Articles مضامین

مطالعہ کتب کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں

محمد شفیق عالم مصباحی


      ہم ایک ایسے دور میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں جسے انفارمیشن کا دور کہا جاتا ہے ایسے دور میں دنیا سے ناواقف ہونا زندگی سے نا امید ہونا ہے ایک دور ایسا تھا جس میں بہت زیادہ کتابوں کے فراوانی نہیں تھیں، لوگ مطالعہ کے لیے ترستے تھے کبھی تو ایسا ہوا کہ مطالعہ کے شوقین افراد اپنی ساری دولت بیچ کر اپنی لائبریریاں قائم کیں، اور دن رات مطالعہ کر کے اپنے علم کی پیاس بجھائی ،اور جب ہم موجودہ دور کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے اتی ہے کہ اس دور میں تحصیل علم کے ذرائع آسان ہیں۔ اور کتابوں کی بھرمار ہے، معلومات کا انبار ہے، بڑی اسانی سے ہمیں کتابیں مل سکتی ہیں پھر بھی ہم مطالعہ نہیں کرتے۔
  علم خزانہ ہے جسے چرایا نہیں جا سکتا اور جس کے حصول کے لیے مطالعہ کتب بہت ضروری ہے کتابوں کے مطالعہ سے عقل و فہم اور شعور پیدا ہوتا ہے جس سے انسان عقلمند اور باشعور بنتا ہے باشعور انسان کو ہمیشہ عزت اور عظمت ملتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کہاں بولنا ہے؟ اور کہاں نہیں بولنا ہے ؟ اور کیا بولنا ہے اور کیا نہیں؟  لیکن بے شعور اور بے عقل انسان کو اکثر ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے نہیں معلوم کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں اور کیسے بولنا ہے؟ کتابوں کے مطالعے سے نصیحتیں اور عبرتیں ملتی ہیں جن سے انسان اپنی زندگی کو درست کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے اور اس میں توازن قائم رکھتا ہے۔ مطالعہ کرنے والے کو حکمت و دانائی کی دولت حاصل ہوتی ہے اور اپنا ہر کام حکمت و دانائی اسے انجام دیتا ہے، کتابیں غور و فکر کا ملکہ بڑھاتی ہیں۔جن سے وہ کائنات کا مطالعہ کرتا ہے جو اس کو حقیقت و معرفت کی طرف لے جاتا ہے اور بہت سارے شبہات کا ازالہ کر کے دلوں میں یقین پیدا کرتی ہیں۔ یقینا یہ غور و فکر کرنے والے کے لیے بڑا لطف کا سبب ہیں، کتابیں اندھیرے میں بھٹکنے والوں کے لیے روشن چراغ ہوتی ہیں جو ان کی زندگی کی راہوں کو روشن کرتی ہیں۔
   الحاصل مطالعہ کتب صاحب مطالعہ کے دل و دماغ اور فکر و نظر کو جلا بخش کر اس کو طمانیت کی دولت سے شرف یاب کرتا ہے۔ اور عدم مطالعہ یعنی مطالعہ نہ کرنے سے تھاٹس پروسیس یعنی تھاٹس آنا بند ہو جاتے ہیں اور زبان بند ہو جاتی ہے اور اس سے دل و دماغ فکر و نظر میں زنگ لگ جاتی ہیں اس میں وسعت کم ہو جاتی ہے، طبیعت پر روگ لگ جاتا ہے، دل میں جمود طاری ہو جاتا ہے، اور عقل میں پردہ پڑ جاتا ہے اور فطرت کی موت ہو جاتی ہے
  دنیا کے مختلف علوم و معارف اور اسرار و رموز اگر ہمیں کسی جگہ سے دستیاب ہو سکتے ہیں تو وہ کتاب ہے،جس میں صاحب مطالعہ محسوس شکل میں بڑی بڑی شخصیات کو پڑھ رہااور سن رہا ہوتا ہے۔بہت سے لوگوں سے ملاقات کا تو شرف حاصل نہیں ہوتا ہے لیکن ان کی کتابوں کے ذریعے ان کے تجربات،مشاہدات اور علوم سے براہ راست استفادہ کا موقع ملتا ہے ۔ یہ اس لیے ہے کہ اب سارے علوم کتابوں میں قید ہونے لگے ہیں۔ اور ہمارے نبی محمّد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہمیں ہدایت دی ہےاور علم و حکمت کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا امام حاکم بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ_” علم کتاب میں قید کرو” یعنی لکھا کرو!
   اسی بنا پر علماء و مفکرین کتاب کو کنز اور خزانہ قرار دیتے ہیں۔ حافظ ابن جوزی فرماتے ہیں: اگر مجھے کوئی نئی کتاب ملتی ہے تو گویا مجھے خزانہ حاصل ہوگیا ۔
  کتاب قاری کو اپنے دور کے مصنفین کے افکار و نظریات اور احوال زمانہ سے آگاہ رکھتی ہیں، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے افراد کی مضبوط کھیب تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جہاں قاری کتب کے ذریعہ حالات حاضرہ سے آگاہی حاصل کرتا ہے وہاں کچھ کتب اسے دور قدیم کے نامور ائمہ، محدثین، فلاسفہ، حکما اور مفکرین سے بھی فیض یاب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں یعنی دور جدید میں رہتے ہوئے اگر کوئی دور قدیم تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کا واحد ذریعہ کتاب ہے۔
   چنانچہ امام ابن جوزی فرماتے ہیں: لوگ جتنا علم اپنے اسلاف کی کتابوں میں پاتے ہیں اتنا اپنے اساتذہ و مشائخ سے نہیں حاصل کر سکتے ۔ہمارے اسلاف مطالعہ کتب کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے، بعض ایسے شواہد بھی تاریخ میں ملتے ہیں کہ کتابوں پر دسترس حاصل کرنے کے ارادے سے رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کو قبول کر لیتے تھے، اسی طرح لڑکیوں کے جہیز میں کتب خانے کے ملنے کے بھی بہت سارے نظیر و شواہد تاریخ میں ملتے ہیں۔ چنانچہ اسحاق راہویہ نے سلیمان بن عبداللہ کی بیٹی سے شادی اس لیے کی تھی کہ اس شادی کے ذریعے انہیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی جملہ تصانیف پر مشتمل کتب خانہ مل جانا تھا۔ امام محمد جوامام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کےعظیم شاگردوں میں سے ہیں، ان کی سیرت کا مطالعہ کر کے ایک انگریز نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے چھوٹے محمد کا یہ حال ہے، تو بڑے محمد علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا حال ہوگا ! امام احمد کے مطالعہ کا عالم یہ تھا کہ آپ پوری پوری رات مطالعہ کتب میں گزار دیتے تھے، جب لوگوں نے آپ سے اس مشقت اور مجاہدہ کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا میں کیسے سو جاؤں؟ جبکہ عام مسلمان بے فکر ہو کر اس وجہ سے سو جاتے ہیں کہ جب انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوگا تو اس کا جواب محمد بن حسین سے مل جائے گا یعنی آپ کو امت مسلمہ کے مسائل کی اس قدر فکر رہتی تھی کہ ساری رات کتابوں میں ان کے مسائل کا حل تلاش کرتے اور ڈھونڈتے گزاردیتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ لوگ ان پر اعتماد کر کے سو جاتے ہیں۔ آج علماکرام اور طلبہ عظام اور تمام ذمہ داران کو بھی امام محمد علیہ الرحمۃ کی اس فکر کو اپنا کر کتابوں کا خوب خوب مطالعہ کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ اپنے علم کو ٹھوس کرنا چاہیے۔
   مطالعہ کتب سے قوت حافظہ کو تقویت ملتی ہے، چنانچہ امام بخاری سے حافظہ کی دوا کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمانے لگے: کہ_ ” _حافظہ کے لیے آدمی کے انہماک، دائمی نظر اور مطالعہ سے بہتر کوئی چیز میرے علم میں نہیں” ۔_
    یوں تو مطالعہ سب کے لیے ہے لیکن عالم کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے ۔____ارسطو سے پوچھا گیا کہ آپ کسی شخص کو جاننے کے لیے کیا پیمانہ استعمال کرتے ہیں؟_ _انہوں نے کہا کہ میں اس سے پوچھتا ہوں کہ تو نے کتنی کتابیں پڑھی اور کیا کیا پڑھا.__ ایک قدیم رومی ادیب اور عظیم فلسفی کا قول ہے ،” _کتابوں کے بغیر گھر ایسے ہی ہیں جیسے جسم بغیر روح ہوتا ہے ۔_
  باکون نامی فلسفی کہتا ہے:  کہ_” _اگر آپ تنہائی میں انس، خلوت میں لذت اور محفل میں زینت کا طریقہ جاننا چاہتے ہو تو کتاب سے پوچھو!_
   عباس العقاد _کہتے ہیں:  کہ میرے مربی و مرشد کہتے ہیں کہ وہ پڑھیں جو آپ کو نفع دے لیکن میں کہتا ہوں کہ جو پڑھتے ہواس سے فائدہ حاصل کرو__

Related posts

देश की इतनी चिंता करने वाला संगठन फासिस्ट नहीं हो सकता

Paigam Madre Watan

अल्लाह और उसके रसूल का दुश्मन मुसलमानों का हमदर्द कैसे

Paigam Madre Watan

ماسٹر احمد حسینؒ : کچھ یادیں کچھ باتیں

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar