دہشت گردی جیسے سنگین الزام کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کے مقدمات منظم اور پائیداری سے لڑنے کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی اس فہرست میں صرف جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کا ہی نام ہوگا ۔گذشتہ بیس سالوں میں ہزاروں مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی، سیکڑوں کی رہائی اور درجنوں کو پھانسی کے تختہ پر لٹکنے سے بچانے جیسا عظیم کام انجام دینا جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی ہی دین ہے ۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے سال 2007 میں اس وقت اپنی خدمات پیش کرنا شروع کیا جب مہاراشٹر سے لگاتار مسلم نوجوانوں کی دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتاریں عمل میں آرہی تھی، بدنام زمانہ مہاراشٹر اے ٹی ایس چن چن کر اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانو ں کو گرفتار کررہی تھی اس وقت مرد مجاہد گلزار احمد اعظمی(مرحوم) کھڑے ہوئے اور انہوں نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی سے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت ہونے والی گرفتاری سے پوری قوم مایوسی اور حوصلہ شکنی کا شکارہے لہذا جمعیۃ علماء کو ن مظلومین کے لیئے کچھ کرنا چاہئے ، گلزار اعظمی کی درخواست پر مولانا ارشد مدنی نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کو نا صرف مقدمات لڑنے کا حکم دیا بلکہ ان کا مالی تعاون بھی کیا۔ گلزار اعظمی نے مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر باقاعدہ قانونی امداد کمیٹی کی بنیاد رکھی اور ایڈوکیٹ شاہد اعظمی(مرحوم) کے ساتھ بے قصور مسلم نوجوانوں کے مقدمات لڑنے کا بیڑا اٹھایا۔تقریباً 18؍برس تک (اپنی آخری سانس تک ) گلزار احمد اعظمی نے حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت اور رہنمائی میں مقدمات لڑنے کی ایسی مثال قائم کی کہ ریاست مہاراشٹر کے باہر محروسین بھی ان کی طرف دیکھنے لگے۔حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے ان کو مہاراشٹر سے باہر ملک کے مختلف مقامات کے مقدمات کو دیکھنے کی اجازت دی ،جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے قصور ملزمین کو رہائی نصیب ہوئی یا وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔
آج گلزار اعظمی اور ایڈوکیٹ شاہد اعظمی ہمار ے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے ذریعہ شروع کیا گیا کام جمعیۃ علماء مہاراشٹر بحسن وخوبی کررہی ہے۔ صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی ، جنرل سیکریٹری مفتی محمدیوسف قاسمی، احقر(قانونی مشیر ایڈوکیٹ شاہد ندیم)، ایڈوکیٹ انصار تنبولی اور ان کے رفقاء نہایت جانفشانی سے اس کار خیر کو انجام دے رہے ہیں،اور مسلسل حضرت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند سے رابطہ میں رہتے ہیں۔جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں گرفتار مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کے لیئے دہلی کو مرکز بنا کر وہاں سے لکھنؤ ، جئے پور، کولکاتہ، پنچاب کے مقدمات کو دیکھنے کے لئے وکیلوں کو بھیجنے کی ترتیب بنائی ، اسی طرح پٹنہ سے جمشید پور، اڑیسہ، چھتیس گڑھ ، آسام کے مقدمات دیکھنے کا نظم کیا اور ممبئی سے گجرات، مدھیہ پردیش، کیرالا، ناشک ، پونے ، مہاڈ وغیرہ وکلاء کو تاریخوں پر بھیجنے کی اسکیم بنائی۔جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کے مقدمات کی پیروی کرنے میں کوئی کوکسر نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے سیکڑوں لوگوں کی جیل سے رہائی ہوپائی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی ناصرف آئینی معاملات میں سپریم کورٹ سے لیکر ہائی کورٹ تک مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے بلکہ دہشت گردی اور فسادات میں ماخوذ مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی بھی کررہی ہے۔جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے نتیجے میں ابتک 339؍ لوگوں کو دہشت گردی کے سنگین الزامات سے بری کرایاجاچکا ہے جبکہ ملک کی مختلف عدالتوں سے 240؍ ملزمین کی ضمانتیں منظور کرائی گئی ہے۔ فی الحال جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی 500؍ ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی جس میں نچلی عدالت اور ہائی کور ٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے 85؍ ملزمین اور عمر قید کی سزا پانے والے 125؍ ملزمین کے مقدمات ہیں۔ اسی طرح نچلی عدالت میں 13/7ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملہ، پونے جنگلی مہاراج روڈ بم دھماکہ معاملہ،ممبئی لشکر طیبہ معاملہ،پونے سیمی معاملہ،حیدرآباد دربھنگہ این آئی اسپیشل مقدمہ،غزوہ ہند پٹنہ مقدمہ، یو اپی اے ٹی ایس القاعدہ مقدمہ، یو پی این آئی لشکر طیبہ مقدمہ ، امروہہ دہلی داعش مقدمات میں سرکاری گواہان کا اندراج جاری ہے، سیشن عدالتوں میںیومیہ کی بنیاد پر عدالتی کارروائی چل رہی ہے۔ معاشی طور پر کمزور ملزمین کے اہل خانہ کو ماہانہ وظائف دیئے جارہے ہیں ، وظائف کا سلسلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری ہے نیز عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کی پیرول پر رہائی کے لیئے بھی کوشش کی جارہی ہے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت آئینی مقدمات کی پیروی بھی کررہی ہے جس میں عباد ت گاہوں کے تحفظ کا قانون، لئو جہاد، وراثت کی تقسم کا مسئلہ، طلاق ثلاثہ قانون و دیگر شامل ہیں۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں کامیابی سے تکمیل پائے چند اہم مقدمات :۔
ا۔ اکشردھام مندر حملہ مقدمہ:۔ اکشر دھام مندر حملہ معاملے میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے مفتی عبدالقیوم منصوری،آدم سلیمان بھائی اجمیر اور چاند خان کی پھانسی کی سزا کو سپریم کورٹ نے ناصرف ختم کیا بلکہ انہیں مقدمہ سے باعزت بری کیئے جانے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ آنے کے بعد حضرت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند نے دہلی میں ایک عظیم الشان پریس کانفرنس کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اصل مجرموں کو بے نقاب کرے ۔نچلی عدالت نے مفتی عبدالقیوم منصوری کے ساتھ دیگر کل چھ لوگوں کو سزائیں سنائی تھیں ، تین پھانسی اور تین عمر قید۔سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اسی مقدمہ میں بعد میں گرفتار کیئے گئے تین دیگر ملزمین کو خصوصی پوٹا عدالت نے مقدمہ سے بری کردیا یعنی اس مقدمہ سے کل نو ملزمین بری ہوئے۔24؍ ستمبر 2002؍ گجرات کے مشہور اکشردھام مندر پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا،حملے کے دوارن کمانڈو نے حملہ آوروں کو فائرنگ میں ہلا ک کردیا تھا ۔ حملہ آوروں کی مدد کرنے کے الزامات کے تحت کل نو ملزمین کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جنہیں ٹرائل کور ٹ اور سپریم کورٹ سے بالترتیب رہائی ملی۔
۲۔ 7/11؍ ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکہ مقدمہ:۔11؍ جولائی2006 کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میںسلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس میں209؍ لوگوں ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو ئے تھے۔ مہاراشٹر انسدادد ہشت گر دستہ نے 13؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مکوکا قانون کا اطلاق کرتے ہو ئے مقدمہ کی سماعت شروع کیا تھا۔ نچلی عدالت نے مقدمہ کی سماعت کرتے ہو ئے پانچ ملزمین کو پھانسی اور سات ملزمین کو عمر قید دیئے جانے کا حکم جاری کیا تھا جبکہ ایک ملزم کو مقدمہ سے بری کردیا تھا۔ نچلی عدالت کے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا جہاں بامبے ہائی کورٹ نے تمام 12؍ ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیاجس کے بعد تقریبا 19؍ سالوں کے بعد ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آئی۔رہائی کے بعد یہ تمام افراد جمعیۃعلماء مہاراشٹر کا شکریہ ادا کرنے کے لئے جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے دفتر ،امام باڑہ کمپائونڈ ،ممبئی میں آئے ،اور صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی اور ان کے رفقاء سے ملاقات کرکے جمعیۃ کا شکریہ ادا کیا۔مولانا حلیم اللہ قاسمی نے ان کو مخاطب کرکے کہا کہ جمعیۃعلماء کے صدر محترم مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ہم لوگ خدمت خلق کے جذبہ سے یہ کام کرتے ہیں،اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھتے ہیں۔
