Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

بچپن کی بعض آدھی ادھوری باتیں

تصنیف:مولانا عزیز الرحمن سلفی
ماخوذ: رشحات قلم (مطبوع)

بچپن کی بعض باتیں ایسی ہیں کہ اس کا کچھ حصہ مجھ کو یاد ہے مگر کچھ حصہ یاد نہیں مثلاً:
ایک بار دادی مجھ کو لے کر پھوپھی کے گھر گئیں ان کانام لیث بانی تھا یہ ان کی دوسری شادی تھی پہلی شادی کونڈرائوں میں ہوئی تھی شوہر کا انتقال ہوگیاتھا تو پھر دوسری شادی شسئی گائوں میں ہوئی ۔ پہلے شوہر سے ایک بڑی لڑکی تھی۔ اس کو بھی ساتھ رکھا۔ اور ماشاء اللہ وہ لڑکی ابھی حیات ہیں۔اور اس دوسری شادی سے ان کے بچے پیدا ہوئے۔۱- عبد الحکیم، ۲- عبد المبین، ۳ – شمس الدین۔ تینوں صاحب اولاد ہیں۔ مجھ سے بڑی محبت رکھتی ہیں یہ ہمارے شسئی والے پھوپھا کی بھی دوسری شادی تھی۔ پہلی بیوی سے ان کی تین لڑکیاں تھیں۔ میرے ہوش میں آنے سے پہلے ان میں سے دولڑکیوں کی شادی ہوچکی تھی ہمارے پھوپھا کانام حبیب اللہ تھا یہ تین بھائی تھے انہی میں سے ایک بڑے بھائی ذکری نام کے تھے ان کی پوتی سے میری شادی ہوئی۔ ہمارے پھوپھا بڑے بہادر تھے کچھ جڑی بوٹیوں کا علم رکھتے تھے جس کی وجہ سے کچھ علاج بھی کرتے تھے۔ او رماشاء اللہ ان کی دوائیں عموماً کارگرہوتی تھیں اسی وجہ سے بہت سے لوگ ان کو ڈاکٹر کہا کرتے تھے مگر اس کو ذریعہ معاش نہیں بنایا۔
کھیتی باڑی اچھی تھی، رکھ رکھائو اچھا تھا اشعار خصوصاً کہانیوں پرمشتمل بہت یاد تھے ۔ کھیتی باڑی کے علاوہ دنوں میں تجارت بھی کرتے تھے دور دور تک بیل گاڑی کے ذریعہ اپنا سامان لے جاتے اورادھر سے بھی کچھ خریدکر لاتے تو اس کو اپنے اطراف میں بیچتے۔ بیل گاڑی پر بیٹھتے تو وہی اشعار بلند آواز سے پڑھتے، لحن بڑی اچھی تھی۔ عموماً ان کی بیل گاڑی پورے بیل گاڑیوں کے قافلہ سے آگے رہتی۔ اشعار کی لے پر مست ہوکر بیل چلتے رہتے۔ ان کو ہانکنے کی ضرورت نہ رہتی اور پیچھے تمام بیل گاڑیوں کے لوگ سوتے رہتے تھے۔
ایک مرتبہ دوبیل ایسے لائے تھے جو ہم شکل تھے اور اتنے مضبوط اور تنومند کہ وہ سانڈ کو بھی کچھ نہ سمجھتے تھے۔ ان بیلوں کو دورسیاں لگی رہتی تھیں دوآدمی دونوں رسیاں پکڑتے تب ان کو ادھر ادھر باندھنے کے لیے یاہودی پر چارہ کھلانے کے لیے لے جاتے۔ اتنے خوفناک تھے کہ اکیلا بہادر سے بہادر آدمی ان کے قریب جانے کی ہمت نہ کرتا تھا۔ ان بیلوں کی بنا پر پھوپھا بہت مشہور ہوئے بہرحال دادی مجھ کو لیکر پھوپھی کے یہاں گئیں اور اٹھارہ دن رہ گئیں۔ میںاکتاگیاتھا۔ دادی بتاتی تھیں کہ گھر کے بغل میں بیل گاڑی کھڑی رہتی تھی۔ میں جاکر اسی میں چھپ کر رویا کرتا تھا۔ بالآخر چھوٹے چچا ہم لوگوں کو لینے کے لیے گئے۔ بیل گاڑی ہی سے لارہے تھے۔ راستہ میںایک گائوں پتھرا بازار پڑتا ہے۔ بازار کا دن (یعنی جمعرات) تھا۔ بیل گاڑی روک کر چچا بازار میں کچھ لینے کے لیے چلے گئے ۔ دوخربوزہ بھی لے کر آئے۔ ایک دادی کو اور ہم کو کھانے کے لیے دیا اور ایک خود اپنے لیے رکھا ۔ کاٹنے پر ہم لوگوں کا خربوزہ صحیح نکلا مگرچچا کا خربوزہ سڑانکل گیا۔بس اتنی ہی بات یا د ہے۔
m ایک دوسری مرتبہ پھوپھی ہی کے یہاں سے چھوٹے چچا ہم کو اور دادی کو لیکر آرہے تھے۔ محرم یعنی عاشورہ کادن تھا راستہ میں کتنا پیدل چلے اور کتنا چچا کے کندھے پر یہ یاد نہیں۔ مگر جو حصہ یاد ہے وہ یہ کہ جب ہم لوگ گنگوارے کے پاس پہنچے تو وہاں کا تعزیہ سورج کی روشنی میں چمچما رہا تھا وہاں کا تعزیہ بہت مشہور تھا۔ دسویں رات کو جموتیا کے لوگوں کا ماتم اور گنگوارے کا تعزیہ دیکھنے کے لیے ہمارے یہاں سے بھی بہت سے لوگ جایا کرتے تھے جب اس گائوں کے پچھم ہم لوگ ہوئے تو تھوڑی سی بدلی دکھائی پڑی اور چندمنٹ کے بعد بوندیں پڑنے لگیں۔ وہیں قریب میں آم کے پانچ درخت تھے اس لیے اس کو پنچ پیڑیا کہا جاتاتھا۔ وہیں ایک درخت کے نیچے ہم لوگ چھپ گئے۔ پہلے لگتا تھا کہ بادل تو کوئی خاص ہے نہیں۔ ابھی تھوڑی بونداباندی کے بعد بارش رک جائے گی۔ اس سے پہلے یہ احساس ہورہاتھا کہ بہت دن سے بارش نہیں ہوئی تھی ۔ کھیت سوکھے پڑے تھے ہر طرف دھول ہی دھول اڑرہی تھی۔مگر یہ بدلی جو چند بوندوں والی لگ رہی تھی اس قدر موسلادھار بارش ہوئی کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہوگیا۔ اور ابھی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہاتھا۔ چچا نے دادی سے کہا چلو اس قریبی گائوں میں چلیں جس کا نام میہی تھا چلوگائوں کے کسی گھر میں چھپ جایا جائے۔ دادی جان میرا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگیں۔ ہماری دادی کا قدبہت چھوٹا تھا مشکل سے ساڑھے چار یا پونے پانچ فٹ کا رہاہوگا۔ مجھے اتنا یا دآتاہے کہ میں ان کی ران کے برابر تھا، مجھ کو لے کر جب گائوں کی طرف چلیں تو راستہ میں ایک نالا (گھولا)پڑا جو بہت تیز بہہ رہاتھا اور سارا پانی مینہیاںتال میں جارہاتھا۔ دادی جب میرا ہاتھ پکڑکر داخل ہوئیں۔ تو میرے گلے تک پانی تھا۔ گائوں میں پہنچ کر ایک فیل خانہ میں گئے مجھے بہت ٹھنڈک لگ رہی تھی۔ تو مجھ کو ہاتھی کا گدا اوڑھا دیا ہم لوگوں کی طرح بہت سے لوگ وہاں چھپے ہوئے تھے وہ سب آپس میں بات کررہے تھے کہ اگر ابھی ہاتھی آگیا تو کیا کیا جائے گا یہ سن کر مجھے بہت ڈر لگ رہاتھا ۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ فیل خانہ میں دودروازہ ہے ادھر سے آئے گا تو دوسری طرف سے بھاگ لیں گے۔ اللہ جانے کتنی دیر اس میں ٹھہرے رہے۔ بارش بند ہونے کے بعد جب چچا مجھے اپنی پیٹھ پر لاد کر نکلے تو دھان کے کھیتوں میں گھٹنا برابر پانی تھا۔ وہاں سے تقریباً ۳؍کیلومیٹر ہمارا گائوںتھا۔ ہرجگہ اسی طرح پانی تھا۔ جب اپنے گائوں سے قریب پہنچے تو چچا مجھ کو پیٹھ پر لادے لادے ۸؍۹فٹ کا نالا کود گئے اسی طرح ہم لوگ گھر پہنچے۔
۱۹۵۶ء؁میں جب چھوٹی پھوپھی کی شادی لکھن جوت ہوئی تو اتنا یاد ہے کہ کوئی بارات آئی تھی او رہمارے گھر کے سامنے گیہوں کے بھوسے پر (جس کو دیہاتی زبان میں پیاری بولتے ہیں) ٹھہری تھی مجھے نکاح وغیرہ یاد نہیں ۔ ہمارے والد صاحب اسی رات کو دہلی سے آئے۔ رخصتی وغیرہ یاد نہیں ہے۔ لیکن جب ہمارے منجھلے چچا کی بارات (بدلہ کی شادی تھی ہر ایک کا مہر الگ سے متعین ہوتا تھا ) گائوں سے چلی تو میں پھوپھا کی بیل گاڑی پر لیٹا ہواتھا ہلور پہنچ کر سورج نکلا تھا چلتے چلتے ایک جگہ پہنچے جہاں سڑک سے راپتی ندی قریب تھی۔ تو نوجوان لڑکے اترکر خربوزہ لینے چلے گئے۔ مگر خربوزہ نہیں مل سکا۔ مایوس واپس آئے وہاں سے چلے تو دوپہر کے وقت ایک پیپل کے پیڑ کے نیچے پڑائو ڈالا۔ سبھی لوگ آرام کرنے لگے۔ واضح ہو کہ پھوپھا کی بیل گاڑی میں وہی بیل جٹے ہوئے تھے جن کو دیکھ کر دور ہی سے آدمی ڈر جاتا تھا۔ ایک سادھو بابابھی اسی پیڑ کے نیچے آرام کررہے تھے۔اس درخت کے پاس ایک کنواں بھی تھا۔ سادھوبابا اپنے لوٹے سے پانی نکال رہے تھے کہ ان کا لوٹا کنویں میں گر گیا۔ ہمارے پھوپھا نے سنا تو بغیر رسی باندھے اوپر ہی سے کنویں میں کود گئے۔ اور پہلی ہی ڈبکی میں لوٹا نکال کر پانی کے اوپر آئے۔ بعد میں رسی باندھی گئی تو کنویں سے باہر آئے۔ بہرحال جب دھوپ کم ہوئی تو پھر بیل گاڑی چل پڑی۔ اور ہم لوگ لکھن جوت پہنچ گئے جو ہمارے یہاں سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ رات میں کیا کھایا کیا پیا اس کا ہوش نہیں۔ زیادہ ترباراتی پیدل آئے تھے معلوم ہوتاہے کہ نکاح پہلے ہی ہوچکاتھا اس لیے کہ ہمارے منجھلے چچا جن کی شادی تھی وہ آنکھ کی بیماری میں مبتلا تھے۔ بہت تکلیف تھی اس لیے وہ نہ آسکے تھے۔ میری پھوپھی شاید وہیں تھیں اس لیے کہ وہ بتاتی ہیں کہ بارات پہنچنے کے بعد کسی کے ذریعہ مجھ کو اپنے پاس منگایاتھا۔ میں سب کا دلارا تو تھا ہی۔ مجھے یہ سب باتیں یاد نہیں ہیں۔ مجھے اپنی گود میں لے کر کھلایا دوسری عورتیں بھی مجھ کو کھلاتی رہیں۔ اسی دوران نیند کی حالت میں میں نے کسی عورت کی گود میں پیشاب کردیا۔ یہ سب باتیں مجھے معلوم نہیں ہیں۔ بارات میں کتنے آدمی تھے۔ کیا کھایا کیا پیا مجھے ہوش نہیں۔ ایک بات البتہ بہت مشہور تھی کہ میرے خالوعین اللہ (مرحوم) بھی بارات میں گئے تھے۔ کھانے میں بڑے کا گوشت کھلایاتھا۔ خالو کے مزاج کو پسندنہ آیا کھانے کے بعد ان کو دست شروع ہوگئے۔ وہ رات ہی میں یہ جملہ کہہ کر واپس گھر لوٹ آئے ۔ ’’سڑی سڑی گوشت کھلادیتی ہے، پیٹ جھڑا دیتی ہے‘‘ یہ خالو عام طور پر اسی طرح اردوبولتے تھے۔ معلوم نہیں زندگی کہاں گزری تھی صبح کو تمام لوگ یہی جملے دوہراتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان خالو سے ایک لڑکی (مرحوم ہوچکی ہیں) اور ایک لڑکا ہیں جوہنوز موجود ہیں اور صاحب اولاد ہیں۔ ان خالو کو میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ البتہ خالہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔
پہلے شادی بیاہ کے موقع پر یہ طریقہ تھا کہ لوگ گیہوں پٹی داروں اور قرابت داروں کے یہاں ۴،۴،۶،۶کیلوتقسیم کردیتے تھے وہ ہاتھ سے چلانے والی (جانتا) چکی سے پیس کر شادی والے گھر پہنچا دیا کرتے تھے۔ ہمارے خالو اگر چہ خالہ نہ تھیں اور بچی ابھی اس لائق نہ تھی کہ آٹاپیس سکے لیکن وہ خود شادی والے گھروں سے گیہوں لے جاتے اور خود ہی پیس کر پہنچا دیا کرتے تھے موجودہ زمانہ کی آٹا چکی کا وجود نہ تھا۔ اور اگر وجود رہا بھی ہو تو اتنی دوری پر رہی ہوں گی کہ وہاں تک گیہوں پسانے کے لیے جانا اور لانا بڑا دشوار تھا۔ یہ ہمارے خالو رمضان میں گائوں والوں کو سحری کے لیے جگاتے تھے آواز بہت اونچی اور میٹھی تھی۔ آدھی رات کے بعد اس آواز اور ان کے نغمہ کو لوگ بہت پسند کرتے وہ کہتے تھے۔’’نیندیالگی ہے‘‘ پروئیابہی ہے، اٹھولوگوں سحری کھالو کہ صبح ہونے والی ہے‘‘ سنا ہے وہ یہ کام للہ فی اللہ کرتے تھے مگر چوں کہ غربت بہت تھی، دوبچوں کی پرورش کا مسئلہ بھی تھا کھیتی باڑی کرنہیں پاتے تھے اس لیے تنگ دستی کے ساتھ شب وروز گذرتے تھے اس لیے ممکن ہے کہ کچھ لوگ رحم کے جذبے سے کچھ دیتے دلاتے ہوں اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین
بارات نے وہاں رات گذاری ، ناشتہ اور دوپہر کا کھانا کھاکر باراتی زیادہ تررخصت ہوگئے ان کو پیدل ہی جاناتھا لیکن کچھ لوگ بیل گاڑی کی حفاظت کی خاطر رکے رہے۔ مسافت کی دوری کے لحاظ سے رخصتی دیرمیں یعنی ۴؍بجے ہوئی۔ ۴؍۵؍میل چلنے کے بعد سورج غروب ہوگیا۔ بیل گاڑی کی رفتار ہی کتنی ہوتی ہے میں بیل گاڑی پر تھا اس زمانہ میں بیل گاڑی کا آدھا حصہ کچھ بانس کی پتلی پتلی ڈالیں لگاکر چادروں سے گھیر دیا جاتاتھا او رچادر جہاں کھلنے کا ڈر ہوتاہے وہاں سل دیا جاتاتھا۔ یہیں دولہن کا مخصوص سامان بھی رہتاتھا اور اس کے بیٹھنے او رلیٹنے کی جگہ بھی ہوتی ہے کچھ دور چلنے کے بعد کسی نے مجھ سے کہا اندرجائو اندرجائو اپنی چھوٹی اماں کے پاس۔ میں اندرگیا تو چچی نے اپنے بکس سے نکال کر ایک مٹھائی دی کچھ باراتی دوٹولی بناکر کچھ آگے اور کچھ پیچھے پیچھے چلتے رہتے۔ آگے والے کچھ تیز چل کر ٹھہرجاتے پھر بیل گاڑی جب ان کے پاس پہنچتی تو پھر آگے بڑھتے۔ سب کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوتیں ایسا حفاظت کی غرض سے کرتے تھے یہ سب پرانے زمانہ میں آپسی تعاون کا حال تھا صاحب معاملہ کو کچھ زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا تھا دوسرے لوگ مل بانٹ کر سارا کام کرلیا کرتے تھے۔
بعد میں جب چچی وغیرہ آنے جانے لگیں تو دادی دادا کو وہ اخلاق نہیں مل سکا جو میری اماں جان سے ملا کرتا تھا جس کا احساس دادی دادا کو بہت تھا۔ ہماری اماں کا حال یہ تھا کہ دادا کو ان کے بستر پر باہر برآمدے میں کھا نا ملا کرتا تھا اور ان بہوئوں سے ان کو وہ سلوک نہیں مل سکا جس کو اس سے پہلے انہوںنے دیکھا تھا جس کا احساس دادا اور دادی کو بہت ہوا۔ ایک مرتبہ کسی بہو نے دادا کو بلایا کہ گھر میں آکر کھانا کھالیجیے۔ کوئی باہر برآمدہ میں کھانا لیکر نہیں آئے گا اس بات کا اثر دادا پر اتنا زیادہ پڑا کہ میری والدہ کا نام لیکر دادا پھپھک کر رونے لگے اور بہت روئے او رکہا کہ رابعہ بیٹی! ہم لوگوں کو یتیم بناکر تم چھوڑکر چلی گئیں اب یہی سب دن دیکھنے کو لکھا ہوا تھا۔
ہماری اماں جان کا حال یہ تھا کہ جن دنوں کوئی ممانی نہیں رہتیں مثلاً چوکنیاں والی ممانی کا انتقال ہوگیا کچھ دنوں کے بعد کسمہی شادی ہوئی ایک بچی چھوڑکر ان کا بھی انتقال ہوگیا تو ان خالی دنوں میں ہماری والدہ اتنا سویرے اٹھتیں کہ پہلے جاکر ماموں کے یہاں کھاناپکاتیں پھر اپنے گھر کھاناپکاتیں اور سورج نکلنے سے پہلے پہلے یہاں کا کھانا بھی تیار ہوجاتا ان ایام میں ماموں او رنانا کے مہمان ہمارے گھر کے مہمان ہوا کرتے تھے۔بہت تھوڑا تھوڑا مجھے یاد ہے کہ ایک صاحب بانسی سے آتے تھے پائوں سے مجبور تھے گورے چٹے، متشرع داڑھی وہ اصلاً ماموں کے مہمان تھے ایک مرتبہ مجھے تھوڑا یاد ہے کہ وہ ڈولی پر ہمارے گھر آئے میں برآمدہ کی کرسی پر کھڑا دیکھ رہاتھا بڑا پر رونق چہرہ تھا والد صاحب سے میں نے معلومات حاصل کرنا چاہیں، تو انہوںنے بتایا کہ ہاں ایک آدمی اس طرح کے آتے تھے مگر نام مجھے یا دنہیں وہ مدرسہ چلاتے تھے۔ اس کے چندے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ایک ہمارے دور کے رشتہ دار ماسٹر عبد الرزاق صاحب تھے ہمارے گائوں کے پرائمری مدرسہ میں پڑھاتے تھے وہ ہمارے گھر سے ہی روٹی پکواتے ۔ موٹی روٹی اورہاتھ سے مل مل کر گولی بنابناکر چٹنی سے کھاتے۔ موٹی روٹی اس لیے پکواتے تھے کیوں کہ ان کے منہ میں دانت نہیں تھے۔
ان سے پہلے جو مولوی صاحب پڑھاتے تھے ان کا شایدنام ماسٹر حیات اللہ (کلو مولوی صاحب) تھا والد صاحب مجھ کو گود میں لے کر نماز پڑھنے گئے مجھے مسجد میں ایک طرف کھڑا کردیا جب جماعت کھڑی ہوئی تو میں انہی نمازیوں کے آگے پیچھے چکر لگاتارہا نماز سے فراغت کے بعد مولوی صاحب نے مجھ کو بہت ڈانٹا۔
ہمارے دادا بہت مرنجاں مرنج طبیعت کے آدمی تھے فطرت میں بڑکپن تھا کسی سے کوئی کام لیتے تو اسے خوب کھلاتے پلاتے پہلے مٹی کا گھر رہتا تھا چند سالوںمیں لکڑی سڑجاتی چوہے دیواروں کو چھلنی کرڈالتے۔ بازار سے گھربنوانے کے لیے لکڑیاں لاتے تو خواہ دس بیل گاڑی ہوں۔ سب سے کہتے کہ آپ لوگ اس وقت سیدھا (چاول، آٹا، دال، سبزی مسالہ وغیرہ) لیجیے اور اس وقت بنائیے کھائیے، رات بھر آرام کیجیے، صبح اٹھ کر جانا۔ بڑے پہلوان قد آور آدمی تھے۔ ایک بار گائوں میں یہ شور ہوگیا کہ ڈاکو گائوں کو لوٹنے کے لیے آرہے ہیں۔ کئی گائوں کے لوگ گائوں کے پچھم آکر جمع ہوگئے کئی ہزار کا مجمع ہوگیا۔ سب کے ہاتھ میںہتھیار تھا۔ میرا گھر گائوں میں پچھم طرف واقع ہے۔ اتراور پچھم کی طرف میرے گھر کے پاس کوئی آبادی نہیں یہی آخری گھر تھا۔ سرشام کا معاملہ تھا میں بھی لوگوں کے مجمع کے پاس کھڑا تھا جہاں لوگ بتارہے تھے کہ وہ سب ڈاکو ہیں۔ وہاں ایسا لگ رہاتھا کہ بیسوں ٹارچ یکبارگی جل رہی ہوں اس وقت دادا پر میری نگاہ پڑی تو دیکھا کہ لنگی کا پیچ اوپر چڑھا کر باندھے ہوئے تھے بنڈی بدن پر تھی۔ اور ان کے ہاتھ میں صرف گنڈا سا تھا اور بالکل چپ چاپ کھڑے تھے ایسا لگتا تھا کہ ابھی اگر ڈاکوئوں سے سامنا ہوجائے تو ایک ایک کی گردن کاٹتے چلے جائیں گے۔ کچھ دیر کے بعد یہ پتہ چلا کہ یہ تیاری دیکھ کر سارے ڈاکوئوں نے راستہ بدل دیا اور کہیں دوسری جانب چلے گئے۔
پہلے مانگنے والے دوردراز سے آیا کرتے تھے پورے گائوں میں مانگ کرآتے اور ہمارے گھر کے برآمدہ میں آکر سوتے۔ اس طرح دوچار مانگنے والے ہر روز ہمارے گھر سویا کرتے۔ دادا جان ان سے پوچھتے کھانا جو مانگ کر لائے ہو وہ کھالیا اگر کچھ کمی ہو تو بتائو میں گھر میں سے کھانا منگائوں اور کھالو۔

Related posts

ٹکریا کے باشندگان کے عقائد

Paigam Madre Watan

ابتدائیہ

Paigam Madre Watan

رفقائے درس

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar