(ڈاکٹر محمد وسیم، نئی دہلی، اِنڈیا)
جامعہ اسلامیہ سنابل کی شاخ مَعھد، نئی دہلی میں ہم مرحلۂ متوسّطہ میں تھے، ایک دن مدرسے میں خبر پھیلی اور ہم ساتھیوں تک بھی خبر پہنچی کہ ایک نئے استاد مولانا عبدالحکیم صاحب آۓ ہیں، اُنھوں نے ثانیہ متوسّطہ میں ہمیں الرّحیق المختوم اور ثالثہ متوسّطہ میں تاریخِ اسلام پڑھایا، وہ کسی بھی بات کو آسان زبان میں طلبہ کو سمجھاتے تھے، اُن کے آنے کے بعد بہت زیادہ وقت نہیں گزرا، کیوں کہ چند سال کے بعد ہم نے جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں بی اے میں داخلہ لے لیا، لیکن اُن سے متعلّق جو بھی باتیں اور یادیں ہیں اُن کو اِس مضمون میں لکھ رہا ہوں
مَیں بچپن میں زمانۂ طالبِ علمی میں تھوڑا شرارتی تھا، جس کی وجہ سے بعض بار اساتذہ کی ڈانٹ بھی سننی پڑی، مولانا عبدالحکیم صاحب معھد کے پرنسپل بن چکے تھے، رمضان المبارک کی چُھٹّی ہوئی، عیدالفطر کے بعد ہم مدرسے آۓ، مغرب کی نماز سے پہلے کالندی کنج روڈ سے مَیں اور ایک ہم جماعت ساتھی سنابل آ رہے تھے، آٹھ اور نَو نمبر کے درمیان میں تھے کہ مَیں نے دیکھا کہ مولانا عبدالحکیم صاحب آ رہے ہیں
راستے میں ملاقات ہوئی، مَیں نے السّلام علیکم کہا، اُنھوں نے جواب دیا، مولانا کی ایک خاصیت یہ تھی کہ وہ سلام کرنے میں پہل کرتے تھے اور سلام کا جواب بھی تھوڑی تیز آواز میں دیتے تھے، تو مَیں یہ لکھ رہا تھا کہ راستے میں ملاقات ہو گئی اور سلام و دعا ہوا، اُنھوں نے ہنس کر مجھ سے کہا کہ تم پھر اِس سال آ گئے، یعنی ایک سال پھر ہمیں پریشان کرو گے، دیکھیں گے کہ تم اِس سال کیسے رہو گے، صحیح سے رہو گے یا پھر شرارت کرو گے، یہ اُن کا مُشفِقانہ انداز تھا
میرے والد مولانا محمد امین رحمہ اللہ کی وفات کے بعد اُن کی حیات و خدمات پر مَیں نے کتاب لکھنا شروع کیا، کچھ معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک دن مولانا عبدالحکیم صاحب سلفی کو کال کیا، اُنھوں نے بتایا کہ آپ کے والد کے آنے کے کچھ سال بعد ہم آۓ تھے، ہم مدرّس تھے اور آپ کے والد صاحب انچارج تھے، اس لیے اُس طرح سے زیادہ ملاقاتیں نہیں تھیں، لیکن آہستہ آہستہ تعلقات بن گئے تھے، اُنھوں نے کچھ معلومات فراہم کیں، ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر، نئی دہلی کے اسکول بستی میں مولانا عبدالحکیم اور میرے والد مولانا محمد امین چند سال/چند مہینے تک خدمات انجام دیئے
ایک دفعہ کا واقعہ ہے، تب مَیں جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، ایک دن مَیں کچھ کام سے جامعہ ملّیہ اسلامیہ میں موجود اِنڈین بینک گیا تھا، مَیں اپنا کام مکمل کر کے جیسے ہی کاؤنٹر سے پیچھے کی جانب مُڑا، تو دیکھا کہ تھوڑی دور پر مولانا عبدالحکیم صاحب کھڑے ہیں، اُن کے ہاتھ میں اِنڈین بینک کا پاس بُک ہے، اُن کو دیکھتے ہی اُن کے سامنے مَیں ایک شاگرد/طالبِ علم کی طرح کھڑا ہو گیا، مَیں نے اُن سے السّلام علیکم کہا، اُنھوں نے جواب دیا اور خیریت دریافت کی
مولانا کہنے لگے کہ وسیم، اے ٹی ایم بنوانے کے لیے میں آیا تھا، ذرا بتاؤ کیا کرنا ہے، مَیں نے کہا: شیخ، آیئے، شیخ کو ایک آفس میں لے گیا، بینک افسر سے میں نے کہا کہ اے ٹی ایم کے لیے اپلائی کرنا ہے، افسر نے رہنمائی کی اور شیخ کا کام ہو گیا، شیخ کہنے لگے کہ تم جامعہ جا رہے تھے، میری وجہ سے رک گئے، مَیں نے کہا: شیخ، کوئی بات نہیں، آپ کے لیے یہ خدمت تو کچھ بھی نہیں ہے، شیخ نے کہا کہ شکریہ، جزاک اللہ خیرا
مَیں نے شیخ سے السّلام علیکم کہا اور آ گیا، شیخ کا بھی کام ہو گیا تھا، اُس دن سے شیخ سے پھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی، شیخ کو دیکھنا نصیب ہوا، یہ روزی روٹی، یہ نوکری اور بھاگ دوڑ کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے، پاس میں رہتے ہوئے بھی لوگوں سے مِلنا نصیب نہیں ہوتا ہے
شیخ کی شدید بیماری کی خبر پڑھ کر دِلِی تکلیف ہوئی، اُن کی صحت یابی اور دوا و علاج میں تعاون کے لیے تحریر لکھ کر سوشل میڈیا پر شیئر کی، ہمارے کچھ قریبی لوگوں اور دوست نے تعاون بھی کیا، اُنھوں نے مجھ پر بھروسہ کر کے میرے بینک اکاؤنٹ میں 15 ہزار 5 سَو روپے بھیجے، اُنھوں نے مجھ سے کہا: ڈاکٹر صاحب! آپ دِلّی میں ہیں، یہ روپے شیخ کے متعلّقین تک آپ پہنچا دیجیے گا، جزاھم اللہ خیراً و اَحسن الجزاء
آج شام کے وقت اُن کی وفات کی خبر سن کر بڑی تکلیف ہوئی، اُن کی مغفرت کے لیے مَیں نے دعائیں کیں، اُن کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے بٹلہ ہاؤس سے جامعہ اسلامیہ سنابل ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی گیا
مولانا عارضی دنیا سے رخصت ہو کر دائمی دنیا کی طرف چلے گئے، دنیا میں اپنا مقرّرہ وقت پورا کر کے آخرت کی طرف وہ روانہ ہو گئے، اُن کی باتیں اور یادیں رہ گئیں، یہ تحریر اُن کے حق میں ذِکرِ خیر پر مبنی ہے، اِس ذِکرِ خیر پر بھی اللہ تعالیٰ اُنھیں ثواب دے گا، اُن کے ہزاروں طلبہ اُن کے لیے دعائیں کر رہے ہیں، کئی سالوں پر مشتمل اُن کی تدریسی خدمات ہیں، اُن کی کئی نیکیاں ہیں، وہ اہلِ توحید اور اہلِ ایمان میں سے تھے، اِن سب نیکیوں کی بدولت ہمیں اللہ تعالیٰ سے پوری امّید ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور اُن کی مغفرت فرمائے گا، اُن کے لیے قبر کی منزل کو آسان فرمائے گا اور جنّت میں ضرور جگہ دے گا۔اِن شاء اللہ

