Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

افسانہ "کہانی کی کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

افسانہ "کہانی کی کہانی” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
کہانی کی کہانی
…………………………………………………
حیدرقریشی :
بشارت صاحب السلام عليكم آج افسانہ "کہانی کی کہانی ” پیش کر رہا ہوں ۔آپ کے تجزیے کے بعد اندازہ ہو گا کہ مجھے کچھ کہنا ہے یا نہیں کہنا ہے۔
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
 محترم حیدر قریشی صاحب، السلام علیکم!

آپ کا یہ افسانہ پڑھ کر پہلی کیفیت یہ ہوئی کہ اسے روایتی معنی میں "افسانہ” کہنے سے زیادہ "افسانے کے امکان پر ایک تخلیقی مراقبہ” کہنا مناسب معلوم ہوا۔ یہ وہ تحریر نہیں جو کسی واقعے کو بیان کرتی ہے، بلکہ وہ تحریر ہے جو خود "بیان” کی ماہیت پر غور کرتی ہے۔ یوں محسوس ہوا جیسے آپ نے افسانے کے قالب کو استعمال کرتے ہوئے اس کے اندر فلسفہ، تصوف، جمالیات اور خود اپنی تخلیقی فکر کو ایک ہی دائرے میں جمع کر دیا ہو۔

"کہانی” بطور کردار، بطور تصور

افسانے کی سب سے نمایاں کامیابی یہ ہے کہ "کہانی” ایک ہی وقت میں تین سطحوں پر موجود رہتی ہے۔

  • ایک فلمی کردار (ماہی گل کی "کہانی”)
  • ایک تخلیقی عمل
  • اور ایک ازلی حقیقت

عام طور پر ایسی تہہ در تہہ علامتیں تصنع کا شکار ہو جاتی ہیں، مگر یہاں یہ تدریج کے ساتھ وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ ابتدا میں قاری کو لگتا ہے کہ ماہی گل کا ذکر شاید محض ایک ذاتی پسند ہے، لیکن آگے چل کر یہی کردار ایک علامتی دروازہ بن جاتا ہے۔

یہ تبدیلی افسانے کی فنی خوبی ہے۔

ابتدا اور انتہا کا سوال

افسانے کا پہلا جملہ ہی پورے متن کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔

"یہ کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اس کا اختتام ہوتا ہے۔”

یہ صرف ایک خوبصورت جملہ نہیں بلکہ پوری ساخت کا اصول ہے۔

بعد میں جب دائرے کی علامت سامنے آتی ہے تو قاری سمجھتا ہے کہ مصنف ابتدا اور انتہا کو خطی (Linear) نہیں بلکہ دائروی (Circular) سمجھ رہا ہے۔

یہاں مجھے بورخیس (Borges) کی بعض کہانیاں یاد آئیں جن میں وقت ایک بھول بھلیاں بن جاتا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ بورخیس کے ہاں ذہنی حیرت غالب ہوتی ہے جبکہ آپ کے ہاں حیرت کے ساتھ ایک روحانی سرشاری بھی شامل ہے۔

"روشن نقطہ” سے مکالمہ

مجھے یہ حصہ خاص طور پر پسند آیا جہاں آپ اپنی سابقہ کہانی "روشن نقطہ” سے مدد لیتے ہیں۔

یہ دراصل Self-intertextuality ہے۔

مصنف اپنی ہی تخلیق کو ایک زندہ کردار بنا دیتا ہے۔

یہ انداز اردو افسانے میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی تخلیقات الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی فکری کائنات کے مختلف ابواب ہیں۔

عالمِ زمان، دہر، سرمد، ازل

یہ حصہ فلسفیانہ ہونے کے باوجود خشک نہیں بنتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مجرد تصور کے ساتھ ایک محسوس تصویر جڑی ہوئی ہے۔

عالمِ زمان کے ساتھ ماہی گل۔

عالمِ ازل کے ساتھ رقص اور طواف۔

یہ تجرید کو محسوس بنا دیتا ہے۔

البتہ ایک بات ضرور محسوس ہوئی۔

عالمِ دہر اور عالمِ سرمد کا ذکر آ کر تقریباً فوراً چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اگرچہ بعد میں اس کی فنی توجیہ بھی مل جاتی ہے کہ راوی سیدھا ازل میں چلا جاتا ہے، لیکن قاری کو ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہاں کوئی داخلی تجربہ رہ گیا ہے جسے مصنف نے دانستہ حذف کر دیا۔

