Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

ایک سازش

تصنیف:مولانا عزیزالرحمن سلفی

ماخوذ:رشحات قلم (مطبوع)


ایک بار مجھے سراج العلوم جھنڈا نگر بھی امتحان لینے کے لیے بلایاگیا۔ میں پرساعماد میں پڑھا رہا تھا میرے دوست اور ہم سبق ساتھی بزرگوار مولانا محمدمستقیم صاحب انوارالعلوم پرساعماد پہنچے۔ رات بھر وہاں ٹھہرے او رمجھے بتایا کہ آپ کو فلاں تاریخ کو امتحان لینے کے لیے آنا ہے جن کتابوں کا امتحان لینا تھا اس کا نام بتایا اور فرمایا کہ امتحان سے ایک روز پہلے ہی پہنچ جائیں تاکہ دوسرے دن وقت سے امتحان شروع ہوجائے۔ امتحان کے دوران گارڈنگ میں بھی آپ کو رہنا ہے اساتذہ بھی ساتھ میں رہیں گے۔
میں وقت مقررہ پر جامعہ سراج العلوم پہنچ گیا مگر داعی صاحب (مولانا محمدمستقیم سلفی) مدرسہ پر موجود نہ تھے کسی اہم سبب کی بنا پر گھر گئے تھے ہم عصر ساتھی مولانا محمداقبال سلفی بھی وہاں مدرس تھے۔ انہوںنے مجھے اپنے کمرے میں ٹھہرایا اور اپنی سکت بھر مجھے کوئی تکلیف نہ ہونے دی۔ دوسرے دن صبح سے وہاں امتحان شروع ہوگیا میں بھی مولانا محمدمستقیم کے فرمان کے مطابق امتحان کے وقت گارڈنگ کرتا تھا بزرگوار مولانا رحمت اللہ صاحب بھی ساتھ میں رہتے اور اپنے انداز میں خوش گپیاں کرکے میرا دل بہلاتے رہتے۔ ایک بار دوران امتحان چائے آئی سب نے پی لی مگر چائے لانے والا پان نہیں لایا تھا۔ میری طرح وہ بھی پان کے عادی تھے انہوںنے پان کے بارے میں پوچھا تو لانے والے نے کہا ابھی چائے کے ساتھ نہیں لاسکا۔ یہ چائے ناشتے کا سامان پہنچا کر لے آتا ہوں۔ مولانا نے فرمایا پان کا عادی آدمی اس معاملہ میں بنیا کی طرح ہوتا ہے پان کا عادی چائے پینے سے پہلے پان کی طرف دیکھتا ہے کہ چائے کے ساتھ پان آیاہے کہ نہیں ۔ یعنی چائے سے پہلے اس کی نظر پان پر ہوتی ہے بالکل اسی طرح بنیا آدمی کسی چیز کی قیمت وصول کرتے وقت پہلے پیسہ دیکھتا اور گنتا ہے۔ روپیہ بعد میں گنتا ہے اسی طرح کی پرلطف باتیں ان کی ہوتی رہتی تھیں۔
امتحان ختم ہونے کے بعد کاپیاں بھی جانچنی پڑتی تھیں دن بھر میں دوپرچے ہوتے تھے دونوں کو شام کو مغرب کے بعد اور عشاء کے بعد چیک کرکے نمبر دیا کرتا۔ چوتھی جماعت کے طلبہ کا قرآن کا پرچہ تھا جس میں میں نے ایک سوال کرلیا تھا کہ سورہ احزاب میں موٹے موٹے اہم مضامین کیا بیان ہوئے ہیں تحریر کرو۔ امتحان گذرجانے کے بعد وہاں کے اساتذہ مجھ سے اس کا جواب پوچھتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ جب اساتذہ کی یہ حالت تھی تو پھر طلبہ کا کیا معیار رہا ہوگا؟
میرے وہاں پہنچنے کے دوسرے دن گوشت پکا معلوم نہیں میری مہمان نوازی کے لیے آیا تھا یا گوشت کا دن تھا بہرحال سارے اساتذہ کے لیے پکا تھا مغرب او رعشاء کے درمیان کھانا کھانے کے لیے بلایاگیا کھانا کھاتے وقت مجھے عجیب سا احساس ہوا۔ وہ یہ کہ لگتاہے اساتذہ کے مابین اتحاد نہیں ہے کھانے کے دوران جس طرح کا ماحول ہونا چاہیے اس طرح کا ماحول مجھے نہیں لگا۔ ہم لوگ پرسا عماد میں ایک ساتھ بیٹھ کر دال روٹی کا ناشتہ کرتے، دوپہر کو کھانا کھاتے، شام کو پھر اکٹھا ہی کھانا کھاتے۔ وہاں ماحول دوسرا رہتا تھا۔ مجھے یہاں اس طرح کا ماحول نہیں لگا۔ میں مولانا اقبال سلفی (جواب مرحوم ہو گئے) صاحب کے کمرے میں ٹھہرا تھاجو بعد میں مدرسہ عالیہ مئو چلے گئے تھے۔ میرے دور کے رشتہ دار تھے۔ اور سلفیہ کے معاصرین میں سے تھے۔ عشاء کے بعد میں نے اپنے اس شک کا اظہار کیا تو انہوںنے وہاں کے اسٹاف کا پورا حال بیان کردیا۔ انہوںنے بتایا کہ آج تو آپ کی وجہ سے معاملہ شانت رہا ورنہ یہاں کھانا کھانے کے لیے کوئی فرش نہیں بچھتا۔ اگر گوشت کا دن ہوتا ہے تو سب ایک دوسرے کا پلیٹ ہی دیکھتے رہتے ہیں محض اس ناطے کہ کسی کے پلیٹ میں دوبوٹی تو نہیں چلی گئی یا کسی کے پلیٹ میں بڑی بوٹی تو نہیں دے دیا کھلانے والے نے۔ اگر اتفاق سے ایسا ہوجائے تو کھانے کے دوران ہی جھگڑا شروع ہوجاتاہے۔ اسٹاف میں بڑا اختلاف ہے کوئی کسی سے بولنا نہیں چاہتاہے ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف سوچتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ڈرلگتاہے کہ کہیں کوئی جھوٹے طور پر کسی پر کیچڑ نہ اچھال دے۔ کوئی برائی نہ منسوب کر دے۔ آپ میرے کمرے میں ٹھہرے ہیںمگر اس کی وجہ سے آپ نے میری کتابوں میں طلبہ کا نمبر بڑھا کردیاہے اور ایک راز کی بات آپ کو بتادوں کہ آپ کو محض امتحان کے لیے نہیں بلایاگیاہے بلکہ اس کے پیچھے یہ راز ہے کہ آپ کو یہاں مدرس رکھ لیا جائے۔ اصل مقصد یہی ہے۔ امتحان تو ایک بہانہ ہے ہوسکتا ہے کہ کل مولانا جھنڈا نگری آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کریں۔ اس لیے پہلے آپ یہاں کا ماحول خوب سمجھ لیجیے۔ پھر جیسا مناسب ہوگا اس طرح کا جواب دیجیے گا۔
اب مجھے احساس ہوا کہ مولانا محمدمستقیم کا مجھ کو بلا کر امتحان سے غائب رہنے میں کیا مصلحت پوشیدہ ہے۔ بہرحال دوسرے روز امتحان سے فارغ ہونے کے بعد مجھے مولانا جھنڈا نگری نے اپنے پاس بلایا ۔ تھوڑی دیر ادھر ادھر کی بات کرنے کے بعد اصل مسئلہ چھیڑدیا۔ آپ ہمارے یہاں مدرس ہوجائیے۔ اتنی تنخواہ دیں گے۔ تنخواہ وہاں کے اسٹاف سے زیادہ تھی۔ میں نے معذرت کی ۔ مولانا میں اپنے گھر کااکیلا تنہاہوں نہ کوئی بھائی نہ بہن، والد صاحب ہیں دادی جان ہیں اور میرے بچے۔ وہاںقریب ہوں تو کوئی بات بھی ہوتی ہے تو میں آدھے گھنٹے میں گھر پہنچ جاتا ہوں یہاں رہنے پر میرے لیے مسافر کا حال ہوجائے گا کسی سے گھر کا حال بھی نہیں مل سکتا اور اگر معلوم بھی ہوجائے تو صرف جانے اور پہنچنے میں آدھا دن لگ جائے گا۔ مولانا نے میرے کندھے پرہاتھ رکھ کر ’’ارے بابو‘‘ کہہ کر بڑی ملائمت سے کہا کہ تمہاری تنخواہ سے اتنا روپیہ زیادہ دیں گے تم کو پندرہ دن پر دودن کی چھٹی دیںگے۔ کرایہ اور سفر خرچ بھی دیں گے۔ اور تمہیں اس بات کی ہمیشہ اجازت ہوگی کہ جب بھی گھر کی ضرورت ہو تم گھر چلے جائو۔ تمہارے اوپر جمعہ کے خطبہ کی بھی پابندی نہ ہوگی۔ میں نے جب ہر طرف سے اپنے آپ کو پھنستے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا کہ مولانا مجھے اس بارے میں والد صاحب سے رائے لینی پڑے گی۔ اگر ان کی اجازت ہوگی تبھی میں رہ پائوں گا ورنہ نہیں۔ یہ کہہ کر میں نے گفتگو ختم کردی اور دوسرے دن گھر چلاآیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اس غلط جگہ پڑنے سے بچالیا۔ فالحمد للہ علی ذالک

Related posts

طریقۂ تدریس

Paigam Madre Watan

کچھ اپنی زُباں سے

Paigam Madre Watan

مدرسہ انوارالعلوم

Paigam Madre Watan

Leave a Comment