Delhi دہلی

اردو کے عربی الاصل الفاظ کی تحقیق میں لغات کے علاوہ علم صرف اور علم قرأت سے واقفیت ضروری ہے: ڈاکٹر محمد اجمل اصلاحی

شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام بارہویں منشی نول کشور یادگاری خطبے کا انعقاد


نئی دہلی(پی ایم ڈبلیو نیوز) ہر زبان کی طرح اردو کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی دوسری زبان کے لفظ، املا ، قواعد ، معنی اور اشتقاق کو اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لے، لیکن اس عمل میں مشکل امر یہ ہے کہ لسانی تاریخ سے ناواقفیت کی بنیاد پر کسی لفظ کی عربی الاصل صورت تک رسائی حاصل کیے بغیر یہ دعویٰ کردیا جاتا ہے کہ یہ شکل صرف اردو یا فارسی میں ہی رائج ہے، عربی میں اس کا وجود نہیں ہے۔ لفظوں کی تحقیق میں سب سے بڑا وسیلہ لغت ہوتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ لفظوں کی اصل تک رسائی میں اردو کا ایک بھی لغت پوری طرح کامیاب نہیں۔ لفظوں کی تحقیق میں ایک نکتہ اور پیش نظر رہنا چاہیے کہ کسی لفظ کی اصل تک پہنچنے کے لیے صرف لغت کافی نہیں بلکہ اس کی حقیقت بسا اوقات علم صرف اور علم قرأت سے واضح ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے بڑے ماہرین لغات ، ماہرین لسانیات اور علما بشمول غالب، نظم طباطبائی، شبلی نعمانی، حالی، عبدالستار صدیقی، قاضی عبدالودود، رشید حسن خاں اور شمس الرحمن فاروقی وغیرہ سے عربی الاصل الفاظ کی تحقیق میں سہو ہواہے۔ بہت سے الفاظ بنیادی طور پر عربی الاصل ہیں لیکن ہمارے بڑے بڑے ماہرین نے انھیں اردو اور فارسی کی اختراع سمجھ لیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی کے زیر اہتمام بارہویں منشی نول کشور یادگاری خطبے میں عربی کے ممتاز محقق، اسکالر اور ماہر لسانیات ڈاکٹر محمد اجمل اصلاحی نے شعبۂ تاریخ و ثقافت ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سمینار ہال میں کیا۔ جلسے کے صدر پروفیسر محمد اسحٰق (ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز) نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے شعبۂ اردو کو مبارک باد دی اور کہا کہ اس قسم کے خطبوں کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس قسم کے خطبے سریز کی شکل میں منعقدہونے چاہیئں تاکہ ہمارے طلبہ و طالبات اس سے مستفیض ہوسکیں۔ صدر شعبۂ اردو پروفیسر احمد محفوظ نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ ڈاکٹر محمد اجمل اصلاحی عربی زبان و ادب کے ساتھ فارسی اور اردو ادبیات کے علاوہ لغت نویسی پر بھی یکساں قدرت رکھتے ہیں۔ فی زمانہ اردو، عربی اور فارسی لسانی مسائل میں ڈاکٹر محمد اجمل اصلاحی کو استناد کا درجہ حاصل ہے۔ خطبے کے کنوینر پروفیسر ندیم احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مہمان مقرر کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ ڈاکٹرمحمد اجمل اصلاحی عالم عرب کی قدیم اور موقر اکادمی مجمع اللغۃ العربیہ، دمشق کے واحد ہندوستانی رکن ہیں جو اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، ساتھ ہی نول کشور یادگاری خطبے کی غرض و غایت کے علاوہ نول کشو ر کے حوالے سے تعارفی کلمات بھی پیش کیے۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر شاہ نواز فیاض کی تلاوت کلام پاک اور اختتام پروفیسر سرورالہدیٰ کے اظہار تشکر پر ہوا۔ اس موقعے پر پروفیسر خالد محمود، پروفیسر شہناز انجم، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی، ابوطلحہ اصلاحی، ڈاکٹر عمیر سفیان، ڈاکٹر محفوظ الرحمن، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر خالد جاوید، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر غزالہ فاطمہ اور ڈاکٹر خوشتر زریں ملک کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

Related posts

راگھو چڈھا پارلیمنٹ میں واپس آئے، "ریاستی اسپانسرڈ اسپائی ویئر” کا مسئلہ اٹھایا

Paigam Madre Watan

आल इंडिया महिला एम्पावरमेंट पार्टी का शैक्षणिक स्तर ऊंचा उठाने का संकल्प

Paigam Madre Watan

سنہری مسجدمعاملے میں این ڈی ایم سی کے نوٹس پرمسلم مجلس مشاورت کا شدید ردعمل

Paigam Madre Watan

Leave a Comment