Articles مضامین

کیا اسے بدحواسی کہتے ہیں؟

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین

کیا پرائم منسٹرمودی بہت نروس ہیں۔ انھوں نے 400پار کا نعرہ دیا تھا مگر انہیں 200 پار کرنا بھی مشکل نظر آرہا ہے۔ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس پارٹی نے اپنے مینی فیسٹو میں کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا ہے کہ وہ ہندو امیروں کی دولت لے کر مسلمانوں میں بانٹ دے گی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کانگریس نے لفظ مسلمان کا کہیں ذکر تک نہیں کیا ہے۔ آج کے ہندو اخبار میں (6؍مئی 2024 سوموار) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ اور سپریم کورٹ بار اسوسیشن کے سابق صدر دشوپنت دوبے نے وزیر اعظم کی تقریر موڈل کوڈ آف کنڈٹ کی کھلی خلاف ورزی کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے جس میں انھوںنے کانگریس کے مینی فیسٹو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کانگریس اپنے منشور میں دولت (Wealth) کے عنوان سے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ ’’دولت اور دولت کی افزائش کسی بھی بزنس کا مقصد ہوتا ہے۔ کانگریس تیز رفتار ترقی اور دولت کی افزائش کے لیے پابند عہد ہے۔ ہم نے دس سال میں جی ڈی پی کو دوگنا کرنے کا ارادہ رکھا ہے۔‘‘ فلاح (Welfare) کے زیرعنوان اس نے لکھا ہے کہ سب کی فلاح تمام کاموں اور دولت کی افزائش کا بنیادی مقصد ہے۔ کانگریس حکومت کے تحت غریبوں کا حق حکومتی وسائل پر سب سے پہلا ہوگا۔ اس نے نَو سنکلپ معاشی پالیسی کے تحت اس کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مقصد مبنی بر انصاف، عادلانہ اور برابری کے مواقع پیدا کرنا ہے اور سماج کے ہر طبقہ کو خوشحالی کی نعمت سے بہرہ ور کرنا ہے۔مساوات(Equity) کے ضمن میں اس نے لکھا ہے کہ جو لوگ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو ابھی تک آگے نہیں بڑھ پائیں ہیں اور باقی لوگوں سے پیچھے ہیں جو ہماری کل آبادی کا 70% ہیں اور جو ہندوستان کے اعلیٰ پروفیشن، خدمات، بزنس میں نہیں ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر ان کی نمائندگی کم ہے۔ کانگریس پورے ملک میں سماجی اور معاشی سروے کرائے گی اور اس کی بنیادپر مثبت اقدام کے ذریعہ ان کو ان کا واجبی حق دلائے گی۔
اس پورے منشور میں غلطی سے بھی مسلمان لفظ کا ذکر نہیں ہے اور نہ اس کا ذکرہے کہ سلطانہ ڈاکو یا رابن ہوڈ کے طرز پر کانگریس امیروںکی دولت لوٹ کرکے غریبوں میں تقسیم کردے گی۔
اس کے باوجود وزیر اعظم مودی کا یہ کہنا کہ کانگریس ملک کی دولت یہاں تک کے ان کا منگل سوتر چھین کر ان کو تقسیم کردے گی جو زیادہ بچہ پیدا کرتے ہیں یا جو گھس پیٹھئے ہیں، اس سے بڑا جھوٹ، اس سے بڑی دھاندلی اور اس سے زیادہ موڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی اورکیاہوسکتی ہے؟ یہ ان کو بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کی غماز نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
