نئی دہلی: عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر کونسل کے زیرِ اہتمام آج تین اہم موضوعات ’’اردو زبان اور نئی نسل‘‘، ’’انڈین نالج سسٹم کے اردو تراجم‘‘ اور ’’اردو میں یونانی طب: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں‘‘ پر مذاکروں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں اہلِ علم و ادب، طلبہ اور شائقینِ اردو کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔’اردو زبان اور نئی نسل’کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال،ڈاکٹر شمع افروز زیدی، ڈاکٹر اطہر فاروقی اور ڈاکٹر محبوب حسن بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر صائمہ ثمرین نے انجام دیے۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عموماً جب ہم نئی نسل کی بات کرتے ہیں تو فوراً نوجوان لکھنے والوں یا کسی مخصوص طبقے کی طرف توجہ چلی جاتی ہے، جبکہ اصل نئی نسل وہ ٹین ایجرز ہیں جن کے لیے الگ نوعیت کے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو ان کی عمر، ذہنی ساخت اور دلچسپی کے مطابق کتابیں فراہم کی جانی چاہئیں، نہ کہ یہ توقع کی جائے کہ وہ براہِ راست اعلیٰ سطح کی کلاسیکی نثر یا مشکل متون پڑھنے لگیں۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے مزید کہا کہ زبان یا ادب یکایک نہیں سیکھا جاتا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے، جو مرحلہ بہ مرحلہ آگے بڑھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کی نفسیات اور رجحانات کو سمجھیں اور اسی کے مطابق اردو میں دل چسپ، آسان اور عصری موضوعات پر مواد تیار کریں۔ انھوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحرک ہوں، نئے خیالات کے ساتھ آگے آئیں اور نئی نسل تک اردو کو جدید انداز میں پہنچائیں۔ اگر ہم وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں تو اردو زبان نئی نسل کے لیے مزید پرکشش اور مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے کہا کہ بچوں اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے سب سے پہلے گھریلو ماحول سازگار بنانا ہوگا۔ گھر میں اردو زبان کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی وقت کی ضرورت ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اردو کو نظر انداز کر دیں۔ انھوں نے قومی اردو کونسل کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کونسل بچوں کے ذوق اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری کتابیں شائع کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ جب تک گھروں میں کتاب نہیں پہنچے گی اور مطالعے کا ماحول نہیں بنے گا، نئی نسل اردو سے قریب نہیں ہوگی۔ انھوں نے اسکولی سطح پر اردو تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر موضوع پر معیاری اردو کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محبوب حسن نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان نسل اردو کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، تاہم اس رجحان کو مضبوط کرنے کے لیے مزید عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ جو زبان اپنے عہد کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔

