National قومی خبریں

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اترپردیش کے تحفظ و بقا کے لئے صدر جمہوریہ ہند اور وزیراعظم ہند کو

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی اترپردیش کے تحفظ و بقا کے لئے صدر جمہوریہ ہند اور وزیراعظم ہند کو

دھولیہ جمعیۃ علماء (مولانا ارشد مدنی ) کی جانب سے مکتوب دھولیہ 27 جولائی 2026 ریاست اتر پردیش کے سابق وزیر عالی جناب اعظم خان صاحب کی قائم کردہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو یوپی حکومت کی جانب سے 38 بلڈنگوں کو منہدم کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں جمعیۃ علماءدھولیہ کی جانب سے ضلع کلیکٹر کے ذریعہ صدر جمہوریہ ہند اور وزیر اعظم ہند کو مکتوب پیش کیا گیا کہ مرکزی حکومت اس معاملہ میں دلچسپی لے کر منہدم کی کاروائی کو روکے نیز سپریم کورٹ کے سبکدوش جج کے ذریعہ مکمل انکوارئری کرے ۔ سپریم کورٹ کے بلڈوزر ایکشن کے فیصلہ کا لحاظ کرتے ہوئے کسی قسم کی کاروائی نہ کرے۔ بھارت کے آئین دفعہ 29 اور 30 کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ اس کالحاظ کیا جائے۔ بنیادی ڈھانچہ کے قائم کرنے میں کوئی قانونی دشواری ہو تو کمپاونڈنگ کے ذریعہ اس کو ریگولائز کیا جائے، مذکورہ عمارتوں کو منہدم کرنے سے تقریباً 30 ہزار طلباء کا مستقبل تاریک ہو جائےگا۔ یہ انتہائی حساس موضوع ہے لہٰذا حکومت ہند اور حکومت اترپردیش اس منہدم کاروائی پر فوراً روک لگا کر ملک اقلیتی طبقہ کی بے چینی و بے اطمنانی کو جلد سے جلد ختم کریں۔ اس وفد میں شامل حافظ حفظ الرحمٰن مولانا ابوالعاص صاحب، مولاناشکیل احمد قاسمی ، مولانا مبین احمد ملی، حاجی شوال امین ، حاجی مشتاق صوفی ان حضرات کےساتھ خادمین جمعیۃ و شہر کی سیاسی سماجی شخصیات موجود تھیں۔  نشر و اشاعت جمعیۃ علماءمولانا ارشد مدنی ،دھولیہ

Related posts

ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی چوتھی بار ملتوی، غیر قانونی کارروائیوں کا الزام کمپنی کسی بھی زبردستی یا غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے : ڈاکٹر نوہیرا شیخ

Paigam Madre Watan

بی جے پی حکومت کا الیکشن کے وقت کا سیاسی ڈرامہ شرمناک ہے: نواز غنی ایم پی

Paigam Madre Watan

महिला सशक्तिकरण के लिए डॉ. नौहेरा शेख को सम्मानित किया गया

Paigam Madre Watan