Delhi دہلی

بی جے پی اور مودی حکومت نے جان بوجھ کر آپ حکومت کو مفلوج بنا رکھا تھا: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی، عام آدمی پارٹی نے دہلی حکومت کے پاس تبادلہ و تقرری کے اختیارات نہ ہونے کے باوجود جل وزیر پرویش ورما کی جانب سے ڈی جے بی کے تین افسران کی معطلی کے حکم پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ دہلی پردیش کے صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مودی حکومت نے جو قانون لا کر آپ حکومت سے تبادلہ و تقرری کے اختیارات چھین لیے تھے، آج اسی قانون کے ہوتے ہوئے ایک وزیر افسران کے تبادلے اور معطلی کا حکم دے رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ اب یہ بالکل واضح ہو گیا ہے کہ دس برسوں تک آپ حکومت کو بی جے پی اور مودی حکومت نے اپنے ایل جی اور قوانین کے ذریعے جان بوجھ کر مفلوج بنا کر رکھا تھا ۔ یہ مودی جی کے اصل چہرے کو بھی بے نقاب کرتا ہے، جو سیاسی فائدے کے لیے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو سزا دینے پر آمادہ ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے ایکس پر کہا کہ میری خدا سے دعا ہے۔ گزشتہ دس طویل برسوں سے دہلی کی عام آدمی پارٹی کی منتخب حکومت کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا گیا۔ ایک منتخب ریاستی حکومت کی بنیادی اور جائز طاقتیں چھین کر مودی انتظامیہ نے گورننس کو ایک مسلسل کشمکش میں بدل دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کی مرکزی حکومت بار بار یہ دلیل دیتی رہی کہ چونکہ دہلی ملک کی راجدھانی ہے، اس لیے افسران کے تبادلے کا اختیار ریاستی حکومت کو نہیں دیا جا سکتا۔ اس طرح منتخب حکومت کے نمائندوں کے لیے بدعنوان یا لاپرواہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا ناممکن بنا دیا گیا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ مئی 2023 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے انصاف کے تقاضوں کے مطابق یہ اختیارات دہلی حکومت کو واپس کر دیے تھے، مگر پھر ایک غیر اخلاقی اور غیر آئینی قانون کے ذریعے انہیں دوبارہ چھین لیا گیا۔ مرکزی حکومت نے ووٹروں کی آواز دبا دی۔ آج اسی قانون کے ہوتے ہوئے ایک وزیر افسران کے تبادلے اور معطلی کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے منظم طریقے سے نااہل اور لاپرواہ افسران کو اہم محکموں میں تعینات کیا تھا۔ بدعنوانی اور کھلی بدانتظامی کی بے شمار شکایات کے باوجود ایل جی نے ان افسران کو تحفظ دیا اور وہ حساس عہدوں پر برقرار رہے۔ یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کہ وزراء کو ایک چپراسی تک کا تبادلہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، پھر بھی ان سے روزانہ کارکردگی اور ڈلیوری کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اصل چہرے اور ان کے طرزِ حکمرانی کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ایسے لیڈر کو ظاہر کرتا ہے جو سیاسی فائدے کے لیے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو سزا دینے پر تیار ہے۔ اس انتظامیہ نے جان بوجھ کر ایسی رکاوٹیں کھڑی کیں جن کے باعث لاکھوں غریب باشندوں کو شدید اذیتیں جھیلنی پڑیں۔ آخر میں سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی کے چیف سیکریٹری نریش کمار اور ہیلتھ سیکریٹری ایس بی دیپک کمار جیسے افسران کی کارروائیوں نے (ایل جی ونے سکسینہ کے تحفظ میں) کمزور ترین طبقے کے لیے بنیادی طبی سہولیات کا گلا گھونٹ دیا۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں یا ڈائیلیسس پر انحصار کرنے والوں تک کو نہیں بخشا۔ یہ سراسر بے حسی اور سنگ دلی ہے۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ غریبوں کی اس تکلیف کے ذمہ دار تمام افراد (لیفٹیننٹ گورنر، نریش کمار، ایس بی دیپک کمار اور دیگر) خدا کے قہر کا سامنا کریں اور اپنی اس درندگی کے بدلے ویسی ہی اذیت بھگتیں۔

Related posts

ڈی سی پی سی آر میں فنڈز کے غلط استعمال کا الزام بے بنیاد ہے

Paigam Madre Watan

وزیر اعظم مودی امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ میں سیزفائر کرنے پر ملک سے معافی مانگیں: سنجے سنگھ

Paigam Madre Watan

میرا سب سے بڑا اثاثہ میری ایمانداری ہے، بی جے پی جھوٹے مقدمات سے میری ایمانداری کو ٹھیس پہنچانا چاہتی ہے: اروند کیجریوال

Paigam Madre Watan

Leave a Comment