بھاجپا کے طرز پر اویسی کا گرتا معیار۔ تین اہم رکن پارٹی سے باہر
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ سیاست کے میدان میں پروان چڑھنے والی پارٹیوں میں قابل ذکر پارٹی کا نام ایم آئی ایم آ ل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین تھی، جوں جوں بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی الگ الگ ریاستوں میں پروان چڑھتی گئی اپنی محبوب پارٹیوں کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھی، ان میں سب سے قابل ذکر پارٹی ایم آئی ایم ہے، 2014 سے قبل ایم آئی نے نہیں سوچا تھا کہ وہ حیدر آباد تلنگانہ سے باہر نکلے گی، لیکن وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے ایم آئی ایم یعنی اویسی کو ملک کے کونے کونے الیکشن لڑنے کا حوصلہ اور تعاون فراہم کرایا، اروند کجریوال کی مانیں تو دہلی کا وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا تھا اور باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے کسی یتن اوجھا امت شاہ کے قریبی شخص کا دعوی تھا کہ اکبر الدین اویسی اور امت شاہ رات کے تین بجے گجرات کے احمد آباد میں خفیہ میٹنگ کرتے ہیں جس میں یہ بات طے پاتی ہے کہ مسلم اکثریتی علاقے میں ایم آئی ایم اپنے امیدوار اتارے گی اور ان بیانات کو اپنی تقریروں میں اویسی صاحب استعمال کریں گے جو بی جے پی دفتر انہیں لکھ کر بھیجے گا۔ خیر اس بات میں کتنی صداقت ہے نہیں معلوم لیکن حقیقت یہ بھی ہے سابق دہلی وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کے اس دعوے کی اویسی اور ایم آئی ایم والے مخالفت بھی نہیں کر سکے۔ اور آنے والے دنوں میں ایسا ہی ہوا جو دعوی کیا گیا تھا یعنی کہ ایم آئی ایم نے ہر اس جگہ امیدوار اتارا جہاں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ہوا کرتے تھے اور اویسی نے وہی تقریریں کیں جن پر بھاجپا کو مہم چلانا تھا۔
خیر ہم یہاں بات کریں گے کہ ایم آئی ایم اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے تعلق سے ایک ساتھ گرتے معیار اور عوام میں گھٹتی مقبولیت کا کہ آج چہار جانب جہاں بی جے پی کے تعلق سے مخالف ہوا چل رہی ہے وہیں ہر اسٹیٹ الیکشن میں ایم آئی ایم اور اویسی کے تعلق سے اچھے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایم آئی ایم کے قد آور لیڈروں کا پارٹی کو چھوڑ جانے کا سلسلہ لگا ہوا ہے، اور کانگریس راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کا دعوی ہے کہ کچھ اور لوگ ہیں جو بہت جلد ایم آئی ایم کو چھوڑ کر کانگریس میں شرکت کرنے والے ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ بڑے چہروں میں ابھی حال فی الحال ایم آئی ایم کے قومی ترجمان نے پارٹی کو الوداع کہتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی، جس کے چرچے فی الوقت سوشل میڈیا اور میڈیا میں کافی نشر ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبد المنان اتر پردیش کے بلرام پور ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی رہنما اور چشم کے سرجن (آئی سرجن) ہیں، جو حال ہی میں ایم آئی ایم چھوڑ کر سماج وادی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ تیسرے مرزا رحمت بیگ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے رکن ہیں جو (آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین) سے تعلق رکھتے تھے اور حال ہی میں پارٹی سے خارج کر دیے گئے ہیں۔
کل ملا کر جس طرح بی جے پی اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے عوام کے دل سے اترتی جا رہی ہے، اسی طرح ایم آئی ایم بھی اپنے قابل اور با اثر لیڈران سے پیچھے چھوٹتی جا رہی ہے، اب وہ بات الگ ہے کہ گناہ کس کے ہیں، ایم آئی ایم اویسی کے یا ان کی پارٹی کے لیڈران کے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلط نیتیوں اور غلط بیانیوں اور غلط پالیسیوں کے سبب پارٹی گہرائی میں گرتی جا رہی ہے، اور اسی کو کہتے ہیں کہ عوام اصل میں حکومتی ایوانی کا راجہ ہوتی ہے، وہ جب کسی سے امید لگاتی ہے تو اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے اور جب لیڈران یا پارٹی اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے ان کے دل سے اترتی ہے تو عوام انہیں گہرائی میں دھکیل دیتی ہے۔ ٹھیک یہی حال ایم آئی ایم کا ہے کہ پارٹی کے مفاد میں کام کرنے کے فراق میں انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا کہ پارٹی کی مقبولیت عوام میں گرتی جا رہی ہے اور قابل با اعتماد محنتی لیڈران پارٹی سے پھسلنے لگے ہیں اور پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں کی طرف منتقل ہونے لگے ہیں۔
بھارتی سیاست میں کسی بھی سیاسی جماعت کی اصل طاقت صرف اس کے ووٹ، نشستوں یا جلسوں کی تعداد نہیں ہوتی، بلکہ اس کے کارکن، مقبول چہرے، تنظیمی ڈھانچہ، عوامی اعتماد اور سیاسی بیانیہ اس کی حقیقی طاقت کا تعین کرتے ہیں۔ جب کسی جماعت کے اہم اور بااثر رہنما ایک ایک کرکے اس سے دور ہونے لگیں، تو یہ محض چند افراد کی سیاسی نقل مکانی نہیں رہتی بلکہ اس کے اندرونی حالات اور مستقبل کی سمت پر بھی سوالات اٹھنے لگتے ہیں۔آج آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یعنی ایم آئی ایم بھی ایک ایسے ہی سیاسی مرحلے سے گزرتی دکھائی دے رہی ہے۔ خاص طور پر اتر پردیش اور تلنگانہ میں حالیہ سیاسی واقعات نے یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ کیا اسد الدین اویسی کی قیادت والی مجلس اپنے سیاسی پھیلاو کے باوجود تنظیمی اعتبار سے کسی دباو کا شکار ہے؟حالیہ دنوں میں تین اہم نام اس بحث کے مرکز میں آئے ہیں۔ ایک طرف ایم آئی ایم کے قومی ترجمان سید عاصم وقار نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے کانگریس میں شمولیت اختیار کی، دوسری طرف اتر پردیش کے معروف مسلم سیاسی چہرے ڈاکٹر عبد المنان نے مجلس چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کا دامن تھام لیا، جبکہ تلنگانہ میں مجلس کے قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے خارج کرکے کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی ہدایت کی گئی۔یہ تینوں واقعات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن سیاسی اعتبار سے ان کا ایک مشترک پہلو ضرور ہے۔
ایم آئی ایم کی تاریخ بنیادی طور پر حیدرآباد اور تلنگانہ کی سیاست سے جڑی رہی ہے۔ اسد الدین اویسی کی قیادت میں جماعت نے گزشتہ برسوں میں اپنے سیاسی اثر کو دیگر ریاستوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ مہاراشٹر، بہار اور اتر پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں انتخابی میدان میں اترنے کے بعد مجلس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ صرف حیدرآباد تک محدود جماعت نہیں بلکہ قومی سطح پر مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کی سیاسی نمائندگی کا دعویٰ رکھتی ہے۔لیکن قومی سیاست میں توسیع کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ کسی جماعت کو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں قدم رکھنے کے لیے صرف امیدوار کھڑے کرنا کافی نہیں ہوتا؛ اس کے لیے مضبوط مقامی قیادت، مستقل تنظیم، عوامی رابطہ اور قابل اعتماد سیاسی کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اتر پردیش میں مجلس کی اسی توسیعی حکمت عملی کا ایک اہم نام ڈاکٹر عبد المنان تھے۔ڈاکٹر عبد المنان کوئی اچانک منظر عام پر آنے والے سیاسی کردار نہیں ہیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے آئی سرجن ہیں اور بلرام پور کے اترولا علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2020 میں انہوں نے پیس پارٹی چھوڑ کر ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت مجلس نے انہیں اترولا اسمبلی حلقے سے 2022 کے انتخابات کے لیے اپنا امیدوار بھی بنایا تھا۔2022 کے انتخابی حلف نامے کے مطابق عبد المنان کی تعلیمی قابلیت ایم بی بی ایس اور ایم ایس تھی اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور زراعت سے وابستہ تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخصیت کو کبھی مجلس نے اتر پردیش میں اپنی سیاسی توسیع کا اہم چہرہ بنایا تھا، وہی ڈاکٹر عبد المنان اب مجلس سے الگ ہوکر سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔29 اگست 2026 کو ان کی سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی خبر سامنے آئی۔ اس کے بعد بلرام پور میں ان کا استقبال بھی ہوا اور انہوں نے اترولا اسمبلی حلقے سے اپنی سیاسی دعویداری پیش کی۔یہ واقعہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ ڈاکٹر منان نے ایم آئی ایم میں محض کارکن کی حیثیت سے وقت نہیں گزارا بلکہ وہ اتر پردیش میں پارٹی کے نمایاں چہروں میں شمار ہوتے رہے۔ ان کا چلے جانا مجلس کے لیے محض ایک رکن کا کم ہونا نہیں بلکہ اتر پردیش میں اس کے سیاسی نیٹ ورک کے لیے ایک قابلِ ذکر نقصان سمجھا جاسکتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ توجہ طلب واقعہ ایم آئی ایم کے قومی ترجمان سید عاصم وقار کا پارٹی سے الگ ہونا ہے۔2 ستمبر 2026 کو عاصم وقار نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایم آئی ایم کے سیاسی طرزِ عمل پر تنقید بھی کی اور یہ موقف پیش کیا کہ پارٹی زبان سے بی جے پی کے خلاف بات کرتی ہے، لیکن زمینی سطح پر ان جماعتوں سے مقابلہ کرتی ہے جو بی جے پی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ یہ کسی بیرونی سیاسی مخالف کا الزام نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی تنقید ہے جو خود مجلس کے قومی ترجمان کے طور پر اس کے سیاسی بیانیے کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔کسی جماعت کے ترجمان کا پارٹی چھوڑتے وقت اسی جماعت کی سیاسی حکمت عملی پر سوال اٹھانا یقیناً سیاسی حلقوں میں حث کا موضوع بنتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ عاصم وقار کی رخصتی کو محض ایک عام سیاسی شمولیت قرار دے کر نظرانداز کرنا شاید درست نہیں ہوگا۔
تلنگانہ میں معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاںایم آئی ایم نے اپنے ہی قانون ساز کونسل کے رکن مرزا رحمت بیگ کو پارٹی سے خارج کردیا۔ پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری ایس اے حسین انور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق رحمت بیگ کو فوری اثر سے مجلس سے خارج کیا گیا اور انہیں تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بعد کی اطلاعات کے مطابق رحمت بیگ نے فوری طور پر استعفیٰ دینے سے انکار کیا۔ انہوں نے اپنے موقف میں کہا کہ وہ بغیر شرائط کے استعفیٰ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح معاملہ صرف پارٹی سے اخراج تک محدود نہیں رہا بلکہ قانون ساز کونسل کی رکنیت کے حوالے سے بھی ایک الگ سیاسی تنازع بن گیا۔یہاں ایک اہم صحافتی احتیاط ضروری ہے۔ رحمت بیگ کے خلاف مختلف الزامات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز کے حوالے سے متعدد دعوے سامنے آئے ہیں، لیکن ان تمام دعووں کو ثابت شدہ حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ خود دستیاب رپورٹس میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایم آئی ایم نے اپنے مختصر سرکاری بیان میں اخراج کی مخصوص وجہ تفصیل سے بیان نہیں کی۔اس لیے کسی بھی حتمی الزام کے بجائے اتنا کہنا زیادہ درست ہے کہ رحمت بیگ کو پارٹی سے نکالا گیا اور انہیں قانون ساز کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کی ہدایت دی گئی۔


