Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

کچھ اپنی زُباں سے

مطیع الرحمٰن عزیز
ٹکریا، ڈومریاگنج، سدھارتھ نگر، یوپی


بلاشبہ اپنے آباء واجداد کے بے لوث کارناموں اور خدمات کو محفوظ کرنا زندہ و بیدار قوموں کی شناخت ہے۔ بفضلہ تعالی والد محترم شیخ مولانا عزیزالرحمٰن صاحب سلفی کی خود نوشت پیش کرتے ہوئے آج میراوہ دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو رہا ہے جو میں نے پندرہ سال قبل دیکھا تھا۔ مشفق والد میرے مربی اور استاذ بھی ہیں۔ یہ شوق میرے اندر جرمنی کے حیدر قریشی کی سوانح عمری ’’عمرحاصل کا لا حاصل‘‘ پڑھ کر پیداہوا جو مجھے بطور ہدیہ انہوں نے جرمنی سے بھیجی تھی۔ سوانح عمری کے موضوع پریہ پہلی کتاب میرے زیرمطالعہ آئی۔ جوں جوں اسے پڑھتاگیا والد گرامی کی زندگی کے مختلف پہلو میرے ذہن کے پردے پر گردش کرنے لگے۔ شاگردوں کی طویل فہرست، کم مائیگی و کسمپرسی، مشقت آمیززندگی، مصائب و آلام کی کثرت، گھریلو اور خاندانی چیلنجز، بزرگوںاور رشتہ داروں کادست شفقت اور جاہ وحشمت۔ یہ تمام چیزیں مجھے اس بات پر آمادہ کر رہی تھیں کہ کاش میرے خاندانی حالات اور آباء واجداد کی دینی، علمی و سماجی کارنامے والد بزرگوار کے ہاتھوں قلمبند ہوتے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتے۔اس کے ساتھ یہ تاریخی حقیقت بھی منظر عام پر آتی کہ ہمارا خانوادہ کس قدر دینی رغبت اور درس وتدریس سے لگائو رکھنے والا نیز مسلک توحید کی آبیاری میں پیش پیش رہنے والارہا ہے، جس کی وجہ سے تاریخ اہلِ حدیث اور تحریک اہل حدیث کا ایک نا قابل فراموش حصہ بن گیا۔
میں نے حیدر قریشی سے کہا کہ آپ کی سوانح عمری پڑھ کر میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ والد صاحب سے بھی اپنی خودنوشت تحریر کرنے کوکہوں، لیکن ان سے یہ التجا کرتے ہوئے پس وپیش میں ہوں کہ کہیں میری کوشش رائیگاں نہ ہو جائے۔ حیدر قریشی اردو کے ان ممتاز قلم کاروں میں سے ہیں جن کے خیالات لائق تقلید اور قابل قدر مانے جاتے ہیں۔ اردو کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ’’ اردو داں ہند و پاک برصغیر کے گائوں اور قصبوں میں دبے کچلے گھوم رہے ہیں، ہم شہری مقامات پر جس قدر اردو کے نئے نئے مفکرین و محررین کو حوصلہ دے کر باہر لاتے ہیں اس سے بہت کم محنت کر کے ان لوگوں کو تلاش کریں جو گائوں دیہات میں غائبانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘ ان مہمات کا سپاہی ہونے کی بنا پر حیدر قریشی نے میری خواہش کی تکمیل کیلیے کوشش کی اور کہا کہ ’جب بھی آبائی وطن جائیں تو والد صاحب سے بذریعہ فون بات کروائیں، ان کو راضی کرنا میرا کام ہے‘۔ خیر ایسا ہی ہوا اور والد گرامی نے حامی بھرلی۔ یہ اس لیے بھی ہونا ممکن تھا کیونکہ اس سے قبل حیدر قریشی نے والد بزرگوار کا شعری مجموعہ ’پرواز‘ شائع کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ والد گرامی سے دیگر شخصیات نے بھی الگ الگ موقعوں پر اس کام کی طرف توجہ دلائی تھی جس کا کتاب میںبعض مقامات پر تذکرہ کیا گیا ہے۔
خودنوشت مکمل طور سے تیار ہے۔ راقم الحروف زیر نظر کتاب میںدنیا کے الگ الگ خطوں کے اسفار کے تمام واقعات کو جیسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اپنے اس درد کو بھی بیان کر رہا ہے کہ قوم میں جب تک قربانیاں دینے والے بزرگوار موجود تھے جید علماء کی جماعت تیار ہوتی رہی، لیکن جب قوم وملت سے محبت رکھنے والوں کی جگہ مفاد پرستوں اور اقربا پروروں نے لے لی تو علماء کنارہ کش ہوتے گئے، علمی ترقی کی رفتار دھیمی پڑ گئی اور جید علماء تیار ہونے بند ہو گئے، با صلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی ہونے لگی جس کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ قربانی دینے والے پیشوائوں کی جگہ خودساختہ شوقِ بادشاہت، فرعونیت اور انانیت پرستوں نے لے لی، جنہوں نے لوگوں کی کتابیں اپنے نام سے چھپوالیں، اداریہ لکھنے کا شوق جاگا تو ایڈیٹوریل بھی چھین لیا، باصلاحیت علماء کی جگہ چاپلوسوں نے لے لی، کبار علماء منظرنامے سے غائب ہوتے گئے اور جو زندہ ہیں انہیں خودغرض اور مفاد پرستوں کی ڈکٹیٹرشپ کے ماتحت رہنا گوارا نہیں ہوا۔ لہذا مرکزی دار العلوم ہو یا ملی ودینی جماعتیں، لوگوں نے اپنی آبائی جاگیر بنا کر عیش وعشرت کا سامان بنا لیا۔ اگر کوئی جید عالم حالت تنگ دستی میں بیمار ہوتا ہے تو ان نا عاقبت اندیش بے تاج بادشاہوں کے سرپر جوں تک نہیں رینگتی اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پن، بے حسی اور بے مروتی کی انتہا ہے ۔
والد گرامی کی تقریباََ دو درجن کتابوں میں سے درجن بھر سے بھی کم کتابوں کی اشاعت ممکن ہو سکی، اس کا دوگنا حصہ ان کی پرانی اٹیچی میں موجودہے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جوں جوں مجھے استطاعت عطا کرے گا میں انہیں منظر عام پر لاتا رہوں گا۔ یہ کام کسی فرد کا ہرگز نہیں ہے۔صرف والد گرامی ہی نہیں،ہزاروں علماء وشیوخ ملک بھر میں اپنی تصنیفات وتالیفات کو اشاعتی اداروں کی بے توجہی اور ناقدری کی وجہ سے خاک بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چہ جائیکہ کوئی تحقیقی و تحریری کاوشوں کی حوصلہ افزائی کرے، یہاں تو جن با وقار علماء و شیوخ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر کچھ کر دیا ہے اسی کو کوئی پوچھنے اور ہمت افزائی کرنے والا نہیں ہے۔ کاش! اللہ تعالیٰ مجھے اتنی طاقت وحوصلہ عطا کر دے کہ میں ہندستان بھر میںموجود علمی و تحقیقی تحریروں کو شائع کرا سکوں۔
اللہ سے دعاہے کہ والد بزرگوار کی یہ خودنوشت آنے والی نسلوں کے لیے مفیدثابت ہو۔ علماء کے لیے بلا خوف وخطر دین حنیف کی خاطر وقف رہنے اور اس کی نشر واشاعت کا کام کرنے میں حوصلہ بخش ہو اوروالدمحترم کے لیے دونوں جہاں میں بلندیٔ درجات اور صدقۂ جاریہ کا باعث قرار پائے۔ چونکہ میں اس کتاب کا پہلا قاری، مشینی خطاط، پروف ریڈر اور تمام اشاعتی کاموں کی تکمیل میں قدم قدم پر چلنے والاہوں اورراقم نے والد محترم کی جفاکش زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اس لیے یہ کہتے ہوئے تقویت محسوس کر رہا ہوں کہ یہ کتاب ہزاروں صفحات پر بھی نامکمل رہتی، لیکن زندگی کے الگ الگ مراحل اور مفلسی کے ساتھ ساتھ شاطر نظماء نے کبھی ذہنی طور پر اس قدر فارغ البال نہ ہونے دیا کہ وہ کھلے ذہن اور بلا کسی ضرورت کو محسوس کئے ہوئے رکی ہوئی اپنی مہم جوئیوں کو تحریری انداز میں پیش کر سکیں۔ والد محترم سے جو واقعات کسی نہ کسی سبب سے چھوٹ گئے ہیں انہیں اللہ کی توفیق اور اپنی وسعت کے بقدر منظر عام پر لائوں گاان شاء اللہ۔ زیرِ نظر کتاب میں والدمحترم پہ فالج کا حملہ ہونے کے بعد لکھی گئی تحریر اتنے مفصل انداز میںنہیں ملے گی جیسی صحت مند ہونے کی حالت میں لکھی گئی تھی۔ قارئین دورانِ مطالعہ اس پہلوکوبخوبی محسوس کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ والد بزرگوار کی تحریر کردہ اس خودنوشت کو لوگوں کے لیے رہنما بنا دے۔یہ چیلنجز کو برداشت کرنے کی مہم میں میل کا پتھر ثابت ہو، ان طلباء کے لیے یہ معاون ومددگار ثابت ہو جنھوں نے تدریس میں پہلاقدم رکھاہے۔ سرگرم رہنے والوں کو اس کتاب میں بیان کردہ بزرگانِ دین کی حق بیانیاں، جد و جہدبلا تفریق مذہب وملت کچھ سیکھنے اور آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو۔ آمین

Related posts

جامعہ سلفیہ میں تقرری

Paigam Madre Watan

اساتذہ کی کرم فرمائیاں

Paigam Madre Watan

تدریسی خدمات

Paigam Madre Watan

Leave a Comment