۳۔ پٹنہ گاندھی میدان بم بلاسٹ مقدمہ؛۔وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی ریلی میں بم بلاسٹ کرنے کے الزامات میں گرفتار نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے چار ملزمین کی پھانسی کی سزائوں کو پٹنہ ہائی کورٹ نے 11؍ ستمبر 2024؍ کو تیس سال قید بامشقت میں تبدیل کردیا ۔27؍ اکتوبر 2013؍ کو گاندھی میدان میں منعقدہ ہنکار ریلی میں بم دھماکے ہوئے تھے جس میںچھ لوگوں کی موت ہوئی تھی۔
۴۔ سی آر پی ایف رامپور مقدمہ:۔29؍ اکتوبر 2025کو الہ آبادہائی کورٹ نے سی آر پی ایف کیمپ رامپور مقدمہ میں نچلی عدالت سے پھانسی کی سزا پانے والے چار ملزمین کی پھانسی کی سزائوں کو ختم کردیا۔نچلی عدالت نے چار ملزمین کو پھانسی، ایک ملزم کو عمر قید اور تین ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا تھا۔رامپور سی آر پی ایف حملہ میں 7؍ فوجی جوانوں اور ایک رکشاء والے کی موت ہوئی تھی۔
۵۔ انڈین مجاہدین گجرات مقدمہ:۔ انڈین مجاہدین گجرات مقدمہ میںاستغاثہ نے 77؍ ملزمین کے خلاف مقدمہ چلایا تھا جس میں سے نچلی عدالت نے 28؍ ملزمین کو بری کردیا تھا جبکہ 38؍ ملزمین کو پھانسی اور 11؍ ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف داخل اپیل پر گجرات ہائی کورٹ نے سماعت مکمل کرلی ہے اور فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔جولائی مہینہ میں ہائی کورٹ فیصلہ ظاہر کرسکتی ہے۔
۶۔ القاعد ہ مقدمہ:۔القاعدہ نامی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کے رکن ہونے کے الزام کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا سیدانظر شاہ اور مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمات کی پیروی کی گئی۔دہلی کی سیشن عدالت نے نا کافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مولانا انظر شاہ کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا،اس کے بعد انہوں نےعلیٰ الفور جمعیۃعلماء ہند کے مرکزی دفتر مسجد عبد النبی جاکر حضرت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند سے ملاقات کی اور اظہار تشکر کیا۔ جبکہ سیشن عدالت کٹک اور سیشن عدالت جمشید پور نے ٹرائل کی سماعت کرنے کے بعد مولانا عبدالرحمن کٹکی کو مقدمہ سے باعزت بری کردیا۔ دہلی سیشن عدالت نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کو ساڑھے سات سال کی سزا سنائی جسے دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف انڈیا نے برقرار رکھا، سپریم کورٹ آف انڈیا میں مولانا عبدالرحمن کٹکی کی جانب سے نظر ثانی کی عرضداشت داخل کی جارہی ہے۔
۷۔26/11؍ ممبئی حملہ:۔ 26/11؍ممبئی حملہ مقدمہ میں اجمل قصاب کے ساتھ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے دو ہندوستانی فہیم انصاری اور صباح الدین کو بھی گرفتار کیا تھا۔ دونوں ہندوستانی ملزمین کے مقدمہ کی پیروی کی گئی جس کے نتیجے میں ممبئی کی خصوصی عدالت نے29؍ اگست 2012؍ کو دونوں ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا۔مہاراشٹر حکومت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جہاں انہیں ناکامی حاصل ہوئی۔
۸۔ہبلی بم بلاسٹ مقدمہ:۔ ہبلی بم بلاسٹ مقدمہ کا سامنا کررہے 17؍ مسلم نوجوانوںکو ناکافی ثبوت و شواہد کی روشنی میں سیشن عدالت نے 30؍ اپریل 2015؍ کو بری کردیا۔تمام 17؍ ملزمین اعلی تعلیم یافتہ تھے جس میں ڈاکٹر انجینئر ٹیچر شامل تھے۔
۹۔ مالیگائوں2006؍ بم بلاسٹ مقدمہ:۔ مالیگائوں 2006؍ بم بلاسٹ مقدمہ میں مہاراشٹر اے ٹی ایس نے 9؍ مسلم نوجوانو ں کو گرفتارکیا تھا، پہلے ان مسلم نوجوانوں کی ضمانت کرائی گئی پھر انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا۔ قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے مہاراشٹر ATSپر الزام عائد کیا کہ انہو ں نے حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزام میں مسلم نوجوانو ں کو جھوٹا گرفتار کیا ہے جبکہ ان بم دھماکوں میں دھان سنگھ و دیگر ملزمین کاہاتھ ہے۔سال 2011؍ میں خصوصی مکوکا عدالت نے ملزمین کی ضمانت منظور کی جبکہ سال 2016؍ میں خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا۔جس کا گلزار احمد اعظمی مرحوم نے خیر مقدم کیا،ا س کے بعداصل مجرموں پر مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی ،لیکن پچھلے دنوں انہیں بری کردیاگیا ،جو متاثرین کے ساتھ صریح نا انصافی ہے،جمعیۃعلماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی نے متاثرین کی طرف سے اوپر کی عدالت میں درخواست دائر کی ہے ۔
۱۰۔ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ:۔ اورنگ آباد اسلحہ ضبطی مقدمہ کا سامنا کررہے 21؍ میں سے 8؍ ملزمین کو نچلی عدالت نے بری کردیا جبکہ دیگر ملزمین کو آٹھ سال، دس سال اور عمر قید کی سزا سنائی۔ نچلی عدالت سے ملنے والی سزائوں کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ دو ملزمین کے علاوہ تمام ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میںآچکی ہے۔اسی مقدمہ کے تعلق سے ایڈوکیٹ شاہد اعظمی مرحوم نے حضرت مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃعلماء ہند سے ملاقات کرکے قانونی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی تھی ۔
۱۱۔ ٹفن بم بلاسٹ مقدمہ:۔ گجرات ٹفن بم بلاسٹ مقدمہ میں نچلی عدالت سے عمر قید کی سز ا پانے والے چار ملزمین کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے ختم کردیا۔2؍فروری2017کو سپریم کورٹ نے دو ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا جبکہ بقیہ دو ملزمین کو ان کی ابتک جیل میں گذارے گئے ایام کو سزا مانتے ہو ئے انہیں بھی جیل سے رہا کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔29؍ مئی 2002؍ کو گجرات کے مختلف مقامات پر ٹفن ڈبوں میں بم نصب کیئے گئے ، ان بم دھماکوں میں کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی البتہ سیکٹروں لوگ زخمی ہوئے تھے۔
۱۲۔کیرالا واگھمن سیمی مقدمہ:۔ کیرالا واگھمن سیمی مقدمہ میں نچلی عدالت نے 20؍ ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا جبکہ 18؍ ملزمین کو سات سال کی سزا سنائی ۔ سزا یافتہ ملزمین کی اپیلیں ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ملزمین پر الزام تھاکہ انہوں نے بم دھماکہ انجام دینے کے لیئے واگھمن نامی مقام پر دہشت گردانہ میٹنگیں منعقد کی تھیں اور وہ انڈین مجاہدین نامی ممنوعہ تنظیم کے اراکین ہیں جنہوں نے ممبئی، گجرات، دہلی، راجستھان، حیدرآباد و دیگر شہروں میں بم بلاسٹ کیئے تھے۔
۱۳۔حج ہائوس امام مقدمہ:۔ ممبئی میں قائم سینٹرل حج کمیٹی آف انڈیا میں امامت کے فرائض انجام دینے والے مولانا غلام یحیٰ اور دیگر تین ملزمین کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کشمیری دہشت گردوںکی مدد کرنے کا الزام عائد کیا تھا، ایک جانب جہاں نچلی عدالت نے مولانا غلام یحیٰ کو مقدمہ سے بری کردیا تھا وہیں دویگر ملزمین کو معمولی سزائیں سنائی تھی۔بامبے ہائی کورٹ نے12؍جون2018؍ ریاستی حکومت کی مولانا یحیٰ کی رہائی کو چیلنج کرنے والے دیگر ملزمین کو سزائوں میں اضافہ کی اپیل کو خارج کردیا تھا۔
۱۴۔انڈین مجاہدین حیدرآباد سلسلہ وار بم دھماکہ مقدمہ:۔ حیدر آباد کے دلسکھ نگر ، گوکھل چاٹ اور لمبنی پارک مقامات پر ہونے والے بم دھماکہ الزامات سے نچلی عدالت نے 4؍ ستمبر 2018؍ کو دو ملزمین کو بری کردیا تھا۔ 21؍ فروری 2013؍ کو ان مقامات پر بم دھماکے ہو
ئے تھے جس میں18؍ لوگوں کی موت اور 130؍ سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔
۱۵۔بھساول ٹاڈا مقدمہ:۔26؍ فروری2019کو 25؍ سالوں کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد ناسک کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے جلگائوں او ر بھساول سے گرفتار کیئے گئے 11؍ ملزمین کو دہشت گردی جیسے انتہائی سنگین الزامات سے بری کردیا۔ملزمین پر ریاست میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے اور سیمی سے تعلق کا الزام تھا اوروہ بابری مسجد کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیئے وہ ریاست میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کی سازش رچ رہے تھے۔
۱۶۔کرناوتی ٹرین بم بلاسٹ مقدمہ:۔ گجرات سیشن عدالت نے کرناوتی ٹرین میں بم دھماکہ انجام دینے کے الزامات سے 11؍ نومبر 2014کو تمام تین ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا۔ملزمین پر الزام تھا کہ وہ لشکر طیبہ نامی دہشت گرد تنظیم کے رکن ہیں اور گجرات میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینا چاہتے تھے۔

