Articles مضامین

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز

سماج میں امن کے قیام کے لیے مساوات ضروری ہے


ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ چیرمین ملت اکیڈمی ۔بجنور


لفظ مساوات کا عام طور پر یہ مفہوم لیاجاتاہے کہ تمام لوگوں کو یکساں رزق ملے اور ایک جیسی آسائش حیات میسرہو ۔قوم کے رہنما اپنے خطابات میں مطالبہ کرتے ہیں کہ سماج میں مساوات قائم کی جائے ۔اسی مفہوم کو عملی شکل دینے کے لیے مارکسزم وجود میں آیا اور اس نے مالک اور مزدور کے درمیان معاشی مساوات کی لایعنی کوششیں کیں ۔البتہ اس کا ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا کہ اس نظریہ کے نتیجہ میں مزدوروں کی انجمنیں قائم ہوئیں ،جنھوں نے کارخانہ داروں کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ،مناسب اجرت پانے ،مزدوروں کو انسان سمجھنے اور انسانی حقوق دینے کا مطالبہ کیا ۔لیکن اس نظریہ کی بنیاد پر بننے والی حکومتیں عملاً ’’ معاشی مساوات ‘‘ قائم کرنے میں ناکام رہیں ۔
دراصل کارخانہ داروں اور مالکوں کی جانب سے مزدوروں اور نوکروں پر جو مظالم کیے جارہے تھے ان کو دیکھ کر مارکس نے اپنی تحریک شروع کی تھی ۔وہ دین اور مذہب سے بھی بیزار تھا ۔وہ دیکھ رہا تھا کہ اس وقت کے بیشتر مذہبی گروہ سرمایہ داروں اور آجروں کے طرف دار تھے ،اس لیے اسے دین و مذہب سے نفرت تھی ،یہ رد عمل اسے خدا کے انکار تک لے گیا تھا ۔اسی وجہ سے اس کی کوششیں زیادہ بار آور نہ ہوسکیں ۔حقیقت یہ ہے کہ خدائی ہدایات سے بے نیاز ہوکر جو تحریکیں بھی اٹھیں یا اٹھیں گی وہ ناکام ہوں گی ۔
مساوات کا اصل مفہوم یہ ہے کہ :’’ انسانوں کے درمیان ان کی پیدائش،ان کے رنگ ،ان کے قبیلہ ،ان کے مذہب اور ان کی زبان کی بنا پر کوئی بھید بھائو نہ کیا جائے ۔‘‘یعنی کون انسان کہاں پیدا ہوا ہے ؟کس ملک اور کس خطہ زمین میں پیدا ہوا ہے ؟اس کا رنگ کالا ہے یا گورا،اس کا خاندان بااثر ہے یا بے اثر ،اس کا مذہب خدائی ضابطہ کے مطابق ہے یا خود ساختہ ،وہ کون سی زبان بولتا ہے ؟ ان باتوں سے اوپر اٹھ کر محض انسان ہونے کے ناطے سماج میں اس کو عزت و احترام حاصل کرنے ، مال کمانے ،علم حاصل کرنے ،علاج معالجہ کرانے اور حکومت و اقتدرا تک پہنچنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں ۔رہا رزق میں کشادگی اور تنگی کا معاملہ تو وہ انسان کی اپنی صلاحیتوں اور اللہ تعالیٰ کے نظام تقسیم پر منحصر ہے ۔ایک شخص لکھ پڑھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتا ہے اور رزق کے زیادہ مواقع اپنے لیے پیدا کرتا ہے ،ایک انسان اپنی تجارت کو ہفت عالم میں وسعت دے کر ارب پتی بن جاتا ہے اور ایک شخص علم کے حصول کے مواقع کو ضائع کردیتا ہے ،اپنے نکمے پن کی وجہ سے اپنی تجارت کو ٹھپ کرلیتا ہے ظاہر ہے اس کو معاشی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔پھر رزق کی یہ تقسیم خود اللہ تعالیٰ کے منصوبوں اور نظام پر بھی منحصر ہے ۔اس کا اعلان ہے کہ ’’ ہم نے لوگوں کے درمیان معیشت تقسیم کی ہے ۔‘‘ (الزخرف۔32)’’ہم جس کا رزق چاہتے ہیں کشادہ کردیتے ہیں اور جس کا چاہتے ہیں تنگ کردیتے ہیں ‘‘ ۔ (الرعد۔26) ’’ تمہارے اموال اور اولاد تمہارے لیے امتحان اور آزمائش ہیں ۔‘‘(التغابن ۔15) لوگوں میں امیر اور غریب کا یہ فرق پر ہر دور میں اور ہر جگہ فطری طور پایا جاتا رہاہے۔ لمگر اللہ تعالیٰ امیر کو غریب کے ساتھ خیر خواہی کرنے ،اس کی مالی مدد کرنے ،اس کو معاشی سہارا دینے ،اور اس کو اپنا بھائی سمجھنے کی تلقین بھی کرتا ہے ،وہ مالکوں اور آجروں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے مزدوروں اور غلاموں کو وہی کھلائوجو تم کھاتے ہو ،ان پر ان کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو ،ان کی اجرت وقت پر اداکردو اوران پر ظلم نہ کرو وغیرہ ،وہ مزدوروں کوہدایت دیتا ہے کہ اخلاص اور وفاداری کے ساتھ اپنے مفوضہ کام انجام دو ،اگر مالک تمہیں نہیں دیکھ رہا ہے تو اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ اسلام نے ہدایت کی ہے کہ تمام انسانوں کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔ انسان ہونے کے ناطے سب انسان ہیں۔ کسی کو کوئی نسلی یاعلاقائی برتری حاصل نہیں۔ اسلام لوگوں سے تمام معاملات زندگی میں مساوات کا مطالبہ کرتاہے ۔وہ انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی، سیاسی معاملات ہوں یامعاشی ،مسلکی امور ہوں یا بین الاقوامی۔ اسلام کہتاہے کہ دنیا کا نظام بھی درست اور صحیح بنیادوں پر اسی وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک تمام لوگوں کے درمیان مساوات اور برابری برتی جائے۔ نسبی عزوشرف اور خاندانی بڑائی کا تصور اسلا م میں نہیں ہے۔اسلام کے تمام احکام مساوات وبرابری اور عدل وانصاف پر مبنی ہیں۔قرآن میں فرمایا گیا:یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ وَأُنثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوباً وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (حجرات:13)
’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے درمیان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہے۔بے شک اللہ خوب جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘ اس آیت کی روشنی میںاسلام اصولی طور پر تین باتیںہمارے سامنے رکھتاہے: (۱) تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ سب کے پیداہونے اور مرنے کا طریقہ بھی ایک ہے۔ سب کے جسم کی بناوٹ بھی ایک ہے۔ اس لیے کسی خاندان یا کسی علاقے میں پیدا ہوجانے سے کوئی اونچا یا نیچا نہیں ہوجاتا۔ (۲)اگرچہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔مگر تمام انسان ایک ہی جگہ تو نہیںرہ سکتے۔ مختلف علاقوں میں ان کا آباد ہوجانا، رہن سہن اور زبان کا تبدیل ہوجانا فطری معاملہ ہے۔ یہ تبدیلی صرف اس کی اجازت دیتی ہے کہ لوگ قبیلوں اور خاندانوں کے ذریعے اپنا تعارف حاصل کرسکیں۔ یہ تبدیلی کسی اونچ نیچ کی اجازت نہیں دیتی۔ جب ایک خاندان بڑا ہوجاتاہے تو پھر وہ خود بخود آگے چل کر کئی خاندانوں میں تقسیم ہوجاتا ہے مگر اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہی ہے۔
(۳) تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ محض کسی قوم ،خاندان یا ملک میں پیدا ہوجانے کی وجہ سے کوئی افضل یاکمتر نہیںہوتا۔ البتہ جو آدمی نیکیاں کرتا ہے، برائیوں سے دور رہتا ہے، اچھے راستے پر چلتا ہے ، اللہ سے ڈرتاہے وہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر ہے۔
اس آیت میں اس خرابی کی جڑ کاٹی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ فساد کا سبب بنی رہی ہے۔ اپنی قوم ، اپنے ملک، اپنے خاندان کی برتری اور دوسروں کو نیچا دکھانے کے جذبے سے ہمیشہ لوگوں کا خون بہتا رہا ہے۔ جنگِ عظیم بھی اسی کا نتیجہ تھی اور آج یوروپ میں کالے اور گورے کا فرق بھی اسی بنیاد پر ہے۔ خود ہندوستان میں کچھ لوگ اونچی ذات کے کہلائے جاتے ہیں اور کچھ اچھوت ۔ پیاری نبی ﷺنے مختلف احادیث میں اس بات کو واضح فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اورکسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں۔سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ تم سب کو مٹی کی طرف لوٹنا ہے۔ اگر کوئی فضیلت ہے تو صرف تقویٰ اور نیکی کی بنیاد پر ہے۔ آپ نے صرف زبان ہی سے یہ نصیحت نہیں فرمائی بلکہ عملاً تمام انسانوں کو برابری کا درجہ دیا۔آپؐکی مجلس میں حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓکو جو مقام حاصل تھا وہی مقام حضرت بلال حبشیؓ اورسلمان فارسیؓ کو حاصل تھا جو غلام تھے اور اس دور میں غلاموں کو آج کل کے اچھوتوں سے زیادہ حقیر سمجھا جاتاتھا۔ آپؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو جوایک غلام زادہ تھے، اس لشکر کا سردار مقرر کیا جس میں بڑے بڑے صحابہ اور قریش کے اکابر عام سپاہی کی حیثیت سے موجود تھے۔ بقول علامہ اقبال:


ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود وایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

جب انسانی سماج غیر مساویانہ رویہ کی وجہ سے مختلف طبقات میں منقسم ہوجاتا ہے تو طبقاتی کشکمش پیدا ہوتی ہے ۔یہ طبقاتی کشمکش ظلم و عدوان اور بدامنی کا سبب بن جاتی ہے ۔ایک گروہ اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے دوسرے گروہوں کا ہر طرح سے استحصال کرتا ہے ۔اسی ذیل میںوہ مذہب کوبھی آلہ کار بناتا اور دھرم کی آڑ میں خود کو اعلیٰ و اشرف اور اپنے علاوہ دوسروں کو کم تر سمجھتاہے ۔اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے بعض مذہبی گروہوں نے دین و مذہب کے نام پرخودساختہ قوانین وضع کرلیے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کاخالق ہے ،اس نے بحیثیت انسان سب کو اپنی عطیات سے یکساں نوازا ہے ۔اس کا سورج سب کو روشنی اور گرمی پہنچاتا ہے ،اس کی بارش سب پر یکساں برستی ہے ،اس کی ہوائیں سب کو مساوی طور پر آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج خود اسلام کے ماننے والے بھی اونچ نیچ کا شکار ہیں ۔ان کی مسجدوں میں ضرور محمودو ایاز ایک صف میں نظر آتے ہیں ،لیکن ان کے سماج میں اشراف و اراذل کی تقسیم نمایاں نظر آتی ہے ۔بعض برادریوں میں ایک قسم کی برتری کا احساس پایا جاتا ہے ۔ جس کا مظاہرہ سماجی تعلقات میں نظر آتا ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مساوات پر مبنی اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور تقویٰ کو ہی معیار فضیلت سمجھا جائے ۔

Related posts

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Paigam Madre Watan

قرآن میںدعا کا فلسفہ ، جس سے مسلمان ناواقف ہیں

Paigam Madre Watan

مجادِآزادیٔ اول ’’بہادر شاہ ظفر‘‘

Paigam Madre Watan

Leave a Comment