کہ تم لوگ بازار کو اپنے اوپر لازم کر لو، مجھے دیکھو کہ اپنے بھائیوں پر بارہوں۔  ان بزرگوں کا علماء کرام کو بازار میں کاروبار کرنے کی اس شدت سے رائے دینا اس کی افادیت اور برکت کو صاف بتا رہا ہے۔یقینی طور پر آج ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں جو تدریس کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں ملوث ہے وہ اُمراء کی خُصیہ برداری سے مستغنی رہتا ہے۔(بقول راقم:احمد..)
امام غندر بصریؒ حفاظِ حدیث میں تھے، زہد وعبادت کا یہ حال تھا کہ پچاس سال تک ایک دن کا ناغہ دے کرروزہ رکھتے رہے، ذہبیؒ نے لکھا ہے: آپ طیلسان اور گاڑھے کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔(تذکرہ الحفاظ- تبلیغی و تعلیمی سرگرمیاں…..ص٨٢)
ہمارے علمائے دیوبند کے احوال:حضرت نانوتویؒ نے ابتدا میں مطبع احمدی میرٹھ میں ملازمت کی جو ان کے استاذ مولانا احمد علی صاحبؒ نے قائم کیا تھا اس میں تصحیح کتب کی ملازمت کی اور اسی اثناء میں دارالعلوم کی بنیاد پڑگئی آپ اس کی خبر گیری کرتے رہے اور پھر دارالعلوم کے کاموں میں ایسے مشغول ہو گئے کہ میرٹھ کا کام چھوٹ گیا مگر دار العلوم سے کبھی تنخواہ نہیں لی جیسا کہ سوانح قاسمی/٥٦٣میں ہے۔ حضرت سہارنپوریؒ حضرت شیخ الہندؒ اورحضرت تھانوی نوراللہ تعالیٰ مراقدہم نے ابتداء میں مدرسی کی اورپھر اخیر میں سب نے چھوڑ دی۔حضرت مدنیؒ گو اخیر تک تنخواہ لیتے رہے مگر حضرت کا دستر خوان اسقدر وسیع تھا اور خفیہ داد و دہش بھی اسقدر وسیع تھی کہ تنخواہ بالا بالاہی نمٹ جاتی تھی۔میرے چچا جان مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے ابتداءً سہارنپور میں ملازمت کی اور اس کے بعد دہلی چلے گئے،ایک دفعہ مجھ سے فرمایا کہ کئے دفعہ تجارت شروع کر چکا ہوں اور میوات والوں کے ساتھ کئے دفعہ بکریاں خرید چکا ہوں مگر سو ہونے سے پہلے پہلے مرجاتی ہیں،مجبوراً چھوڑ دیا۔ خود سید الکونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی چند قیراطوں پر مکہ والوں کی بکریاں چرائی تھیں اور نبوت سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مال میں تجارت بھی کی لیکن نبوت کے بعد نہیں کی۔ حضرت موسی علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام نے بھی حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں دس برس تک اجرت پر چرائیں، جیسا کہ درمنثور ج١٢٤/٥ میں حضرت ابن عبان رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ کسی نے ابن عباسؓ سے پوچھا کہ حضرت موسی علیہ الصلوة والسلام نے آٹھ اور دس برس میں سے کونسی مدت پوری کی تو آپ نے جواب دیا جوزیادہ اچھی اورزیادہ پوری یعنی دس سال تھی۔(فضائلِ تجارت/ شیخ الحدیثؒ) تحریر کا لُبِّ لباب یہ ہے کہ علماء کرام تجارت کریں تاکہ اُمراء حضرات سے مستغنی رہیں،اور عوام کے ساتھ اختلاط کریں،اور انہیں مسائل سے روشناس کرائیں،اور بطور خاص دینی خدمات کو ذریعۂ معاش نہ سمجھیں۔ بارِالہ ہمیں مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

Related posts

وقت انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے،آج کا مسلمان وقت برباد کر رہا ہے

Paigam Madre Watan

تبصرہ بر کتاب ’ 15 منٹ پولیس ہٹا دو ‘

Paigam Madre Watan

Alima Dr. Nowhera Sheikh: Illuminating Future Prospects and felicitous Opportunities

Paigam Madre Watan

Leave a Comment