Articles مضامین

انسانی زندگی پر فکری سحر انگیزیوں کے اثرات 

از  : مولانا محمد عابد احمد جامعی


اللہ رب العزت نے خلقت انسانی کو سوچ و بچار اور فہم و ادراک کی نعمت سے مالا مال فرمایا ہے ۔ یہ وہ نعمت ہے جو انسان کو تمام مخلوقات میں امتیازی مقام عطا کرتی ہے ۔ سوچ ھی پر اس کی پوری زندگی کا دارومدار ہے  ۔ ہر شخص کی زندگی میں سوچ کا اہم کردار ہے ۔ جیسی سوچ ہوگی ویسا نتیجہ بر آمد ہوگا ۔ سوچ اگر پاک ہے تو عمل بھی پاکیزہ اور مقبول ہے ۔یوں سمجھ لیں کہ پوری زندگی سوچ و فکر پر مبنی ہے ۔ ایک سوچ انسان کو  عزت و رفعت عطا کر سکتی ہے تو صرف ایک سوچ ذلت و خواری کے قعر عمیق میں ڈھکیل سکتی ہے ۔ وہ انسان کے باطن کی عکاس ہوا کرتی ہے کردار و عمل سے وہی ظاہر ہوگا جو دل و دماغ میں گردش کر رہا ہے ۔ آج دنیا میں جو آسائشیں اور جدید ٹکنالوجی آلات نظر آرہے ہیں وہ سوچ و فکر ہی کی بدولت ہے ۔انسان کو زمین سے چاند تک کی رسائی دینے والی شے سوچ ہے ۔موجودہ دور میں جتنی تبدیلیاں اور جدت طرازیاں رونما ہورہی ہیں وہ سوچ و فکر کا ثمرہ ہے ۔آج اگر انسان  زمین سے اٹھ کر ہوا میں سیر کررہا ہے ۔ گھنٹوں کا سفر منٹوں اور سالہا سال کی مسافت چند ایام میں طے کررہاہے تو یہ  اس نعمت الہی ‘ سوچ و فکر ‘ کا صدقہ ہے ۔گویا کہ ایک کامیاب زندگی میں سوچ کا بڑا دخل ہے ۔ سقراط  کہتا ہے کہ انسان کا سوچنا خود روح سے گفتگو کرنا ہے ۔ سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی زندگی سنوار سکتا ہے تو کوئی بگاڑ سکتا ہے ۔اگر انسان مثبت سوچ کا مالک ہے تو کسی بھی پریشان کن مرحلے سے گذر سکتا ہے ۔ہر مصیبت کو خندہ پیشانی کے ساتھ فیس کرسکتا ہے ۔ اس کے بر عکس منفی سوچ انتہائی مہلک مرض ہے جو فلاح و بہبود اور خیر سگالی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ مثبت فکر وہ راستہ یا سیڑھی ہے جو منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے اور منفی سوچ کا انجام محض ناکامی ہے ۔ اگر انسان مثبت سوچ و فکر کا حامل ہے تو سخت حالات میں بھی سنبھل سکتا ہے ۔ زندگی کی جد و جہد میں آنے والی خارزار وادیوں کو عبور کرسکتا ہے ۔ ناکامی کی بڑی سے بڑی دیوار کو ہٹاکر کامیابی کی راہ تلاش کرسکتا ہے ۔ کسی بھی شخصیت کو سنوارنے اور نکھارنے میں مثبت سوچ کا اہم کردار ہے ۔ یہی داعیہ ہے کہ شریعت اسلامیہ میں فکر و نظر کی صوابدید کا انتہائی اہتمام فرمایا گیا ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ انسان کی جہالت جانچنے کے لیے اتنا  جاننا کافی ہے کہ اس نے خود کو کتنا پہچانا ہے ۔ اسے وہ عظیم طاقت و قوت سے نوازا گیا ہے جو اسے تمام مخلوقات سے افضل قرار دیتاہے اور وہ ‘ غور و فکر کی صلاحیت ‘  ہے ۔ انسان کی اصل قدر و منزلت یہ ہے کہ وہ خود بھی دینی و دنیاوی سسعادتوں سے بہراور ہوسکتا ہے اور دوسرے کے لیے بھی ان راستوں کا قائد و راہنما بن سکتاہے ۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب  اس کا نظریہ اثباتی ہو ۔ ذہن نشین کرلیں اگر آپ منفی نظر و فکر کے  عادی ہیں تو آپ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے ۔اس لیے کہ فکر سے آپ کے باطن اور کردار و عمل کی پہچان ہوتی ہے ۔ کسی انسان کی شخصیت کو نکھارنے میں فکرو نظر کا اہم رول ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ  مثبت و منفی اذہان کے درمیان فرق کو جانچنے کے لیے اسپیریمنٹ کیا گیا اس طور پر کہ استاد نے آدھا گلاس پانی بھر کر ٹیبل پر رکھ دیا اور ایک ایک طالب علم سے پوچھا کہ گلاس میں کتنا پانی ہے ۔ کچھ بچوں نے کہا آدھا گلاس خالی ہے ۔ اور کچھ نے کہا آدھا گلاس بھرا ہوا ہے ۔ ماہرین نفسیات بیان کرتے ہیں کہ جنہوں یہ کہا کہ ‘ آدھا گلاس خالی ہے ‘ وہ منفی ذہن کے مالک ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے منفی پہلو بھی پر غور کیا ۔ اور جنہوں ہے یہ کہا کہ ‘ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے ‘ وہ مثبت ذہن و فکر کے مالک ہیں کیوں کہ انہوں نے مثبت پہلو پر غور کیا ۔ تو آپ نے دیکھا کہ منفی اور مثبت پہلو کس قدر انسان کے کردار و شخصیت پر اثر انداز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ روایتوں میں آیا ہے کہ انسان جوں ہی کسی نیک کام کو کرنے کا سوچتا ہے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جب وہ کام کر لیتا ہے تو دوگنا نیکی لکھ دی جاتی ہے ۔  امام بخاری سمیت کثیر محدثین نے اپنی کتابوں میں قارئین حدیث کے لیے ابتداء ایک حدیث ذکر فرمائی ہے ۔ جس کا مضمون کچھ یوں ہے کہ ‘ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ‘ یعنی اگر آپ کی سوچ  پاک ہے تو عمل بھی پاک ہے ۔اور سوچ اچھی نہیں تو عمل بھی قابلِ اعتبار نہیں ۔ پتہ یہ چلا کہ اگر انسان کوئی کام یا کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے تو پہلے اپنی سوچ کو اچھا اور مثبت بناۓ ۔ اس لیے کہ ہر کوئی اپنی سوچ کے مطابق پھل پاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ باب العلم حضرت مولی علی کا فرمان جلی ہے کہ انسان اعلی اور اچھی فکر و نظر کی بنیاد پر ان انعامات کا حقدار بن جاتا ہے جن کا اعمال کی بنیاد پر نہیں بن سکتا ۔ وجہ یہ ہے کہ ظاہری عمل میں ریا کی گنجائش ہے مگر باطنی سوچ و فکر میں نہیں ۔ اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جس جس نے اپنے افکار و نظریات پر زور دیا تو ایسی انوکھی چیزیں ایجاد کی کہ دنیا انگشت بدنداں ہے ۔ اور وہ تمام موجدین مثبت افکار و نظریات کے حامل و قائل تھے ۔مثال کے طور پر نیوٹن کو دیکھیے جس نے اپنی مثبت سوچ کا استعمال کر انتہائی محنت کے بعد آخر کار زمین کی کشش ثقل کی عظیم حقیقت دریافت کر کے اولیت کا سہرا اپنے سر کر لیا ۔اسی طرح  دنیا میں جتنی بھی ایجادات کا ہم مشاہدہ کر رہیں ہیں وہ تمام مثبت ذہن و فکر کے حامل فلاسفروں و سائینسدانوں کے کمالات ہیں ۔ایک مشہور سائکولوجسٹ ولیم جیمز نے ‘ کسی کی شخصیت پر اس کی سوچ کتنی اثر انداز ہے ‘ اس کے متعلق ذکر کیا ہے کہ ہماری سوچ ہی آگے چل کر  شعور کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور پھر یہی شعور حقیقت کا جامہ پہن لیتا ہے  ۔ انسان چاہے تو سوچ سے حقیقت کو بھی بدل سکتا ہے ۔ یہ دنیا ہماری نظر میں ایک گردش کرنے والی شے  کے سوا کچھ بھی نہیں ۔یعنی جیسی ہماری سوچ ہوگی دنیا ہمیں ویسی نظر آۓ گی ۔ مشہور فلاسفر سقراط کے متعلق ایک واقعہ ذکر کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے سقراط سے پوچھا ” بتائیں میرا مستقبل کیسا ہوگا ؟ سقراط نے کاغذ کا ٹکڑا اسے دے کر کہا ” اپنے افکار و نظریات اس پر قلمبند کردو ” اس شخص نے اپنے خیالات کو تحریر کر سقراط کو دیا تو سقراط بولا پیش نظر تحریر کے مطابق تمہارا مستقبل ایسا ایسا ہوگا ۔
قارئین اکرام ! اس پوری گفتگو سے واضح ہؤا کہ انسان کی شخصیت پر اس کی سوچ و فکر کافی اثر انداز ہوتی ہے ۔لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنی سوچ کو اثبات کا لبادہ دیں ۔ تاکہ ہمارا مستقبل بھی سنہرا اور چمکدار ہو۔ اور اپنے مثبت افکار و نظریات کا استعمال کر پوری دنیا کے لیے سودمند ثابت ہوں ۔ہمیشہ اپنی سوچ کو پاکیزہ اور مثبت رکھیں تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہوجاۓ کیوں کہ وہ دلوں میں اچانک پیدا ہونے والے خطرات سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ہر آن خالق حقیقی کی رضا کا جویا رہے ۔

Related posts

غزہ نے فلسطین کو عقوبت گاہ اوردنیا کولاچار بنادیا

Paigam Madre Watan

خدمت قرآن مجید: مملکت سعودی عرب کا طرۂ امتیاز (کل نیپال مسابقہ حفظ قرآن مجید کے تناظر میں)

Paigam Madre Watan

تاب ِسخن (تعارف تبصرہ)

Paigam Madre Watan

Leave a Comment