Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

بچپن

تصنیف: مولانا عزیز الرحمن سلفی 
ماخوذ: رشحات قلم (مطبوع) 

اللہ کا شکر واحسان ہے کہ اس نے مجھے ایسے خاندان میں پیداکیا جہاں اللہ کا نام لیا جاتا تھا میرے دادا کی اولاد میں جو لوگ صاحب اولاد تھے ان کے یہاں بیٹیاں ہی تھیں ا س پیڑھی میں سب سے پہلے میری ہی پیدائش نرینہ اولاد کی شکل میں ہوئی۔ اس لیے ہمارے بڑے ابا جن کا نام فہیم اللہ تھا میرا نام ’’باب اللہ‘‘ اس لیے رکھا تھا تاکہ اصل نام میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کرسکے۔ ان کے بقول کسی طرح بھی کوئی آدمی پکارے گا تو پہلے بابو تو کہے گا۔ معلوم نہیں کوئی اور نام بھی تھا یا نہیں۔ اس نام کو ہمارے اساتذہ نے اس طرح لکھنا سکھایا’’با ب اللہ‘‘ یہی نام عرف عام میں او رمدرسہ میں بھی چلتارہا۔ مدرسہ مفتاح العلوم ٹکریا، جامعہ اثریہ دارالحدیث مئو، فیض عام مئو میں یہی نام چلا، کسی نے اعتراض نہ کیا۔ ایک بار مولانا محمدخلیل رحمانی جن کی پرانی رشتہ داری ہمارے خاندان سے تھی انہوںنے نام بدلنے کی صلاح دی تھی۔ انہوںنے تجویز کیا کہ اب سے ’’عزیزالرحمٰن‘‘ رکھ لیجیے۔ مگر اس وقت نام کے بارے میں میں نے کچھ نہ سوچا اور نہ کوئی توجہ دی۔ جامعہ سلفیہ میں آکر پہلا فارم پرانے نام ہی سے بھرا۔ تو اس کا بڑا شہرہ ہوا میرے کان میں بھی آواز پہنچی تو میں اس نام کو بدل کر آئندہ سے عزیزالرحمٰن لکھنے لگا اور اس نام کا دوسرا فارم پُرکیا۔ اس کے بعد یہی نام چلنے لگا۔
یہ میرے بڑے ابومیرے دادا کی پہلی بیوی سے تھے۔ اور دوسرے نمبر پر تھے ان بڑے ابوکا ،ان کی اہلیہ اور اولاد کا شاید طاعون کی بیماری میں صفایاہوگیا۔ سناہے کہ میرے بہت بچپن میں یہ بیماری ہمارے یہاں پڑی تھی ۔ سناہے کہ ہر دم لوگ قبر کھودتے رہتے اور جنازہ ڈھوتے رہے۔ بزرگوں کا قول ہے کہ یہ بڑے ابا بڑے سمجھدار اور سنجیدہ تھے۔
اس کے برخلاف سب سے بڑے ابا جو تھے وہ بڑی اماں کے قبضہ میں تھے بڑی اماں کا مزاج کسی سے میل نہ کھاتاتھا۔ وہ عام طور پر بمبئی رہتے تھے۔ بڑی اماں ان کی پوری آمدنی اپنے قبضہ میں رکھنے کے لیے دادی(چھوٹی) اور دادا نیز ان کی بعد کی اولادجو ابھی کمائی کے لائق نہ تھے۔ ان سے علاحدہ ہوگئیں۔ ان کی راہ ورسم کسی سے نہ تھی۔ اپنی دنیا آپ خود تھیں۔ کسی سے ملنا جلنا نہ تھا۔ الایہ کہ کوئی ایسی ضرورت آن پڑے جسے وہ خود حل نہ کرسکیں۔ تبھی ان کا کسی سے ملنا جلنا ہوتا تھا۔اللہ ان سب کی مغفرت کرے ۔ آمین
مجھ سے پہلے میرے ایک بھائی پیداہوئے تھے جن کا نام کلیم اللہ تھا معلوم نہیں کتنے دن زندہ رہے پھر میری پیدائش ہوئی۔ میرے بعد جس بھائی کی پیدائش ہوئی تھی ان کا نام حمیداللہ تھا۔ دادی جان کہتی تھیں کہ ۹؍ماہ میں پائوں پائوں چلنے لگے تھے۔ میں چارپائی پر بیٹھا رہتاتو وہ مجھ کو پکڑنے کی کوشش کرتے۔ میں چارپائی پرادھر ادھر ہوکر اپنا بچائو کیا کرتا تھا۔ بہرحال ان کی یہ حرکتیں اور ان کی وفات مجھے یاد نہیں۔ ان کے بعد دوبھائی اطیع اللہ اور سمیع اللہ پیداہوئے او رایک بہن بھی پیداہوئیں مگر ان کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں۔ صرف اتنا یاد آتاہے کہ کسی کی وفات پر والدہ مجھے پوال کے بستر پر لیکر بیٹھی تھیں اور رو رہی تھیں۔ ۱۹۵۶ء؁ میں والدہ کا انتقال ہوا لیکن مجھے ان کا چہرہ وغیرہ یاد نہیں۔ لوگ میری بڑی بچی کو انہی کی ہم شکل بتاتے ہیں۔ ایک مرتبہ والد صاحب والدہ کو لے کر بستی صدر ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے مگر مجھ کو نہیں لے گئے تھے۔ ذرا ذرا سا یاد ہے ان کو کالازار بخار تھا ہمیشہ دوا چلتی رہتی، کب بیمار ہوئیں کتنے دن بیمار رہیں کچھ معلوم نہیں۔ بدل پور کے ٹھاکر وشواناتھ سنگھ وید تھے، وہ بھی علاج کرتے رہے ۔ حالانکہ ان کے گھر سے دادا کا مقدمہ چل رہاتھا وہ کہتے تھے کہ مقدمہ الگ ہے، او رہمارا آپ کا تقرب الگ ہے اس سے زیادہ بھی اگر کوئی چیز ہوجائے تو بھی میرا آنا جانا او رمریض کی دوا کرنا بند نہ ہوگا۔ وفات کے بارے میں مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ گنا پرائی کا زمانہ تھا میں اترکولہار کی طرف سے آرہاتھا ابھی بنگلہیہ گڑھے سے شمال ہی کی طرف تھا کہ ایک قطب اللہ نامی بڑے نوجوان لڑکے نے مجھ سے کہا کہ تمہاری اماں کا انتقال ہوگیا۔ میں گھر آیا بہت سے لوگ جمع تھے کبھی یہاں بیٹھا رہتا کبھی وہاں۔ اتنی بات یاد ہے کہ جب اماں جان کو غسل دلاکر عورتوں نے دوسری چارپائی پر لٹایا او رکفن پہنایا تو کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے بھی چہرہ دیکھنے کے لیے بلایا۔ بس اتنا یاد ہے کہ سفید کفن میں ایک ذات لپٹی ہے مگر شکل یادنہیں ہے۔ اور کتنی دیر وہا ں مجھے رکھا یہ بھی یاد نہیں ۔ سناہے کہ وفات سے پہلے انہوںنے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ مجھے میرے ابا جان کے قبر ستان میں دفن کیا جائے جہاں ان کی والدہ او ربھابھی وغیرہ مدفون تھیں۔ میں وہاں باغ میں موجود تھا اتنی بات یا دہے لیکن نماز جنازہ کس نے پڑھائی، کیسے تدفین ہوئی، کون کون قبر میں اترا یہ سب کچھ یاد نہیں بعد میں شعور ہونے پر لوگوں نے مجھے میری اماں کی قبربتائی۔
اللّٰہم أغفرلہا ورحمہا واعف عنہا ووسع مدخلہا واغسل خطایاہا بالماء والثلج والبرد۔ رب أرحمہما کما ربیانی صغیرا۔
بعد میں والد صاحب نے بتایا کہ وہ جنوری ۱۹۵۶ء؁ تھا ۔آج تقریباً ۵۹سال بعد اسی سال ۲۰۱۵ء؁ ۲۶؍جنوری کو والد صاحب کا انتقال ہوا اور یہی ۲۶ جنوری ۱۹۵۶ء؁ کو والدہ صاحبہ کا بھی انتقال ہوا تھا، اتفاقات قدرت الٰہی کا کرشمہ ہیں۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ میں تم کو کبھی پائوں پائوں لے کر انگلی پکڑکے چلتا تھا اور کبھی گود میں۔ راستہ میں کچھ لوگوں نے کہا کہ اٹھاکر میت کی چارپائی سے اس کا ہاتھ لگا دو تو میں نے تمہارا ہاتھ چارپائی کی پٹی سے لگا دیا۔
مجھے اتنایادہے کہ شام کو میں گھر سے باہر کھلیان میں موجود تھا بڑے لڑکے گولیاں کھیل رہے تھے ان میں ہمارے پھوپھی زا دبھائی (مولانا) سلامت اللہ صاحب (مرحوم) بھی تھے وہ مجھ سے سات آٹھ سال بڑے تھے جب دن ڈوبنے کے قریب ہوا تو ان کو مجھ پر رحم آیا انہوںنے کہا کہ کسی کے پاس رومال یا مفلر ہو تو اس بیچارے کو اوڑھادو۔
میری دادی میری والدہ کو یاد کرکے بعد میں بہت روتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ وہ میری بہو نہیں میری ساس تھی۔ دادا ، دادی، دونوں چچا نیز پھوپھیوںکی خدمت کرتیں۔ کسی کو انہوںنے اپنی زندگی میں شکایت کا موقع نہ دیا۔ اتنی خوش اخلاق تھیں کہ گائوں کی بڑی بوڑھیاں اب تک ان کا نام لے کر ہائے وائے کرتی ہیں۔ اتنی صبردار تھیں کہ ہر طرح کی تکلیف خودگوارا کرلیتیں مگر دوسروں کو احساس نہ ہونے دیتیں۔ دادی کا بیان ہے کہ میرے والد ابھی کم عمر تھے شاید پندرہ سال کے تھے تبھی شادی ہوگئی تھی میری والدہ والد صاحب سے ایک دوسال بڑی تھیںچوں کہ بڑی والدہ علاحدہ ہوگئی تھیں اور بڑے ابوکی کمائی اپنے قبضہ میں کرلی تھیں اس لیے والد صاحب اور چچا لوگوں کو کم عمری ہی میں شہر میں کمائی کے لیے نکلنا پڑا۔ اسی دوران ۱۹۴۷؁ء کا ہنگامہ ہوا جس میں والد صاحب دہلی ہی میں پھنس گئے اس ہوش ربا اور خوفناک مرحلہ پر جب کہ ٹرینیں صرف لاش کی شکل میں سواریاں پاکستان او رہندوستان لاتی لے جاتی تھیں ایسی حالت میں سوائے رونے دھونے کے او رکیا حال رہا ہوگا ۔ دادی جان بتاتی تھیں کہ جب میں اور تمہارے دادا’’ہائے نصیب اللہ‘‘ کہہ کر روتے اور بلکتے تھے تو تمہاری والدہ دل پر پتھر باندھ کر ہم کو سمجھاتیں اور صبر دلاتی تھیں کبھی ہم لوگوں کے سامنے آنسو نہ بہایا۔ برابرہم ہی لوگوں کو تسلیاں دیتی رہتیں۔ اور کہتیں صبر کرو۔ ان شاء اللہ وہ خیریت سے ہوںگے۔ ظاہر ہے تنہائی میں وہ بھی روتی رہی ہوں گی۔ لیکن گھروالوں کے سامنے کبھی آنکھیں نم نہ دکھائیں۔ والد صاحب کئی مہینہ دہلی میں پھنسے رہے۔ فساد ختم ہونے کے بعد بحمداللہ بخیروعافیت گھر آئے۔ اس ہنگامہ کے دوران وہ کچھ دن تک ہمایوں مقبرہ میں رکھے گئے۔ پرانے قلعہ میں ایک ماہ سے زیادہ رہے اور کہاں کہاں رہے یہ ساری تفصیل انہی کو معلوم ہے۔ پرانے قلعہ میں حال یہ تھا کہ ایک گلاس پانی اور ایک روٹی کے لیے کئی کئی ہزار آدمیوںکی لائن لگتی تھی۔ جس کو یہ چیزیں مل جاتیں وہ خود کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ان میں کتنے ایسے لوگ ہوتے جن کی باری آنے سے پہلے ہی اشیاء مقسومہ ختم ہوجاتیں۔ اور پھر دوسرے وقت بھی اسی طرح کی لمبی لمبی لائنیں لگتیں اور اس ٹائم بھی کسی کو سامان خوردونوش ملتا کسی کو نہیں ملتا۔ کچھ حالات نارمل ہوئے تو والد صاحب کہتے ہیں کہ دہلی وہ دہلی نہ تھا اجڑا دیار تھا مسلمانوں کے گھروں پر ہندوئوں ،پنجابیوں کا قبضہ تھا والد صاحب کو بھی کئی لوگوں نے پاکستان چلنے کے لیے اصرار کیا مگر وہ نہ گئے ۔ آزادمارکیٹ لائبریری روڈ پر ایک حویلی میں ایک کوٹھری پر قبضہ کیا۔ ان کے ساتھ ایک آدمی اور تھے مگر وہ چھپ چھپا کر کئی کئی دن کے لیے غائب ہوجاتے۔ لیکن والد صاحب اسی کوٹھری میں دروازہ بندکرکے پڑے رہے۔ سامنے ایک دالان بھی تھی کبھی کبھی کوئی کھانے پینے کی چیز لینے کے لیے نکلتے اور وہ بھی جب حالات کو سازگار سمجھتے۔ یہ کوٹھری جس پر انہوںنے قبضہ کیاتھا آج بھی ہمارے گائوں والوں کے ہاتھ میں ہے۔ تنہا قبضہ کرنے کے باوجود ہمیشہ غیروں کے لیے بھی اس کوٹھری کا دروازہ کھلارہتا، لیکن والد صاحب نے اپنا نہ سمجھا اور نہ کسی طرح کا احسان جتلایا۔بلکہ کسی سے یہ بھی کہتے میں نے نہیں سنا ہے کہ اس قبضہ کے سلسلے میں یہ کیا وہ کیا وغیرہ۔ اب ہمارے والد صاحب تو اس میں نہیں رہتے لیکن گائوں اور علاقہ کے لوگ اس میں رہتے ہیں۔ ہر طرف سے پنجابی ہیں اور یہ ایک کوٹھری مسلمانوں کی اور وہ بھی دہلی سے باہر کے لوگوں کی۔ پنجابیوں نے بہت ڈرایا دھمکایا مگر لوگ خوف زدہ نہ ہوئے ۔ اپنی جگہ پر ڈٹے رہے۔

Related posts

ٹکریا کے باشندگان کے عقائد

Paigam Madre Watan

تعلیم وتعلم اور اساتذہ کرام

Paigam Madre Watan

تاثر برخود نوشت رشحات قلم

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar