Articles مضامین

حضرت عیسیٰ ؑکے نام پر خرافات کیوں ؟

سید شاہ واصف حسن واعظی


مکرمی!
کرسمس پوری دنیا میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ 25 دسمبر کو یسوع مسیح کی پیدائش کے موقع پر منایا جاتا ہے۔کرسمس عیسائیوں کے ابتدائی تہواروں میں شامل نہیں تھا۔ مسیح کی پیدائش کی صحیح تاریخ ان کی موت کے تقریباً دو صدیوں بعد متفقہ طور پر طے کی گئی، کیونکہ کیتھولک چرچ نے اپنی روایت قائم کرنا شروع کی۔ برطانیہ میں کرسمس کا موسم روایتی طور پر کرسمس کے دن کے بعد بارہ دنوں تک چلتا ہے۔ بہت سے ممالک میں، دفاتر، اسکول اور سماجی برادری کرسمس کے دن سے کئی ہفتوں پہلے کرسمس پارٹیوں اور رقصوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ کرسمس کے مقابلے، جن میں مسیح کی پیدائش کی کہانی کو دوبارہ بیان کرنا شامل ہے، لاطینی امریکہ میں عام ہے۔
اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کرسمس کی رسمیں بت پرستوں کے مذہبی تہواروں سے آئی ہیں۔ بائبل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی ایسے طریقے سے خدا کی عبادت کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا تو ہم اُسے ناراض کرتے ہیں۔اسی طرح ہم کرسمس اور دیگر مشرکانہ عیدیں منانے والوں سے پوچھتے ہیںکہ اگر سیکولرازم کے علمبرداروں نے تمہیں ان حرکتوں پر مجبور نہیں کیا تو کیا تم خود اسلام اور ایمان سے بدگمان ہوگئے ہو اور کلمہ پڑھنے پر تمہیں کوئی پچھتاوا ہے یا اسلام کے کسی حکم میں تمہیں کوئی شک ہے؟ اگر بات یہ ہے کہ تم اسلام اور ایمان سے جاہل ہو تو اس کے علمبردار کیسے بنے بیٹھے ہو اور اگر اسلام وایمان میں تمہیں شک ہے تو آخر کونسی چیز تمہارے عیسائیت یا ہندومت اپنانے میں رکاوٹ ہے سوائے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے؟
کچھ لوگ کرسمس اور دیوالی منانے کو رواداری قرار دیتے ہوئے اس کو سندِ جواز دینے اور خود کو وسیع القلب اور ہر مذہب اور عقیدے کے لوگوں کیلئے قابلِ قبول بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، ایسے لوگوں سے ہم بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ اس طرح کی رواداری تم نے قرآن کی کس آیت اور رسول ؐ کی سیرت وسنت اور حدیث کی کس بات سے سیکھی ہے؟ اور کیا تم سال میں صرف ایک دفعہ کرسمس کا کیک کاٹ کر رواداری کا ثبوت دو گے یا آنے والے دنوں میں ہر وقت صلیب گلے میں لٹکا کر پوری زندگی میں رودار رہو گے؟ سال میں ایک دن کی رواداری کو کوئی جاہل ہی رواداری شمار کرے گا۔ ساتھ ہی یہ سوال بھی بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قسم کی رواداری صرف مسلمانوں پر ہی لازم ہے یا عیسائیوں اور ہندؤوں سے بھی اس کی توقع کی جاسکتی ہے؟
کیا تم کسی ایسے ہندو کی یا عیسائی کی مثال پیش کرسکو گے جس نے مسلمانوں کے ساتھ کبھی عیدالاضحیٰ کے دن قربانی کی ہو؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیا اپنے اس عمل کو رواداری کا نام دے کر تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی کہ ’’ذہنی غلامی‘‘ اور ایمان و ضمیر کے سودے کو رواداری کا نام دیتے ہو۔

Related posts

جہیز کی لعنت اور ہمارا معاشرہ

Paigam Madre Watan

حماس کا حملہ اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ہمارا موقف

Paigam Madre Watan

مدارس کے طلبا کیلئے شاہین گروپ آ ف انسٹی ٹیوشنس اور ڈاکٹر عبد القدیر و مدرسہ پلس اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا اہم مرکز

Paigam Madre Watan

Leave a Comment