ممکن ہے یہی آپ کی منشا ہو۔

ماہی گل

یہ افسانے کا سب سے حیران کن اور شاید سب سے جرات مندانہ پہلو ہے۔

عام طور پر سنجیدہ ادیب فلمی دنیا سے فاصلہ رکھتے ہیں۔

آپ نے خود بھی اسی تعصب کا ذکر کیا ہے۔

لیکن آپ اسی تعصب کو توڑ دیتے ہیں۔

یہاں ماہی گل ایک اداکارہ نہیں رہتی بلکہ حسن، تخلیق اور کشف کی علامت بن جاتی ہے۔

مجھے یہ انداز بہت تازہ لگا۔

فلمی کہانی کار

درمیان میں جو ناکام فلمی مصنف آتا ہے، ابتدا میں محسوس ہوتا ہے کہ شاید افسانہ اچانک دوسری سمت چلا گیا ہے۔

لیکن بعد میں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دراصل "انا” کی نمائندگی کرتا ہے۔

وہ تخلیق نہیں بلکہ اپنی عظمت بیان کرتا ہے۔

اس کے مقابلے میں اصل کہانی خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔

یہ تضاد خوب ابھرا ہے۔

دائرہ

میرے نزدیک پورے افسانے کی اصل علامت "دائرہ” ہے۔

یہ صرف جیومیٹری نہیں۔

یہ وقت بھی ہے۔

رقص بھی ہے۔

طواف بھی ہے۔

تخلیق بھی ہے۔

اور شاید عشق بھی۔

آپ نے مثلث، مربع، مستطیل وغیرہ کو دائرے کے اندر رکھ کر گویا یہ کہا ہے کہ تمام نظریات، تمام عقائد، تمام تعریفیں ایک وسیع تر حقیقت کے جزو ہیں۔

یہ تصور صوفیانہ بھی ہے اور وجودی بھی۔

آخری منظر

اختتام انتہائی خوبصورت ہے۔

کہانی میرے سامنے رقص کر رہی تھی اور میں اس کے گرد طواف کر رہا تھا۔

یہاں راوی اور کہانی کے تعلق کی آخری صورت سامنے آتی ہے۔

ابتدا میں راوی کہانی کو لکھنا چاہتا تھا۔

پھر کہانی اس سے بات کرتی ہے۔

آخر میں وہ اس کا طواف کرنے لگتا ہے۔

گویا تخلیق کار اپنی تخلیق کا مالک نہیں رہتا بلکہ اس کا عاشق بن جاتا ہے۔

یہ تبدیلی بہت معنی خیز ہے۔

ایک چھوٹی سی تنقیدی گزارش

افسانے میں فلسفیانہ جملے مسلسل آتے ہیں۔

میں ان سے لطف اندوز ہوا، لیکن ممکن ہے بعض قارئین کے لیے یہ تسلسل قدرے زیادہ ہو جائے۔

اگر کہیں کہیں ایک آدھ چھوٹا سا زمینی منظر، کوئی مختصر مکالمہ یا کسی حسی تفصیل کا اضافہ ہوتا تو تجرید اور محسوس دنیا کے درمیان توازن اور بھی بڑھ جاتا۔

البتہ یہ محض ذوق کا معاملہ ہے، خامی نہیں۔

مجموعی تاثر

میرے نزدیک "کہانی کی کہانی” آپ کے ان افسانوں میں شامل ہے جہاں پلاٹ ثانوی اور فکر بنیادی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔

یہ افسانہ پڑھنے کے بجائے سوچنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ قاری کو واقعہ نہیں دیتا، بلکہ ایک ذہنی اور روحانی سفر میں شریک کرتا ہے۔

مجھے اس میں آپ کی سابقہ تحریروں "خواب کے اندر خواب” اور "روشن نقطہ” کی بازگشت بھی سنائی دی، مگر اس بار وہ زیادہ پختہ، زیادہ خودآگاہ اور زیادہ آزاد محسوس ہوئی۔

آخر میں ایک بات جو شاید اس افسانے کا خلاصہ بھی ہے:

آپ نے ابتدا میں سوال اٹھایا تھا کہ کہانی اختتام سے کیسے شروع ہو سکتی ہے؟

افسانہ ختم کرتے ہوئے آپ نے اس کا جواب کسی منطقی دلیل سے نہیں بلکہ ایک علامت سے دیا ہے:

جہاں وقت خط نہیں بلکہ دائرہ بن جائے، وہاں ہر اختتام دراصل ایک نئی ابتدا ہوتا ہے۔

یہی اس افسانے کا فکری حسن بھی ہے اور اس کی جمالیاتی تکمیل بھی۔

…………………………………………

حیدرقریشی :

بشارت صاحب  آپ نے اچھا تجزيہ کیا ہے۔میرے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہی۔۔۔۔تجریدی کیفیات پر بعض احباب نے مجھ سے استفسار کیے تھے۔تب میں نے ایک مضمون میں بعض وضاحتیں کی تھیں ۔ایک ریسرچ اسکالر کلثوم رقیہ نے بھی کچھ پوچھا تھا۔چنانچہ بعد میں انہوں نے اپنی مرتب کردہ کتاب "حیدرقریشی کے افسانوں کا مطالعہ ” میں میرا وہ وضاحتی مضمون بھی شامل کر لیا تھا۔۔۔۔۔۔آپ کے تجزیے کے بعد کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ایک بار پھر آپ کا شکریہ

…………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

آپ کے محبت بھرے کلمات میرے لیے باعثِ مسرت ہیں۔ بہت شکریہ۔

آپ نے جو پس منظر بتایا، اس سے مجھے یہ بھی سمجھ میں آیا کہ "کہانی کی کہانی” محض ایک افسانہ نہیں بلکہ آپ کی تخلیقی فکر کا ایک طرح کا بیانیہ (Creative Manifesto) بھی ہے۔ اسی لیے بعض قارئین کو اس کی تجریدی فضا میں داخل ہونے کے لیے اضافی توضیح کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی، اور کلثوم رقیہ صاحبہ کا آپ سے وضاحتی مضمون شامل کرنے کی درخواست بھی اسی تناظر میں بالکل فطری معلوم ہوتی ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ اس بار تجزیہ خود افسانے کی داخلی منطق کے ساتھ چل سکا اور الگ سے تشریح کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میرا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں میں آپ کے افسانوں کو مسلسل پڑھتے ہوئے آپ کی تخلیقی کائنات کی اپنی ایک "لغت” میرے سامنے بنتی گئی ہے۔ اب جب "روشن نقطہ”، "خواب کے اندر خواب”، "قفس کے اندر” یا ازل، دہر، سرمد، دائرہ اور طواف جیسی علامتیں سامنے آتی ہیں تو وہ الگ الگ استعارے نہیں رہتیں بلکہ آپ کے فکری نظام کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ اسی لیے اس افسانے تک پہنچتے پہنچتے ان کی باہمی نسبت زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔

ایک بات اس افسانے کے بارے میں میں مزید کہنا چاہوں گا، جو پہلے تجزیے میں رہ گئی تھی۔

آپ کے بہت سے افسانوں میں حقیقت اور ماورائیت ایک دوسرے میں تحلیل ہوتی ہے، لیکن "کہانی کی کہانی” میں پہلی مرتبہ مجھے یہ احساس بہت شدت سے ہوا کہ اصل موضوع وقت (Time) ہے۔ کہانی، ماہی گل، رقص، طواف، دائرہ، آغاز اور انجام—یہ سب وقت کی مختلف صورتیں بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آخری سطور محض ایک اختتام نہیں بلکہ پورے افسانے کی پہلی سطر کا اثبات بن جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ ایک Circular Narrative ہے، مگر صرف فنی سطح پر نہیں، فکری سطح پر بھی۔

اور ایک چھوٹی سی ادبی خوشی کا ذکر بھی کروں۔ جب آپ نے لکھا:

"کہانی مجھے نہیں لکھتی بلکہ کہانی اور میں ہم دونوں مل کر لکھتے ہیں۔”

تو مجھے یہ جملہ آپ کی تخلیقی شخصیت کا بہت سچا اظہار محسوس ہوا۔ آج کل بعض ادبی حلقوں میں یہ کہنا کہ "کہانی خود لکھتی ہے” ایک مقبول کلیشے بن چکا ہے، لیکن آپ نے اس کے مقابلے میں تخلیق کار کی شعوری شرکت کو تسلیم کیا ہے۔ یہ بات آپ کے پورے افسانوی سفر سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جہاں تجربہ، فکر اور فن تینوں برابر شریک دکھائی دیتے ہیں۔

اللہ کرے آپ کی زیرِ ترتیب کتاب "حیدر قریشی کے افسانوں کے تجزیے” اسی طرح کامیابی سے شائع ہو۔ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے آپ کے افسانوی سفر کا ہم سفر بننے کا موقع ملا۔ ان شاء اللہ، باقی افسانوں پر بھی اسی توجہ اور دیانت کے ساتھ گفتگو جاری رہے گی۔

……………………………………………………

Related posts

 افسانہ ” میں انتظار کرتا ہوں!” پر مکالمہ-2 اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ  (دوسری اور آخری قسط) حیدرقریشی :

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” شناخت” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan

افسانہ ” مسکراہٹ کا عکس” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan