Articles مضامین

حافظ سعید الرحمن عزیز سلفی کا کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور “ پر تبصرہ

سپاس و شکر ہے رب العالمین کے لئے جو ہر ذرّے کا خالق، مالک ومربی ہے ،جس کی تجلی سے جہاں روشن ہے اور جس نے ہماری رہنمائی کے لئے اپنے برگزیدہ ہستیوں کو مبعوث کیا اور ان مبعوثین نے ہمیں تاریکیوں کی عمیق گہرائیوں سے نکال کر تابناکی بخشی، اللہ تعالیٰ کا لاکھوں درود وسلام ایسے مقبولین پر خصوصاً اشرف الانبیاءنبی مکرم احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر،علیھم الصلاة والسلام۔ مذکورہ کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور“آپ کے ہاتھوں میں ہے جس سے انشاءاللہ آپ کماحقہ مستفید ہوںگے۔ مولف ہمارے سگے چھوٹے بھائی ہیں جنہوں نے ابتداء میں مغلوں کے تعلق سے بہت سے مختصر مضامین اخبارات اورسوشل میڈیا کے نذر کیا تھا، جس کی وجہ سے خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ ایک کتاب مرتب کر دی جائے جس میں مختصر سارے مغل بادشاہوں کا تذکرہ ہو ۔در اصل آج کے اس دور میں ملک ہندوستان میں سیاسی پارٹیوں نے بین المذاہب جو نفرت کی بیج بو دئے ہیں وہ کہیں نہ کہیں روز دیکھنے کو مل ہی جاتی ہیں ،خصوصا مسلمانان ہندوستان اس تشدد کے شکار ہیں اس ماحول میں ہمیں اپنی تاریخ کو کتابی شکل میں قلم بند کرنا بہت ضروری تھا تاکہ ہندوستان کے لوگ یہ جان سکیں کہ جس قوم نے مدت دراز برصغیر پر حکومت کی اس نے کبھی یہ نفرتی بیج بونے کی کوشش نہیں کی جیسا کہ آج ہمارے لیڈران کر رہے ہیں۔ مغلوں کے اس دور کو تاریخ کیسے بھُلا سکے گی جس دور کی مثالیں جودھا بائی ،راجہ مان سنگھ اور بیر بل جیسے قد آور ہستیوں سے دی جا سکتی ہیں۔ یہی وہ ہندوستان ہے جس کو سونے کی چڑیا کے نام سے جاناجاتا تھا ،تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ جب تک مغلوں نے بر صغیر پر حکومت کیا عدل وانصاف کے ترازو کو تھامے رکھا ۔ہندو، مسلم ، سکھ، عیسائی تمام مذاہب کی بنیاد پر الگ تھے لیکن سب ہندوستانی تھے۔مغل شہنشاہ جہانگیرکے بارے میں مورخین لکھتے ہیں کہ انہوںنے روزانہ دوگھنٹے رعایا کیلئے وقف کررکھے تھے،سفروحضرمیں اس معمول میں کوئی فرق نہیں آتا، مظلوموںکی فریادسنتے اورظالموں کے خلاف فیصلے صادرکیاکرتے،اپنی رعایا کی دیکھ ریکھ کیلئے اکثرراتوںکوجاگتے۔مغلیہ دورحکومت میں بڑے بڑے عہدوں پرغیرمسلم فائزتھے،اورنگزیب عالمگیرکے دور اقتدار میں بھی غیرمسلموں کو نہ صرف بڑے بڑے عہدے حاصل تھے بلکہ کئی غیرمسلم ان کی فوج کے اعلی عہدوں پر فائز تھے۔مسلم مخالف مورخین نے اورنگزیب کوایک ظالم اورہندومخالف بادشاہ کی شکل میں پیش کرنے کی ناروا کوشش کی ہے،لیکن انصاف پسند ایک ہندومورخ نے تاریخ ہند میں لکھا ہے کہ”کاشی،پریاگ اوردوسری عبادت گاہوں کیلئے جوجاگیریں وقف کی ہیں اور ہندو پیشواﺅں کے ساتھ جومراعات برتی ہیں اس سے اورنگزیب کی انصاف پسندی ثابت ہوتی ہے“۔ مذکورہ کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور“ماشاءاللہ کافی مقبول ہوئی ۔بڑے قریبی تجربات بتاتے ہیں کہ ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی سازش بہت دنوں سے شروع ہوچکی ہے۔ یہاں ایک بات ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ میں نے جامعہ سلفیہ بنارس سے فراغت کے بعد بی ۔اے۔ میں داخلہ لیا بوقت امتحان تاریخ کے پیپر میں ہندوستانی مسلم حکمرانوں کو چور، غاصب، لٹیرا اور ظالم باورکرایاگیاتھا،امتحان ختم ہونے کے بعد محمد حنیف ایڈوکیٹ (ویجاپور، اورنگ آباد، مہاراشٹر) کے پاس میں نے فون کیا (جنہوں نے ہِسٹری میں ڈگری لی تھی) اور انہیںبتایا کہ ایسے ایسے سوالات آئے تھے؟ تو انہوں نے واضح کیا کہ ساری کی ساری باتیں ہفوات ہیں من جملہ سارے حکمرانوں کو ایسے القاب دینا سراسر ناانصافی ہے یہ تاریخ کے ساتھ کھلواڑ ہے اور ا ±سے بدلنا گہری سازش کا نتیجہ ہے۔اسی وقت سے میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ آخر ایسی تاریخ کیوں مرتب نہیں کی جاتی جس میں ہم اپنے وجود کو انصاف دے سکیں۔مذکورہ کتاب سے ان شاءاللہ ضرور کچھ حد تک بہ یک نظر مختصراً اپنی تاریخ کو ہم جان سکیں گے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں سے مزید بہتر کام لے اور ہر کام میں اخلاص پیدا فرمائے اور اسے ہم سب کے لئے نجات کا ذریعہ بنائے۔

Related posts

شادی کی بے جا رسومات اور ان کا حل

Paigam Madre Watan

مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ ڈسا نہیں جاتا

Paigam Madre Watan

تابِ سخن”  ____  ایک مطالعہ

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar