Articles مضامین

درود و سلام کے فضائل وبرکات قرآن واحادیث اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں!

ترتیب: محمد فداء المصطفیٰ گیاوی ؔ
رابطہ نمبر:9037099731
دارالہدی اسلامک یونیورسٹی ،ملاپورم ،کیرالا


خالقِ کائنات اللہ رب العزت قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے : ’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔ (ترجمہ: کنز الایمان،پ: ۲۲)۔ اس آیت کے تحت شیخ الحدیث والتفسیر ابو صالح مفتی محمد قاسم قادری عطاری لکھتے ہیں : ’’ یہ آیتِ مباکہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح نعمت ہے ، جس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل فرماتاہے اور فرشتے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔ اور اے مسلمانوں! تم بھی ان پر درود وسلام بھیجو یعنی رحمت وسلامتی کی دعائیں کرو‘‘ ۔ بے شک و شبہ رحمت والے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے بے شمار فضائل وبرکات ہیں جن کو مکمل بیان کرنا نا ممکن ہے ۔ درود و سلام کے فضائل و محامد پر بہت سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں او رعلمائے کرام اکثر و بیشتر بیان کرتے رہتے ہیں اور ان شاء اللہ تعالی قیامت تک یہ مبارک سلسلہ جاری و ساری رہے گا ۔ اللہ رب العزت کا بے حساب احسان وکرم ہے کہ اس نے محض اپنے فضل خاص سے مجھ جیسے ناکارہ بے علم کو اپنے محبوب معظم حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ محبوبیت میں درود و سلام کے مقدس عنوان پرکچھ لکھنے کی سعادت نصیب عطا فرمائی۔ درود وسلام کی فضیلت وعظمت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جتنی عبادتیں اور ذکر و اذکار ہیں وہ سب کے سب سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہیں اور درود شریف اللہ رب العزت کی سنت ہے ۔ ہمیشہ ہمیشہ اپنے پیارے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے رہنا چاہئے ۔ اس میں کوتاہی ہر گز نہیں کرنا چاہئے۔ یوںبھی سرکار عالم غم خوار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں۔ شکم والدہ سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا سے دنیا میں جلوہ بار ہوتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ فرمایا اورہونٹوں پر یہ دعا جاری تھی ربّ ھب لی امتی :’’ اے میرے رب! میری امت میرے حوالے فرما‘‘۔ اسی وجہ سے تو کسی شاعر نے کیا ہی خوب لکھاہے :
ربّ ھب لی امتی کہتے ہوئے پیدا ہوئے
حق نے فرمایا کہ بخشا الصلاۃ والسلام
شبِ معراج سفر پر روانگی کے وقت امام الانبیاء رحمت عاصیاں محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عاصی،سیہ کار ،گنہگار امت کو یاد فرماکر غمگین ہوئے۔ آبدیدہ ہوئے اور چشمان کرم سے آنسو چھلکنے لگے۔ اسی وجہ تو امام عشق و محبت ،سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
اللہ کیا جہنم اب بھی نہ سرد ہوگا
رو روکے مصطفی نے دریا بہا دئیے ہیں اور دیدار ذاتِ باری تعالی کے وقت اور خصوصی انعام و اکرام کی ساعت میں بھی گنہگار و سیہ کار امت کو یاد فرمایا۔ عمر بھر خطاکاراور سیہ کار امت کے لئے غمگین رہے ۔ لہذا محبت وعقیدت کا ہی تقاضہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو ،جان ایمان سرکارِ مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد اور درود و سلام سے کبھی غفلت نہیں کرنا چاہئے۔ اسی لئے تو امام اہلسنت سراپا عشق رسالت تمام ایمان والوں سے محبت بھرا پیغام دیتے ہوئے عرض کرتے ہیں :
جونہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
بیٹھتے اُ ٹھتے مدد کے واسطے
یار رسول اللہ کی کثرت کیجئے
ہم غور کریں کہ ہمارے پیارے حبیب رحمت والے آقا مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر کتنے احسانات ہیں مگر یہ کب ممکن ہے کہ ہم غلام ابن غلام ان کا شکریہ ادا کر سکیں بس اتنا ہی کیا کریں کہ ان کا ذکر کریں ، ان کی یاد نائیں اور ان پر درود وسلام کے تحفے بھیجا کریں۔
اللہ رب العزت نے قرآنِ مقدس میں کافی سارے احکام صادر فرمائے۔ مثال کے طور پر نماز، روزہ، حج اور زکاۃ وغیرہ مگر کسی میں یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ یہ کام ہم بھی کرتے ہیں ،ہمارے فرشتے بھی کرتے ہیں اور اے ایمان والو! تم بھی کرو۔ صرف اور صرف درود شریف کے لئے ایسا فرمایا گیا ہے ۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کیوں کہ کوئی بھی ایسا نہیں جو خدا کا بھی ہو اور بندے کا بھی۔ یقینا ہم اللہ رب العزت کے کام نہیں کرسکتے اور اللہ تعالی ہمارے کاموں سے بے نیاز ہے ۔ مگر کوئی کام ایسا ہے جو اللہ رب العزت کا بھی ہو۔ ملائکہ بھی کرتے ہوںاور ایمان والوں کو بھی اس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہو ۔ وہ صرف اورصرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا ہے ۔ یہ شان و شوکت اور عظمت و بزرگی ہے سلطان مدینہ راحت قلب و سینہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ خود خدائے تعالی ،خلاق دوعالم اپنے حبیب ،مختار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور ایمان والوں کو بھی درود کا حکم دیتا ہے ۔ اسی وجہ سے تو ہم سب کے امام عشق و محبت سرکار اعلی حضرت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ اشعار کی صورت میں بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں درود وسلام کا ہدیہ پیش کیاہے ۔ ان ہی الفاظ میں ہم سنّی عقیدت و محبت کے ساتھ پڑھتے ہیں :
کعبے کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود
طیبہ کے شمس الضحی تم پہ کروروں درود
شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود
دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود
اوردوبارہ پھر صراحتاً لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے قرآنِ مقدس میں تاکید کے ساتھ اللہ رب تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘ ۔ (ترجمہ: کنز الایمان،پ: ۲۲)۔
اس آیتِ کریمہ میں اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو دو کام کرنے کاحکم دیا ہے ۔ ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا اور دوسرے سلام بھیجنا۔ اللہ تبارک و تعالی کے اس حکم کو سن کر قلبِ مو من میں خوشی پیدا ہوتی ہے ۔ ایمان کی روشنی سے جن کے دل منور و مجلی ہیں انہوں نے اپنی آقا و مولی جنابِ احمد مجتبی محمد مصطفی صلی للہ علیہ وسلم کی بارگاہ کرم میں درودوسلام کا تحفہ کل بھی پیش کیا ہے اور آج بھی پیش کرتے ہیں اور یہ مبارک طریقہ قیامت تک بلکہ قبر وحشر میں بھی جاری رہیگا۔ اسی وجہ سے تو کسی عاشق نے کچھ یوں لکھا ہے :
میں وہ سنی ہوں جمیل قادری مرنے کے بعد
میرا لاشہ بھی کہے گا الصلاۃ والسلام
اور جن کے قلوب ایمان کی رشنی سی خالی ہیں اور جن کے دلوں میں محبت شاہ مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسم کاچراغ بجھا ہوا ہے وہی لوگ صلاۃ وسلام کو بدعت کہتے ہیں اور صلاۃ و سلام کی مجلس سے بھاگتے ہیں اور پڑھنے والوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ اور کمال تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے درود پاک بھیجنے میں تاکید نہیں فرمائی اور سلام کے بھیجنے پر تاکید فرمادی کہ سلام ضرور پڑھنا۔
ذرا غور کریں کہ اللہ رب العزت نے سلام بھیجنے پر تاکید کیوں فرمائی؟ کہ سلام ضرور پڑھنا خوب پڑھنا۔ دراصل بات یہ ہے کہ خدائے تعالی ہر چیز کا جاننے والا یہ بھی جانتا ہے سلام کے منکر اور سلام پڑھنے والوں کو اس مقدس فعل سے روکنے والے ہوں گے اس لئے اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو سلام کا حکم بھی دیا اور تاکید بھی فرمادی کہ میرے محبوب صلی للہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں! انکار کرنے والے سلام سے انکار کر کے نافرمان ہوجائیں گے اور پھر ان کا حشر بھی سب سے بڑی نافرمان شیطان کے ساتھ ہوگا۔ لیکن تم ایمان والوں! سلام ضرور پڑھنا، باربار پڑھنا اور فرمانبردار،وفادار ہونے کا ثبوت دینا اس لئے کہ جو فرمانبردار ہوگاوہ پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کا ہوگا تو ایسے خوش نصیب کا حشر بھی فرمانبردار اور وفادار کے امام و پیشوا صدیق و عمر ، عثمان و علی، حسن وحسین اورغوث و خواجہ رضی اللہ عنہم کی ساتھ ہوگا۔ آئیے اب احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں فضائل درود و سلام سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سب آقا ومولی جنابِ احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ’’ البخیل الذی من ذکرت عندہ فلم یصل عليّ‘‘ ۔ ترجمہ: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بڑا بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے تووہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (ترمذی شریف، مشکاۃ شریف)۔
اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہٌ عن العیوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں :’’ قیامت کے دن لوگوں میں مجھ سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھے گا‘‘۔ (ترمذی شریف، ج:۱، ص: ۱۱۰ )۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور آپ کی چہرئہ انور پر خوشی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فریا بے شک میرے پاس جبرئیل آئے عرض کیا بے شک آپ کا رب فرماتا ہے اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) کیاآپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کاامتی اپ پرایک مربتہ درود بھیجے میں اس پر در حمتیں نازل کروں اور آپ پرایک مرتبہ سلام بھیجے مگر اس پر دس سلام بھیجوں ۔ (سنن الدارمی،ج:۲، ص:۳۰۸/ سنن نسائی،ج:۱، ص:۱۴۵)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بے شک اللہ تعالی کے کچھ فرشتے زمین پر گشت کرتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں‘‘۔ (بخاری شریف، ج ۲، ص ۹۰۴) ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے نزدیک آپ سے دور ہنے والوں اور آپ کے بعد میں آنے والے درودوں کا کیا حال ہے تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ محبت والوں کا درود میں خود سنتا ہوں اور ان کو پہچانتا ہوں اور ان کے علاوہ کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔ (دلائل الخیرات ) مذکورہ احادیث کریمہ سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ درود شریف کا پڑھنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کرم میں کتنا مقبول عمل ہے۔ اللہ تعالی درود پڑھنے والوں کو کتنی نیکیاں عطا فرماتا ہے اور کتنے درجے بلند فرماتا ہے اور سب سے خوشی کی بات تو یہ ہے کہ قیامت کے دن وہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہوں گے جو اللہ تعالی کے پیارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں گے۔ اور بزم محشر کے دولہا آمنہ کے لعل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب ہونے کا نسخہ بھی بتا دیا کہ جو میر اغلام جتنا زیادہ درود پڑھے گا اتنا ہی زیادہ مجھ سے قریب ہوگا ۔لہذا ایمان والو! خوشی مناؤ اور اپنی قسمت پر ناز کرو کہ جن پیارے رسول، محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر خود اللہ تعالی درود بھیجے اس پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر ہم سیہ کاروں گنہگاروں کو بھی درود و سلام بھیجنے کی سعادت عطا فرماتا ہے۔ اب وہی شخص درود بھیجے گا جسے قیامت کے روز رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی قربت درکار ہو۔ اب ہم کچھ مشہور علمائے کرام کے اقوال کو بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں :علامہ حافظ احمد ملاّ جیون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ’’صلوٰۃ کا لغوی معنی دعا ہے، جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت فرمانا ہے اور جب اس کی نسبت فرشتوں کی طرف کی جائے تو اس سے مراد استغفار کرناہے اور جب اس کی نسبت عام مومنین کی طرف کی جائے تو اس سے مراد دعا کرنا ہے‘‘۔ (تفسیراتِ احمدیہ ،سورۃ الأحزاب،آیت:۵۶،ص:۶۳۴)۔ علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ یہاں آیت میں اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے سے مراد ایسی رحمت فرمانا ہے جو تعظیم کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور فرشتوں کے درود بھیجنے سے مراد ان کا ایسی دعا کرنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق ہو‘‘۔ (حاشیۃ الصاوی، سورۃ ا لأحزاب،آیت: ۵۶،ص: ۱۶۵۴)۔ حافظ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ درود شریف کی آیت مدنی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ قدر و منزلت بتا رہا ہے جو ملاء اعلیٰ (عالم بالا یعنی فرشتوں) میں اس کے حضور ہے کہ وہ مقرب فرشتوں میں اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا بیان فرماتا ہے اور یہ کہ فرشتے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام بھیجتے ہیں، پھر عالم سفلی کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ پر صلاۃ وسلام بھیجیں‘‘۔( صراط الجنان فی تفسیر القرآن، ج:۸،ص:۷۹)۔ امام سہل بن محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے اس ارشاد ” إِنَّ اللہ اللَّہَ وَمَلَیْکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النبی‘‘ کے ساتھ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شرف بخشا وہ اس شرف سے زیادہ بڑا ہے جو فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دے کر حضرت آدم علیہ السلام کو بخشا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ساتھ سجدے میں شریک ہونا ممکن ہی نہیں جبکہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق خبر دی ہے اور پھر فرشتوں کے متعلق خبر دی ہے، پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شرف حاصل ہو وہ اس شرف سے بڑھ کر ہے جو صرف فرشتوں سے حاصل ہو اور اللہ تعالیٰ اس شرف کو عطا فرمانے میں شریک نہ ہو۔ (القول البدیع،ص: ۸۶/۸۷)۔ علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:’’ اس آیت مبارکہ میں اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ تاجدار رسا لت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتوں کے نازل ہونے کی جگہ ہیں اور علی الاطلاق ساری مخلوق سے افضل ہیں‘‘ ۔ (صاوی،الأحزاب، آیت: ۵۶،۵/۱۶۵۴)۔ ابو محمد مرجانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ اے مخاطب! نبی رحمت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درود بھیجنے کا نفع حقیقت میں تیری ہی طرف لوٹتا ہے گویا تو اپنے لئے دعا کر رہا ہے‘‘۔( صراط الجنان فی تفسیر القرآن، ج:۸،ص:۸۳)۔ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا فائدہ درود بھیجنے والے کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ اس کا درود پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ درود شریف پڑھنے والے کا عقیدہ صاف ہے اور اس کی نیت خالص ہے اور اس کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ی محبت ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی پر مدد حاصل ہے اور اس کے اور اس کے آقاومولی، دو عالم کے دولہا صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ایک مبارک اور مقدس نسبت موجود ہے۔ (القول البدیع،المقصود بالصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم،ص:۸۳)۔ اخیر میں ایک اورحدیث پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہٌ عن العیوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ جو میرا امتی مجھ پر ایک مرتبہ خلوص دل سے درود بھیجے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے اور درود شریف کی برکت سے دس درجے بلند فرماتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے دس گناہ مٹاتا ہے‘‘۔ (نسائی شریف، ج۱، ص :۵۳۱)۔ اس حدیث شریف کو بار بار پڑھئے اور اپنے مقدر پر ناز کیجئے کہ جو غلام اپنے آقا علیہ السلام پر ایک مرتبہ دورد پڑھے تو اللہ رب العزت اس خوش نصیب پررحمت کی بارش برسائے اور جو سعید امتی اپنے پیارے روسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ سلام بھیجے تو اللہ تعالی اس سعادت مند شخص پر دس بار سلام بھیجتا ہے ۔ کتنے خوش نصیب اور بلند قسمت ہیں وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیج کر رحمت و سلامتی سے اپنے دامن کو بھر رہے ہیں ۔ اسی وجہ تو امام عشق و محبت سرکار اعلی حضرت فرماتے ہیں :
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
ہم فقیروں کے ثروت پہ لاکھوں سلام
اس حدیث شریف سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی و خوشی چاہتا ہے ۔ ان عقیدہ وہابیوں،دیوبندیوں،تبلیغیوں کے لئے عبرت و نصیحت ک مقام ہے جود امنِ رسول کو چھوڑ کر خدائے تعالی کو خوش و راضی کرنا چاہتے ہیں ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ایسے بُرے عقیدے والوں کو توبہ کی توفیق عطا فرماکر دولت ایمان سے مالا مال فرمائے اور ہمیں کثرت کے ساتھ درود وسلام کا ورد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

Related posts

مولانا شمس الدین سلفی کا کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور “ پر تبصرہ

Paigam Madre Watan

The Owaisi brothers epitomize a saga of petty theatrics and sentimental theatrics.

Paigam Madre Watan

شرک – ناقابل معافی ظلم 

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar