*نئی ہٹی میں ”سانسکِریتِک پُنر نِرمان مِشن“ کا پُر وقار کثیر لسانی کوی سمیلن کا انعقاد*
(ہندی اور بنگلہ بھاشاکے شاعروں کے درمیان اردو شاعر علی شاہدؔ دلکش و شہنواز عادلؔ اسٹار بن کر چمکے)
(پریس ریلیز/ نیوز بیورو) 02 اکتوبر 2026، نئی ہٹی:
گاندھی جینتی کے موقعے پر ”سانسکِرِتِک پُنر نِرمان مِشن“ کے زیرِ اہتمام نئی ہٹی کے ’سمریش باسو اے سی آڈیٹوریم‘ میں ایک کثیر لسانی کوی سمیلن و مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر بابائے قوم مہاتما گاندھی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔کثیر لسانی کوی سمیلن و مشاعرے کی صدارت ودیا ساگر یونیورسٹی کے ہندی شعبے کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سنجے جیسوال نے کی اور نظامت کے فرائض بحسن و خوبی کوی و اسکالر شری سوریہ دیو رائے نے انجام دی، جبکہ کلماتِ تشکر ات شری اِسِت پانڈے نے پیش کیے۔مشن کے صدر ڈاکٹر شمبھوناتھ نے اپنے پیغام میں کہا کہ کثیر لسانی شعری نشست محض زبانوں کا نہیں بلکہ احساسات اور جذبوں کا بھی سنگم ہے۔ زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں مگر شاعری محبت، دکھ، یادوں اور امیدوں کی ایک سانجھی آواز ہے۔ ایسے سی لسانی شعری پروگرام میں ہم صرف شاعری ہی نہیں سنتے بلکہ ایک دوسرے کے دلوں کی دھڑکنیں بھی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے اس پیغام کو پروفیسر این چندرا راؤ نے پڑھ کر سنایا۔مشن کے سرپرست شری رام نیواس دِویدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن ناقابلِ فراموش ہے۔ آج بابائے قوم گاندھی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری جی کا یومِ پیدائش ہے۔ میں ان دونوں عظیم شخصیتوں کی بارگاہ میں نذرانہئ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ گاندھی جی کی شناخت عالمی سطح پر ہے۔ ان کے پیغامات کے تناظر میں اس کثیر لسانی شعری نشست میں شریک ہندی، اردو اور بنگلہ زبان کے تمام شعراء کی آمد پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور بنکم چندر چٹوپادھیائے کی اس تاریخی سرزمین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کے اس پیغام کو پروفیسر منٹو داس نے پڑھ کر سنایا۔مشن کے نائب صدر مرتیونجے شریواستو نے کہا کہ شاعری عناصرِ خمسہ (پانچ عناصر) سے مل کر بنتی ہے۔ یہ پانچ عناصر لفظ، تشبیہ (ایمیج)، علامت، فکر اور فلسفہ ہیں۔ جناب راجیندر گپتا نے کہا کہ یہ پروگرام گاندھی جی اور شاستری جی کے تئیں سچی عقیدت کا مظہر ہے۔
اس مخصوص شعری پروگرام میں شعراء کرام جناب پر تمال ساحا، پارتھ سارتھی سرکار، سوریش شا، علی شاہدؔ دلکش، امرجیت پنڈت، سشیل کانتی، شکیل اختر، ڈاکٹر کلاوتی کماری، راجیش ساؤ، ناگیندر پنڈت، وکاس کمار، ڈاکٹر ابرار خان، سپالی گپتا، شاہنواز عادلؔ، سشما کماری، ستیام تیواری، کسم بھگت اور ستیام پانڈے نے کلام پیش کیا۔ واضح طور پر اردو بھا شا کے دونوں مہمان شاعر علی شاہد دلکش و شہنواز عادل نے اپنے کلام اور اپنی آواز سے محفل میں خوب سحرکاری کی نیز اسٹار بن کر چمکے۔
صدرِ نشست نے شاعر و پروفیسر ڈاکٹر سنجے جیسوال نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنے کا ہے۔ جیسا کہ دلکش لب و لہجے کے شاعر علی شاہد دلکش نے اپنے کلام سے یہ پیغام بھی دیا اور اپنی شاعری و مترنم آواز سے پوری محفل کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ کثیر لسانی شعری نشست گاندھی کے خوابوں کے بھارت کو شرمندہئ تعبیر کرنے کی سمت ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ گاندھی نے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا تھا جو ہمہ گیر، خود کفیل، انسانیت نواز اور جمہوری ہو، اور اس خواب کو زندہ رکھنا ہی ہمارا اصل مقصد ہونا چاہیے۔اس پروقار محفل میں گنگا پرساد، اودے راج سنگھ، راجیش پانڈے، سشیل پانڈے، اودھ پانڈے، روی بھگت، دلیپ کمار، ڈاکٹر نونیتا داس، ڈاکٹر سنجے رائے، روپیش کمار یادو، اتم کمار، کنہیا بھگت، منیشا گپتا، سنجیت چودھری، وکاس جائسوال، اجے پودار، پربھاکر ساؤ،عبدالغفار، شبانہ خاتون، انوپ پرساد، فرہان عزیز، سُمت ٹھاکر، اوشا کماری دوبے، پرینشو ٹھاکر، سلونی شرما، انوپما ورما سمیت بڑی تعداد میں ادب نواز اور شعر و شاعری سے شغف رکھنے والے حضرات موجود تھے۔
(رپورٹ: ڈاکٹر ابرارخان، بنگا باشی مارننگ کالج)



