اسلامی تاریخ میں ایسی کئی ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ، حکمت اور بصیرت سے امت کی رہنمائی کی، لیکن اگر کسی خاتون کو علم و حکمت کے درخشاں مینار کے طور پر دیکھا جائے تو وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ آپ کی ذات صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب زوجہ ہونے تک محدود نہیں، بلکہ آپ کا علمی، فقہی اور دینی مقام امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا حافظہ نہایت قوی تھا، جس کی بدولت آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں احادیث یاد رکھیں اور امت تک پہنچائیں۔ آپ کی بصیرت اور اجتہادی فہم اس قدر بلند تھا کہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرتے۔ آپ کی زندگی سادگی، قناعت، عبادت اور زہد سے بھری ہوئی تھی۔ آپ کا ہر لمحہ دین کی خدمت، عبادت اور خیرخواہی میں بسر ہوا۔ آج کی خواتین اگر آپ کی سیرت سے رہنمائی لیں تو وہ دین و دنیا میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اسلامی تعلیمات کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک تھیں۔ ان کا حافظہ، ذہانت، فہم اور اجتہادی بصیرت غیر معمولی تھی۔ وہ علم و فہم کا ایسا دریا تھیں جس کی روانی آج تک جاری ہے۔
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہزاروں احادیث کو روایت کیا اور ان کی وضاحت بھی فرمائی۔ ان کی بیان کردہ احادیث کی تعداد 2200 سے زائد ہے، جن میں شریعت، اخلاق، عبادات، معاملات، ازدواجی زندگی اور عورتوں کے حقوق جیسے موضوعات شامل ہیں۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کو تمام ازواجِ مطہرات اور دیگر خواتین کے علم کے ساتھ ملا دیا جائے تو ان کا علم سب پر غالب ہوگا۔”
بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی علمی مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے اور وہ اپنی فہم و فراست سے شریعت کے پیچیدہ مسائل کو واضح کرتیں۔ حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ بھی ان سے علمی رہنمائی لیتے۔
وہ قرآن مجید کی تفسیر میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ ان کا علمی درجہ اس قدر بلند تھا کہ وہ فقہ، حدیث، طب، تاریخ، ادب اور شعر و شاعری میں بھی نمایاں مقام رکھتی تھیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی زہد و تقویٰ کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی۔ دنیاوی مال و دولت سے بے نیازی، ان کی زندگی میں دنیاوی ساز و سامان کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اگر مال و دولت آتا بھی تو وہ اسے فوراً راہِ خدا میں خرچ کر دیتیں۔ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک بڑی رقم بھیجی، لیکن انہوں نے وہ رقم آتے ہی ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی، حالانکہ خود ان کے گھر میں کچھ بھی نہیں تھا۔
ان کی عبادت گزاری کا یہ عالم تھا کہ راتیں قیام و سجود میں گزرتیں اور مصلیٰ آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔ روزے کا اہتمام کرتی تھیں اور کثرت سے ذکر و اذکار میں مشغول رہتی تھیں۔
اگرچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ تھیں، مگر ان کی زندگی میں کوئی عیش و عشرت نہ تھی۔ وہ عام کپڑے پہنتی تھیں اور زیادہ تر کھانے میں سادہ کھجور اور پانی پر گزارا کرتی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عربی زبان، شاعری اور ادب میں غیر معمولی مہارت رکھتی تھیں۔
ان کی گفتگو نہایت بلیغ اور مؤثر ہوتی تھی۔ جب وہ بات کرتیں تو ایسا محسوس ہوتا جیسے الفاظ میں علم اور حکمت کا خزانہ بہہ رہا ہو۔ ان کی زبان میں سادگی مگر معانی کی گہرائی ہوتی تھی، جو عرب کے بڑے بڑے ادباء کو بھی حیران کر دیتی تھی۔
وہ عربی شاعری کو گہرے انداز میں سمجھتی تھیں اور وقتاً فوقتاً مختلف اشعار کا حوالہ دیا کرتی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں کہے گئے اشعار خاص طور پر مشہور ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا طب (میڈیکل سائنس) میں بھی مہارت رکھتی تھیں۔ وہ مختلف جڑی بوٹیوں اور علاج کے طریقوں کو خوب جانتی تھیں، اور مختلف بیماریوں کا علاج بھی بتایا کرتی تھیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شخصیت محبت اور غیرت کا حسین امتزاج تھی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت رکھتی تھیں۔ ان کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ وہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کا آخری وقت ان کی گود میں گزارا اور وہیں وصال فرمایا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی غیرت مند بھی تھیں۔ وہ اپنی عزتِ نفس کا بے حد خیال رکھتی تھیں اور دین کے معاملے میں کسی قسم کی مصلحت کو قبول نہیں کرتی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقام محض تاریخ کے صفحات میں محفوظ نہیں بلکہ وہ آج بھی ہر مسلمان عورت کے لیے مثالی نمونہ ہیں۔
ان کی سیرت عورتوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آج کی خواتین اگر ان کے زہد، علم، تقویٰ، عبادت، سادگی اور اخلاق کو اپنائیں تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ وہ ہمیشہ امت کے مسائل پر گہری نظر رکھتی تھیں اور جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ اپنی بصیرت سے امت کی رہنمائی کرتی تھیں۔ ان کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ خواتین کے لیے علم حاصل کرنا، دین کی فہم رکھنا اور اپنے کردار کو مثالی بنانا کس قدر ضروری ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم حاصل کرنا، حق کے لیے ڈٹ جانا، سچائی کا پرچم بلند رکھنا اور صبر و شکر کی روش اپنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ ان کی سیرت کو اپنانا درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنانا ہے اور یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