اب آپ دوسرا پہلو دیکھئے بھارت میں امیروں اور غریبوں کے بیچ کی کھائی کتنی گہری اور چوڑی ہے، اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کے ایک فیصد امیر لوگ 40.1% دولت پر قابض ہیں یہ 2022-23 کا ڈاٹا ہے۔ مودی صاحب کے عہدِ حکومت میں ارب پتیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھا ہے۔ ایک طرف جہاں کھرب پتی بڑھے ہیں وہیں دوسری طرف گاؤں میں 8.4 فیصد غریبوں کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ امیر اور غریب کی کھائی دنیا میں سب سے زیادہ بھارت میں ہے۔ بھارت میں بے روزگاری سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکونومی (CMIE) کے مطابق 6.8% ہے جو بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف بڑھتی مہنگائی، دوسری طرف بڑھتی بیروزگاری اور تیری طرف دولت کی تقسیم میں اتنا تفاوت اور چوتھی طرف غریبوں پر ٹیکس کا بڑھتا ہوا بوجھ ملا جلا کر عام آدمی کی کمرتوڑے دے رہا ہے۔ آپ کو جان کر تعجب ہوگا کہ بھارت میں جو 100 روپیہ ٹیکس کا وصولا جاتا ہے اس کا 64 روپیہ غریبوں اور متوسط طبقے کے لوگوں سے آتا ہے یعنی جی ایس ٹی کے تحت جوٹیکس آپ ادا کرتے ہیں اس سے آتا ہے اور امیرکارپوریٹ گھرانوں سے محض36 روپئے آتے ہیں۔ یہ ہے اس ملک کی اکانومک پالیسی جو امیر کو امیر بناتی ہے اور غریب کو غریب۔
جس تیزی کے ساتھ بھارت میں آٹومیشن کو ترجیح دیا جارہا ہے اور آرٹی فیشیل انٹیلی جینس(AI)کی ہمت افزائی کی جارہی ہے اور ہمارے اسکول اور کالج میں جس طرح کی غیر معیاری تعلیم دی جارہی ہے لوگوں کی صحت جس درجہ کمزوراور خراب ہے بھارت کوجو آبادی کا فائدہ ملنا چاہیے وہ نہیں مل پائے گا بلکہ اس کا الٹا نقصان ہوگا۔ اگر ملک میں ایسی ہی معاشی پالیسی چلتی رہی تو ملک میں بحران اور لاقانونیت کا دور دورہ ہوجائے گا۔
اس صورت میں وزیر اعظم اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ افسوسناک ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ نہ صرف مسلمانوں کو کچھ نہیں دیں گے بلکہ کسی کو دینے بھی نہیں دیں گے۔ بلکہ مسلمانوںکے تن پر جو پھٹا ٹاٹ ہے وہ بھی اس سے چھین لیں گے ۔کیا مسلمانوں سے ایسی دشمنی اور ایسی نفرت کسی وزیر اعظم کو زیب دیتا ہے؟ کیا یہ ان کے آئنی منصب کے مطابق ہے؟ اس پر کون روک لگائے گا؟ الیکشن کمیشن گاندھی جی کے تین بندر کی طرح بیٹھا ہے اور سپریم کورٹ کیا مجال کہ اس پر زبان کھولے،رہا پریس تو بہت پہلے اس نے اپنی آزادی اور عصمت نیلام کردی ہے۔ لہٰذا اس سے کوئی امید رکھنا تاروںسے سورج کی روشنی طلب کرنا ہے۔ بہرحال ہم چونکہ وزیر اعظم کے مزاج اور جس ماحول میں اور جن لوگوں کے درمیان انھوں نے بچپن سے لے کر اب تک کی زندگی گزاری ہے ، لہٰذا ہم ان کی سوچ اور ذہنی ساخت سے واقف ہیں۔ ان کی اوریجنل فکر وہی ہے جس کا وہ اظہار کررہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے اس وقت وہ سخت نفسیاتی دباؤ میں ہیں۔ لہٰذا مجھے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ ان کی بدحواسی پر ہم ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔
لیکن ایک بات ضرورکہنا چاہتے ہیں کہ ہم اس ملک کے بونا فائڈ شہری ہیں 2024 کے ایک تخمینہ کے مطابق ہم 20 کروڑ ہیں جوکل آبادی کا 18% ہے۔ ہم بھی ملک کے دیگر شہریوں کی طرح انکم ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس اور جی ایس ٹی ادا کرتے ہیں تو ملک کے بجٹ میں ہمارا بھی حق اور حصہ ہے اور کوئی ہمیں ہمارے قانونی اور دستوری حق سے محروم کرنا چاہے تو جمہوری اور قانونی طریقے سے اپنا حق اور حصہ ضرور لیں گے۔ آپ اکثریت کی تشٹی کرن (Appeasement) کے نام پر مسلمانوں کی حق ماری نہیں کرسکتے ہیں۔

Related posts

 روٹی کے ٹکڑے کئے تو بیٹا بھی جاگ اٹھا !!

Paigam Madre Watan

کمپیوٹر کی تعلیم وقت کی اہم ضرورت

Paigam Madre Watan

عصری تعلیم مسلمانوں کے لیے ضروری کیوں؟

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar