تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادریؔ
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا
سال در سال وقت یوں ہی گزر جاتا ہے، مگر ہر گزرتا ہوا سال اپنے ساتھ کچھ سوال، کچھ تجربات اور کچھ تلخ و شیریں حقیقتیں چھوڑ جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں نے ہمیں بتایا کہ محض وقت کا بدل جانا حالات کو نہیں بدلتا، بلکہ سوچ، رویّہ اور عمل کی تبدیلی ہی اصل فرق پیدا کرتی ہے۔ کہیں ہم نے غلطیوں کو دہرایا، کہیں موقع ہاتھ سے نکل گئے، اور کہیں خاموشی نے ہمارے حصے کا نقصان بڑھا دیا۔ اب جب 2026 ہمارے سامنے کھڑا ہے تو یہ سال کسی خوف یا مایوسی کا نام نہیں، بلکہ خود احتسابی، اصلاح اور نئے عزم کا پیغام لے کر آیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ایک بہتر، باشعور اور ذمہ دار مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ 2026 کو بہتر بنانا ہے تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہماری زندگی کی بنیاد کیا ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت چاہے جتنی خوبصورت ہو، زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ یہی اصول فرد کی زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے اور قوموں کی تاریخ پر بھی۔ اس لیے اصلاح کا پہلا زاویہ یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں گزارنے کو اپنا اولین مقصد بنائیں۔
قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ زندگی کو سمجھنے اور سنوارنے کا دستور ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے، اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اسے کن اصولوں پر جینا چاہیے۔ اسی طرح سنتِ رسول ﷺ صرف چند اعمال کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل عملی نمونہ ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ قرآن کی ہدایات کو روزمرہ زندگی میں کیسے نافذ کیا جائے۔ جب قرآن رہنمائی دے اور سنت راستہ دکھائے تو زندگی میں توازن بھی آتا ہے اور مقصد بھی واضح ہوتا ہے۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو زندگی کے کنارے پر رکھ دیا ہے۔ قرآن ہمارے گھروں میں موجود ہے، مگر ہمارے فیصلوں میں شامل نہیں؛ سنت ہماری زبان پر ہے، مگر ہمارے رویّوں میں جھلکتی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم سہولتوں کے باوجود بے چین، علم کے باوجود الجھے ہوئے اور عبادات کے باوجود اخلاقی کمزوری کا شکار نظر آتے ہیں۔ اگر 2026 کو واقعی تبدیلی کا سال بنانا ہے تو اس فاصلے کو ختم کرنا ہوگا جو ہمارے دعوؤں اور ہمارے عمل کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے معاملات چاہے وہ گھریلو ہوں، تعلیمی ہوں، معاشی ہوں یا سماجی عدل، دیانت، سچائی اور تقویٰ کے اصولوں پر قائم کریں۔ یہ وہ اقدار ہیں جو فرد کو مضبوط اور معاشرے کو صالح بناتی ہیں۔ جب انسان کا کردار درست ہو جاتا ہے تو حالات خود بخود بدلنے لگتے ہیں، کیونکہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ اندر سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 کی تعمیر کا پہلا زاویہ کسی نعرے یا وقتی جذبات کا محتاج نہیں، بلکہ شعوری فیصلے کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم نے اپنی زندگی کا مرکز قرآن و سنت کو بنا لیا تو آنے والا سال صرف تاریخ کا نیا ورق نہیں ہوگا، بلکہ ایک نئی فکری سمت، ایک نئی عملی روش اور ایک بامقصد زندگی کا آغاز بن جائے گا۔
جب ہم قرآن و سنت کو اپنی زندگی کی بنیاد بنانے کا عزم کر لیتے ہیں تو اس کے بعد جو سب سے اہم تقاضا سامنے آتا ہے وہ علم ہے۔ کیونکہ بغیر علم کے نہ دین صحیح سمجھا جا سکتا ہے اور نہ دنیا کو درست انداز میں برتا جا سکتا ہے۔ اسی لیے 2026 کو بہتر بنانے کا دوسرا زاویہ یہ ہے کہ ہم خود بھی بہتر سے بہتر تعلیم حاصل کریں اور اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور بالخصوص اپنی اولاد کو بھی معیاری اور متوازن تعلیم سے آراستہ کریں۔ دینی تعلیم ہماری فکری شناخت اور روحانی سمت متعین کرتی ہے۔ قرآن، حدیث، عقیدہ، فقہ، علمِ کلام، تصوف، اخلاقیات، علمِ انسانیت اور علمِ حیوانات جیسے اسلامی علوم انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ وہ اللہ کو کیسے پہچانے، خود کو کیسے سمجھے اور مخلوق کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے۔ یہ علوم انسان کے اندر شعور، ذمہ داری اور اخلاقی توازن پیدا کرتے ہیں، اور اسے اندھی تقلید کے بجائے بصیرت عطا کرتے ہیں۔
لیکن دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم سے غفلت بھی ایک سنگین غلطی ہے۔ سائنس، ریاضی، سوشیالوجی، تاریخ، بایولوجی، فزکس، ای کامرس اور پولیٹیکل سائنس جیسے مضامین ہمیں زمانے کو سمجھنے، نظاموں کا تجزیہ کرنے اور جدید دنیا میں باوقار انداز میں اپنا مقام بنانے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ یہ علوم ہمیں صرف روزگار ہی نہیں دیتے بلکہ معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین اور دنیا کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکملہ کے طور پر دیکھیں۔ جب دینی بصیرت دنیاوی مہارت کے ساتھ جڑ جاتی ہے تو ایک ایسا انسان وجود میں آتا ہے جو باکردار بھی ہوتا ہے اور باصلاحیت بھی۔ ایسا انسان نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ 2026 میں ہماری نسلیں فکری انتشار، اخلاقی زوال اور شناخت کے بحران سے محفوظ رہیں تو ہمیں آج ہی اپنے بچوں کی تعلیم پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگا۔ یہ صرف اسکول یا مدرسے کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، خاندان اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ علم کی یہی متوازن وراثت وہ سرمایہ ہے جو آنے والے وقت کو سنوار سکتی ہے اور یہی دوسرا زاویہ ہے جس کے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
جب انسان قرآن و سنت کو اپنی زندگی کی بنیاد بناتا ہے اور علم کے ذریعے اپنے شعور کو وسعت دیتا ہے تو اس کے کردار کا پہلا امتحان والدین کے ساتھ اس کے رویّے میں سامنے آتا ہے۔ اس لیے 2026 کو بہتر بنانے کا تیسرا اور نہایت اہم زاویہ یہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی عزت، خدمت اور قدر دانی کو محض اخلاقی جذبہ نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھیں، جیسا کہ قرآن و سنت ہمیں سکھایاہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ یہ ترتیب خود اس بات کی گواہی ہے کہ والدین کی عزت اللہ کے نزدیک کتنی عظیم حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ والدین کے سامنے آواز بلند نہ کی جائے، انہیں اُف تک نہ کہا جائے اور ہمیشہ ان سے نرم لہجے میں بات کی جائے۔ یہ احکامات صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی نظام کی تشکیل کرتے ہیں، جس کا مقصد خاندان کو مضبوط اور معاشرے کو متوازن بنانا ہے۔ سنتِ رسول ﷺ اس معاملے میں ہمیں عملی نمونہ فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے والدین کی خدمت کو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دیا اور ان کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا۔ یہ تعلیم ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ والدین کی عزت صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ان کے بعد بھی ان کے لیے دعا، صدقہ اور اچھے اعمال کے ذریعے ان سے تعلق قائم رکھنا عبادت ہے۔
آج کے دور میں، جب مصروفیت، مادّی ترجیحات اور خود غرضی نے رشتوں میں سرد مہری پیدا کر دی ہے، والدین کی عزت کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ بعض اوقات علم، ترقی اور آزادی کے نام پر ہم ان لوگوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جن کی دعاؤں کے سائے میں ہم یہاں تک پہنچے ہوتے ہیں۔ اگر 2026 کو واقعی بامعنی بنانا ہے تو ہمیں اس رویّے پر سنجیدہ نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ قرآن و سنت کی روشنی میں والدین کی عزت کا مطلب صرف مالی سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کی بات سننا، ان کے جذبات کا احترام کرنا، ان کی تنہائی کو سمجھنا اور ان کے بڑھاپے کو رحمت سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ جب ہم والدین کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کر لیتے ہیں تو ہماری زندگی میں برکت، سکون اور فکری توازن خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026 کی اصلاح کا یہ تیسرا زاویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑی تبدیلیاں بڑے نعروں سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر سچے رویّوں سے آتی ہیں۔ والدین کی عزت وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح فرد، مضبوط خاندان اور صحت مند معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔
جب انسان قرآن و سنت کو اپنی زندگی کی بنیاد بناتا ہے، علم کو سنوارنے کا ذریعہ بناتا ہے اور والدین کی عزت کو اپنا فریضہ سمجھتا ہے تو اس کے بعد جو رشتہ سب سے زیادہ توجہ کا حق دار ہوتا ہے وہ استاد کا رشتہ ہے۔ اسی لیے 2026 کو بہتر بنانے کا چوتھا زاویہ یہ ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت کریں، ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں، ان کی نصیحتوں اور ہدایات کو سمجھیں اور اپنی عملی زندگی میں ان کا عکس پیدا کریں۔ اسلام میں استاد کی حیثیت محض ایک مضمون پڑھانے والے کی نہیں بلکہ رہنمائی کرنے والے، راستہ دکھانے والے اور شخصیت سازی کرنے والے کی ہے۔ اساتذہ جو کچھ پڑھاتے ہیں وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ وہ تجربہ، اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ نسلوں کی تعمیر کرتے ہیں۔ ان کی ہر نصیحت میں ایک سبق اور ہر ہدایت میں ایک خیر پوشیدہ ہوتی ہے، بشرطیکہ ہم سننے اور سمجھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
قرآن و سنت کی روشنی میں علم کا ادب خود علم کا حصہ ہے۔ جو علم استاد کی عزت کے بغیر حاصل کیا جائے وہ نہ دل میں اترتا ہے اور نہ کردار میں جھلکتا ہے۔ اسی لیے ہمارے اسلاف نے استاد کے سامنے ادب، خاموشی اور توجہ کو علم کی پہلی شرط قرار دیا۔ سنتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم احترام، صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ ہی ثمر آور بنتا ہے۔آج کے دور میں، جب تنقید آسان اور برداشت مشکل ہو گئی ہے، بعض اوقات اساتذہ کی حیثیت کو محض تنخواہ دار ملازم سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ رویّہ نہ صرف اخلاقی زوال کی علامت ہے بلکہ علمی نقصان کا سبب بھی بنتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ 2026 میں ہمارے نوجوان باعلم، باکردار اور باشعور ہوں تو ہمیں استاد کے رتبے کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔
اساتذہ کی عزت ہر حال میں لازم ہے چاہے اختلاف ہو، چاہے حالات بدل جائیں یا زمانہ آگے بڑھ جائے۔ ان کی دعائیں، ان کی رہنمائی اور ان کی دی ہوئی سمت انسان کی پوری زندگی سنوار سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کی عزت محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور فکری ذمہ داری ہے۔ یہ چوتھا زاویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جن قوموں نے اپنے اساتذہ کا احترام کیا، وہی علم، تہذیب اور قیادت میں آگے بڑھیں۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو 2026 کو واقعی بامعنی اور باوقار بنا سکتا ہے۔
جب انسان قرآن و سنت کو زندگی کی بنیاد بناتا ہے، علم کی قدر پہچانتا ہے، والدین اور اساتذہ کے حقوق ادا کرتا ہے تو اس کے بعد اس پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں کے ساتھ وفاداری نبھائے جنہوں نے اس کی فکر کو جلا بخشی اور اس کے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کیا۔ اسی لیے 2026 کو بہتر بنانے کا پانچواں زاویہ یہ ہے کہ ہم اپنے جامعہ، کالج یا یونیورسٹی کے فروغ اور اس کے اچھے نام کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔ تعلیمی ادارے محض عمارتوں یا ڈگریوں کا نام نہیں ہوتے، بلکہ یہ وہ مراکز ہوتے ہیں جہاں انسان کی سوچ تشکیل پاتی ہے، اس کا مزاج بنتا ہے اور اس کی صلاحیتوں کو سمت ملتی ہے۔ جو طالب علم یا فارغ التحصیل اپنے ادارے کی قدر کرتا ہے، وہ دراصل علم کی قدر کرتا ہے۔ اپنے ادارے کا نام روشن کرنا صرف اشتہاری جملوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنی محنت اور اپنی عملی زندگی کے ذریعے ہوتا ہے۔
ادارے کے فروغ کے لیے کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم جہاں بھی ہوں، اپنے اخلاق، دیانت اور علمی معیار سے اس بات کا ثبوت دیں کہ ہم ایک باوقار ادارے کے طالب علم رہے ہیں۔ علمی میدان میں سنجیدہ کام، سماجی خدمت میں مثبت کردار، اور پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت داری یہ سب وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے کسی جامعہ یا یونیورسٹی کی شہرت قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح ادارے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ، طلبہ اور فارغ التحصیل افراد اگر علمی پروگراموں، تحقیقی سرگرمیوں اور تعلیمی رہنمائی کے ذریعے اپنے ادارے سے جڑے رہیں تو یہ تعلق نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ قرآن و سنت کی روح بھی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جس ذریعے سے خیر حاصل ہو، اس کی قدر کی جائے اور اس کے فروغ میں حصہ لیا جائے۔
بدقسمتی سے بعض اوقات ہم تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ادارے کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ وہی ادارہ ہماری پہچان بن چکا ہوتا ہے۔ اگر 2026 کو واقعی ایک مثبت موڑ دینا ہے تو ہمیں اس رویّے کو بدلنا ہوگا اور اپنے اداروں کے ساتھ زندہ اور فعال تعلق قائم رکھنا ہوگا۔ یہ پانچواں زاویہ ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ مضبوط ادارے مضبوط معاشرہ بنتا ہے، اور اداروں کی نیک نامی دراصل قوم کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کے فروغ کو اپنا فریضہ سمجھ لیا تو 2026 نہ صرف ہمارے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی علم و وقار کا سال بن سکتا ہے۔
خصوصی طور پر میں اپنے اس تعلیمی ادارے دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کا ذکر کیے بغیر یہ بات مکمل نہیں کر سکتا، جہاں سے مجھے تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا اور جہاں سے میں نے دین اور دنیا کے امتزاج کا عملی نمونہ دیکھا۔ دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں اعلیٰ معیار کی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم کو بھی سنجیدگی، ترتیب اور مقصدیت کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج امت اور معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔اس ادارے نے ہمیں صرف کتابی علم نہیں دیا بلکہ سوچنے کا سلیقہ، سوال کرنے کی جرات اور علم کو عمل سے جوڑنے کا شعور عطا کیا۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق دنیاوی تعلیم کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، تاکہ طالب علم نہ صرف دیندار ہو بلکہ زمانے کے مسائل کو سمجھنے والا اور ان کا حل پیش کرنے والا بھی بن سکے۔
دارالہدیٰ میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے یہ احساس بار بار ابھرتا ہے کہ علم محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جسے معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے سے وابستہ ہر طالب علم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کردار، اپنی گفتار اور اپنی عملی زندگی کے ذریعے اپنے ادارے کی نیک نامی میں اضافہ کرے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اگر ہم جیسے طلبہ اور فارغین دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی سے حاصل کردہ علم کو اخلاص کے ساتھ بروئے کار لائیں، تو یہ ادارہ نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ فکری اور اخلاقی سطح پر بھی ایک روشن مثال بن سکتا ہے۔ 2026 کے تناظر میں اپنے ادارے کے فروغ اور وقار کے لیے کام کرنا دراصل علم، اساتذہ اور اس نظامِ تعلیم سے وفاداری کا عملی اظہار ہے جس نے ہمیں سوچنا اور جینا سکھایا۔
جب ہم اپنی اصلاح کے تمام زاویوں پر غور کر لیتے ہیں قرآن و سنت، علم، والدین و اساتذہ کا احترام اور اداروں کی خدمت تو ایک تلخ مگر ناگزیر حقیقت ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ خاموشی اب مزید ممکن نہیں رہی۔ بالخصوص آج کے عالمی منظرنامے میں، اور اس سے بڑھ کر ہمارے اپنے ملک ہندوستان میں، جس انداز سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ کسی بھی زندہ ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، تشدد، بے گناہ قتل، انصاف سے محرومی، اور عزت و آبرو کی پامالی کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ کہیں ماں بہنوں کے ساتھ زیادتی کے دل دہلا دینے والے واقعات ہیں، کہیں گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کیا جا رہا ہے، اور کہیں مکتب، مدارس اور قبرستانوں کو غیر قانونی قرار دے کر مسلمانوں سے چھین لیا جاتا ہے۔ یہ سب محض حادثات نہیں بلکہ ایک منظم بے حسی اور ناانصافی کی علامت ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے خطرناک رویّہ خاموش تماشائی بن جانا ہے۔ قرآن و سنت ہمیں یہ تعلیم نہیں دیتے کہ ظلم کے سامنے سر جھکا دیا جائے، بلکہ ہمیں حق کے لیے کھڑے ہونے، انصاف کا مطالبہ کرنے اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ البتہ یہ جدوجہد جذباتی انتشار کے بجائے شعور، حکمت اور قانونی دائرے میں ہونی چاہیے۔
ہمیں اپنے حقوق سے واقف ہونا ہوگا، آئینی راستوں کو سمجھنا ہوگا، تعلیم، اتحاد اور تنظیم کے ذریعے اپنی آواز کو مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ لڑائی نفرت پھیلانے کی نہیں بلکہ انصاف حاصل کرنے کی ہے؛ یہ جدوجہد کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے وجود، عزت اور آزادی کے تحفظ کے لیے ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والا وقت ہمارے لیے بہتر ہو تو 2026 ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، خوف کے خول سے باہر نکلیں اور حق بات کہنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے حق کے لیے منظم، باشعور اور ثابت قدم جدوجہد کرتی ہیں، وہ آخرکار اپنا مقام حاصل کر لیتی ہیں۔ یہ آخری زاویہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصلاحِ ذات کے ساتھ ساتھ دفاعِ وجود بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک عزت، انصاف اور آزادی محفوظ نہ ہوں، تب تک کوئی ترقی، کوئی تعلیم اور کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ اب وقت ہے کہ ہم جاگیں، سمجھیں اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں اپنے لیے بھی اور آنے والی نسلوں کے لیے بھی۔

