Articles مضامین

بنگال کے مسلمانوں کیلئے دو شکاری تیار

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

جعفر از بنگال و صادق از دکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ننگ آدم ننگ دین ننگ وطن

ملک کے مسلمانوں کو تہہ و تیغ کرنے کیلئے ابھی تک ایک میر صادق مستعد رکھا گیا تھا، لیکن چونکہ بنگال میں زبان اور مقامی چیلنجز کے لئے میر جعفر بھی کرتیار کر لیا گیا ہے۔ لہذا بنگال کے مسلمانوں کے شکار کے لئے دو شکاری مستعد کر دئے گئے ہیں اور انہیں ان کا مدعا بھی سونپ دیا گیا ہے، میر صادق جو دکن سے آتا ہے اسے بابری مسجد کی بوسیدہ ہڈیوں کو چوسنے کیلئے برسوں مجبور کیا گیا اور اس نے اپنے آقاﺅں کے اشاروں پر خون، پیپ میں لت پت بابری کی سڑی گلی ہڈیوں کو خوب مزے لے لے کر اپنی سیاسی غذا بنائی، اب انہی ختم ہو چکی بابری مسجد کی بوسیدہ ہڈیوں کے خاتمے پر ایک نیا مسجد کا مجمسہ تیار کر دیا گیا ہے۔ اور جعفر جو بنگال سے تعلق رکھنے والا ہے اس نے اس پر کام جاری کر دیا ہے اور اس بات کا اشارہ بھی دے دیا ہے کہ ہم دکن کے میر صادق کے ساتھ مل کر بنگال کے مسلمانوں کا شکار کریں گے اور اتر پردیش، مہاراشٹر اور بہار کی طرح مسلمانوں کی آبادیوں کو تہہ و تیغ کرنے کیلئے مکمل کوشش کی جائے گی، اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے اصل قائد، ورثاءانبیا بنگال کے مسلمانوں کی رہنمائی اور رہبری کس طرح کرتے ہیں تاکہ بے انتہا نقصان سے بچا جا سکے۔
بنگال کی سرزمین، جو اپنی ثقافتی تنوع اور سیاسی ہنگاموں کے لیے مشہور ہے، ایک بار پھر ایک نئی سیاسی سازش کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یہاں کے مسلمان، جو تاریخی طور پر بنگال کی سیاست اور معاشرت میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں، اب ایک نئی چال کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ملک کے مسلمانوں کے لیے اب تک ایک "میر صادق” کو مستعد رکھا گیا تھا، جو دکن سے تعلق رکھتا ہے اور برسوں سے بابری مسجد کی بوسیدہ ہڈیوں کو چوس کر اپنی سیاسی غذا حاصل کر رہا ہے۔ لیکن اب بنگال میں زبان، مقامی چیلنجز اور علاقائی سیاست کے پیش نظر ایک نیا "میر جعفر” بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ دونوں شکاری اب بنگال کے مسلمانوں کا شکار کرنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں، اور انہیں ان کا مدعا بھی سونپ دیا گیا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ میر جعفر بنگال کا نواب تھا، جس نے 1757 میں پلاسی کی جنگ میں انگریزوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی نواب سراج الدولہ کو دھوکہ دیا اور بنگال کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا۔ اسی طرح میر صادق، جو دکن (حیدرآباد) سے تعلق رکھتا تھا، نے 1799 میں سری رنگاپٹنم کی جنگ میں ٹیپو سلطان کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست دے کر غداری کی۔ یہ دونوں نام غداری اور خود غرضی کی علامت بن چکے ہیں۔ آج کی سیاست میں، یہ استعارے ان لیڈروں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جو مسلمانوں کے نام پر سیاست کرتے ہیں لیکن دراصل انہیں تقسیم اور کمزور کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ بنگال میں "جعفر از بنگال” سے مراد ہمایوں کبیر ہیں، جو حال ہی میں ایک متنازعہ اقدام کے ذریعے منظر عام پر آئے ہیں۔ اور "صادق از دکن” سے اشارہ اسی گدھ نمبر بیرسٹر اور جناح صفت شخص کی طرف ہے، جو جناح کی مسلم لیگ کے تقسیم کے روش پر چلتے ہوئے اپنی پارٹی کا سربراہ ہے اور دکن (حیدرآباد) سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں اب بنگال کے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جیسے اترپردیش، مہاراشٹر اور بہار میں مسلمانوں کی آبادیوں کو تہہ و بالا کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
میر صادق کو برسوں سے بابری مسجد کے مسئلے کو زندہ رکھنے کا کام سونپا گیا ہے۔ بابری مسجد، جو 1992 میں گرا دی گئی تھی، اب ایک تاریخی معاملہ بن چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2019 میں اس معاملے کا فیصلہ سنایا، جہاں رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی گئی اور مسلمانوں کو الگ سے پانچ ایکڑ زمین دی گئی۔ لیکن اویسی اور ان جیسے لیڈر اس مسئلے کو سیاسی طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں۔ انہوں نے بابری مسجد کی "سڑی گلی ہڈیوں” کو خون پیپ میں ملوث کر کے اپنی سیاست کو چمکایا ہے۔ اب اسی مسئلے کو بنگال میں زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جہاں ایک نئی مسجد کا مجسمہ تیار کیا جا رہا ہے۔
بنگال کے مسلمانوں کے لیے ایک نیا نام نہاد رہنما "ہمایوں کبیر” کو مارکیٹ میں متعارف کرایا گیا ہے۔ ہمایوں کبیر کی سیاسی تاریخ دلچسپ اور متنازعہ ہے۔ وہ 2019 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں اور اس وقت مسلمانوں کے دو لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے۔ بعد میں وہ ترنمول کانگریس (TMC) میں شامل ہو گئے اور موجودہ ایم ایل اے (MLA) ہیں۔ لیکن جب انہوں نے 6 دسمبر 2025 کو مرشد آباد کے بیلڈنگا میں بابری مسجد کی طرز پر ایک مسجد کی بنیاد رکھنے کا اعلان کیا، تو TMC کی سربراہ ممتا بنرجی نے انہیں پارٹی سے معطل کر دیا۔ یہ معطلی محض ایک دکھاوا معلوم ہوتی ہے، کیونکہ TMC پر الزام ہے کہ یہ سب کچھ پارٹی کی خاموش منظوری سے ہو رہا ہے۔ 6 دسمبر 2025 کو، بابری مسجد کی برسی کے دن، ہمایوں کبیر نے مرشد آباد کے ریجی نگر میں اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ یہ تقریب سخت سیکیورٹی میں ہوئی، جہاں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ قرآن کی تلاوت کی گئی، اینٹیں جلوس کی شکل میں لائی گئیں، اور تقریباً 300 کروڑ روپے کے بجٹ کا اعلان کیا گیا۔ اب تک، اس مسجد کے لیے تقریباً 2.71 کروڑ روپے بینک اکاونٹ میں جمع ہو چکے ہیں، جبکہ 65.67 لاکھ روپے نقد میں جمع کیے گئے۔ ہمایوں کبیر کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد مسلمانوں کی "عزت کی جنگ” ہے اور وہ اسے ہر حال میں بنائیں گے، چاہے گھر جائیداد بیچنی پڑے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مسجد (اللہ کا گھر) بابر کے نام پر کیوں؟ بابر ایک حملہ آور تھا، جس نے ہندو مندروں کو تباہ کیا۔ کیا یہ سیاسی سازش نہیں ہے؟ بنگال میں بابری مسجد کی طرز پر عمارت بنانے کا مطلب کیا ہے، جبکہ بابری مسجد کا اصل مسئلہ اترپردیش میں تھا؟ یہ اقدام بنگال کی سیاست کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر 2026 کے اسمبلی الیکشن سے پہلے۔ ہمایوں کبیر نے 22 دسمبر 2025 کو ایک نئی پارٹی بنانے اور AIMIM کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ممکن ہے کہ اتحاد نہ ہو، کیونکہ دونوں اپنے دم پر مسلمانوں کے ووٹ کاٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلم اکثریتی علاقوں میں 135 امیدوار اتارنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ ہمایوں کبیر خود کو "بنگال کا اویسی” قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ 2026 کے الیکشن میں وہ "کنگ میکر” بنیں گے، یعنی کوئی حکومت ان کے بغیر نہیں بن سکے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ BJP حکومت اس پورے معاملے پر خاموش ہے۔ BJP، جو مدارس، مساجد اور مسلمانوں کے خلاف بیانات دیتی رہی ہے، اب بابری مسجد کی بنیاد پر کیوں خاموش ہے؟ شاید اس لیے کہ یہ ان کی چال کا حصہ ہے۔ اگر مسجد نہ بنی تو بنگال کے مسلمان ناراض ہوں گے، اور اگر بنی تو بنگالی ہندو ناراض ہوں گے۔ اس طرح BJP کو دونوں طرف سے فائدہ نظر آ رہا ہے۔ یہ پولرائزیشن کی سیاست ہے، جو الیکشن سے پہلے فرقہ وارانہ تناو بڑھا کر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ بنگال کی عوام، خاص طور پر مسلمان، اب تک خوش حال، امن و سکون سے زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن اب انہیں بہلایا جا رہا ہے۔ ہمایوں کبیر جیسے لیڈر مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کر کے TMC یا BJP کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے اصل قائد، ورثائے انبیائ، کو اب بنگال کے مسلمانوں کی رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ بے انتہا نقصان سے بچا جا سکے۔ کیا یہ سب کچھ بنگال کو بدحالی سے ملانے کی سازش کا حصہ ہے؟ یا محض ووٹ بینک کی سیاست؟ اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہماری سیاست اور قیادت کا سیاسی نظریہ کیا ہو گا۔ کیا مسلمان متحد رہیں گے یا تقسیم ہو کر کمزور ہوں گے؟ ملک اور خاص کر بنگال کے مسلمان تاریخ سے سبق سیکھیں اور غداری کی ان چالوں سے بچیں۔ بنگال کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے لیڈروں سے ہوشیار رہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں لیکن دراصل انہیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ امن، اتحاد اور ترقی کی سیاست کو اپنائیں، نہ کہ فرقہ واریت کی۔

Related posts

ازدواجی زندگی میں باہمی اختلافات کے بچوں پر منفی اثرات

Paigam Madre Watan

یوٹیوب کا فکری انتشاراور ڈیجیٹل دور کاعالمی فتنہ:  انجینئر محمد علی مرزا کی فکری گمراہیوں کا تنقیدی جائزہ

Paigam Madre Watan

देश के गद्दारों पर ओबैदुल्लाह खान आज़मी का आकर्षक बयान

Paigam Madre Watan

Leave a Comment