Articles مضامین

یہودیت تاریخ کے آئینے میں

از: محمد دل شیر علی مصباحی،علی گڑھ


اس دنیا میں زیادہ تر ادیان و مکاتب کا نام ان کے بانیوں کے نام پر رکھا گیا ہے جیسے جین مت جو مہاویر جین سے منسوب ہے اور بدھ مت جو گوتم بدھ سے منسلک ہے۔لیکن یہودیت کے ساتھ ایسا نہیں ہے کیونکہ یہودی لوگ یہ نہیں کہتے کہ ان کے دین کے بانی و مؤسس حضرت یعقوب علیہ السلام کے چوتھے بیٹے یہودا  تھے بلکہ وہ اپنے دین کا بانی اور اپنا جد اعلی پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں۔ یہودیوں کو بنی اسرائیل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام "اسرائیل” تھا جو عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے بندہ خدا (اسرا=بندہ، ئيل =خدا)۔اس لیے یعقوب علیہ السلام کی نسل کو بنی اسرائیل سے موسوم کیا جاتا ہے۔قرآن مجید میں یہودیوں کا ذکر بکثرت آیا ہے۔چنانچہ الله کے مقدس کلام میں لفظ "بني اسرائیل” بیالیس مرتبہ "الیهود” آٹھ بار "هادوا” دس بار اور لفظ "هودا” تین بار آیا ہے اور اس طرح کل ملا کر 68 بار براہ راست یہودیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن پاک میں جتنی بار حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام مذکور ہے اتنا کسی دوسرے نبی کا نہیں آیا۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے اپنے کلیم کا نام 136 مقامات میں لیا ہے۔اس اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قران شریف نے یہودیوں اور یہودیت کو کتنی اہمیت دی ہے۔مؤرخین کا ماننا ہے کہ آج سے تقریبا چار ہزار سال قبل یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے دو ہزار سال پہلے‌ عراق کے شہر بابل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے ۔جب وہاں کے ظالم و جابر بادشاہ نمرود کے ذریعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو شہر ترک کرنے پر مجبور کر دیا گیا تو حضرت ابراہیم اپنی بیوی صاحبہ حضرت سارہ کے ساتھ بابل سے ہاران اور پھر وہاں سے کنعان  کی طرف منتقل ہو گیے اور بعد میں وہیں رہنے لگے۔وہاں حضرت سارہ کی کنیز حضرت ہاجرہ آپ کے عقد میں آئی۔ان کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اور حضرت سارہ کہ یہاں حضرت اسحاق  علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ہمارے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کی نسل سے ہیں۔حضرت اسحاق علیہ السلام کو اللہ تبارک و تعالی نے دو بیٹے عطا کیے ایک کا نام "عیسو” اور دوسرے کا نام "یعقوب” رکھا- الله نے یعقوب کو نبوت سے سر فراز فرمایا اور آپ کو بارہ بیٹے عطا کئے ۔ جن کے نام تھے 1 اروئیل،2 شمعون، 3 لاوی،4 یہودا 5 یشجر،6 زبالون،7 هاد،8 اشر،9 دانیال،10 تفتلی،11 بنیامین اور 12 حضرت یوسف عليه السلام.  جب‌حضرت يوسف کو مصر کی بادشاہت ملی تو حضرت یعقوب اپنے 11 بیٹوں کے ساتھ مصر میں آکر بس گئے۔تقریبا دو صدیوں تک حالات کافی خوشگوار تھے ۔اس کے بعد بادشاہت کی لگام جب فرعون کے ہاتھوں پر آتی ہے تو وہ تمام بنی اسرائیلیوں کو غلام بنا لیتا ہے۔ اور ان پر ظلم کے پہاڑ ڈھانا شروع کرتا ہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ فرعون کے مظالم بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ پھر الله ان کے درمیان حضرت موسی علیہ السلام کو مبعوث فرماتا ہے۔ حضرت موسیٰ حضرت یعقوب کے تیسرے بیٹے لاوی بن یعقوب کی نسل سے تھے۔ حضرت موسی بنی اسرائیلیوں کو فرعون کے ظلم و بربریت سے نجات دلوا کر بحکم خدا بنی اسرائیلیوں کو ارض مقدس(فلسطین )کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسی دوران حضرت موسی حضرت ہارون کو اپنا جانشین بنا کر کوہ طور پر تشریف لے گئے جہاں اللہ تبارک و تعالی آپ کو وہ احکام عطا کرتا ہے جنہیں تورات کے نام سے جانا جاتا ہے۔  یہودیوں کا ماننا ہے کہ چار ہزار سال کی طولانی مدت گزرنے کے بعد بھی آج اگر یہودیت اور یہود باقی ہے تو صرف اور صرف توریت کی وجہ سے۔جب حضرت موسی و ہارون علیہما السلام کی وفات ہو جاتی ہے تو حضرت یوشع بن نون ان کے پیشوا بنتے ہیں۔