Articles مضامین

کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے!

از قلم: محمد ذیشان علیمی بتھریاوی


بلا ارتیاب خدائے وحدہ لا شریک کے نزدیک پسندیدہ دین ” دین اسلام ” ہے۔ اس کی بارگاہ بے نیاز میں اسلام کے علاوہ تمام ادیان غیر مقبول اور غیر معتبر ہیں۔ مذہب اسلام اپنے اخلاقی ضوابط، فطری قوانین اور روحانی پاکیزگی کے سبب عالم کے جمیع مذاہب پر فائق و برتر ہے جس کی بنا پر ہر زمانے میں لوگ اسلامی تعلیمات، اس کے عطا کردہ قوانین اور انصاف پر مبنی حقوق سے متاثر ہو کر اسلام کے دامن سے وابستہ ہو کر اپنے آپ کو دائمی سعادت کا حقدار بناتے رہے ہیں، اس کے باوجود ہر دور میں کچھ ایسے غلیظ ذہنیت کے مالک افراد بھی پائے گئے ہیں جن سے اسلام کی ترقی اور اس کی کامیابی ہضم نہیں ہوئی اور جب بھی اسلام کی شبیہ کو داغ دار کرنے کا کوئی بھی موقع ان کے ہاتھ لگا تو انہوں نے اس موقع کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور اسلام کو بد نام کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی، ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے اس گھٹیا مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
بعض ناحق شناش اہل عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام ایک خونی مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو خوں خواری کا درس دیتا ہے نیز اسلام دنیا میں تلواروں کے زور سے پھیلا ہے، اگر اسلام کی نشر و اشاعت میں تلوار کا سہارا نہ لیا جاتا تو شاید اسلام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہی سمٹ کر رہ جاتا۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے اور یہ قول کس حد تک درست ہے ان شاء اللہ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد قاری پر منکشف ہو جائے گا اور شکوک و شبہات کے جو سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں وہ چھٹ جائیں گے، ساتھ ہی ساتھ یقین کا آفتاب اپنی
آب و تاب کے ساتھ چمکتا نظر آئے گا۔
قر آن و حدیث کا مطالعہ کرنے والے انصاف پسند افراد پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اسلام میں انسانی زندگی کی بڑی اہمیت ہے اور اسلام نے اس کی حفاظت پر کافی زور دیا ہے۔ اسلام میں ایک انسان کا ناحق قتل سارے انسانوں کا قتل ہے اور ایک انسان کی زندگی بچانا تمام انسانوں کو زندگی عطا کرنے کے مترادف ہے۔قر آن پاک میں ہے: ” ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کے تو گویااس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلا لیا نے اس نے گویاسب لوگوں کو جلالیا (کنز الایمان: سورہ مائدہ، آیت نمبر ۲۳)
قبل اسلام اہل عرب کا یہ دستور تھا کہ وہ بچیوں کو اپنی بدنامی اور ذلت و رسوائی کا باعث سمجھتے تھے جس کی وجہ سے وہ انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے لیکن جب اسلام آیا تو اس نے ان سفاک لوگوں کو اس انسانیت کش ظلم کا احساس دلایا اور انہیں اس جرم سے باز رہنے کی سخت تاکید فرمائی اور بیٹیوں کو وہ مقام عطا کیا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نظر نہیں آتی نیز بیٹیوں کو زمین کی پستی سے اٹھا کر عرش کی بلندیوں تک پہنچا دیا، اور ان ظالموں کو آگاہ کیا کہ کل قیامت کے دن ان سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہوگی، قر آن پاک میں ہے: ” اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائیگا، کس خطا پر ماری گئی” (کنز الایمان: سورہ تکویر، آیت نمبر ۹)
اسلام میں ناحق قتل کو ہلاکت کا سبب قرار دیا گیا ہے اور اس سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے، حدیث پاک میں ہے: ہلاک کرنے والی سات چیزوں سے بچو! اور ان میں کسی جان کو ناحق قتل کرنا بھی ہے۔ (سنن ابی داود)
اسلام میں دنیا کا ختم ہو جانا ایک مسلمان کے ظلما قتل ہونے سے زیادہ آسان ہے۔ حدیث پاک میں ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک دنیا کا زوال ایک مسلمان کے ناحق قتل سے زیادہ سہل ہے۔ (ابن ماجہ)
اسلام میں کسی معاہد کو قتل کرنے والے جنت تو در کنار جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے اگر چہ وہ معاہد غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے ہی محسوس کی جائے گی۔
اے کاش! دشمنان اسلام تعصب کے عینک کو اتار کر، عدل و انصاف کا پیکر بن کر بنظر عائر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتے بلکہ اسلام کے حقیقی معنی و مفہوم میں غور کر لیتے تو ان پر عیاں ہو جا تا کہ اسلام قتل و غارت گری کا مذہب نہیں بلکہ امن و شانتی کا مذہب ہے اور وہ اپنے متبعین کو زمین میں فساد مچانے اور دوسروں پر ظلم و ستم کرنے کی قطعا اجازت نہیں دیتا ہے بلکہ انہیں اس امر کا پابند بناتا ہے کہ وہ اپنے لیے امن پسندانہ زندگی کا انتخاب کریں اور دوسروں کے لیے بھی موقع فراہم کریں، نہ خود نقصان اٹھائیں اور نہ دوسروں کو پہنچائیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان فرمایا تو کفار مکہ جو آپ کو اپنے ما بین سب سے افضل تصور کرتے تھے، آپ کے حسن اخلاق اور پاکیزگی کی گواہی دیتے تھے، صادق و امین جیسے لقب سے پکارتے تھے، آپ کے جانی دشمن ہو گئے، آپ کو برابھلا کہنے لگے، آپ کے لیے دشواریاں پیدا کر دی گئیں، طائف کے میدان میں آپ کو لہولہان کر دیا گیا مگر جان کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا اور لوگ آہستہ آہستہ دین اسلام سے وابستہ ہونے لگے، جب کفار مکہ نے اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی دیکھی تو وہ تلملا اٹھے اور مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے لگے اور ان پر اس حد تک ظلم کیا کہ وہ اپنی جائداد،اموال، بیوی، بچوں اور وطن عزیز کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون سا عظیم لشکر تھا جن کی تلواروں سے مرعوب ہو کر لوگ دامن اسلام میں کشاں کشاں چلے آرہے تھے، زمانے کی لاکھ مخالفت کے باوجود اسلام میں داخل ہونے کو سعادت مندی تصور کرتے تھے، اسلام قبول کر لینے کے بعد ان کے لیے مرنا آسان تھا لیکن انہیں اسلام چھوڑ نا گوارا نہیں۔
میں کہتا ہوں کہ جس مذہب میں ایک بلی کے قتل کا سبب بنے کی صورت میں جہنم کی وعید سنادی گئی ہو اور کتے کی جان بچانے کے سبب جنت کی بشارت دی گئی ہو، چیونٹیوں تک کو مارنے سے روکا گیا ہو، جس مذہب میں انسان تو انسان جانوروں کے بھی حقوق کا خیال رکھا گیا ہو بھلا وہ مذہب کسی انسان کو ناحق قتل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے؟ یہ اسلام پرسراسر بہتان تراشی ہے جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
بعض دریدہ دہن حضرات لوگوں کے مابین یہ شورش پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے، تلوار سے نہیں پھیلا ہے اور نہ ہی وہ اپنا مذہب کسی پر مسلط کرتا ہے تو پھر اسلام میں جنگ کا حکم کیوں؟
شیخ ابو زہر ہ رحمہ اللہ اپنی کتاب ” نظریۃ الحرب فی الاسلام ” جس کا اردو ترجمہ ” اسلام میں دفاعی جنگ کے قوانین ” کے نام سے کیا گیا ہے، اسلام میں جنگ کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ” جنگوں سے متعلق قرآنی آیات اور سنت نبوی کے احکام پر غور کرنے والا یہ محسوس کر سکتا ہے کہ اسلام میں جنگ کی وجہ مخالف لوگوں پر مذہب اسلام کوتھوپنا نہیں ہے اور نہ ہی ان پر کوئی معاشرتی نظام لاگو کرنا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
جتنی جنگیں کیں ان کا مقصد صرف ظلم و زیادتی کو دور کرنا تھا۔
کتاب کے دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سامنے آنے والی زیادتیاں دو طرح کی تھیں: ایک یہ کہ دشمن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرتے تو آپ ان کا منہ توڑ جواب دیتے، دوسری زیادتی یہ تھی کہ دشمن مسلمانوں کو ان کے مذہب کے سلسلے میں گمراہ کرتے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ضروری تھا کہ فکر و عقیدے کی آزادی پر کی جانے والی اس زیادتی کو روکیں۔
مذکورہ بالا صورتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کسی پر اپنا مذہب مسلط نہیں کرتے اور نہ کسی کو مجبور کرتے لیکن آپ عقیدے کا دفاع کرتے کیوں کہ اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے جیسا کہ قر آن میں ہے: ”دین میں کوئی زبردستی نہیں کیوں کہ حق واضح ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے۔مذکورہ بالا تحریر سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام میں جنگ کا مقصد کسی کو اسلام پر مجبور کرنا اور اس پر اسلام کو تھو پنا نہیں بلکہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کا دفاع کرتا ہے۔ رہا سوال یہ کہ پھر اسلام اتنی کم مدت میں پوری دنیا کے اندر ہزاروں مخالفت کے باوجو د کیوں کر پھیل گیا؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام تلواروں کے زور سے نہیں بلکہ اپنے حسن اخلاق، گونا گوں خو ہوں، یکساں حقوق اور ان خصوصیات کی بنا پر پھیلا ہے جن کا وجود اس کے علاوہ دیگر ادیان میں بالکلیہ مفقود ہے اوراس پر کثیر آثار و واقعات شاہد عدل ہیں اور اس کی ایک لاجواب مثال فتح مکہ ہے
فتح مکہ کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے گالیاں دینے والے، برابھلا کہنے والے، راستے میں کاٹنے بچھانے والے، پتھروں سے زخمی کرنے والے، آپ کے پشت انور پر اونٹ کی اوجھڑی رکھنے والے، آپ کے قتل کی سازشیں کرنے والے اور آپ کے متبعین پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے والے مجرموں کی طرح لرزاں و ترساں سر جھکائے کھڑے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ آج ہماری گردنیں مار دی جائیں گی، ہماری عورتیں بیوہ ہو جائیں گی، ہمارے بچے یتیم ہو جائیں گے اور ہماری جائد اد پر قبضہ کر لیا جائے گا لیکن جب انہوں نے مصطفی رؤف الرحیم کی زبان فیض ترجمان سے یہ کلمات سنے کہ ” آج تم پر کوئی مواخذہ نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو تو ان مجرموں کی آنکھیں فرط ندامت سے اشکبار ہو گئیں اور خوشیوں کے آثار ان کے چہروں پر رونما ہونے لگے اور کفار مکہ کی زبانوں پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا خوبصورت نغمہ جاری ہو گیا، دشمنوں کے ساتھ اس طرح کا حسن سلوک یہ صرف اسلام ہی کا خاصہ ہے جس سے متاثر ہو کر لوگ دامن اسلام سے وابستہ ہونے پر مجبور ہو گئے۔
اخیراً میں عرض کرتا چلوں کہ دشمنان اسلام اسلام کو بد نام کرنے کے لیے جتنی بھی کوششیں کر لیں اور جو حربہ چاہیں استعمال کر لیں وہ کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ ذلت ورسوائی ان کا مقدر ہو گی، رب ذو المنن نے اسلام کی فطرت میں وہ لچک دی ہے کہ جتنا اسے دبایا جائے گا اتنا ہی وہ ابھرے گا، اسلام کا آفتاب کل بھی افق عالم پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگار ہا تھا، آج بھی جگمگا رہا ہے اور ان شاء اللہ صبح قیامت تک جگمگاتا رہے گا۔ بقول شاعر


رفعت کی منزلوں سے ہٹایا نہ جائے گا اونچاجو چڑھ گیا ہیگرایا نہ جائے گا
خوب رب کائنات نے روشن کیا جسے پھونکوں سے وہ چراغ بجھایانہ جائیگا

 

Related posts

تاب ِسخن (تعارف تبصرہ)

Paigam Madre Watan

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز

Paigam Madre Watan

آہ بابری مسجد! تجھے بچا نہ سکے 

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar