Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

کتب حدیث

تصنیف:مولانا عزیزالرحمن سلفی
ماخوذ:رشحات قلم (مطبوع)

اللہ تعالیٰ کا بہت انعام اور اس کا عظیم شکرواحسان ہے کہ مجھے حدیث کی کتابوں کا نیچے سے اوپر تک پڑھانے کا موقع ملا ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱- بلوغ المرام (۲؍سال)
۲- مشکوٰۃ المصابیح ۱؍سال
۳- جامع ترمذی جلد ۱ ۵؍سال
۴- سنن ابی دائود ۴؍سال
۵- سنن النسائی جلد۲ ۲؍سال
۶- مؤطاامام مالک ۲؍سال
۷- صحیح مسلم جلد۱ ۳؍سال
۸- صحیح مسلم جلد-۲ ۲۶؍سال (از ۱۹۸۹ء؁ تا حال جاری)
اب درس سے بیماری کی معذوری کی وجہ سے بالکل موقوف ہے اور میں گھر پر پڑا ہوں۔ واللہ المستعان والی اللہ المشتکی۔ او راس سے قبل مدرسہ انوارالعلوم پرساعماد ضلع سدھارتھ نگر میں صحیح مسلم جلد۲ دوسال پڑھانے کا موقع ملا تھا اس طرح صحیح مسلم جلد۲کی تدریسی مدت۲۸؍سال ہوجاتی ہے۔ اس فہرست میں ابن ماجہ کا ذکر نہیں ہے اس لیے اکثر مدارس میں سنن ابن ماجہ نصاب میں داخل ہی نہیں ہے مگر اللہ کے فضل واحسان سے میں نے اسے درسا درساً پڑھاہے اور تخریج وتحقیق کے وقت اس سے استفادہ کیاہے۔جہاں تک صحیح بخاری کا معاملہ ہے تو اس کو بالتفصیل میں نے اوپرذکر کیاہے۔
بعض طلبہ پر تدریس کااثر:-
اوپر میں نے بعض ایسی باتیں ذکر کی ہیں جس سے پتہ چلتاہے کہ طلبہ کا مجموعی طور پر میری تدریس کے متعلق تاثر کیاتھا اور کیاہے؟ بہت پہلے کی بات ہے کہ بہت سے طلبہ نے میری تدریس کے بارے میں یہ ذکر کیا کہ ہم لوگ مسلم شریف کے درس سے بخاری شریف کی تیاری کرتے ہیں لیکن یہاں میں ایک دوسری حیثیت سے اس تاثر وتاثیر کو ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
جامعہ سلفیہ میں کبھی یہ پابندی نہیں رہی کہ یہاں صرف اہل حدیث طلبہ ہی داخلہ لے کر پڑھ سکتے ہیں غیرمسلکی طلبہ کا داخلہ نہیں ہوگا بلکہ یہاں ہر سال دیوبندی، حنفی، جماعت اسلامی کے خیالات کے حامی طلبہ بھی داخلہ لے کر پڑھتے ہیں کبھی ان کو نہ مسلکی حیثیت سے جانچ کی جاتی ہے اور نہ انہیں الگ سے اہل حدیث او ردیگر مسالک سے موازنہ کرایاجاتاہے نہ انہیں اہل حدیث مسلک اختیار کرنے پر ترغیب اور تبلیغ کی جاتی ہے۔ نہ اہل حدیث اور دیگر مسالک کی خوبیاں اور خرابیاں ان کے سامنے بیان کی جاتی ہیں اور نہ نماز کے اندر ارکان وغیرہ کے بارے میں کبھی چھیڑا جاتا ہے۔ یہاں تمام مسالک کے طلبہ اپنی درسگاہوں سے آتے ہیں انہیں دیگر فنون کے ساتھ حدیث وقرآن کی تعلیم دی جاتی ہے زیادہ سے زیادہ درس میں دوسرے مسالک کی آراء اور ان کی فقہی موشگافیوں کا ذکرکرکے یہ کہا جاتاہے کہ یہ ہے حدیث او ریہ ہے قرآن، ہم تمام مسلمان اسی پر عمل کرنے کے مکلف ہیں او رشریعت کے اعتبار سے کسی دوسری چیز کی پابندی ہمارے اوپر لازم نہیں ہے۔ حدیث وقرآن کو دیکھنے کے بعد یہ کہاں تک درست ہے کہ ہم ان احادیث وقرآن کی روشن تعلیمات کے بعد کوئی دوسری ایسی بات مانیں جو اس سے متعارض ہوں یا اس سے ٹکراتی ہوں۔ اس کا فیصلہ ہر شخص اپنی عقل سے خود کرے۔
اپنی تدریس کے زمانہ میں میں نے یہ دیکھا کہ کتنے حنفی طلبہ بغیر کسی زور وزبردستی کے اپنا آبائی مسلک چھوڑ کر حامل بالکتاب والسنۃ ہوجاتے ہیں اور مسلک اہل حدیث پر اتنا پختہ ہوجاتے ہیں کہ انہی حنفی مدارس میں جاکر(جہاں سے پڑھ کر آئے ہیں) مناظرہ کیا کرتے ہیں۔ اور جماعت اسلامی کی درسگاہوں سے نکل کر آنے والے طلبہ عقیدتاًو عملاً اہل حدیث ہوجاتے ہیں پھر اس جماعت کے اندر جو تخفیف حدیث کا شیوہ ہوتاہے یا اس کے علاوہ دیگر کوتاہیاں ہوتی ہیںان پر وہ خود ریمارکس کرتے ہیں ۔ فللّٰہ الحمد والسنۃ

Related posts

اساتذہ کی کرم فرمائیاں

Paigam Madre Watan

بچپن کی بعض باتیں

Paigam Madre Watan

اساتذہ کرام

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar