Articles مضامین

سفر معراج کا پیغام

ڈاکٹر سراج الدین ندوی

معراج کا سفر انسانی تاریخ میں حیرت انگیز واقعہ ہے۔کسی انسان کا ایک رات کے چند گھنٹوں میں مکہ سے فلسطین اور فلسطین سے سات آسمانوں تک آنا جانا بشری ڈکشنری میں ناممکنات کے ذیل میں آتا ہے۔لیکن جب کوئی امین و صادق پیغمبر اپنے بارے میں خبر دے کہ میں نے یہ سفر کیا ہے اور اللہ یہ گواہی اپنے مقدس فرشتہ کے ذریعہ دے کہ ’’پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول میں اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا‘‘(الاسراء ،1) ‘پھر یہ گواہی قیامت تک کے لیے ایک ایسی کتاب میں درج کردی جائے جس کی سب سے پہلی صفت ہی ’’لاریب فیہ‘‘ ہو تو یقین نہ کرنے اور ایمان نہ لانے کی کیا وجہ باقی رہ جاتی ہے۔مسلمان اور مومن ہونے کا دعویٰ کرنے والے کبھی اس واقعہ پر شک کا شائبہ بھی اپنے دل میں نہیں لاسکتے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی صبح جب یہ واقعہ بیان کیا تو کفار مکہ کو مذاق اڑانے کا نیا بہانہ ہاتھ آگیا۔ایک شخص نے حضرت ابوبکر ؓ کو اطلاع دی کہ آپ کے دوست یہ فرمارہے ہیں کہ وہ رات سات آسمانوں کی سیر کر کے آئے ہیں ۔یہ سن کر ابو بکر ؓنے فرمایا ”اگر محمد ﷺ یہ بات کہتے ہیں تو سچ کہتے ہیں ‘‘۔ایک مومن کے ایمان کی کیفیت یہی ہونی چاہیے۔اس واقعہ سے سب سے پہلا پیغام یہی ملتا ہے کہ ہمارے پاس مستند ذرائع سے جو قول رسولؐ پہنچے ہم اس کی تصدیق کرنے میں تامل نہ کریں۔ایک مسلمان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ رسول اکرم ؐ کی کسی بات پر شک کرے۔اس کے ایمان و عمل کے لیے یہ بات کافی ہے کہ یہ کام رسول ؐنے کیا ہے یا اس کام کا آپ ؐنے حکم دیا ہے۔
سفر معراج میں نبی ؐ نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ اب تمام انسانوں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ آپ ؐ کو اپنا نبی اور رسول تسلیم کریں۔بیت المقدس میں آپ ؐ کا تمام انبیاٖٖء کی امامت فرمانا اس بات کا اعلان ہے کہ اب سابقہ انبیاء کی امامت ختم ہوگئی ہے،اب عیسیؑ اور موسی ؑکے ماننے والوں کو بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنا ہوگی۔اس امامت سے صرف یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ حضرت محمد ؐ تمام انبیاء سے افضل ہیں مناسب نہیں۔خدا کی شریعت میں ہر پیغمبر کا ایک خاص مقام ہے۔قرآن میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ رسول ہیں ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پرفضیلت عطا فرمائی،ان میں کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے جسے سب پر درجوں بلند ی عطا فرمائی ‘‘ (البقرہ 253)۔اللہ کے تمام فرستادے معصوم ہیں اور یکساں قابل احترام ہیں۔ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار یا توہین اہل ایمان کو جہنم تک پہنچا سکتی ہے۔آپ ؐامام الانبیاء ہیں،آپؐ خاتم النبیین ہیں،یہ وہ خصوصیات ہیں جو آپ کو دوسرے نبیوں سے ممتاز کرتی ہیں۔سفر معراج کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری دنیا کے پیغمبر ہیں۔اس پیغام کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے رسول کی دعوت کو تمام انسانوں تک پہنچائیں۔دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کرائیں۔
سفر معراج کا آغاز مسجد حرام یعنی کعبہ سے ہوا۔بیت المقدس سے آسمان کی جانب پرواز شروع ہوئی۔واپسی میں بھی آپ پہلے بیت المقدس تشریف لائے وہاں سے کعبہ آئے اور پھر اپنے مستقر پر گئے۔یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ جہاں آرام فرما تھے وہیں سے آپ کو سیدھے آسمان پر لے جایا جاتا۔اس سے معلوم ہوا کہ دین میں مسجد کی بہت اہمیت ہے۔آپ ﷺکا معمول تھا کہ کسی بھی سفر سے واپسی پر پہلے مسجد نبوی میں تشریف لاتے اور اپنی ازواج کو اپنی آمدکی اطلاع دیتے۔ایک مسلمان کے لیے مسجد ہی اس کا مرکز و محور ہے۔اسے دن میں تو پانچ بار جانا ہی ہے اس کے علاوہ بھی اس کا دل مسجد میں ہر وقت پڑا رہنا چاہیے۔ایک اچھے مومن کی یہ پہچان ہے کہ ایک نماز کے بعد وہ دوسری نماز کا بے صبری سے انتظار کرتا ہے۔مساجد اسی بیت اللہ کا عکس اور قایم مقام ہیں جس کا طواف کیا جاتا ہے۔مسجد ہمیں اللہ کی حاکمیت اور بندے ہونے کا احساس کراتی ہے۔اسی لیے مسجد کی تعمیر، اس کی دیکھ بھال اور اس کی حفاظت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔مسجد سے شروع کیا گیا سفر بابرکت بھی ہوگا اور محفوظ و مامون بھی۔خاص طور پر جب ہم کسی اہم سفر پر جائیں تو مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ کر جائیں۔جب ہم کسی سفر سے واپس ہوں تو پہلے مسجد میں جائیں اور دو رکعت نماز ادا کریں۔اللہ کے سامنے سربسجود ہو جائیں کہ اس نے سفر میں ہماری حفاظت فرمائی۔
معراج میں قبلہ اول بیت المقدس سے سفر کا آغاز بھی اہمیت کا حامل ہے۔یہ سفر حرم مکی سے بھی شروع ہوسکتا تھا اور انبیاء کو حرم مکی میں بھی جمع کیا جاسکتا تھا۔بیت المقدس کو سفر معراج کی ایک منزل بنانے کا مقصد قبلہ اول کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔امت مسلمہ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اس مسجد کی بھی اہمیت ہے اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ یہاں اللہ اکبر کی صدا بلند کریں۔الحمد للہ امت مسلمہ نے قبلہ اول کی اہمیت کا ہمیشہ احساس کیا ہے۔اس کے جیالوں نے ہمیشہ اس کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور آج بھی غزہ کے مجاہدین اور ان کے پشت پناہ سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔معراج کے سفر کا یہ پیغام ہے کہ اہل اسلام بیت المقدس کے تحفظ کو ترجیح دیںاور اس کے غاصبین کا ہر طرح بائیکاٹ کریں۔
کہتے ہیں کہ سفر معراج کا تحفہ نماز ہے۔اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز مومن کی معراج ہے۔معراج میں اللہ کے نبی اللہ سے ہم کلام ہوئے۔ نماز میں ایک مومن اللہ سے ہم کلام ہوتا ہے۔وہ اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہے،وہ اس سے عرض و معروض کرتا ہے،وہ اس سے اپنا حال دل بیان کرتا ہے اور اس کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے۔ایک بندہ حالت نماز میں ہی اللہ سے سب سے قریب ہوتا ہے اس وقت اس کے اور خدا کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔وہ تصور کی آنکھوں سے اللہ کو دیکھتا ہے اور اس کا ایمان اسے یہ احساس کراتا ہے کہ اللہ تجھے دیکھ رہا ہے۔
نماز کی اہمیت اور فضیلت پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے قرآن مجید میں اس کا ذکر تقریباً سات سو بار آیا ہے،نبی اکرم ﷺ نے بے شمار مواقع پر اس کی اہمیت بتائی ہے ۔آپ ؐنے فرمایا نماز دین کا ستون ہے،جس نے نماز کو قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے چھوڑدیا اس نے دین کی عمارت کو گرا دیا۔سفر معراج کا پیغام ہے کہ اہل ایمان اللہ کے سامنے خود سپردگی کردیں اور اس کا عملی اظہار نماز ہے۔اذان کی آواز سن کر یا نماز کا وقت ہونے پر ایک مسلمان جب نماز نہیں پڑھتا تو گویا وہ عملاً اس بات کا انکار کرتا ہے کہ وہ کسی کا بندہ اور غلام ہے وہ اللہ کی فرمانروائی اور اقتدار اعلیٰ کا انکار کرتا ہے۔نماز معراج کا تحفہ ہے دوسرے لفظوں میں جس انسان کو بلند ہونا ہے اسے چاہیے کہ وہ نماز پڑھے۔
معراج کے سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا۔وہاں کے مناظر دکھائے گئے،دوزخ کے مناظر سے آپ کو خوف محسوس ہوا،یہ خوف آپ کو اپنی امت کے لیے بھی ہوا کہ مبادامیری امت اس کا ایندھن بن جائے۔روایت میں آتا ہے کہ آپ ؐ کو وہاں اپنے آگے آگے کسی کے چلنے کی آواز آئی۔آپ ؐنے معلوم کیا کہ یہ کس کے قدموں کی آواز ہے۔بتایا گیا کہ یہ حضرت بلال ؓ ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ اسلام میں عمل کی اہمیت ہے کسی نسب اور رنگ یا علاقہ کی نہیں۔صحابہ کرامؓ کی ایک کثیر تعداد ہے جو اپنے تقویٰ کی وجہ سے ممتاز ہے،اس جماعت میں صدیق اکبرؓ،عمر فاروقؓ،عثمان غنیؓ اور علی حیدرؓ جیسے جلیل القدر صحابہ ہیں،عشرہ مبشرہ ہیں۔مگر قدموں کی آواز حضرت بلال ؓکی سنائی جارہی ہے۔اس کا مقصد اس کے سوا کیا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں رنگ،علاقہ،زبان اور نسب کی نہیں، انسان کے ایمان اور عمل کی اہمیت ہے۔آج مسلمان نسب کی بنیاد پر منقسم ہیں،ان میں اراذل و اشراف کی تقسیم ان کے نسب کی بنیاد پر کی گئی ہے۔جب کہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔دین میں شرف و بزرگی کا معیار تقویٰ ہے۔معراج کا ایک پیغام یہ ہے کہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں،ہمارے درمیان اونچ نیچ کا کوئی تصور نہیں ہے،یہاں ایک غلام ایک آقا سے پہلے جنت میں جاسکتا ہے۔یہاں ایک کالا گورے پر اپنے نیک اعمال کی بنیاد پر فضیلت کا حق دار ہے۔
سفر معراج کا ایک پیغام یہ ہے کہ انسان کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں ہے،وہ جتنا چاہے بلند ہوسکتا ہے،ساتوں آسمان اس کے زیر قدم ہیں۔اس سے ایک طرف بحیثیت انسان دیگر تمام مخلوقات پر اس کی فوقیت ثابت ہوتی ہے،دوسری طرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر شئی اس کے لیے مسخر ہے اوروہ ان تمام اشیاء سے مستفید ہوسکتا ہے،تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی شئی بھی اس کے لیے معبود کی حیثیت نہیں رکھتی۔اسے کسی کے سامنے اس لیے سر نہیں جھکا دینا چاہیے کہ وہ شئی اس کے لیے بہت کار آمد ہے۔اس کے دل میں جب جب یہ خیال آئے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ سفر معراج میں ایک انسان نے ہر شئی پر فوقیت پائی تھی۔
روایت میں آتا ہے کہ معراج کا سفر طائف کے بعد ہوا ہے۔اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ دین کے راستے میں جب آزمائشیں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو داعی کی بلندی کا سفر شروع ہوتا ہے،جب اس پر مصائب کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو اللہ اس پر انعام کی بارش کرتا ہے۔سفر معراج کا ایک پیغام یہ ہے کہ زمین والے اللہ کے کسی بندے پر اپنے دروازے بند کرتے ہیں تو اللہ اس پر آسمان کے دروازے کھول دیتا ہے۔
الغرض سفر معراج اپنے اندر بے شمار پیغامات رکھتا ہے اور اس سے اہل ایمان کو بیش قیمت دروس حاصل ہوتے ہیں۔افسوس ہے کہ امت مسلمہ اس واقعہ کی نسبت سے بھی بہت سی بدعات و خرافات میں مبتلا ہے وہ اس موقع پر محفلیں آراستہ کرتی ہے،چراغاں کرتی ہے لیکن اس کے پیغام کو بھول جاتی ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفر معراج کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Related posts

سعودیہ سے بغض کی وجہ کچھ سوا ہے

Paigam Madre Watan

گنگا کنارے خانقاہ منعمیہ کے دوارے

Paigam Madre Watan

یومِ اطفال: خوشی اور جشن کا دن ہے

Paigam Madre Watan

Leave a Comment