دو صدی گزرنے کے بعد ایک ہزار قبل مسیح میں بنی اسرائیل زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے تو وہ اپنے نبی حضرت شموئیل سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دعا کرے کہ الله بنی اسرائیل کے لیے ایک طاقتور بادشاہ بنا کر بھیجے۔ حضرت شموئیل کو اللہ تعالی کی طرف سے ایک عصا ملا تھا اور بتایا گیا تھا کہ جو شخص تمہارے قوم کا بادشاہ ہوگا اس کا قد اس عصا کے برابر ہوگا۔آپ نے اس عصا سے طالوت کا قد ناپ کر فرمایا کہ میں تمہیں بحکم الہی بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کرتا ہوں طالوت بنیامین بن یعقوب کی نسل سے تھا خدا نے طالوت کو ان کا بادشاہ بنایا بنی اسرائیل کو طالوت کی بادشاہت راس نہ آئی اسی درمیان داؤد نامی انسان مرد فاتح بن کر ابھرا یہ یہودا بن یعقوب کی نسل سے تھے ان کی شجاعت کا سکہ اس وقت اور جم گیا جب انہوں نے بنی اسرائیل کے زبردست دشمن جالوت کو صرف ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔تالوت نے اس واقعے سے خوش ہو کر اپنی بیٹی کا نکاح داؤد سے کر دیا اور انہیں اپنا سپہ سالار بھی بنا دیا جب طالوت کا انتقال ہو گیا تو داؤد بادشاہ بنائے گئے اور ان کا پایا تخت وہ جگہ جہاں بیت المقدس قائم ہے وہاں بنایا گیا۔انہوں نے تقریبا 30 سالوں تک حکومت کی۔  جب حضرت داؤد اس دنیا سے کوچ کر گئے تو ان کے بیٹے حضرت سلیمان ان کے جانشین اور ان کے سلطنت کے بادشاہ بنے۔وہ اپنے علم،حکمت،عدل اور تدبیر حکومت کے لیے آج بھی مشہور ہیں۔ خدا نے ان کو ایسی حکومت عطا کی تھی کہ ان کے بعد ویسی حکومت کسی کو نہ ملی۔ معبد اول(ہیکل سلیمانی)انھیں کے زمانے میں یروشلم میں بنایا گیا تھا۔حضرت سلیمان نے معبد اول بنا کر ایک ایسے مرکز کی بنیاد ڈالی جو مستقبل میں یہودی،عیسائی اور مسلمانوں سب کے لیے برابر اہمیت کا حامل بننے والا تھا۔40 سال حکومت کرنے کے بعد حضرت سلیمان کی وفات ہو جاتی ہے۔ان کے رحلت کے بعد سلطنت ان کا بیٹا رجعام سنبھالتا ہے لیکن اپنی نا اہلی کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے قبیلوں کے درمیان اتحاد قائم نہیں رکھ سکا اور خود بنی اسرائیل آپسی خانہ جنگی میں مشغول ہو جاتی ہے.  چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کا بادشاہ بخت نصر یروشلم(فلسطین )پر حملہ کرتا ہے اور یہودی مردوں کا قتل عام کرتا ہے۔ ہیکل سلیمانی کو بھی مسمار کردیتا ہے اور جو یہودی بچے،بوڑھے اور عورتیں بچ جاتے ہیں انھیں وہ اپنے ساتھ بابل شہر قیدی بنا کر لے آتا ہے۔ ۱۵۰ سال بعد فارس کے دور حکومت میں یہودیوں کو یروشلم لوٹنے کی اجازت ملتی ہے جہاں وہ دوبارہ سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرتے ہیں اور پھر سے اپنی سابقہ روایات پر زندگی گزارنا شروع کرتے ہیں۔ چار صدیاں گزرنے کے بعد بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں۔حضرت عیسیٰ کا نسب سلیمان بن داؤد تک پہنچتا ہے ۔آپ اپنا پیغام پہنچاتے ہیں لیکن بنی اسرائیل کے لوگ آپ کی مخالفت میں اتر جاتی ہے یہودی علماء آپ کی نبوت کے منکر ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے قتل کے درپے ہو گئے۔ بالآخر حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا لیا جاتا ہے لیکن یہودی یہ گمان کرتے ہیں کہ انھیں سولی پر چڑھا دیا گیا ہے۔سن ۷۰ عیسوی میں رومی بادشاہ ٹایٹس یہودیوں پر قہر بن کر نازل ہوتا ہے اور ایک بڑی آبادی کو قتل کر ڈالتا ہے کثیر تعداد میں یہودیوں کو قیدی بنا لیتا ہے جو بچ جاتے ہیں انھیں یروشلم سے جلا وطن کردیا جاتا ہے اور ہیکل سلیمانی کو بھی منہدم کردیتا ہے۔اس دن سے لے کر آج تک ہیکل سلیمانی پھر دوبارہ تعمیر نہیں ہوئی آج پھر یروشلم (فلسطین) میں وہ دوبارہ آباد ہو چکے ہیں ہیکل سلیمانی کا نقشہ بھی تیار شدہ ہے بس انتظار ہے تو اس موقع کا کب مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے اور ہیکل سلیمانی ثالث کا قیام جس کا وہ خواب صدیوں سے دیکھ رہے ہیں اسے انجام دے سکے ۔

Related posts

علامہ محمد انور شاہ کشمیری اور عربی زبان وادب 

Paigam Madre Watan

وہ ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان: مجدد الف ثانیؒ

Paigam Madre Watan

"گلدستۂ دینیات” تعارف و تبصرہ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar