Articles مضامین

بابا نصیب اللہ ،رحمہ اللہ کی یادیں

تحریر: شعیب الرحمن عزیز، نئی دہلی


آج بابا کا ایک پرانا پاسپورٹ سائز فوٹو میرے ہاتھ لگا میں سوچا کیوں نہ بابا کی زندگی کی یادوں کو تحریر ی شکل دوں ۔ہمارے دیہی زبان میں دادا کو بابا کہہ کر پکارتے ہیں اور بہت سی جگہوں یعنی پاکستان وغیرہ میں بابا والد کو بھی کہا جاتاہے ۔ بابا کی تاریخ پیدائش صحیح معلوم نہیں لیکن اندازے کے مطابق بابا کی تاریخ پیدائش 1930 ءکے آس پاس ہے ۔والد محترم سے جب میں نے بابا کی تاریخ پیدائش معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ ایک بار بابا جامعہ سلفیہ بنارس گئے تھے ، بابا شیخ الجامعہ مرحوم سے بات چیت کر رہے تھے تو باتوں باتوں میں شیخ الجامعہ مرحوم نے بتایا کہ میری تاریخ پیدائش 1927 ءہے تو اس پر بابا نے کہا کہ میں آپ سے عمر میں چھوٹا ہوں ۔ بابا 26جنوری 2015 کو اس دار فانی سے دار بقا کو تشریف لے گئے ۔ بابا کے پانچ بھائی تھے ۔فہیم اللہ ، عظیم اللہ ،نصیب اللہ، حفیظ اللہ ، رفیع اللہ ۔بابا نصیب اللہ کے والد جان محمد، رحمہ اللہ نے دو شادیاں کی تھیں اوربابا فہیم اللہ اور بابا عظیم اللہ دوسری ماں سے تھے۔ بابا نصیب اللہ کے بڑے بھائی اور مولانا عبد الباری ، رحمہ اللہ (اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ) کے والد باباعظیم اللہ کا انتقال بہت پہلے ہوا ہے ان کی تاریخ وفات مجھے معلوم نہیں، اسی طرح بابا فہیم اللہ کی تاریخ وفات بھی معلوم نہیں ۔ ان کے بعد بابا حفیظ اللہ کا انتقال بابا نصیب اللہ رحمہ اللہ کے انتقال کے ٹھیک دو ماہ پہلے یعنی نومبر 2014 میں ہوا ۔ ان کے انتقال پر بابا پھوٹ پھوٹ کر روئے اس موقع پر میں خود بھی وہاں موجود تھا ۔ چونکہ بابا نصیب اللہ ، رحمہ اللہ کی طبیعت آخری چار سالوں میں خراب تھی کمزوری کے باعث لاٹھی کے سہارے سے چلتے تھے ۔ بابا حفیظ اللہ کے انتقال کے بعد بابا نصیب اللہ کا انتقال 26جنوری 2015 کو نماز مغرب سے پہلے ہوا ، اور 27 جنوری 2015 کو موضع ٹکریا کے آبائی قبر ستان میں تدفین عمل میں آئی ۔ اللہ تعالی مرحومین کی خطا ﺅں کو معاف فرما کر انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام سے نوازے ۔ا ٓمین۔ بابا رفیع اللہ ابھی با حیات ہیں اور کھیتی باڑی میں مصروف رہ کر اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔
بابا نصیب اللہ نے دو شادیاں کی تھیں ۔ پہلی جید عالم دین اور مد رسہ عربیہ مفتاح العلوم ، ٹکریا کے بانی مولانا شکر اللہ ، رحمہ اللہ (اللہ تعالی ان کی خطاﺅں کو معاف کرے) کی چھوٹی بہن سے ہوئی ۔ جن کے بطن سے والد محترم عزیز الرحمن سلفی کی پیدائش ہوئی ۔ والد گرامی صرف چار سال دوماہ کے تھے کہ دادی یعنی والد محترم کی والدہ کا جنوری 1956 ءمیں انتقال ہو گیا۔ والد محترم بابا نصیب اللہ کی اکلوتی اولاد تھے ،جیسا کہ والد محترم نے بتایا پیدائشیں ضرور ہوئیں لیکن وہ اولادیں با حیات نہ رہیں۔ بابا نصیب اللہ کی شریک حیات یعنی والد گرامی کی والدہ کے انتقال کے بعد والد محترم کی پرورش بابا نصیب اللہ کے والدین نے کی،اور انہوں نے ان سے بے حد شفقت کا برتاﺅ کیا۔ بابا نصیب اللہ کے والد جان محمد کاانتقال سن 1967 ءمیں ہوا، اور بابا کی والدہ کا انتقال سن 1986ءمیں ہوا ۔ بابا نصیب اللہ کی دوسری شادی سن 1669 ءکے آس پاس موضع ترینا میں ہوئی جو کہ ایک بیوہ خاتون تھیں ۔ ان کی پہلی شادی کہاں اور کس سے ہوئی تھی یہ معلوم نہیں لیکن ان کے بطن سے بابا کی شادی سے پہلے دو اولادیں ایک لڑکی ایک لڑکا تھے ۔ یہ شادی مصلحتا کی گئی تھی چونکہ دہلی سے گاﺅں واپس آنے کے بعد بابا نصیب اللہ رحمہ اللہ کا پیشہ کھیتی باڑی تھا اور کھیتوں میں دن بھر کام کرتے ہوئے کھانا پانی فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا تھااسی لئے یہ شادی کی گئی ۔ بابا کے جڑ سے دوسری اہلیہ سے کوئی اولاد نہ ہوئی اور ان کا انتقال سن2002 ءمیں ہوا ۔ مرحومہ اپنے آخری ایام میں قوت سماعت سے محروم ہو گئیں تھیں، ضعیفی کی وجہ سے کچھ ٹھیک سے یاد نہ رہتا تھالیکن کبھی نماز یںنہ چھوڑیں بسااوقات ایک وقت کی نماز دو دو بار ادا کرتیں ۔ بابا نصیب اللہ ، رحمہ اللہ کی خوب خدمتیں کیں ۔اللہ ان کی لغزشوں کو معاف فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام دے ۔ آمین
بابا نصیب اللہ رحمہ اللہ روزی روٹی کےلئے دہلی میں 15 سال کی عمر سے تھے ۔ اور وہاں لوہے وغیرہ کا دھندا کر تے تھے ، اور کچھ دنوں تک دہلی کے کسی مکتب میں بچوں کو تعلیم بھی دی ۔ بابا کی زبانی میں نے سنا کہ سن 1947ءمیں دہلی میں قیام کے دوران موجودہ گیتا کالونی کے کھریجی علاقے میں مسلمان جان کر بابا پر ایک انگریز نے تلوار سے حملہ کر دیا تھا لیکن بر وقت گردن جھکا لینے سے ان کی جان بچ گئی اور وہاں سے بھاگ پرانے قلعے میں جا پہونچے اور جان بچائی ۔ بابانے کچھ تعلیم حاصل کی تھی یا نہیں لیکن اردو اور قرآن مجید اچھے انداز میں پڑھتے تھے ۔ نیک سیرت ہونے کا یہ عالم تھا کہ بڑھاپے کے دور میں نماز فجر با جماعت کبھی نہ چھوٹی ،پہلے خود اٹھتے پھر چھوٹے بھائی بابا رفیع اللہ کو آواز لگا کر جگاتے اور پھر کچھ دور موجود درمیانے بھائی بابا حفیظ اللہ کے گھر آواز لگا کر انہیں جگاتے اور تینوں بھائی ایک ساتھ مسجد میں جا کر فجر کی نماز با جماعت ادا کرتے ۔ بابا نصیب اللہ کو قرب جوار کے لوگ ’ملا جی ‘ کہہ کر پکارتے تھے ۔ بابا کے دعاﺅں میں اللہ تعالی نے اس قدر تاثیر دی تھی کہ جب آدمی ہر ڈاکٹر سے علاج کرا کر تھک ہار جاتا تب بابا کے پاس دعاکرانے کے لئے آتا اور اپنی باتیں بتاتا کہ فلاں فلاں ڈاکٹر سے علاج کرانے کے بعد کچھ فائدہ نظر نہیں آرہا ہے ، بابا پانی یا بسکٹ میں دعا کر کے دیتے اور ڈاکٹروں کی طرح دو یا تین بار دعا کرنے کےلئے بلاتے ۔ دو تین بار دعا کرانے کے بعد وہ مریض شفایاب ہو جاتا ۔ بابا اپنے روٹین کے حساب سے عصر سے مغرب تک ہی دعا کرتے اس کے بعد اگر کوئی آتا تو اسے واپس کر دیتے اور دوسرے دن عصر سے مغرب کے درمیان آنے کو کہتے ۔
بابا کے قرآن مجید کی تلاو ت کا یہ عالم تھا کہ چار سے پانچ دنوں میں ایک بار قرآن ختم کرتے تھے چونکہ ہم لوگ جب جوانی کے عمر کو پہونچے تو بابا کو کھیتی باڑی کے کام سے چھٹی دے دی اور صرف وہ گھر پر ہی رہتے تھے اورکھیتوں میں سیر کو جاتے ، کبھی کبھار مچھلی کے شکار کےلئے دور دراز تالابوں میں کٹیا لگانے چلے جاتے ،اسلئے ان کے پاس فرصت کے ایام تھے جس کی وجہ سے تلاوت قرآن پاک کثرت سے کرتے تھے ۔
جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ بابا آواخر کے چار سالوں میں کافی کمزور ہوچکے تھے اور لاٹھی کے سہارے چلتے تھے لیکن مسجد میں باجماعت نماز کبھی نہ چھوڑی اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کےلئے گاﺅں کی جامع مسجد میں تشریف لے جاتے تھے ۔ مجھے دیکھ کر کبھی کبھی ڈر لگتا تھا کہ کہیں راستے میں گر نہ جائیں لیکن اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ ہوتا ہے ایسا کبھی نہ ہوا اور جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد گاﺅں کے ہوٹل میں چائے پیتے پھر گھر واپس آتے ۔ بابا کے نما ز سے شغف کا یہ عالم کہ میں نے اس وقت دیکھا جب ان کے انتقال کے کچھ گھنٹوں پہلے انہوں نے ظہر کی اذان سنی، خود سے نماز پڑھی ،انتقال کے تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے عصر کا وقت تھا اور اذان بھی ہو چکی تھی باباکو ٹھیک طریقے سے ہوش نہ تھا لیکن میں نے کہا ”بابا اذان ہو چکی ہے نماز پڑھ لیں“ انہوں نے لیٹے لیٹے اشاروں سے نماز عصر ادا کی ۔ نماز ادا کرنے کے بعد بے چینی بڑھی ،ماہ جنوری کی ٹھنڈیوں میں بھی صرف چادر اوڑھ رکھی تھی لیکن چادر میں بھی کہتے کہ بہت تیز گرمی لگ رہی ہے اور چادر کو ہٹا دیتے اور پھر ان پر نیند جیسی کیفیت طاری ہوگئی ۔ میں اس وقت بابا کے سرہانے کھڑا تھا ، لیکن ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ بابا اس دارفانی سے داربقا کو تشریف لے جانے والے ہیں کیونکہ اس طرح کی طبیعت چار سالوں میں کئی بار خراب ہو ئی تھی اور پھر ٹھیک ہو کر لاٹھی کے سہارے مسجدوں تک آنے جانے لگتے ۔ بہرحال نیند کی کیفیت میں ہی کبھی اس کروٹ ہوتے کبھی ا’س کروٹ ، لیکن ایک دفعہ کروٹ بدلنے کے بعد دوبارہ ا ن میں اتنی سکت نہ رہی کہ دوبارہ دوسری کروٹ بدل سکیں ۔ میں اس خیال میں تھا کہ بابا کو نیند آ گئی ہے اور اب انہیں کچھ آرام ہے لیکن ان کی روح قبض ہو چکی تھی ۔ کئی لوگوں نے انہیں سیدھا کرنے کو کہا لیکن میں یہ کہہ کر ڈانٹ دیا کہ نہیں ابھی انہیں اسی طرح آرام ہے اور انہیں سونے دیا جائے ،لیکن کچھ لوگوں نے ان کی دل کی دھڑکنوں سے پتہ لگا لیا کہ بابا اب نہیں رہے ۔ انا للہ انا الیہ راجعون ۔
میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کی ان کی خطائیں در گزر فرما کر ان کے نیک اعمال کو قبولیت کا درجہ دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔ آمین۔ 

Related posts

ہندوستان کی کثیر آبادی کو درپیش مسائل

Paigam Madre Watan

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز

Paigam Madre Watan

جہیز کی لعنت اور ہمارا معاشرہ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment