Education تعلیم

وکست بھارت صرف خود انحصاری سے ممکن

حیدرآباد، وکست بھارت صرف خود انحصاری سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ خود انحصاری ہی خودداری کی کنجی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز ماہر نظم و نسق عامہ پروفیسر رمیش کے اروڑہ نے کیا۔ وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ دے رہے تھے۔ شعبہ نظم و نسق عامہ، مانو کی جانب سے ’ہندوستان میں سماجی پالیسیاں اور نظم و نسق عامہ: وژن 2047‘ کے زیر عنوان سمینار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر اروڑہ نے ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے ’خودداری اور خود انحصاری ‘سے متعلق خیالات سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے ہر معاشرتی پالیسی کے لیے ایک مؤثر ’انتظامی منصوبہ‘ تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ قابلِ عمل انتظامی منصوبے کے بغیر معاشرتی پالیسیاں ناکامی سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ہندوستان دنیا کی بہترین پالیسیاں بناتا ہے، مگر ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو پاتا کیونکہ انتظامی منصوبوں کی کمی ہوتی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے صدارتی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مانو پوری ذمہ داری کے ساتھ وژن 2047 کی سمت میں کام کر رہی ہے، بالخصوص ان طلبہ کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جو سماج کے محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور اردو بولتے ہیں یا جن کی ذریعۂ تعلیم اردو ہے۔
آندھرا پردیش کی سابق وزیر برائے سماجی بہبود، محترمہ کونڈرو پشپالیلا نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے سماجی پالیسیوں کی کامیابی کے لیے سیاست دانوں، بیوروکریٹس، ماہرینِ تعلیم، عملی میدان کے افراد اور نظریہ سازوں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے محققین سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ سماجی پالیسیوں پر ریاستی اور حکومتی سطح کے تقابلی مطالعات پر بھی غور کریں۔
اسکول آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کے ڈین، پروفیسر پی ایچ محمد نے نظم و نسق عامہ کو سماج کے آخری فرد تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سماجی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ کس حد تک محروم اور حاشیے بردار طبقات کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
سمینار کے کنوینر اور شعبہ کے صدر پروفیسر سید نجی اللہ نے سمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی پالیسیوں کی کامیابی وژن 2047 کی راہ ہموار کرے گی اور یہ وہ شعبہ ہے جہاں نظم و نسق عامہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ نظم و نسق عامہ پالیسی کی تشکیل اور اس کے نفاذ دونوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سمینار وکست بھارت کے وژن 2047کی روشنی میں ان دونوں شعبوں میں ہماری ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا ہے۔
افتتاحی اجلاس کے دوران وائس چانسلر نے ”بہار، جرنل آف پبلک ایڈمنسٹریشن‘ کے ایک خصوصی شمارے کی بھی رسمِ اجرا انجام دی۔ اس خصوصی شمارے میں شعبۂ نظم و نسق عامہ ، مانو کے زیرِ اہتمام گزشتہ سال منعقدہ ’پائیدار ترقی کے اہداف‘ پر بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کیے گئے منتخب تحقیقی مضامین شامل ہیں۔ پروفیسر سید عین الحسن نے شعبہ کا سالانہ مجلہ ’پبلک ایڈمنسٹریشن نیوز لیٹر‘بھی جاری کیا۔

Related posts

تصوف اخلاق کو کہا جاتا ہے اور آدمیت کی بنیاد اخلاق ہیں

Paigam Madre Watan

شکیل احمد کو شعبہ نظم و نسق عامہ میں ڈاکٹریٹ

Paigam Madre Watan

کیرالہ پبلک سروس کمیشن میں شعبۂ عربی ، مانو کے طلباء کی شاندار کامیابی

Paigam Madre Watan

Leave a Comment